پوسٹ تلاش کریں

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے اخبار: نوشتہ دیوار

جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ کافر ہیں(قرآن) ۔اس سے مراد مذہبی طبقہ ہے

دوسری آیت میں جان کے بدلے جان ، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ ہے اور اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے پر ظالم کہا گیا ہے اور اس سے مراد حکمران ہیں!

تیسری آیت میں اہل انجیل عوام الناس کا ذکر ہے۔ عوام اللہ کے حکم پرفیصلہ نہ کریں تو ان کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔ جتنی جس کی ذمہ داری اور کارکردگی ہے تو اسکے مطابق فتویٰ بھی لگایا ہے ۔

___پہلا طبقہ علماء و مشائخ کا ہے____
سورۂ مائدہ کی آیات میں واضح طور پر تین طبقات کا ذکر اور وضاحت ہے۔ پہلا طبقہ علما ء مشائخ کا ہے جس کی ذمہ داری قرآنی احکام کا تحفظ ہے اور ان کو تلقین ہے کہ وہ اپنے دل سے عوام وخواص کا خوف نکال کر اللہ سے ڈریں اور تھوڑے سے فائدے کیلئے دین پر سمجھوتہ نہ کریں۔ اگر انہوں نے اللہ کے حکم کے مطابق اپنا فیصلہ نہیں کیا تو ان پر بالکل واضح انداز میں کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے۔ یہ وضاحت ہم اپنے کتابچہ ” پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ” میں کرچکے ہیں ، جس کی تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام نے1994میں بھی تائیدات کی تھیں۔ ہمارا مقصد مذہبی طبقات کا تسلط نہیں بلکہ اسلام کی بالادستی کا قیام عمل میں لانا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے البقرہ آیت224میں تینوں چیزوں کیلئے اللہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ نیکی کرنا،تقویٰ اختیار کرنا، لوگوں کے درمیان صلح کروانا۔ آج مولوی میاں بیوی کی صلح میں رکاوٹ ہے۔ فرقوں کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ مذاہب اور ادیان کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ ممالک اور قوم کے درمیان صلح میں رکاوٹ ہے۔ نبی کریم ۖ نے بیت اللہ خانہ کعبہ میں360بت رکھنے والوں سے بھی10سالوں تک صلح کا معاہدہ کیا جس میں مزید توسیع کی بھی گنجائش تھی۔ نبیۖ نے اس کے بعد دنیا میں چار سال تک رہنا تھا۔ گویا یہ تادم حیات معاہدہ تھا۔ اگر مشرک اس کو نہ توڑتے تو قائم رہتا۔ حضرت ابوبکر کا پورا دور اور حضرت عمر کا آدھا دور بھی اسی میں گزر جاتا۔ مسلمان خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے جاتے تو تین دن سے زیادہ نہیں رہ سکتے تھے۔ تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ ساتھ نہیں لے جاسکتے تھے۔ تلوار بھی نیام سے نہ نکالتے۔ اگر مشرک کا کوئی فرد مسلمان بن جاتا تو اس کو مسلمان واپس کرنے کے پابند تھے اور کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر جاتا تو مشرک اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کو اسلام چھوڑنے کی آزادی تھی۔
آج مسلمانوں کو سعودی عرب میں زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عمرہ اور حج کا خرچہ زیادہ ہے۔ شکرہے ایران سے سعودی عرب کی صلح ہوگئی تو جامعة الرشید میں ایرانی وفد بھی آگیا۔ جس کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مفتی عبدالرحیم اور اس کے مرشد نے پہلے فرقہ وارانہ شدت پسندی میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اب وہ ایران کیلئے پڑوسی کا خیال رکھنے کی حدیث سے دلیل دے رہاہے کہ نبی ۖ نے تکرار کرکے فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا ہے جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو”۔ پڑوسی تو ہمارا بھارت بھی ہے ؟۔ یہ مفتی عبدالرحیم کسی سے پوچھ کر بتائے گا کہ وہ پڑوسی ہے یا نہیں؟۔ اس نے بتایا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی نانی اور مفتی رشیداحمد لدھیانوی کی ماں سگی بہنیں تھیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے طالبانائزیشن کی شدت کو ختم کرنے کیلئےPTM(پشتون تحفظ موومنٹ)کو بھی مکمل آزادی دے دی۔جنرل آصف غفور جبDGISPRتھے تو ازراہ تفننPTMپر انڈیا کی فنڈنگ کا الزام لگادیا تھا۔ جب فوج کسی کی مخالفت کا ٹھان لیتی ہے تو اعظم سواتی اور شہباز گل الزام لگاتے ہیں کہ ان سے جنسی زیادتی کی گئی۔ شہباز گل کہتا ہے کہ اب میں اور اعظم سواتی شلوار پہن لیں۔ پھر کہتا ہے کہ میں اپنے اداروں کو بین الاقوامی طور پر بدنام نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ صحافی احمد نورانی نے خبر دی تھی کہ جنسی زیادتی کی خبر غلط ہے اور حامد میر نے جنسی زیادتی کی خبر دی تھی۔ دونوں میں زیادہ بااعتماد صحافی احمد نورانی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کے اثاثے بھی احمد نورانی نے لیک کردئیے تھے اور یہ بھی بتایا تھا کہ بلجیم میں اس کی جائیداد اور اشفاق پرویز کیانی کی آسٹریلیا میں جزیرے کی خبر غلط ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ، عمران خان کے باپ کا سسر ، جنگ کے میر شکیل الرحمن اور جنرل ضیاء الحق کے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کا سسر جنرل رحیم الدین قادیانی تھا۔ ڈاکٹر انوارالحق کا نکاح مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے پیر ڈاکٹر عبدالحی سے پڑھوایا تھا۔ حضرت علی کی بہن حضرت ام ہانی کا شوہر مشرک تھا۔ نبیۖ کا سسر ابوسفیان پہلے مشرک تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کا سسر پارسی اور قائدملت لیاقت علی خان کا سسر ہندو تھا۔
ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان کے مریدوں و عقیدتمندوں پر مفتی عبدالرحیم نے فتویٰ لگایا تھا کہ ” اس نکاح کا انجام کیا ہوگا ؟ ، عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزنا”۔ جب ہماری طاقت ہوگی تو مفتی عبدالرحیم کو اعزازات بھی بخش دیں گے کہ یہ بھی نبیۖ کی سنت ہے کہ اپنے دشمن ابوسفیان کو عزت سے نواز دیا تھا۔ البتہ غلط سلط فتوؤں سے نکلنا وقت کی ضرورت ہوگی۔ فلیضحکوا قلیلًا ولیبکوا کثیرًا ”پس ہنسو کم اور رؤو زیادہ”۔

___دوسرا طبقہ حکمرانوں کا ہے___
اللہ تعالیٰ نے قرآن کی سورۂ مائدہ میں دوسرا طبقہ حکمرانوں کا بیان کیا ہے ،اسلئے جان کے بدلے جان اور اعضاء کے بدلے اعضاء کا فیصلہ حکمران ہی کرسکتے ہیں۔ ایک آدمی کو قتل کردیا، یا کسی کی ناک کاٹ دی، یا پھر کان، دانت اور ہاتھ کو ضائع کردیا تو اس کا بدلہ حکومت اور عدالت نے لینا ہے۔ حکومت اور عدالت سب کو انصاف دیتی ہے لیکن جن جن کو انصاف نہیں ملتا ہے تو ان کی بھی بہت بڑی تعداد ہے۔ پہلے ٹیکس بھی امیر دیتا تھا اور اقتدار بھی ان کیلئے ہوتا تھا۔ اب ٹیکس مہنگائی کی شکل میں عوام پر پڑ رہاہے اور چوری حکمران طبقہ کرتا ہے اسلئے عوام میں بیداری کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے سب سے پہلے نیب کی گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پھر جن افراد نے پارلیمنٹ لاجز میں ارکان پارلیمنٹ کی حفاظت کرنی تھی تو ان کو پولیس نے اٹھایا تو پورے پاکستان میں اہم شاہراؤں کو بند کردیا اور بندے چھڑالئے تھے۔ مریم نواز نے بھی نیب پر سنگِ باری کرنے کیلئے اپنی گاڑیاں پتھر سے بھر دی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن ہمارے وزیرستان کا انقلابی بادشاہ ملا پیوندہ ہے۔ جو ایک طرف انگریز ریاست سے مراعات لیتا تھا اور دوسری طرف تحریک آزادی کی قیادت بھی کررہاتھا۔ مریم نواز بھی گوجرانوالہ کے پہلوان خاندان کی نواسی ہے۔ ن لیگ میں یہ پہلی خاتون ہے جس نے واقعی مزاحمت کا حق ادا کیا ہے۔ نوازشریف اور شہبازشریف تو بہت زیادہ ہی شریف لوگ تھے جن کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی کرسیوں سے بھیڑ کی طرح اٹھاکر لے گئے اور یہ چپ چاپ ساتھ ہولئے۔ رانا ثناء اللہ کی حیثیت بھی ایک پہاڑی بکرے سے زیادہ اسلئے نہیں ہے کہ ایک دفعہ بیچارے کو اٹھاکر لے گئے تو مونچھ ، سرکے بال اور بھنویں تک مونڈ دئیے گئے۔ دوسری مرتبہ20کلو ہیروئن رنگے ہاتھ پکڑا دی گئی ۔ فوجی وردی میں ملبوس اینٹی نارکوٹیکس افسر کے ساتھ بیٹھ کر شہریار آفریدی قرآن اٹھاکر اپنی ماں کے سر کی قسم کھا کر کہتا تھا کہ یہ جھوٹ نہیں ہے ، رانا ثناء اللہ کے پاس ہیروئن برآمد ہوئی ہے۔ اگر ہیروئن کے دھندے کی سمگلنگ میں کوئی پٹھان وزیر ملوث ہوسکتا ہے تو پنجابی وزیرداخلہ بھی ہوسکتا تھا اسلئے کہ لاہور سے کئی مرتبہ ڈرگز پکڑی گئی۔ حنیف عباسی پر بھی کیس تھا۔ لاہور میں ڈرگز پہنچتی ہیں اور ائیرپورٹ پر پکڑی جاتی ہے تو ذمہ دار عناصر بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔ لیکن جب رانا ثناء اللہ کو ریکی کرکے پکڑا گیا تو موقع کی ویڈیو بھی ہونی چاہیے تھی۔حقائق تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن عمران خان نیازی نے کمال کردیا کہ بھیڑ بکری کی طرح خود کو حکمرانوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا۔ جب پارلیمنٹ کا دروازہ توڑ دیا تھا اورPTVپر قبضہ کرلیا تھا تب بھی دہشت گردی کی عدالت نے اس طرح طلب نہیں کیا تھا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔عمران خان کے دورِ اقتدار میں بھی کچھ کم نہیں تھا لیکن موجودہ دور میں اس سے بڑھ کر ہے اور عمران خان آواز بھی اٹھا رہا ہے جس کے اثرات نہ صرف حکومت پر بلکہ ریاست پر بھی بہت بری طرح پڑ رہے ہیں۔
ہندوستان کی ایک ہندو اینکر نے مولانا علیم الدین اور مذہبی اسکالر فیروز بخت کو ٹی وی پر بٹھا کر کتے کے بارے میں پوچھا کہ مسلمان اس سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟۔ دونوں حضرات پسپائی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ قرآن میں اصحاب کہف کے کتے کا بھی ذکر ہے اور شکاری کتے کے ذریعے سے شکار کی گنجائش بھی ہے۔ عالم نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی اور اپنے علم کے ذریعے رفعت کی جگہ پستی اختیار کرلی تو اس کو کتے سے تشبیہ بھی دی۔ ایک مرتد نے کہا کہ قرآن میں مشرکوں کو نجس کہا ہے انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھٰذا اس آیت میں مشرکوں کو عقیدے کی وجہ سے نجس نہیں کہا گیا ہے۔ عیسائی تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن عیسائی عورت سے شادی اور اس کو اپنے بچوں کی ماں بنانا جائز ہے۔ لتا حیاء نے مساجد کے خلاف تحریک چلانے پر ہندوؤں کو کہا تھا کہ تم بھی صبح اٹھو اور منہ دھولو۔ جو مسلمان نہاتے نہیں ان کو بھی نجس کہا جاتا ہے۔ جنابت اور حیض کی حالت میں مسلمانوں کو نماز کے قریب جانے سے روکا گیا ہے۔ ہندوؤں کے نزدیک نچلی ذات والوں کا لعاب دہن نجس ہوتا ہے مسلمانوں کے نزدیک بنی آدم کا لعاب پاک ہے۔ اللہ نے تمام بنی آدم کو قرآن میں عزت و تکریم سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت آٹے کو ذخیرہ کرکے غریبوں میں بانٹنے کا تماشہ کرکے دجال کا کردار ادا کررہی ہے۔ مہدی کا کام مال کی مساوی تقسیم ہوگی۔ جس دن اشرافیہ کے اللے تللے ختم ہوجائیں تو عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے۔

___تیسرے طبقے سے عوام الناس مراد ہیں___
تیسرا طبقہ قرآن کی سورہ مائدہ میں اہل الانجیل کا بیان کیا گیا ہے جس سے عوام الناس مراد ہیں ۔ جن کا فیصلہ نہ علماء ومشائخ کی طرح دین کو بدلتا ہے اور نہ حکمرانوں کے عدل وظلم کے پیمانے کو بدلتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” جو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہ لوگ فاسق ہیں”۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے سے آج کسی بھی عام شخص کو اقتدار میں لاسکتے ہیں۔ ہم نے ایک ایسی پارٹی ”اسلامی انسانی انقلاب” کے نام سے تشکیل دیدی ہے جس میں نظریات اور منشور کی بنیاد پر عوام اپنا نمائندہ منتخب کریں گے اور پھر منتخب نمائندوں میں جسے بھی اکثریت سے منتخب کیا جائے وہی وزیراعظم بنے گا۔ پارٹی کی سینٹرل کمان کسی کو وزیراعظم نامزد نہ کرے گی۔ مثلاً عوام نے313افراد کو منتخب کرلیا۔ پہلے ان313افراد کو اپنی مرضی سے کسی کو ووٹ دینے کا اختیار ہوگا۔ پھر جن دو افراد کی پوزیشن پہلے اور دوسرے نمبر پر ہوگی تو ان میں دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے سے ایک وزیراعظم اور دوسرا سینئر وزیر منتخب ہوگا۔ وزارتوں کیلئے اہلیت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ میں نوازشریف ، آصف علی زرداری ، عمران خان ، مولانا فضل الرحمن اور جن جن سیاسی اور فوجی قیادت پر الزامات ہوں تو ان کو صفائی کا قوم کے سامنے لائیو ٹی وی چینلوں پر موقع دیا جائے گا۔ جس کیساتھ بھی ناجائز اور زیادتی ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے گا اور جس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت ہو تو اس سے درخواست کی جائے گی کہ اپنے حق حلال کی کمائی میں سے ملک کے سودی قرضوں کا خاتمہ کریں۔ انور مقصود نے ٹھیک کہا ہے کہ ” اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو سب کو معاف کردیںگے اسلئے کہ20کروڑ میں سے19کروڑ انسانوں کے ہاتھ کاٹنے پڑیںگے۔ عدلیہ اور ججوں پر بھی کیسوں کا دباؤ کم ہوجائے گا تو عوام کو انصاف فراہم کرنے میں دشواری نہیں ہوگی۔ بارش کے پانی میں عدالت کاغذ کی کشتی ہوتی ہے جو طوفان میں بہہ جاتی ہے۔ جب شعور کی روشنی پھیل جائے گی تو اندھیروں میں ٹکریں کھانے کی مجبوریاں بھی نہیں ہوں گی۔
جب حضرت عمر کے دور میں دولت کی فراوانی ہوئی تو اصحاب بدر، فتح مکہ سے پہلے اور بعد کے مسلمانوں میں وظائف کے اندر فرق رکھا گیا۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہ جب بصرہ کے گورنر تھے تو ان کے خلاف چار افراد نے ام جمیل سے بدکاری کی گواہی دیدی۔ حضرت عمر نے حضرت مغیرہ پر سنگساری کی حد جاری کرنے کے بجائے تین افرادکو80،80کوڑے لگائے، جن میں ایک صحابی حضرت ابوبکرہ تھے۔ اگر سورہ نور کے عین مطابق بدکاری کی سزا100کوڑے ہوتے تو عوام کو سزا دینے کے بجائے گورنر کو سزا دی جاتی۔ یہ واقعہ بڑا عجیب ہے اور اس پر صحیح بخاری وغیرہ میں احناف اور جمہور کی قانون سازی اس سے بھی بڑی عجیب ہے۔
تین افراد کی گواہی مکمل ہوگئی تو حضرت عمر نے چوتھے گواہ زیاد کو آتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اللہ ایک صحابی کو اس ذلت سے بچائے گا اور پھر زور سے دھاڑ ماری کہ تیرے پاس کیا ہے؟۔ راوی نے کہا کہ یہ اس قدر زور کی دھاڑ تھی کہ قریب تھا کہ میں بیہوش ہوجاتا۔ زیاد نے کہا کہ مغیرہ کے کاندھے پر ام جمیل کے پیر ایسے پڑے تھے جیسے گدھے کے کان ۔ میں نے ان کی سرین دیکھ لی اور ٹھنڈے ٹھنڈے سانس لینا سن لیا۔ عوام کو خلفاء راشدین کے دور میں بھی جنگیں لڑنی پڑی ہیں اسلئے اب عوام میں سے ایک حکمران بنانا چاہیے۔ بہادروں، قابل اورقربانی دینے والوں سب کی مہربانی۔ اس دفعہ عوام کو اپنی باری کی حکومت کرنے دیں۔
غریبوں تک اپنی زکوٰة ، خیرات اور صدقات پہنچائیں۔ غیرمسلم اقلیتوں پر بھی رحم کریں۔ حکومت پہلے بینکوں سے زکوٰة نہیں کاٹتی تھی تو لوگ فرض سمجھ کر غریبوں کا احساس کرتے تھے۔ علماء نے بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی کا فتویٰ جاری کرکے حکومت اور مالداروں میں بے حسی کو پروان چڑھادیا۔ مؤلفة القلوب کی زکوٰة کا نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ ”یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فرض ہے جس کو دوسرا کوئی منسوخ نہیںکرسکتا ہے”۔ اگر زکوٰة صحیح جگہوں پر پہنچ جائے تو بھی اس امت کے عوام وخواص پر رحمت اور انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے سودی قرضوں کی سزا عوام کو مل رہی ہے جس کی وجہ سے ان کی کمائی خاکستر ہوگئی ہے اور یہ لوگ پھر بھی عوام اور غریبوں کا خیال رکھنے کے بجائے اپنے اقتدار کی فکر میں موج مستیاں کررہے ہیں۔ ہم ووٹ کے ذریعے اس وقت تبدیلی لاسکتے ہیں جب انقلابی پروگرام عوام کو دیں۔ باتوں سے تبدیلی یا انقلاب کی امید رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ اپوزیشن اور حکومت دونوںاپنے مستقبل سے کھلواڑ کررہی ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟