پوسٹ تلاش کریں

محمود خان اچکزئی کے جرگہ سے صحافی رضیہ محسود کا لیڈران کو بہت جھنجھوڑنے والا خطاب

محمود خان اچکزئی کے جرگہ سے صحافی رضیہ محسود کا لیڈران کو بہت جھنجھوڑنے والا خطاب اخبار: نوشتہ دیوار

محمود خان اچکزئی کے جرگہ سے صحافی رضیہ محسود کا لیڈران کو بہت جھنجھوڑنے والا خطاب

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
سب سے پہلے ہمارے بڑے محمود خان اچکزئی ،یہاں بیٹھے دوسرے بڑے ، ہمارے بھائی اور ہماری بہنیں جو بیٹھی ہیں۔ سب کو السلام علیکم کہتی ہوں۔ میں آج اپنے بڑوں اور بھائیوں کے سامنے کھڑی ہوں تو مجھے بہت فخر محسوس ہورہا ہے۔ بہت خوش ہوں کہ ہمارے پختون بھائی سب جرگہ میں شامل ہیں اور اپنی رائے پیش کررہے ہیں۔ اپنے بڑوں اور بھائیوں کی تقاریر سن رہی تھی تو میں معذرت کیساتھ ہم ان لوگوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو اچھی تقریر کرسکتا ہو، بلند آواز کیساتھ جذباتی باتیں کرسکتا ہو ، اس طرح کہ اسٹیج ہلے۔ ہم اس کو بہت زیادہ داد دیتے ہیں۔ ابھی تک جو ہم برباد ہوئے اور پسماندہ رہ گئے،ان تقاریر اور جذباتی باتوں سے ہم برباد ہوئے ۔ اگر چھوٹے بچے کو یہاں کھڑا کردو تو وہ بڑی اچھی اچھی باتیں کرلے گا مشکلات کو بھی بہت اچھے اندار میں بیان کریگا۔ ہماری مشکلات کا دنیا اور ہر ایک کو پتہ ہے لیکن عملی اقدامات نہیں۔ ہمارے جو بڑے اور بھائی بیٹھے ہیں اگر ان میں آدھے بھی گراؤنڈ پر صحیح کام کرلیں تو بہت زیادہ تبدیلی آئے گی۔ یہاں ہمارے علماء بیٹھے ہونگے آج میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ قبائلی علاقے کے لوگ دنیاوی تعلیم زیادہ پسند نہیں کرتے وہ دینی تعلیم پسند کرتے ہیں۔ ہمارے بچے زیادہ تر دینی مدارس میں ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ہم امریکہ کو فتح کرینگے بڑی باتیں کرینگے مگر ہماری بہنیں جدید تعلیم سے بھی محروم ہونگی اور ٹیکنالوجی سے بھی محروم ہونگی ۔وہ دنیا کیساتھ چل نہیں سکیں گی۔ جب تک ہم اپنی فکر تبدیل نہ کرلیں اور حقیقت تسلیم نہ کرلیں کہ ہمیں صرف باتیں نہیں کرنی چاہیے ، باتیں بہت کرلیں اور باتیں ہر جگہ ہوتی ہیں۔ ہمیں عملی اقدامات چاہئیں۔ زنانہ کے حوالے سے بات کروں گی۔یہاں اگر ہم دیکھ لیں تو کس تعداد میں ہمارے بڑے اور بھائی موجود ہیں اور کتنی تعداد میں خواتین ہیں؟۔6،7افراد ہیں۔ اس سے بھی اندازہ لگتا ہے کہ ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو کتنا محروم رکھا ہے۔ ہم نے ان کو حقوق نہیں دئیے ۔ یہاں پر ایسے بڑے بیٹھے ہیں جن کو میں جانتی ہوں جن کے گھر میں ان کی بیٹیاں تعلیم سے محروم ہیں۔ اس کی اتنی ہمت نہیں کہ گھر کے پاس نزدیک لڑکیوں کا سکول فعال بنادے، ہم اس پر کبھی نہیں سوچتے۔ ہمارے ہاں بڑوں میں علماء بہت زیادہ ہیں مفتی بہت زیادہ ہیں اور ایسے لوگ بھی بہت زیادہ ہیں جو عبادات میں بہت آگے ہیں ۔ لیکن اگر انکے معاملات کی طرف دیکھیں تو ہم بہت پیچھے رہ گئے ۔ ہم بیٹیوں ، بہنوں کو وہ حقوق نہیں دیتے جو اسلام نے دئیے ۔ اس میں تعلیم شامل ہے۔ اسلام نے کہا ہے کہ اپنی بہنوں بیٹیوں کو تعلیم کی روشنی دو۔ جائیداد کا حق ہم قبائلی علاقے میں بہنوں اور بیٹیوں کو نہیں دیتے ۔ جب اس پر کوئی بات کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری روایات نہیں۔ رسم و رواج میں یہ بات نہیں، کس پختون نے بیٹیوں اور بہنوں کو حق دیا ہے؟۔ افسوس ہے کہ مفاد کی بات آتی ہے تو پھر ہم اسلام کو آگے لاتے ہیں۔ جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر اپنی بہن بیٹی کو حق دیا تو یہ ہمیں نقصان ہے کیونکہ وہ بہن بیٹی کسی اور گھر میں جارہی ہے۔ اگرچہ وہ نقصان نہیں لیکن اپنے مفاد کیلئے ہم رسم و رواج کو پیش کرتے ہیں۔ بڑا افسوس ہے کہ میں جہاں بھی جاتی ہوں اور جہاں گراؤنڈ پر دیکھتی ہوں تو عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ یہ جو جذباتی تقریریں ہیں یہ جو داد ہم وصول کرتے ہیں جس پر واہ واہ لوگ کررہے ہوتے ہیں لیکن جب اس شخص کے عمل کو دیکھیں تو اس میں وہ خود کو شمار نہیں کرے گا۔ ہم کس سے گلہ کریں گے؟۔ میں تو اس بات پر حیران ہوں اردو میں کہتے ہیں کہ ایک بار آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانا بیوقوفی ہے۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کون ہمارے ساتھ کررہا ہے اور کس طریقے سے کررہا ہے۔ ہم پھر بھی ان سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے ترقیاتی کام کریں گے؟ وہ ہمیں حقوق دیں گے؟۔ ہم کبھی بھی اس طرح گلے شکوے سے اپنی پسماندگیوں کو ختم نہیں کرسکتے ہیں۔ جب تک ہم اپنے حالات خود نہیں بدلیں اور اپنے آپ کو نہ پہچان لیں۔ پہلے خود کو پہچانو کہ ہم میں کونسی ایسی خصوصیات ہیں کس طرح سے ہم اپنے لوگوں کو اپنے علاقے کو فائدہ پہنچاسکتے ہیں؟۔ ہم اس پر کام کریں۔ ہم تعلیم پر کام کریں کہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو تعلیم کی روشنی دیں۔ میں نے بہت دیکھا کہ قبائلی علاقے میں جب کوئی اِکا دُکا کیس ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ موبائل کا نتیجہ ہے جب موبائل بیٹیوں اور بہنوں کو دیا تو یہ ہوگا۔ ہم ٹیکنالوجی کو الزام دیتے ہیں۔ جب سیاحت کی بات ہوتی ہے کہ باہر سے لوگ آئیں گے جو وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں کی خوبصورتی دیکھیں تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیں نہیں چاہئیں۔ اسلئے کہ خوف ہے کہ اگر یہ آگئے تو ہماری خواتین راستے سے ہٹ جائیں گی۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ اپنی خواتین کو تعلیم اور تعلیم کیساتھ ان کو ایک پختہ فکر دیں، پختہ فکر اچھی تربیت سے ملے گی۔ وہ خالی گھر کے کاموں تک محدود نہ ہوں بلکہ ایک ایسی سوچ دی گئی ہو کہ وہ جس طرح کے حالات بھی ہوں تو اس پر اثر انداز نہ ہوں۔ کب تک ڈریں کہ وہ آگئے اور ہماری خواتین کو راستے سے ہٹادیا۔ ہم ٹیکنالوجی پر الزام لگاتے ہیں۔ چیخ کر چھلانگیں لگائیں گے کہ انٹر نیٹ نہیں چاہئے اسلئے کہ اس کی وجہ سے ہماری عورتیں یا کوئی اور ایسا کام ہوگا جس کی وجہ سے بدنامی ہوگی۔ یہ موبائل یہ انٹرنیٹ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم جیسے استعمال کرنا چاہیں اگر ہماری سوچ مثبت ہو تو نیٹ سے ہم علاقے کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاسکتے ہیں۔ اگر ہم اچھے نہ ہوں اور ہماری سوچ اچھی نہ ہو تو پھر نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ مجھے موقع ملا ہے کہ اپیل کروں کہ تم اپنی بہنوں ، بیٹیوں پر اعتماد کرلو۔ ان کو تعلیم دو ان کیساتھ کھڑے ہوجاؤ یہی بہنیں بیٹیاں تمہاری طاقت بنیں گی۔ ہمیں شرم آتی ہے کہ اپنی بہنوں ،بیٹیوں کیساتھ جائیں کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ یہ اس کی بیوی یہ بیٹی ہے کہ لوگ کیا باتیں کریں گے۔ اسی نے ہمیں پسماندہ رکھا ہواہے۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟۔ یہاں بیٹھے لوگ ایک بھی گراؤنڈ پر کام کرے تو وہ تبدیلی لاسکتا ہے۔ میں اس حق میں نہیںکہ ہم شور کریں، چلائیں اور گلے کریں۔ ہمیں شعور چاہئے۔ ہمارے پاس ڈگری والے بہت ہیں لیکن ہمیں نہیں چاہئیں۔ ہمیں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ چاہئیں۔ قبائلی علاقوں کے بڑے جن کا تعلق حکومت سے ہو جنکے پاس پاور ہو۔ ان سے اپیل ہے کہ وہ ہمارے اسکولوں کو عورتوں اور بچیوں کیلئے فعال کریں ۔ اگر ہسپتالوں کو دیکھیں تو ہم جنگوں میں اتنے نہیں مرے، جتنے غیر فعال ہسپتالوں کی وجہ سے خواتین وبچے فوت ہوتے ہیں، ہمیں عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ علماء سے خاص درخواست ہے کہ دینی مدارس میں بچیوں کودینی تعلیم کیساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دو۔ جدید ٹیکنالوجی سکھاؤ تاکہ ہر پہلو میں مکمل تربیت یافتہ ہوں۔ بیت الاسلام تلہ گنگ مدرسہ میں دینی تعلیم کیساتھ جدیدتعلیم اور ٹیکنالوجی پر کام ہوتا ہے ،ایسے مدرسہ سے بچیاں فارغ ہوں تو وہ ہماری طاقت ہونگی۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا اور بہنوں کوتعلیم دینی ہوگی۔ ہمیں ان کی طاقت بننا چاہیے اور ان کا سہارا بننا چاہیے۔ پھر وہ طاقتور مائیں بنیں گی اور طاقتور قوت بنیں گی اگر تمہاری سپورٹ ہو اور محبت ہو اور تمہاری ہر طرح سے ان پر نظر ہو اور ان کو ایک پختہ سوچ دو اور اچھی تربیت کرو ۔ میں بہت شکریہ ادا کرتی ہوں میں زیادہ وقت بھی نہیں لیتی بس یہ میری ایک سوچ تھی اور میں نے سمجھا کہ تمہارے ساتھ شیئر کروں اور میں اُمید رکھتی ہوں کہ یہ جو ہمارے بڑے ہیں اور جو ہمارے بھائی ہیں تو وہ ہماری بہنوں کیلئے کچھ سوچیں گے اور ان کیلئے کچھ راستہ ہموار کریں گے۔ بہت بہت شکریہ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟