پوسٹ تلاش کریں

یہ پہلا موقع ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حزبِ اقتدار کا کوئی گٹھ جوڑ نہیں

یہ پہلا موقع ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حزبِ اقتدار کا کوئی گٹھ جوڑ نہیں اخبار: نوشتہ دیوار

عوام میں میڈیا کے ذریعے یہ شوشہ رہتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اچھی ہیں یا فوجی ڈکٹیٹر شپ؟۔ حالانکہ یہ سوال بالکل فضول ہے، دونوں ایکدوسرے کا نعم البدل نہیں بلکہ یکجان دو قالب ہیں، جس طرح جمہوریت کے دور میں کسی کے پاس اقتدار ہوتا ہے تو کوئی عتاب رہتی ہے، اسی طرح فوجی ڈکٹیٹرشپ کے دور میں بھی بعض سیاسی جماعتیں اپوزیشن اور بعض اقتدار میں رہتی ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حزبِ اقتدار کا کوئی گٹھ جوڑ نہیں ، ن لیگ کو یہ بھی پسند نہیں، اس سے فائدہ اٹھاکر انقلاب کی ضرورت ہے مگر کیسے؟۔

 Raheel_Saharif_FebSpac2016

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ ریاست چھچھوری بھی ہوتی ہے۔ وسعت اللہ خان
سیاسی جماعتیں اپنی غلطیوں پر کم از کم معافی تومانگ لیں۔ سہیل وڑائچ
ایسٹ انڈیا کمپنی سے آج تک سلیکٹڈ و سلیکٹر کی سیاست۔ رضاربانی