منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ

منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ اخبار: نوشتہ دیوار

منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ

منظور احمد پشتین صرف محسود اور پشتون قوم کا اثاثہ نہیں بلکہ بلوچ ، سندھی اور سرائیکی مظلوم قوموں کے علاوہ مظلوم پنجابی قوم کیلئے بھی ایک بڑا اثاثہ ہیں۔ اس طرح سیدعالم محسود ایک بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ منظور پشتین نے کہا ہے کہ پشتون قوم اس وقت ایک قوم ہوگی کہ جب چمن کے پشتونوں کی تکلیف تمام پشتون قوم کو محسوس ہو۔ ایک پشتون کے دکھ درد اور تکلیف کے احساس کو تمام پشتون محسوس کریں۔ اب کہیں کسی کو تکلیف ہوتی ہے اور ایک بڑے واقعہ کی وجہ سے وہاں احتجاج ہوتا ہے توکسی اور علاقے کے لوگوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا ہے کہ کیا ہواہے؟۔
منظور احمد پشتین نے کہا کہ دہشت گردوں کے گروپ اور قائدین بدل جاتے ہیں اور جرنیل بھی بدل گئے مگر پالیسیاں اب بھی وہی ہیں۔ عالمی قوتیں اپنی پروکسی کے ذریعے لڑائی ہمارے وطن میں لڑتے ہیں۔ ایک گروپ کو امریکہ فنڈ دیتا ہے اور دوسرے گروپ کو چین فنڈ دیتا ہے لیکن خون ہماری قوم کے لوگوں کا بہتا ہے۔ وسائل ہمارے لوٹ لئے جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں قوم کی تنظیم سازی بہت ضروری ہے۔ انقلاب کو بڑے لوگ نہیں لاتے بلکہ عام عوام میں جب شعور آجاتا ہے تو بڑے بڑے انقلاب یہی عام لوگ برپا کرتے ہیں۔
سیدعالم محسود بھی پشتونوں اور ان کے وطن میں ہونے والی سازشوں کی بہت کھل کر بات کرتا ہے۔ غلام قوموں کی مثالیں دیتا ہے اور مشہور دانشوروں کے اقوال زریں سے اپنی قوم میں تعلیم وشعور اور بیداری کی فضاء ہموار کرتا ہے۔ جب کسی قوم کو دوسری اقوام کی کتابوں اور انقلابیوں سے آگاہ کیا جائے تو اس پر اپنی قوم کو قیاس کرنے سے پہلے اپنی قوم کی اصلی حالت بھی ملحوظِ خاطر رکھی جائے اور ان سے قوم کو نجات دلائی جائے۔
حجاز مقدس صحرائے عرب کی وہ سرزمین تھی جس پر کسی بھی بڑی طالع آزما حکمران کی حکمرانی نہیں تھی۔ چھوٹے چھوٹے قبائل تہذیب وتمدن سے محروم ، جنگ وجدل کی آماجگاہ ، ظلم و جبر کی چراگاہ اور جہالت کی اندھیر نگری میں ڈوبے ہوئے منتشر لوگوں کی بستیاں تھیں۔ مکہ اور یثرب بھی اس وقت اس وطن کا حصہ تھے۔ البتہ مکہ مکرمہ کو مذہبی تقدس کا درجہ حاصل تھا۔ لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے۔ گھوڑا آگے بڑھانے پر سالوں لڑائی کرتے تھے۔ جہالت کی اندھیر نگری میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن بڑی اچھی صفات اور خوبیوں کے بھی یہ مالک تھے۔
رسول اللہ ۖ نے بعثت سے پہلے بھی اتفاق واتحاد کے درس سے اپنی قوم کو نوازا تھا۔ جب تعمیر کعبہ پر حجر اسود رکھنے کا مسئلہ پیش آیا تو سارے قبائل کو نمائندگی کے شرف سے نوازاتھا اور جب اللہ نے وحی نازل کی تو بھی مشاورت کا اہم حکم دیا ۔
وزیرستان کے لوگوں میں عرب سے بڑی مشابہت ہے۔ دی پٹھان میں انگریز نے لکھ دیا ہے کہ یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جو حکمرانوں کی دسترس سے ہمیشہ باہر رہاہے۔ کیونکہ حکمرانوں کی دلچسپی خراج سے ہوتی ہے اور وزیرستان کے لوگوں کے پاس یہ وسائل نہ تھے کہ حکمران ان پر حکومت کرنے میں دلچسپی لیتے۔ انگریز دور میں بھی بڑا ہوشیار اور بہادر آدمی وہی شمار ہوتا تھا جو افغانستان اور انگریز دونوں سے مراعات لیتا تھا۔ غریب چور کو ماں لوریاں دیتی ہوئی کہتی تھی کہ غال شہ خدائے دے مال شہ ”چور بن جاؤ اور اللہ تمہارا مدد گار بن جائے”۔تاہم وزیرستان کے لوگوں میں خوبیاں بھی بہت تھیں۔ ظالم کے خلاف اتحاد اور مشاورت سے فیصلے ان کا وہ حلف الفضول تھا جو بعثت سے قبل تھا اور نبی ۖ نے خطبہ حجة الوداع میں سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب قرار دیا تھا۔ رسول اللہ ۖ نے صحابہ کی تربیت کی تھی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر ، عمر اور عثمان کی خلافت کا اچھا خاصہ دور کامیابی سے چل گیا۔ حالانکہ ابوبکر کی خلافت کو ہنگامی اور عمر کی خلافت کو نامزدگی اور عثمان کی خلافت کو بہت محدود مشاورت کا درجہ حاصل تھا۔ جن میں انصار شامل نہ تھے۔
وزیرستان کے لوگوں کا سب سے بڑا کمال مشاورت کے عمل کا تھا جس میں وحی کی سمجھ نہیں بلکہ فطرت کی رہنمائی تھی۔
فطرت کے مقاصد کی کرتاہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی
اسلام نے عربوں کو جہالت سے نکال دیا تھا لیکن محسودقوم اپنی فطرت کی اچھائی پر قائم تھی۔ البتہ اس کی برائیوں کا خاتمہ علماء ومشائخ اسلئے نہیں کرسکے کہ اسلام خود بھی اجنبیت کا شکار تھا تو اس قوم کی اصلاح کہاں سے ہوتی؟۔ تبلیغی جماعت نے اسلام کی تبلیغ کردی لیکن جب اس کے جاہل افراد حلالہ سے اپنی غیرت کا بیڑہ غرق کرنے لگے تو محسود قوم کے غیرتمند وں نے کہا کہ اچھا خاصا غیرتمند انسان ہوگا مگر جب جماعت میں وقت لگاتا ہے تو غیرت بالکل کھو دیتا ہے۔ حلالہ کا واحد حکم ہوتا تھا جس پر تبلیغی عمل کرتے تھے باقی قرآنی احکام سے واقفیت نہیں رکھتے تھے۔ پھربعد میںطالبان آگئے۔
جب طالبان نے امریکہ کے خلاف جہاد کرنا شروع کیا تو اس وقت پاکستان کی ڈبل پالیسی تھی۔ایک طرف مجبوری میں اس نے امریکہ کا ساتھ دیا اور دوسری طرف طالبان کی سرپرستی بھی کرتا تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد نبی ۖ نے ابوجندل کو حوالے کردیا اور ابوجندل نے اپنے جیسے لوگوں سے مجاہدین کا لشکر بنایا تو کفار کے ناک میں دم کردیا۔ طالبان نے امریکہ سے لڑائی کا آغاز کیا تو پاکستانی فوج اور اپنی عوام کے خلاف بھی بھتہ سے لیکر لیڈی ڈاکٹر کے اغواء برائے تاوان تک سب کچھ کردیا۔
جب بڑے پیمانے پر پیسہ ملنے لگا تو خود کش بھی کاروبار بن گیا۔ جس قوم کی لڑکیاں برائے فروخت ہوں تو لڑکوں کے بک جانے پر کیا تعجب ہوسکتا ہے؟۔ دینداری سے زیادہ لالچ کے پروانوں نے اپنا کام دکھانا شروع کیا۔ ہمارے عزیزوں کے بارے میں مشہور تھا کہ ” رات کو کھمبے چوری کرکے نکالتے اور دن کو عوام کے سامنے توبہ کرتے ہیں”۔ وہ بھی طالبان بن گئے۔ ہمارے عزیز پیر کریم کے اپنے بیٹے بھی ملوث تھے مگر اس کے بیٹے نے اپنے قریبی عزیز اور پڑوسی پرہمارے واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام لگادیا۔ پیر کریم میرے بھائی کی تعزیت پر آتا تھا لیکن اپنی بھابھی کی تعزیت کیلئے پہلے دن بھی نہیں بیٹھا۔ حالانکہ اس کے بھتیجوں نے کہا تھا کہ چاچو کریم وہاں بیٹھا ہے۔
ہماے خلاف ایک مہم چلائی گئی کہ لوگوں کی بیویاں اغواء کرتے ہیں۔ کسی کی بیوی بچوں کو چھین لیا ہے وغیرہ۔ طالبان کو غلط معلومات دیکر اکسایا گیا اور طالبان ان کو سزا دینے پر بھی تیار تھے لیکن ہماری غیرت نے گوارا نہیں کیاکہ جاسوسی کے نام پر طالبان ہمارے قریبی عزیزوں اور دوسرے خوار غریب کو قتل کریں۔ جب تک ہم اپنی کمزوریوں پر قابو نہیں پائیں گے تو یہ معاملات چلتے رہیںگے۔ میں چاہوں گا کہ پیر کریم سے کچھ معلومات لیکر شائع کردوں تاکہ غلط فہمیوں کے ازالہ میں ایک بنیادی کردار ادا ہو۔ غلط رسموں کی اصلاح کیلئے منظور نے بھی بیان دیا تھا لیکن یہ بہت کمزور بات ہے۔ جب تک مضبوط اور حقائق کی بنیاد پر پوری پشتون اور پاکستانی قوم کو تباہی وبربادی سے نہ نکالا جائے تو خریدنے اور بکنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار
لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا
جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری