پوسٹ تلاش کریں

مسئلہ فلسطین کا حل ؟

مسئلہ فلسطین کا حل ؟ اخبار: نوشتہ دیوار

مسئلہ فلسطین کا حل ؟

فلسطین کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ مسلمان مار کھائیں اور ہم چندے کھائیں۔بلکہ ایک مؤثر رابطے کے ذریعے سے فلسطینیوں کو مشکلات سے نکالنا عالم اسلام اور عالم انسانیت کا فریضہ ہے۔

خدائی امریکہ کی نہیں ۔ خدائی اللہ کے پاس ہے۔ سپر پاور نہیں ۔ سپریم پاور اللہ ہے۔ پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے ، جفاکشی کے اقدامات کرنے پڑے تو کرینگے۔ ہم گولیوں، بموں کا سامنا کرینگے۔ نہ امریکہ نہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست دے سکتی ہے۔ ہمارا جہاد چندہ بھیجنا ہے،اسرائیل کے ختم ہونے تک جاری رہیگا۔مفتی تقی عثمانی کی تقریر
آپ صرف اور صرف عالمی سُودی نظام کا بائیکاٹ کریں،بس!
یہ تقریر میں بھی آذانیں پڑھ رہے ہیں۔ آذان بھی مجاہد والی نہیں جو دوسروں کو ڈرائے ۔ مُلا والی جو خود کو ڈرا تا ہے یا چندے کا بہانہ ہے؟

عربی شاعرہ پکار کر کہہ رہی ہے کہ عرب کی غیرت، غضب شرافت، قہر کہاں ہے؟۔ عربی لڑکیوں نے اسرائیل کو بددعا اور فلسطین کو دعائیں دیں۔ یہودی اسرائیل کیخلاف نکلے۔ سردار محمد اکمل سینئرایڈوکیٹ ہائیکورٹ خانپور نے کہا عتیق گیلانی مسلم حکمرانوں کی خاموشی پر لکھے۔ افغانستان، عراق کا بیڑہ غرق کیاگیا تو پاکستان وایران نے کونسا تیر مارا؟۔ حکمران سفارتی تعلق ختم اورطبل جنگ بجاتا ہے۔عیسائی و کمیونسٹ ممالک نے مسلم ممالک سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی۔
حماس نے عسقلان پرحملہ کیا،اسرائیل نے مظالم کی آخری حد کی۔ امریکی جنگ میں4لاکھ افغانی ،80ہزارپاکستانی ہلاک ہوگئے۔میڈیا کو کوریج اور شہید لکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ملاعمرو ملا ضعیف بے گناہ تھے مگر طالبان کا خاتمہ کیا۔ امریکہ نے عراق کو تباہ کیا۔ لیبیا کی عوام سے قذافی کا خاتمہ کرایا۔ افغانی اور پاکستانی نے ایکدوسرے کومارا۔ عراق، لیبیا اور شام میں ایکدوسرے کا قتل ہوا۔اس بچی کا پورا خاندان اسرائیل نے شہید کیا تو اس نے رو روکر کہا کہ ”کا ش میں بھی اپنی ماں کیساتھ مرجاتی”۔
ایک عرب خاتون نے کہا کہ ” دنیا میں5%عرب دنیا کا50فیصد اسلحہ خریدتے ہیں دنیا کے60%وسائل رکھتے ہیں۔ آپس میں لڑیں تو خطرناک اسلحہ استعمال کرتے ہیں مگر اسرائیل کیخلاف صرف بددعا دیتے ہیں”۔
ابوعبیدہ نے خالد بن ولیدکا حوالہ دیا کہ اسلام قبول کرو ، یا جزیہ دو یا پھر لڑائی۔ تمہارا واسطہ ان سے پڑا ہے جو زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔عربی علماء کا مذاق بنا کہ:”عرب لڑکیاں ابوعبیدہ کے فتنہ میں مبتلا ہو رہی ہیںمگر یہ مجبوری ہے”۔ن لیگی صحافی نے کہا ” خواتین فتنہ عمرانی میں مبتلاء ہیں”۔ بداخلاقی کا طوفان برپا ہے، جاویدچوہدری نے فلسطین کو شیعہ مسئلہ قرار دیا۔ خطرہ ہے کہ شیعہ کو یہود اور پاکستان کو اسرائیل سے بدتر قرار دیکر خانہ خرابی شروع کرنے کا معاملہ نہ ہو؟۔
سعودی عرب میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر مذہبی طبقہ گرفتار ہور ہاہے وہ سمجھتے ہیں کہ جوانوں کا تو اسرائیل تک ہاتھ نہیں پہنچے گا مگر حکمرانوں کیخلاف بھڑکانے کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔ حکمران اپنی عوام سے ڈرتے ہیں۔ایران میں آگ مشکل سے بجھ گئی تھی۔
فوج نے کارگل قبضہ کیا کرنل شیر خان شہید نشان حیدر پاگیا۔نواز شریف سے امریکہ وبرطانیہ نے قبضہ چھڑا دیا۔ندیم ملک کو سن لیں۔دفاعی قوت سے بھارت نے ردعمل کی جرأت نہ کی۔ جارحیت کی تو منہ کی کھانی پڑ گئی ورنہ ہمارا حشر فلسطین جیسا ہوتا۔ فوج کو گالیاں بکی جارہی ہیں۔ فوجی کردار کا آئینہ جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ہے۔ان داشتاؤں نے ہی اپنے آقا کی ساکھ کونقصان پہنچایا۔ اپنے لئے تو جنرل اچھا لگتا ہے مگر اوروں کے حق میں فوجی کردار سے داشتائیں بلبلا اُٹھتی ہیں۔ عسقلان کا ذکر توراة میںہے۔73سال میں پہلی بار حماس نے بڑا حملہ کیا ۔ اسرائیل نے ہمیشہ فلسطین پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے۔ عیسائی القدس پر یہودی قبضہ کیخلاف ہیں ۔ یہودی اکثریت بھی اسرائیل سے نفرت کرتی ہے۔فلسطین کا مقدمہ اسلام کی حقیقی تعلیم اور اخلاقیات کے اعلیٰ نمونہ کے طور پر پیش کرنا ہوگا،پھر مسئلہ حل ہو جائے گا۔
حدیث میں عسقلان کے ذریعے رابطے کی اہمیت واضح ہے۔ اگر اسرائیل نے عسقلان پر جبری قبضہ کیا ہے تو اسرائیل اور یہودیوں کو اس سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اگر مسلمانوں نے خود بیچ کر غزہ پٹی کی پتلی گلی پکڑی ہے تو پھر عسقلان اور کسی بھی شہر پر زبردستی سے مسلمانوں کو بھی قبضے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
بیت المقدس یہودونصاریٰ کا قبلہ ہے ہمارا نہیں ۔ ہمارا قبلہ تھا تو قبضہ نہ تھا۔ جب اپنارخ پھیر لیا تو قبضے کی ضرورت نہ تھی جب قبضہ کرلیا تو طاقت نہیں بنائی۔ رسول اللہ ۖ کے پاس طاقت نہ تھی تو مکہ سے مسلمانوں سمیت ہجرت کی۔
حضرت عمر کو بیت المقدس عیسائیوں نے حوالہ کیا، یہود پرالقدس کی پابندی ختم کی ۔یہ ایسا تھا جیسا کہ اللہ نہ کرے خاکم بدہن دجال مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار خانہ کعبہ پر قبضہ کرلیں اور مسلمانوں پر حج و عمرہ اور مکہ آمد کی پابندی لگائیں ۔ پھرسکھ مسلمانوں سے پابندی ہٹادیں۔ یہود اسلام کے شکر گزار ہیں۔ عیسائی مسلمان پر غصہ ہیں کہ یہود کو اجازت کیوں دی ؟۔ مسلمانوں نے یہود کو زمینیں اور مکانات بیچے۔ حقائق سمجھ لیںتو پھرمسلمان فاتح بن سکتے ہیں۔
وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال و النسآء والولدان الذین یقولون ربنآ اخرجنا من ھٰذہ القریة الظالم اھلھا… ” اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتال نہیں کرتے اور مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے کمزور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں نکال دے اس بستی سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں…”۔ (النسائ:75)
مفتی تقی عثمانی نے آیت کے ترجمہ و تفسیر میں بڑی ڈنڈی ماری ہے۔ اگر یہ فلسطین کے مسلمانوں کیلئے ہے تو فلسطینیوں کو اسرائیل نکالنا چاہتا ہے۔ پہلے جو قریب و دور کا معاملہ تھا تو اب حکمرانوں کیلئے دور مار میزائل کے ذریعے سے کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ مسلم حکمران چاہیں تو منٹوں میں اسرائیل کو مار بھگاسکتے ہیں لیکن یہود کے عالمی سُودی نظام نے حکمرانوں کیساتھ اب علماء کو بھی پھنسایا ہوا ہے۔ حماس کی اخبار میں سرخی لگائی گئی کہ اگر پاکستان اسرائیل کو دھمکی دے تو جنگ بند ہوگی لیکن مفتی تقی عثمانی نے جنگ جاری رکھنے کا ترانہ سنایا اسلئے کہ خود نہیں کرنا۔
افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کی تباہی کے بعد کوئی مسلم ملک رسک نہیں لے سکتا کہ مغرب سے ٹکرائے۔ پاکستان نے افغانستان کے خلاف مجبوری میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ ابوعبیدہ کہتا ہے کہ خالد بن ولید کی طرح ہم غیر مسلموں سے کہیں گے کہ اسلام قبول کرو یا جزیہ دو یا پھر لڑائی ہے۔ تمہارا ایسی قوم سے واسطہ ہے جو زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ حماس کے کسی مجاہد نے خود کش نہیں کیا۔ افغانستان میں نیٹوافواج کے خلاف خود کشوں کا بڑا سلسلہ تھا۔ لاکھوں افراد موت کی گھاٹی میں پہنچ گئے لیکن کسی کی” چیں چاں پیں پاں” کسی نے نہیں سنی۔ وہ بھی یہی انسان تھے۔ ان کو بھی مشکلات سے گزرنا پڑاتھا۔ ان کو مظلوم سمجھنے کا تصور بھی نہیں تھا۔ ہم نے ان سارے مراحل سے خود گزر کر بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔
قرآن میںمذہبی تعصبات نہیں۔ ان الذین اٰمنواوالذین ہادوا والنصٰرٰی والصٰبئین من اٰمن باللہ والیوم الاٰخر وعمل صالحًا فلھم اجر ولاخوف علیھم ولا ھم یحزنوںO(البقرہ آیت62)
ترجمہ ” بیشک جو لوگ مسلمان ہیںاور یہودی ہیں اور عیسائی ہیں اور صابئین ہیں جو اللہ پرایمان رکھے اور آخرت کے دن پر اور صالح عمل کرے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ لوگ غمگین ہوں گے”۔
مشرکینِ مکہ جاہلانہ مذہبی تعصبات رکھتے تھے تو نام ونشان مٹ گیا اور اب ہندؤوں کی من حیث القوم مسلمان ہونے کی باری ہے ۔دجال سے بڑا فتنہ نہیں، ابن صائد یہودی نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے نبی ہیں اور میں جہانوں کا نبی ہوں۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں اس کا سر قلم نہ کردوں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی دجال ہے تو آپ کواس کے قتل پر قدرت نہیں ۔ اور اگر وہ دجال نہیں تو اس کے قتل میں کوئی خیر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رحمت للعالمین ۖ نے دجالوں کو بھی قتل کرنے کا حکم نہیں فرمایا۔ابن صائد نے رسول اللہ ۖ کے سامنے اتنا بڑا دعویٰ کیا مگرفرمایا: اس کے قتل میں خیر نہیں ؟۔ دجال اور یہود کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تقدیر سے وابستہ کردیا۔ ابن صائد دجال نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود کہتا تھا کہ وہ مسلمان ہے لیکن صحابہ نے قتل نہ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو دیوبندی اکابرین، بریلوی اکابرین اور جماعت اسلامی کے مولانا مودودی نے نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود قتل نہ کیا۔ آج بڑی تعداد میں قادیانی ہیں مگر شدت پسند جماعتی، دیوبندی اور بریلوی سے پوچھا جائے کہ تمہارے اکابر مرزا قادیانی کو اور تم قادیانیوں کو قتل کرنا اسلام سمجھتے ہو تو کیوں نہ کیا؟۔ تو یہ اپنی پچھاڑیوں سے قمیض اٹھاکر کہیںگے کہ ہم سب نسل در نسل بے غیرت ہیں۔ ڈاکٹرا سرار احمدMBBSڈاکٹر تھا کوئی عالم دین نہ تھااس نے کہا تھا کہ” قادیانیوں کو قتل کرنا باقی ہے”۔ آج اس کی جماعت کا بے غیرت امیر شجاع الدین شیخ قادیانیوں کو قتل کرنا تو در کنار سود کو جائز کہتا ہے۔ مذہبی شدت پسندوں کی کھلے عام ذہنی آپریشن کی ضرورت ہے۔ اسلئے نہیں کہ یہ خطرناک ہیں بلکہ یہ دوسروں میں شدت کے جراثیم بھرتے ہیں۔ ایک طرف اقامت دین کے نام پر چندہ لیتے ہیں اور دوسری طرف طاقتور حلقوں کی آشیر باد رکھتے ہیں۔ حالانکہ اصل چیز قرآن کے فطری احکام میں جہاد کا حق ادا کرنا ہے، جب عوام کے سامنے فطری احکام آئیں گے توپھر اسلام نافذ ہو جائے گا۔
مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت خطرناک اسلئے تھی کہ مسلمان کچے دھاگے کی عقیدتوں سے بندھے ہوئے جاہل تھے جن میں علماء کی بڑی تعداد شامل تھی۔
فلسطین کا مسئلہ گیدڑ سنگھی چھوڑنے سے حل نہ ہوگا بلکہ اس کیلئے ایک عالمی سطح کا اجلاس طلب کرنا ہوگا۔ جس میں مسلمانوں کے تمام طبقات کی نمائندگی ہو اور اس میں عیسائی اور یہودکے نمائندے شامل ہوں۔یہود اور عیسائی مسیحا تک بیت المقدس مسلمانوں کو حوالے ہوگا ۔ القدس میں سب کیلئے آزادی کی خوشخبری ہوگی اور سیکورٹی مسلمان کے پاس ہوگی اور یہود ونصاری بھی آزاد ہوں گے۔
خراسان سے نکلنے والا قافلہ اسلامی تعلیم و انسانیت کا بہترین نمونہ ہوگا اور امن وسلامتی کے جھنڈوں کو القدس میں نصب کرنے سے کوئی نہ روک سکے گا۔
قرآن میں بنی اسرائیل کے بارے میں دومرتبہ فساد کی پیشین گوئی ہے۔
وقضینآالی بنی اسراء یل فی الکتٰب لتفسدن فی الارض مرتین و لتعلن علوًا کبیرًاOفاذا جآء وعد اولٰھما بعثنا علیکم عبادًا لنا اولی باسٍ شدید فجاسوا خلٰل الدیار وکان وعدًا کان مفعولًاO ثم رددنا لکم الکرة علیھم و امددنٰکم باموالٍ وبنین و جعلنٰکم اکثرنفیرًاO ان حسنتم احسنتم لانفسکم وان اسأتم فلھا فاذا جاء وعدالاٰخرة لیسو ء ا وجوھکم ولید خلوا المسجدکما دخلوہ اول مرةٍ ولییتبرواماعلوا تتبیرًاO عسٰی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا وجلعنا جھنم للکٰفرین حصیرًاO
ان آیات میں بنی اسرائیل کی طرف سے دومرتبہ فساد کرنے کی نسبت ہے۔ پہلی بار بنی اسرائیل عیسائیوں نے یہود کیساتھ مظالم کی انتہاء کردی تھی اور پھر اللہ نے مسلمانوں کو ان پر فتح ونصرت عطا فرمائی۔ اس کے بعد قرآن میں ان کے پاس گیند دوبارہ جانے کی خوشخبری ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ ان کی مدد ہوگی اموال اور اولاد کے ذریعے ۔ اگر وہ اچھائی کریں تو ان کے اپنے لئے ہے اور اگر برائی کریں تو بھی ان کا سامنا خود ہی کرنا پڑے گا۔ جب دوسری مرتبہ کا وعدہ آئے گا تاکہ ان کے چہرے اُداس ہوں۔ ان آیات میں دوسری مرتبہ ان پر رحم کی امید ہے لیکن ان کو تنبیہ کردی گئی ہے کہ اگر تم اپنی حرکت کروگے تو ہم بھی واپس اسی طرح سے تمہیں سبق سکھائیں گے۔ سورہ الحدید میں بھی اسی طرح کی پیشگوئی ہے کہ اہل کتاب کے عروج کے بعد اللہ مسلمانوں کو ہی عروج بخشے گا۔

ارکان طغیان خمس
1:تقدیم الذیل علی الرأس
2: تخذیر الحاضر بالأمس
3: توزیع الخوف مع الیأس
4: تقدیس الشرطة والعسّ
5:بقاء الجحش علی الکرسی
طاغوت کی بنیاد 5ارکان پر ہے
1: دُم کا آگے سے ہونا سر کے اوپر
2: حاضر کو آنیوالے کل سے ڈرانا
3: ہڑتالیں خوف کی امید کیساتھ
4:سپاہی اور چوکیدار کو مقدس ماننا
5: گدھے کے بچے کا کرسی پر رہنا

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟