مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ درس نظامی پر کوئی ایسی وحی نہیں ہے جسے تبدیل نہ کیا جا سکے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ اس خاندان میں عتیق جیسے علماء موجود ہیں۔ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ درس نظامی پر کوئی ایسی وحی نہیں ہے جسے تبدیل نہ کیا جا سکے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ اس خاندان میں عتیق جیسے علماء موجود ہیں۔

مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ درس نظامی پر کوئی ایسی وحی نہیں ہے جسے تبدیل نہ کیا جا سکے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ اس خاندان میں عتیق جیسے علماء موجود ہیں۔ اخبار: نوشتہ دیوار

مولانا قریشی کو بہت وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ مولانا سمیع الحق شہیدکا بیان تھا” درسِ نظامی کوئی وحی نہیں کہ تبدیلی نہ ہوسکے” ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ” اس خاندان میں عتیق جیسے اہل علم ہیں”

نوشتہ دیوار کراچی۔ ماہ نومبر۔ صفحہ نمبر1
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی(چیف ایڈیٹر)

درسِ نظامی کا بہت بڑا فائدہ ہے کہ قرآن ناظرہ تجوید،قرآت اور اسکا ترجمہ پڑھایا جاتا ہے۔ درسِ نظامی کا پہلا اصول قرآن ہے۔ مسئلہ قرآن میں موجود ہو تو احادیث کو تلاش کرنے کی ضرور ت نہیں اور اگر حدیث قرآن کے خلاف ہو تو اس کو ناقابلِ عمل سمجھا جائے گا۔ درسِ نظامی کے اس بنیادی اصول نے آج تک امت مسلمہ کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے میں بہت زبردست کردار ادا کیا ہے۔
مگرافسوس کہ علماء اور گمراہ مذہبی طبقے نے یہ اصول کماحقہ امت کے سامنے پیش نہیں کیا۔ جاہلوں نے اپنے اصول بنالئے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ جاویداحمد غامدی تک نے بھی اپنی طرف سے اصول بناڈالے اور میڈیا پر اس کی مسلسل تشہیر کررہاہے لیکن قرآن کی طرف امت کو متوجہ کرنے کی کوشش نہیں کی اور یہی حال غلام احمد پرویز اور دوسرے جدید جاہل مفکرین اسلام کا رہا ہے۔
مثلاً قرآن میں طلاق اور اس سے رجوع کے حوالے سے تفصیلات واضح ہیں۔ اگر ان پڑھ لوگوں کے سامنے اس کا سادہ ترجمہ بھی رکھا جائے تو اس میں ایسی رہنمائی ہے کہ پڑھا لکھا، ان پڑھ ، عالم ، جدید دانشور اور مسلم وغیرمسلم اور عرب وعجم ہر ایک اس کے بہت سادہ اور واضح احکامات کو سمجھ سکتا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے مختلف زبانوں میںاور مختلف زمانوں میں انبیاء کرام کے بھیجنے کی نشاندہی قرآن میں فرمائی ہے تو مذہبی طبقات اور قوم کے سرداروںنے کس طرح انبیاء کرام کی مخالفت کی تھی؟۔ سب ادیان کا بیڑہ انکے علماء ومشائخ نے غرق کیا ہے لیکن رسول اللہ ۖ آخری نبی ہیں اور قرآن آخری کتاب ہے اسلئے قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے لیا ہے۔ اگرچہ قرآن کریم کی لفظی تحریف مذہبی طبقات کیلئے ممکن نہیں تھی لیکن پھر بھی بعض مذہبی طبقات نے اپنا عقیدہ بگاڑ دیا کہ قرآن میں لفظی تحریف بھی ہے اور معنوی تحریف کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ تو سلامت ہیں لیکن اس کے معانی بگاڑ دئیے گئے ہیں۔ فتویٰ دیوبند پاکستان میں ڈیرہ اسماعیل خان کلاچی کے قاضی عبداالکریم کا ایک سوال چھپ گیا جس کا جواب مفتی اعظم پاکستان مفتی فریدحقانیہ اکوڑہ خٹک نے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ” مولانا سیدانور شاہ کشمیری کی شرح فیض الباری میں یہ عبارت دیکھ کر پاؤں سے زمین نکل گئی کہ قرآن میں معنوی تحریف تو بہت کی ہے لیکن لفظی تحریف بھی کی ہے یا تو مغالطے سے یا عمداً کی ہے۔ کیونکہ کفار کی طرف اس بات کی نسبت نہیں ہوسکتی ہے اور صحابہ کرام پر یہ تہمت لگتی ہے”۔ جس کا جواب مفتی فرید نے غیر تسلی بخش دیا ہے کہ ”فیض الباری مولانا انورشاہ کشمیری کی تحریر نہیں ہے، کسی نے ان کی تقریروں کو لکھ کر ان کی طرف منسوب کیا ہے”۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے کہ ” مولانا انورشاہ کشمیری نے عمر کے آخری حصے میں فرمایا کہ میں نے اپنی زندگی ضائع کردی کیونکہ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں اُلجھ کر ساری زندگی ضائع کی”۔
شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے قرآن کے ترجمہ وتفسیر میں لکھ دیا ہے کہ ” مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ مولانا اشرف علی تھانوی نے ترجمہ وتفسیر لکھی ہے۔ بعض احباب کے اصرار پر شاہ عبدالقادر کے ترجمہ وتفسیر میں مغلق الفاظ کی تسہیل کی کوشش کررہاہوں”۔ پھر اس کی تفسیر علامہ شبیراحمد عثمانی نے مکمل کی ہے جس کو تفسیر شیخ الہند کے بجائے بجا طور پر تفسیر عثمانی ہی کہا جاتا ہے۔
تفسیر عثمانی علماء دیوبند کی سب سے زیادہ سہل، بہترین اور مستند تفسیرہے لیکن پھر بھی اردو زبان کی تبدیلی کی وجہ سے اس میں مزید گنجائش پیدا ہوگئی ہے ۔ جبکہ مولانا سیدابولاعلیٰ مودودی کے ترجمے وتفسیر کو زیادہ آسان فہم سمجھا جاتا ہے۔
علماء نے قرآن کے ترجمے اور تفاسیر میں فقہی مسالک کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا تھا اسلئے ان کی تفاسیر عوام کی سمجھ سے بالاتر رہیں اور مولانا سیدمودودی نے عوام کا بھی خیال رکھا ہے اورعلماء کے ترجمہ وتفسیر کو زیادہ سے زیادہ عام فہم بنایا ہے۔
سورۂ طلاق میں ہے کہ اذاطلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن ”جب تم عورتوں کو چھوڑنا چاہو تو عدت تک کیلئے چھوڑ دو” ۔عربی میں طلاق عورتوں کے چھوڑنے کو بھی کہتے ہیں۔ یہ بالکل سادہ زبان میں اس کا ترجمہ ہے لیکن جب اس کو فقہی مسالک میں ڈھالنے کی کوشش کریںگے تو پھر ہر فقہ کا اپنا ترجمہ ہوگا۔
فقہ میں پہلا اختلاف یہ ہے کہ جمہور کے نزدیک عورتوں کی عدت سے مراد ان کے پاکی کے ایام ہیں اور احناف کے نزدیک ان کے حیض کے ایام ہیں۔
فقہ کا دوسرا اختلاف یہ ہے کہ امام شافعی کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینا سنت اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینا بدعت ہے۔اور اہل تشیع کے نزدیک ضروری ہے کہ ہرطہر یعنی پاکی کے ایام میں ایک بار طلاق دی جائے اور اسکے الفاظ شریعت کے مطابق ہوں اور اس پر دوگواہ مقرر ہوں۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے بخاری کی اپنی شرح ”کشف الباری ” میں لکھا ہے کہ ” عدت کی دو قسمیں ہیں ایک عدت الرجال یعنی مردوں کی عدت، جس میں مرد عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورت کی پاکی کا زمانہ ہے اور دوسری قسم عدت النساء ۔یعنی عورتوں کی عدت۔ جس میں عورتوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے اور وہ عورتوں کے حیض کا زمانہ ہے۔
مولانا سلیم اللہ خان نے حنفی فقہاء کی بات نقل کی ہے جو لوگوں کو زیادہ قابل فہم لگتی ہے کہ شوہر عورت کو ایسے پاکی کے دنوں میں طلاق دیں کہ جس میں جماع نہیں کیا ہو اور عورتیں حیض تک انتظار کریں تو معاملہ لوگوں کو ناقابلِ فہم نہیں لگتا۔
لیکن جب علما ء اپنی فقہ کے مطابق قرآن کا ترجمہ کرتے ہیں تو عوام کو قرآن نہیں سمجھا سکتے ہیں اسلئے انہوں نے ایک طرف اپنے دانتوں میں اپنی فقہ کو بھی مضبوط پکڑا ہوا ہوتا ہے اور دوسری طرف قرآن کا ترجمہ بھی عوام کو سمجھانا چاہتے ہیں۔ جب قرآن اور فقہ دونوں میں کوئی جوڑ نہیں دیکھتے تو ایک تماشا بنتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی میں پہلی مرتبہ ترجمہ کیا تھا تو آپ کو دوسال تک روپوش ہونا پڑا اسلئے کہ سمجھدار علماء نے محسوس کیاتھا کہ ہم اس کی وجہ سے بہت مصیبت میں پڑسکتے ہیں۔ پھر شاہ ولی اللہ کے بیٹوں نے قرآن کا اردو میں ترجمہ کیا۔ شاہ رفیع الدین نے لفظی اور شاہ عبدالقادر نے بامحاورہ ترجمہ کیا۔ پھر دیوبندی مکتب کے مولانا اشرف علی تھانوی اور بریلوی مکتب کے مولانا احمد رضاخان بریلوی نے اپنے اپنے ترجمے کردئیے تھے لیکن سمجھدار علماء نے پھر بھی اپنی اور عوام کی تشفی کیلئے قرآن کے ترجموں کا سلسلہ جاری رکھاہے۔
قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ ” جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کو ان کی عدت تل کیلئے طلاق دو”۔ جب طلاق کا ایک مخصوص قسم کا فقہی مذہب کے مطابق کوئی تصور آتا ہے تو بندہ قرآن کے ایک ایک لفظ پر خوب غور کرتا ہے کہ کس طرح سے کوئی ایسا معنی کشید کرے کہ جو اس کے فقہی مسلک سے متضاد بھی نہ ہو اور قرآن کی بھی بالکل غلط وکالت نہ کرے۔ جہاں تک قرآن اور فقہی مسلک کے مطابق قرآن کے ترجمے کا تعلق ہے تو اس میں بہت بڑا تضاد ہے اسلئے کہ قرآن میں عورتوں کی عدت کے مطابق طلاق دینے کا حکم دیا گیا ہے اور اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ حنفی مسلک میں عورتوں کی عدت کا زمانہ ان کے حیض کا دور ہے۔ حنفی مسلک کے مطابق ترجمہ کیا جائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ”جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کو حیض کے دور میں طلاق دو”۔ مسلک حنفی میں یہ ترجمہ بھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتا ہے اسلئے کہ ” مسلک حنفی میں یہ واضح ہے کہ مردوں نے طہر یعنی پاکی کے ایام میں طلاق دینی ہے”۔
قرآن کے الفاظ میں مردوں نے عورتوں کی عدت میں طلاق دینی ہے توپھر عدت الرجال اور عدت النساء کے الگ الگ تصور کا فقہی مسلک بھی بالکل ہی غلط ثابت ہوگا۔ ایک طرف قرآن اور دوسری طرف فقہی مسالک کی حفاظت کا معاملہ سامنے آئے گا تو دونوں کام نہیں ہوسکیں گے اسلئے علامہ سید انورشاہ کشمیری نے ٹھیک کہا کہ” میں نے قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی” ۔ یہ اللہ والے ہوسکتے تھے مگر عالم نہیں۔
شیخ الہند مولانا محمودالحسن یوبندی کے ترجمے کی تفسیر عثمانی میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے لکھا کہ” عورتوں کی عدت کا زمانہ انکے حیض کا زمانہ ہے اور قرآن کے الفاظ کا معنی یہ ہے کہ ”عورتوں کے حیض سے تھوڑ ا پہلے طلاق دو ”۔ حالانکہ قرآن کے الفاظ کے یہ معانی قطعی طور پر نہیں بن سکتے ہیں۔
جب طلاق کاایک مسلکی اور شرعی تصور آئیگا تو پھر فرقہ ومسلک کی ترجمانی بھی کرنی پڑے گی اور جب فقہ ومسلک اور قرآن میں کسی ایک ہی کا انتخاب کرنا پڑے تو انسان کی مرضی ہے کہ قرآن سے استفادہ کرے یا پھر مسلک کی پیروی کرے۔ مسلک کی پیروی نے اگر قرآن سے دور کردیا تو پھر مسلک دین میں معنوی تحریف کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور مولانا سید محمدانور شاہ کشمیری نے اس بات کی نشاندہی کردی کہ قرآن میں معنوی تحریف کا بہت ارتکاب ہواہے۔
اکثرپڑھے لکھے لوگ اسلئے علماء کے تراجم اور تفاسیر کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں اور جدید مذہبی اسکالرز اوردینی مفکرین سے استفادہ کرتے ہیں۔حالانکہ یہ لوگ بھی انہی مذہبی مسلک اور تراجم سے تھوڑے بہت اختلاف کیساتھ وہی کچھ لکھتے ہیں جو قرآن کے تراجم اور تفاسیر میں پہلے سے لکھا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” اے پیارے نبی! جب آپ لوگ عورتوں کو چھوڑ و تو ان کو ان کی عدت کیلئے چھوڑ دو۔ اور عدت کا شمار رکھ کر اس کا پورا پورااحاطہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرو،جو تمہارا رب ہے۔ ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر جب وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو اللہ کی حدود سے گزر جائے تو تحقیق کہ اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔اس کو خبر نہیں کہ شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی راہ پیدا کرلے”۔ (سورہ الطلا ق آیت1)
آیت میں فقہی مسائل ومذاہب سے بے خبر اس وقت سادہ لوح عوام کو یہ حکم دیا گیا کہ جب مدارس وجامعات اور سکول وکالج اور یونیورسٹیوں کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ ایک آدمی قرآن کے اس پیغام کو بہت اچھی طرح سمجھ سکتا تھا۔
قرآن اور عام زبان میں عورت کی عدت کا مفہوم بالکل واضح ہے اور عدت تک چھوڑنے اور عدت کو شمار کرکے اس کا پورا پورا احاطہ کرنے تک کی بات بھی بالکل واضح ہے اور اس کو اسکے گھر سے نہ نکالنے اور نہ خود نکلنے کی بات بھی بالکل واضح ہے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں اور اس سے نہ نکلنے کا پیغام بھی واضح ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو اس واضح پیغام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پھر اس کا نقصان کیا ہے؟۔ اللہ نے اس کو بھی واضح کیا ہے کہ اگر یک دم اس کو چھوڑ دیا اور گھر سے نکال دیا تو یہ اپنے ساتھ ظلم ہے اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ پھر اس کے بعد اللہ کوئی دوسری صورت نکال دے۔یعنی آپس میں صلح ہوجائے ۔ اسلئے قرآن کے واضح پیغام کو سمجھنے اور سمجھانے میں کوئی مسئلہ کسی کیلئے بھی نہیں ہے۔
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے لکھا ہے کہ ” ہوسکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے کوئی نیا حکم نازل ہوجائے”۔ حالانکہ اس کا کوئی تک نہیں بنتاہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اگر ایک ساتھ تین طلاق دے دی تھیں یا پھر عورت کو گھر سے نکال دیا تھا، یا پھر عدت کے تین مراحل میں الگ الگ تین مرتبہ طلاق دی تھی اور پھر اس پر اہل تشیع کی طرح تمام مراحل میں گواہ بھی بنالئے تھے تو پھر حنفی، اہلحدیث اور شیعہ کا کیا فتویٰ ہے اور قرآن کا کیا حکم ہے؟۔ اپنے اپنے مسلک کا جواب سب فرقوں اور مسالک نے خود دینا ہے لیکن قرآن نے مسلمانوں کیلئے پہلے سے سب کیلئے بہترین راستہ تجویز کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ
” جب وہ عورتیں اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے الگ کرلو۔ اور اپنے میں سے دو عادل گواہ بھی اس پر مقرر کرلو۔ اور اللہ کیلئے گواہی کو قائم کرو۔ یہ وہ قرآن ہے جس کے ذریعے سے ان کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کیلئے اس مشکل سے نکلنے کیلئے راہ بنادیتا ہے”۔ (الطلاق :2)
قرآن کی اس آیت میں یہ بات بھی واضح ہے کہ عدت مکمل ہونے کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے بند نہیں کیا ہے۔ جب عورتوں کی عدت مکمل ہوجائے تو پھر معروف طریقے سے رجوع کی بہت واضح وضاحت کے بعد یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگر معروف طریقے سے عورت کو الگ کردیا تو پھر دو عادل گواہ بھی مقرر کرلو۔ اور گواہی بھی اللہ کیلئے قائم کرو۔ اب اگر عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد عدت کی تکمیل کے بعد عورت سے معروف طریقے سے رجوع کا فیصلہ کرنے کے بجائے معروف طریقے سے اس کو الگ کردیا اور اس پر دو عادل گواہ بھی بنالئے توپھر بھی اللہ تعالیٰ نے رجوع کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ بلکہ جس نے اللہ کا خوف کھایا اور اس نے دو گواہوں کی موجودگی میں عورت کے تمام حقوق ادا کرتے ہوئے طلاق یا جدائی کا فیصلہ کیا توپھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس مشکل صورتحال سے نکلنے اور رجوع کا راستہ کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جن مذہبی طبقات کے نرغے سے قرآن کریم نے عوام کو نکال دیا تھا افسوس کہ انکو پھر ان گدھوں نے اپنے حصار میں لے لیا ہے اور منکوحہ عورتوں کو گدھی سمجھ کر گدھے حلال کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کرنیکی زحمت اور ہمت نہیں کرتے ۔ اگر فقہ کی ایک ایک بات کی درست اور سب کیلئے قابلِ قبول وضاحت نہ کروں تو اپنا مشن چھوڑدوں گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟
منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ
بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟