پوسٹ تلاش کریں

1970 میں بلوچستان کے میر بخش بزنجو ، خیر بخش مری ، عطاء اللہ مینگل جمہوری تھے اب باپ پارٹی لائی گئی۔ افراسیاب خٹک

1970 میں بلوچستان کے میر بخش بزنجو ، خیر بخش مری ، عطاء اللہ مینگل جمہوری تھے اب باپ پارٹی لائی گئی۔ افراسیاب خٹک اخبار: نوشتہ دیوار

1970 میں بلوچستان کے میر بخش بزنجو ، خیر بخش مری ، عطاء اللہ مینگل جمہوری تھے اب باپ پارٹی لائی گئی۔ افراسیاب خٹک

میںANPکا صوبائی صدر تھا تو مجھے خبر ہوئی کہ گُڈ اور بیڈ طالبان ان کے اپنے بنائے ہوئے ہیں اصل خطرہ ان کو بلوچستان اور پختون قوم پرستوں سے ہے۔ ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

افراسیاب خٹک نے کہا کہ یہ تو صحیح ہے کہ پاکستان میں طبقاتی مشکلات بھی ہیں اشرافیہ اور ورکنگ کلاس، وہ بھی ہونا چاہیے اصول کی بات ہے۔ لیکن یہ اس بات کا جواز نہیں بن سکتی کہ جب طبقاتی تقسیم ختم ہوجائے اس کے بعد جمہوریت آجائے گی۔ جمہوریت کیلئے الیکشن اس کی ایک بیسک خصوصیت ہے۔ تو اس الیکشن کو ممکنہ حد تک آزاد اور غیر جانبدارانہ ہونا چاہیے۔ اور یہ کیوں آزادانہ نہیں ہورہے؟۔ میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ جو خاکی پولیٹکل انجینئرنگ کی فیکٹریز ہیں۔ جب تک یہ بند نہ ہوں گی یہاں آزادانہ انتخابات نہیں ہوں گے۔ (سوال: کیسے ہوگا؟ یہ مزاحمت ہمیں نظر آرہی ہے۔ ) ایسے ہوگا جیسے جنرل مشرف پر مقدمہ چلا۔ نواز شریف کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں یہ مقدمہ شروع کیا جنرل مشرف پر۔ مشرف سے ہمیں ذاتی دشمنی خدانخواستہ نہیں لیکن پاکستان کے آئین کو روند نا یہ تو لکھا ہے کہ غداری ہے اور لوگ یہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ فلاں کیخلاف کررہے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ جس کیخلاف بھی کررہے ہوں یہ نہیں کرنا چاہیے۔ سیاست میں جن کا کام نہیں ہے قانون نے جس کو روکا ہے ان کو سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ان کو لینا چاہیے تو پھر آئین بدل دیں۔ جیسے کچھ ملکوں میں انڈونیشیا، چلی اور ترکی میں مستقل طور پر فوج کی حکومتیں تھیں ۔ لیکن جب ایک وفاقی جمہوری پاکستان جو قائد اعظم محمد علی جناح کا ویژن تھا اور وہی چل رہا ہے لیکن چلائیگا کوئی اور ؟۔ آئین میں ایک بات لکھی ہوگی لیکن ہوگی کوئی اور یہ تو نہیں ہوسکتا ناں؟۔
سوال: مگر سوال وہی ہے کہ کیسے ہو؟۔ انقلاب آنا تھا تو آچکا ہوتا۔ انقلاب نہیں آنا آپ نے ہتھیار بھی نہیں اٹھانا ریاست کیخلاف تو اس کی حکمت عملی کیا ہے؟۔
افراسیاب خٹک: دیکھیں امپائر چلارہے ہیں سلطنت۔ بزنس کی سلطنت، سیاسی اقتدار کی سلطنت۔ یہ سلطنت صرف لاجک سے نہیں ہوگی کہ ہم ان کو سمجھائیں کہ دیکھیں جی یہ غلط ہے آپ نہ کریں۔ نہیں! عوامی تحریک۔ پاکستان کے اصل مالک 25کروڑ عوام کے پاس جانا ان کو اٹھانا اور ان کو سیاست سے نکالنا جن کو سیاست نہیں کرنی ہے یہ آئین کی بحالی، آئینی نظام اور جمہوریت کی بحالی ہے اور جوMRDنے کیا تھا ضیاء الحق کیخلاف ، جو چارٹر آف ڈیموکریسی پر جنرل مشرف کیخلاف ہوا تھا۔ (سوال: مگر خٹک صاحب! عوام خود بخود تو نہیں اٹھتے ایک لیڈر شپ ہوتی ہے ، سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں جو عوام کو لیڈ کرتی ہیں۔ وہ ڈائریکشن دیتی ہیں، ان کی منصوبہ بندی ہوتی ہے کہ اس وقت دو قدم آگے جانا ہے دو قدم پیچھے جانا ہے اس کو ایسے ہینڈل کرنا ہے ۔ یہ عوام تو نہیں کررہی ہوتی ۔وہ مجھے بتائیں)۔ میری تجویز یہ ہے کہ نیا چارٹر آف ڈیمو کریسی ہو بغیر اسکے کہ اس میں کونسی فلاں پارٹی ہے یا نہیں۔ یہ تلخ تجربہ آجPTIکے ساتھ ہے کل ن لیگ کیساتھ تھا پرسوں پھر ن لیگ کیساتھ یا کسی اور کیساتھ ہوسکتا ہے۔ جیسے پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے آپس میں19کی دہائی میں ایکدوسرے کے تختے الٹے۔ اور پھر کیسے اس نتیجے تک پہنچے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی ہونا چاہیے۔ مجھے یاد ہے غوث بخش بزنجو اور ہم حیدر آباد جیل میں تھے بھٹو نے جو مقدمہ نیب پر چلایا تھا میں بھی ان ملزموں میں سے تھا۔ مجھے یاد ہے بھٹو کا آدمی آیا اس نے بزنجو سے کہا کہ وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں اور آپ کی کیا تجویز ہے؟۔ بزنجو بہت ہوشیار آدمی تھے۔ وہ پاکستان کے بہترین سیاستدانوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں علی گڑھ کالج میں فٹبال ٹیم میں تھا ، فٹ بال اس وقت تک کھیلا جاسکتا ہے جب تک لوگ ریفری کی وسل سنتے ہیں۔ آپ نے بال بغل میں دبالیا ہے اور گول کی طرف جانا شروع کردیا ہے ۔ بلوچستان کی منتخب حکومت کو آپ نے زبردستی توڑ دیا۔ تو یہ نہ کریں اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ آپ کرسکتے ہیں تو کل کوئی زیادہ طاقتور آجائیگا بال کو سینے کیساتھ لگا کر گول میں لیٹ جائیگا اور کھیل ختم ہوجائیگا۔ اور بالکل ایسا ہی ہوا ضیاء الحق آیا اور11سال تک کھیل ختم ہوگیا۔ لوگوں نے سیکھا اس سے تو میں سمجھتا ہوں اب جو کچھ گزرا ہے پچھلے10سالوں میں2014کے بعد جو سلسلہ ہے ن لیگ ،PTIپھرPTIکیساتھ جو ہوا، اس سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہPTIن لیگ ، پیپلز پارٹی،ANP، مولانا فضل الرحمن سب لوگوں کو ایک نیا چارٹر آف ڈیموکریسی کرنا چاہیے جیسے انہوں نے سبق سیکھا تھا2007میںچارٹر آف ڈیموکریسی۔ اسی طرح سے ایک نیا چارٹر آف ڈیموکریسی ہو جس میں سب شامل ہوں۔ اور وہ فیصلہ کریں عوام جس کو بھی ووٹ دے۔ چاہے بہت برا لگتا ہے لیکن لوگوں نے جس کو ووٹ دیا ہو اس کو حکومت ملنی چاہیے۔ میں اس کمیشن میں تھا جو جسٹس اطہر من اللہ کے حکم پر بنا تھا بلوچستان طلبہ کی شکایت کیلئے۔ اختر مینگل اسکے کنوینئر تھے اور ہم لوگ اسکے ممبرز تھے۔ تو میں بلوچستان گیا تھا2022نومبر میں کوئٹہ میں یہ کیمپ تھابلوچستان یونیورسٹی گئے۔ ہم نے جو دیکھا زیادہ میڈیا میں تو رپورٹ نہیں ہوا لیکن وائس چانسلر نے الگ سے ایک رسمی سی بریفنگ دی لیکن جب ہم اسٹوڈنٹس سے ملنے گئے تو پہلے تو اسٹوڈنٹس آئے نہیں کچھ تھوڑی تعداد میں ایک دو قطاروں میں تھے باقی ہال خالی تھا۔ بہرحال ہم نے شروع کیا اپنا فنکشن۔ تھوڑی دیر کے بعد اسٹوڈنٹس بڑی تعداد میں آئے لڑکیاں بھی لڑکے بھی اور ہال اور گیلریاں بھرگئے۔ ہم حیران تھے اختر مینگل نے کہا کہ ہمیں تو شک تھا کہ آپ کو کسی نے روکا ہے کیا بات ہے؟۔ تو وہاںکے مقامی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سردار صاحب آپ نے غور نہیں کیا۔ یہ بچے دور کھڑے تھے آنہیں رہے تھے ۔ ان کو پتہ تھا کہ پہلے تلاوت ہوگی پھر قومی ترانہ ہوگا، اسکے بعد ایجنڈہ شروع ہوگا۔ یہ قومی ترانہ پڑھنا نہیں چاہتے تھے۔ ہزاروں بلوچ لڑکے لڑکیاں۔ اگلے دن گورنر ہاؤس میں میٹنگ تھی میں نے کہا کہ کل بلوچستان یونیورسٹی میں میں نے وہ دیکھا جو ڈھاکہ یونیورسٹی میں71میں میں نے دیکھا تھا۔ اگر آج آپ نوٹس نہیں لیں گے تو کیا17دسمبر کا انتظار کریں گے کیا یہ وقت نہیں کہ آپ آج کہیں کہ یہ غلط ہورہا ہے۔ جبری گمشدگی بنیادی طور پر ریاستی دہشت گردی ہے۔ جو لوگ اس میں ملوث ہیں ان کو پکڑنا چاہیے ان کو سزا دینی چاہیے لیکن ان کے بارے میں جب بل آجاتا ہے تو ہاؤس میں گم ہوجاتا ہے۔یہ ماننے والی بات ہے کہ پارلیمنٹ میں قانون گم کیسے ہوسکتاہے؟۔ یہ پاکستان کوناکام اسٹیٹ بنارہے ہیں۔ اصل ذمہ داری جنرل شاہی پر ہے۔ جب تک پاکستان کے عوام اور سیاسی پارٹیاں اٹھ کر یہاں پر جمہوریت اور آئینی نظام کی بحالی نہیں کریں گی یہ قصے ہوتے رہیں گے خدانخواستہ کسی اور حادثے سے ہمارا سامنا نہ ہوجائے۔
میںANPکا صوبائی صدر تھا۔ صوبے کے انتخابات کی نگرانی میری ذمہ داری تھی۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ کوئی دہشت گردی نہیں تھی۔ سرکاری انٹیلی جنس ایجنسیوںکی سیاسی انجینئرنگ کا ایک طریقہ تھا۔ میں نے مباحثوں میں سنا ہے کہ طالبان کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ طالبان ہم نے بنائے ہیں کبھی گڈ طالبان کبھی بیڈ طالبان ۔ وہ کہتے ہیں اصل پشتون اور بلوچ نیشنلسٹ ہیں ان کو ہم نے قابو کرنا ہے یا ان کو ہٹانا ہے۔ تو وہاں پر دہشت گردی کا یہ سارا سلسلہ پولیٹیکل انجینئرنگ کی ایک نئی شکل ہے۔ دیکھیں محسن داوڑ پر حملہ ہوا کیوں حملہ ہوا؟۔ کیونکہ وہ ایک اور نظرئیے سے بات کرتا ہے۔ ڈیموکریسی، نیشنل رائٹس اور پولیٹیکل رائٹس کی بات کرتا ہے۔ بلوچستان جو مرکز تھا جمہوری سیاست کا ۔
نیشنل عوامی پارٹی1970کے انتخابات وہاں جیتی صوبائی گورنمنٹ اسکی آئی ۔ غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل، خیر بخش مری یہ بڑے نام تھے پاکستان میں بڑی جمہوری پسند تحریک کے۔ باپ کو بٹھادیا وہاں، باپ کیا ہے؟۔ اردو میں ایک صوفی شاعر کا شعر ہے وہ کہتے ہیں منصور کے پردے میں خدا بول رہا ہے
یہ جو باپ ہے وہ منصور کے پردے میں خدا بول رہا ہے۔ بنیادی طور پر سینٹ کیا ہے؟۔18ویں ترمیم میں اسکے نام کیساتھ بڑھایا گیا ”ہاؤس آف فیڈریشن”۔ وفاق کی اتحاد کی علامت کوHouseOfConspiracyبنادیا گیا۔
چیئر مین کا انتخاب کیسے ہوا؟۔ جب میں ہیومن رائٹس کمیٹی کا چیئر پرسن تھا سینٹ میں2009سے2015تک تو گمشدگیوں کی خبریں بہت آئیں لوگ ہمارے پاس شکایتیں لیکر آئے ہم نے تھوڑی سی تحقیقات کیں اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ان گمشدگیوں میں بڑا ہاتھISIکا ہے۔ اور کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کے بارے میں قانون بنانا چاہتے ہیں ۔ ہم نے ڈیفنس منسٹری کو خط لکھا اور ایک آؤٹ لائن اس قانون کا ہم نے بھیجا کہ یہ قانون ہم پیش کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے انہوں نے کہا کہ ہاں ہم جواب دیں گے۔ جنرل آصف یاسین ملک اس وقت ڈیفنس سیکریٹری تھے۔ وہ آئے کمیٹی میں لیکن پھر وہ چپ ہوگئے او ر انہوں نے جواب دینا بند کردیا۔ ہم نے سینٹ سے منظور کرایا ۔ ان کا خیال تھا کہ یہ پاگل ریٹائرڈ ہوجائیں گے تو ختم ہوجائے گی یہ بات۔ لیکن اس کے بعد فرحت اللہ بابر اور رضا ربانی نے دوبارہ اس کو پیش کیا۔ دوسری بار جب وہ آیا تو پھر ایجنسی نے فیصلہ کیا کہ اب سینٹ کو ہم نے کنٹرول کرنا ہے۔ اس کیلئے سنجرانی فارمولا ۔ یہ بلوچستان میں ن لیگ کی پارٹی کو ختم کرکے آزاد ممبران کا گروپ لایا گیا اور6سال سے چیئر مین کو اسلئے بٹھایا کہ ایجنڈے میں یہ قانون پھر کبھی نہ آئے۔ اب آپ دیکھیں سینیٹ میں فلٹر لگائے گئے ۔ فرحت اللہ بابر کو اپنی پارٹی نے ٹکٹ دیا اس کے اور سینیٹر ہوگئے پختونخواہ کے وہ نہیں ہوسکے۔ اسلئے کہ فلٹر میں وہ نہیں جاسکتے۔ تو اس طرح کی یہ ساری چیزیں ہیں اسلئے ہم یہ بے یقینی کی باتیں کررہے ہیں۔ مجھے لگ نہیں رہا کہ یہ فیئر الیکشن ہوں گے۔ یہ عدالت کا فیصلہ آیا لیکن میں کوڈ کرکے بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ جو امریکی سپریم کورٹ کی چیف جسٹس تھیں مارشل اس نے کہا تھا ہم سیاسی فیصلے کرتے ہیں اور اس کو قانونی ڈریسنگ یا لبادہ پہناتے ہیں لیکن ہوتے یہ سیاسی فیصلے ہیں۔ تو یہ رات کا فیصلہ بھی بنیادی طور پر سیاسی فیصلہ ہے۔ اس کو صرف قانونی شکل دی گئی ہے۔
سوال: آپ نے دو باتیں کیں کہ نئی انجینئرنگ کی شکلKPاور بلوچستان میں مگر کیا وہاں مولانا فضل الرحمن پر حملے ہورہے ہیں۔ تو وہ اسی چیز کا حصہ ہیں؟ ۔
افراسیاب خٹک: مولانا فضل الرحمن صاحب کی پارٹی پر ایک جگہ حملہ ہورہا ہے باجوڑ میں۔ اور باجوڑ میں اسلئے ہورہا ہے کہ کنڑ میں داعش کا مرکز ہے۔ داعش مولانا فضل الرحمن پر اسلئے حملے کرتی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ طالبان کے اتحادی یا حامی ہیں۔ داعش طالبان کے خلاف ہے۔ لیکن ان کے اوپر ایسے عام حملے نہیں ہورہے ہر جگہ۔باجوڑ میں جہاں کنڑ سے بارڈر ملتا ہے جہاں سے داعش والے لوگ آتے ہیں تو بنیادی طور پر ان پر حملے کی وجہ یہ ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟