پوسٹ تلاش کریں

موجودہ فلسطین و اسرائیل کی جنگ عالمی طاقتوں کے زیر نگرانی اُمت مسلمہ کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ مولانامحمد خان شیرانی

موجودہ فلسطین و اسرائیل کی جنگ عالمی طاقتوں کے زیر نگرانی اُمت مسلمہ کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ مولانامحمد خان شیرانی اخبار: نوشتہ دیوار

موجودہ فلسطین و اسرائیل کی جنگ عالمی طاقتوں کے زیر نگرانی اُمت مسلمہ کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ مولانامحمد خان شیرانی

کفر متفق ہے کہ دہشتگرد اسلام اور وحشی درندے مسلمان کو ختم نہ کیا جائے تو امن نہیں آسکتا

دنیا پر اصل حکمرانی پانچ ممالک امریکہ، روس، فرانس، چین اور برطانیہ کی ہے۔ جو دوسروں کو اپنے مفاد کیلئے جنگوں کے ماحول میں جھونکتے ہیں۔ جیسے علاقائی بدمعاش خود سامنے نہیں آتے دوسروں کو لڑاتے ہیں

نام ہوگا طالبان کا اور اسکی پشت پناہی روس اور چین کریں گے نام ہوگا داعش کا اور اس کی پشت پناہی امریکہ اور برطانیہ کریں گے۔ اس لڑائی میں مسلمان مریں گے اور نقصان صرف اور صرف اُمت مسلمہ کا ہوگا

شیعہ سنی ، عرب و عجم کو لڑایا جائیگا پھر گیس اور تیل کے ذخائر پر قبضہ ہوجائیگا۔ صد سالہ جمعیت علماء اسلام کے عظیم الشان جلسہ سے مولانا محمد خان شیرانی کا خطاب۔ سراج الحق امیر جماعت اسلامی وغیرہ موجود تھے

آج کی دنیا کو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ آج کس قسم کی دنیا ہے؟۔ ہمارے ذہن پر جو سوار دنیا ہے وہ کچھ اور تھی۔ آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں یہ کچھ اور دنیا ہے۔ ہمارے زہن میں جونقشہ دنیا کا ہے وہ نبی ۖ کے زمانے کا ہے اس زمانے میں بعض علاقوں میں منظم حکومتیں سرے سے نہیں ہوا کرتی تھیں۔ نواب ہوتے تھے یا سردار ہوتے تھے یا خان ہوتے تھے۔ اگر کہیں کوئی منظم حکومت ہوتی تھی تو صرف شہروں میں ہوتی تھی۔ جن لوگوں کو یونان کی تاریخ کا علم ہے ان کو پتہ ہے کہ آتن میں الگ حکومت تھی ، آسینیا میں الگ حکومت تھی اور ہر ایک شہر میں الگ الگ حکومتیں تھیں اور ہر حکومت اپنے طور پر آزاد اور خود مختار حکومت ہوا کرتی تھی۔ لہٰذا اس دنیا کو شہروں کی دنیا کا نام دیا جاتا تھا یعنی وہ دنیا جو مختلف شہروں کی آزاد اور خود مختار حکومتوں پر مشتمل ہے۔ آج کی دنیا وہ دنیا نہیں ہے۔ آج پوری دنیا ایک شہر ہے۔ اور آپ نے سنا ہے کہ گلوبل ولیج ہے۔ اور ایک شہر میں سارے چوہدری نہیں ہوتے سارے نواب اور خان بھی نہیں ہوتے سارے زمیندار بھی نہیں ہوتے ہیں۔ معدودِ چند لوگ ہوتے ہیں۔ لہٰذا آج کی اس دنیا کے شہر میں حکومتی نظم کے وہی دو ادارے ہیں جیسا کہ پاکستان کے ہیں۔ پاکستان کا ایک ادارہ ہے قومی اسمبلی۔ اس ادارے میں مردم شماری کے حوالے سے افراد کی نمائندگی ہوتی ہے۔ اور دوسرا ادارہ سینیٹ ہے۔ سینیٹ میں مختلف خطوں یعنی صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے اسی طرح بین الاقوامی دنیا کا جو شہر ہے اس کے بھی دو ادارے ہیں۔ ایک جنرل اسمبلی ہے جس میں تمام دنیا کے انتظامی یونٹوں کی نمائندگی ہے پاکستان افغانستان، ایران، ہندوستان، چین، روس وغیرہ۔ دوسرا ادارہ سلامتی کونسل ہے۔ سلامتی کونسل میں صرف پانچ ارکان ہیں جو مستقل ارکان ہیں۔ اور یہ پانچ ارکان دنیا بھر کے بحر و بر اور فضاء کے اپنے مملوک اور محکوم خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جنرل اسمبلی کوئی بھی فیصلہ صادر کرے کوئی بھی قرار داد پاس کرے اگر سلامتی کونسل کے پانچ ارکان میں سے کوئی ایک بھی اس قرار داد پر فیصلے کو اپنے محکوم اور مملوک خطے میں مداخلت سمجھتا ہے اور اس کو مسترد کردے تو جنرل اسمبلی کا فیصلہ فیصلہ نہیں ہوگا اور قرار داد، قرارداد نہیں ہوگی۔ لہٰذا آج کی دنیا ان پانچ ممالک کے درمیان تقسیم ہے اور ان پانچ کی مملوک اور محکوم ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس۔ اور ظاہر بات ہے کہ آپ حضرات نے سرداروں اور نوابوں کا تجربہ کیا ہوگا اگر کوئی ہو تو ناراض نہ ہوں۔ نواب اور سردار اپنا لا ؤلشکر کو لیکر ایک دوسرے پر چڑھائی نہیں کرتے ہیں اس زمانے میں ، اس کے گھر کے اندر لوگوں کو اٹھاتے ہیں تھپکی دیتے ہیں اور ان کیلئے گلے کا طوق بناتے ہیں تاکہ وہ مجبور ہوجائے اور فیصلے پر آجائے۔ لہٰذا آج کی اس دنیا میں جنگ نہ اسلام کے فائدے میں ہے اور اُمت مسلمہ کے فائدے میں ہے نہ عرب کے فائدے میں نہ عجم کے فائدے میں ہے، نہ پٹھان کے فائدے میں ہے نہ بلوچ کے فائدے میں ہے۔ اس دنیا میں جنگ ان پانچ ممالک میں سے کسی ایک کو فائدہ پہنچائیگی۔ لہٰذا وہ پشتو میں ایک کہاوت مشہور ہے ”تو ر تو پکہ مہ دہ خولہ سہ مہ دہ کونہ سہ”۔ لہٰذا بندوق سے جمعیت اسلام کا رکن اور جمعیت طلباء اسلام کا رکن مدارس کے طلبائ، علمائ، مفتی بچے رہا کریں۔ کبھی بھی جنگ کی نہ بات کریں نہ جنگ کے قریب جائیں۔ ایک نئی جنگ چھڑ جائے گی اس دنیا میں۔ اور دونوں طرف سے لبادہ پہنایا جائے گا مذہب کا۔ ایک طرف سے لبادہ مذہب کا! عنوان طالبان کا ہوگا۔ پشت پر روس اور چین ہوں گے۔ دوسری طرف سے لبادہ ہوگا مذہب کا! عنوان داعش کا ہوگا ! اور پیٹھ پیچھے امریکہ اور مغرب ہوگا۔ اور قتل عام مسلمانوں کا ہوگا۔ لہٰذا مغرب اور مشرق یعنی چین، روس، امریکہ ، برطانیہ اور فرانس الکفر ملت واحدة۔ اسلام اور امت مسلمہ کے بارے میں وہ ایک ہی رائے پر ہیں کہ اسلام دہشت گرد مذہب ہے اور مسلمان دہشتگرد وحشی درندے ہیں جب تک ان کا صفایہ نہ ہو دنیا میں امن نہیں آسکتا۔ پہلے شیعہ اور سنی کو لڑایا جائے گا اور جب اس لڑائی سے اپنے مفاد حاصل کریں گے پھر اس کے بعد شیعوں کو آپس میں لڑوایا جائے گا اور عجم اور عرب کے نام پر، تاکہ جو ہلالی پٹی ہے جہاں پر تیل اور گیس ہے وہاں پر ان کا قبضہ ہوجائے۔ پھر اس کے بعد سنیوں کو فرقوں کی بنیاد پر اور قوموں کی بنیاد پر لڑایا جائے گا اور یہ چوتھی عالمی جنگ ہے۔ نہ قوموں کی ہے نہ ملکوں کی ہے یہ دو تہذیبوں کی ہے ایک مذہب پرست خدا پرست اور دوسرا ہوا پرست جو مغرب ہے۔ لہٰذا تین باتوں کے بارے میں میں آپ حضرات کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ ہم اگر گذشتہ جرائم کے اعتراف کے بجائے آئندہ حالات کے بارے میں رہنمائی دیں کہ جنگ کے قریب نہ جاؤ، ہمارے اکابر کا جو آخری تجربہ ہے وہ یہی ہے، جو نبی ۖ کی ہدایات جو فتنے کے زمانے کیلئے وہ یہی ہے، جو آج کی دنیا کی حالت ہے وہ یہی تقاضہ کرتی ہے ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟