پوسٹ تلاش کریں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے اخبار: نوشتہ دیوار

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے

جمعیت علماء اسلام ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے ، مذہبی کاز کیلئے اقدامات اٹھانے میں ہی اس کی مقبولیت ہے

حضرت ابوبکر نے مانعین زکوٰة کے خلاف اقدام اٹھایا تھا تو یہ اسلامی خلافت کا پہلا جبر تھا جس کا سامنا رسول اللہ ۖکی وفات کے بعد عوام نے کیا تھا۔ حضرت عمر نے آخری وقت اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ کاش ! ہم نبی ۖ سے تین چیزوں کا پوچھتے۔ ایک آپ کے بعد خلفاء کی فہرست۔ دوسری زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال اور تیسری کلالہ کی میراث۔
اہل سنت کے چاروں امام متفق ہیں کہ مانعین زکوٰة کے خلاف قتال نہیں ہے۔ البتہ دیگر مسالک میں بے نمازی کے قتل کا حکم ہے اور انہوں نے زکوٰة کے مانعین کے خلاف قتال کو دلیل بنایا ہے۔ جس کی تردید حنفی مسلک والوں نے یہ کہہ کر کردی ہے کہ جب تمہارے ہاں حضرت ابوبکر کے فیصلے سے اتفاق نہیں ہے تو اس پر نماز کو کیسے قیاس کرسکتے ہو؟۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کی تفسیر معارف القرآن میں زکوٰة اور نماز پر قتال کا حکم جاری کیا گیا ہے جس کی تردید میں علامہ غلام رسول سعیدی نے ” تبیان القرآن” میں لکھا ہے اور اگر مولانا فضل الرحمن مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن و مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد تقی عثمانی کو بٹھاکر فیصلہ کریں تو اس کے زبردست نتائج نکل سکتے ہیں۔ داعش اور طالبان خود کش حملے اسلئے کرتے ہیں کہ غلط تفاسیر سے مغالطہ کھاتے ہیں۔
جب صحافیوں سے کہا جاتا ہے کہ افغانستان،پاکستان اور ایران میں الگ الگ شریعت کی گنجائش ہے تو لوگوں کویہ بات ہضم نہیں ہوتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی شریعت میں کیا فرق ہے؟۔ کیا بندوق کے زور کی شریعت الگ اور جمہوریت کی شریعت الگ ہوسکتی ہے؟۔ نہیں بالکل نہیں ۔ہرگز نہیں۔
جنرل ضیاء الحق نے زکوٰة کا آردنینس نافذ کیا تھا جس کی مفتی محمود نے سخت مخالفت کی تھی۔ اگر بینک میں10لاکھ ہوں اور اس پر سال میں ایک لاکھ روپے بینک کی طرف سے سود مل جائے۔ اور بینک زکوٰة کے نام پر25ہزار روپے کاٹ لے ۔ جب اصل رقم10لاکھ بھی محفوظ ہوں اور75ہزار سود کے بھی مل جائیں تو زکوٰة کیسے ادا ہوگی؟۔ اسلئے مولانا فضل الرحمن کہا کرتے تھے کہ ”مدارس اس زکوٰة سے اجتناب کریں۔ یہ زکوٰة نہیں سود ہے اور شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ہے”۔
جب پاکستانی قوم سے زکوٰة کا مسئلہ چھڑادیا گیا ہے تو پھر ہماری معیشت کیسے تباہ وبرباد نہیں ہوگی؟۔ کہاں حضرت ابوبکر کا مانعین زکوٰة کیخلاف قتال اور کہاں ہمارے ملک میں سودی نظام کے ذریعے زکوٰة کا بہت بڑا خاتمہ ؟۔ ذرا سوچو تو سہی!۔
مولانا سید محمد یوسف بنوری کے داماد مولانا طاسین نے جو مزارعت پر تحقیق کی ہے۔اس کی مولانا فضل الرحمن تائید کرچکے ہیں۔ اگر بھول گئے ہیں تو دوبارہ دیکھ لیں۔ اگر زمین کو جاگیردار طبقہ مزارعین کومفت میں دے تو ہماری معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔ جب محنت کش کسانوں میں حوصلہ پیدا ہوگا تو پاکستان کی ساری بنجر زمین کو خود آباد کردیں گے ۔ جس سے لکڑی ، اناج اور پھل کی پیدوار میں اچھا خاصا اضافہ ہوگا اور محنت کشوں کے ذہنی طور پر تندرست بچے سکول کی تعلیم حاصل کرنے کے قابل بن جائیں گے اور ملک کو چلانے کیلئے باصلاحیت طبقہ میسر آجائیگا۔ اندرون وبیرون ملک یہی طبقہ پاکستان کا نام روشن کرے گا۔ سودی گردشی قرضوں سے ملک وقوم کو چھٹکارا مل جائے گا۔ پاکستان کے اداروں سے بھی اسمگلر طبقے کا خاتمہ ہوجائے گا اور اچھے لوگ آجائیں گے۔
ہرشعبے اور میدان میں صحت مند اور توانا لوگوں کی آمد ممکن ہوسکے گی۔ رسول ۖ نے سود کی آیات نازل ہونے کے بعد مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا اور اس پالیسی کی وجہ سے پھر وہ یثرب گاؤںدنیا کا ترقی یافتہ شہر ”مدینہ ” بن گیا۔ جہاں سے یہ انقلاب پھر پوری دنیا میں پھیل گیا تھا لیکن خلافت کی جگہ جب آمریت نے لے لی تو پھر دین کی ہر تعبیر کا بیڑا غرق کردیاگیا۔
آج جب سودی بینکاری کا نام اسلامی بینکاری رکھ دیا ہے تو پھر آخر غیر اسلامی کیا ہے؟۔ جب سود بھی اسلامی بن گیا؟۔ اسلامی بینکاری کانفرنس میں اسحاق ڈار نے خوب کہا تھا کہ جب تم عام سودی بینکاری سے اسلام کے نام پر2فیصد زیادہ سود لو گے تو کون اس کی طرف آئے گا؟۔ حالانکہ اسلام کے نام سے کالے دھن کو سفید کرنے کا طریقہ ایجاد کرلیا گیا ہے۔ جس میں ایک طرف سودی بینکاری کو مکمل تحفظ مل جاتا ہے اور دوسری طرف کالے دھن کا بھی کوئی حساب کتاب نہیں لے سکتا ہے۔
جب کوئی کالے دھن کی پراپرٹی اسلامی بینک کے نام پر منتقل کی جاتی ہے تو اس کا مالک بینک بن جاتا ہے اور پھر اس کو فرضی کرایا کی صورت میں سود کیساتھ ایڈ جسٹ کردیا جاتا ہے۔ اگر کوئی احتساب کا ادارہ تفتیش کرلے کہ یہ پراپرٹی کس کی ہے؟ تو وہ بینک کے نام ہوتی ہے اور اس کا محاسبہ نہیں ہوسکتا ہے اور جب کوئی شخص دیوالیہ ہوجائے تو پراپرٹی بینک کے نام ہوگی اور بینک کو نقصان بھی نہیں ہوگا۔ کراچی ائیر پورٹ سے لیکر کیا کیا پراپرٹیاں فرضی کرائے کی مدد میں ہم بیچ چکے ہیں؟۔ اگر کوئی بحران کھڑا ہوگیا تو سب کچھ اغیار کی تحویل میں دیا جائیگا۔
اسلام کے معاشرتی نظام کو بھی مذہبی طبقے نے بہت بگاڑا ہے اور اگر ایک ایک بات کو صحیح معنوں میں اجاگر کیا جائے تو پھر لوگوں میں اسلام کی سمجھ پیدا ہوگی اور مذہب سے بیزار طبقہ اسلام کی خدمت کرنے لگ جائے گا۔ جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے قرآن وسنت کی صحیح تعلیمات کا معاملہ پھیلے گا تو جمعیت والوں میں ایک زبردست انقلاب برپا ہوجائے گا۔
مولوی طبقے نے ہمیشہ اسلام کے نام پر اپنی اجارہ داری کا نفاذ قائم کیا ہے لیکن اب لوگ مذہب بیزار ہوگئے ہیں ۔ پہلے سے زیادہ آج علماء ومفتیان کی عزت وتوقیر میں اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اس کے لئے ہٹ دھرمی نہیں اسلام کی اصل تعلیمات کو پیش کرنا ہوگا۔ مفتی منیر شاکر ایک باصلاحیت اور بہادر آدمی ہے اور ان کے ساتھ جمعیت علماء اسلام کی ایک ٹیم تشکیل دے کر پورے پختونخواہ ، بلوچستان اور افغانستان میں ایک تحریک شروع کردی جائے تو بہت جلد اس کے بہترین نتائج نکل سکتے ہیں۔ کامریڈ اور لامذہب طبقہ بھی اسلام کی حمایت میں بالکل پیش پیش ہوگا لیکن جب ہم سودی نظام کو اسلامی قرار دیں اور ماں بہنوں کی عزتیں حلالہ کی لعنت سے لٹوائیں اور توقع رکھیں کہ عوام ہمیں اقتدار کی دہلیز تک پہنچائے گی تو اس خام خیالی کا ادراک ہونا چاہیے کہ اگر دنیا میں اقتدار اور دولت مل بھی گئی مگر آخرت میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اسلام کی درست تعلیم کا نتیجہ ہندوستان اور اسرائیل پر بھی مرتب ہوجائے گا۔ پورپ و امریکہ میں بھی اسلام کا ڈنکا بج جائے گا۔ مشرق ومغرب اور شمال وجنوب میں اسلام کی فطرتی تعلیم سے منزل مل سکتی ہے ۔
مولانا فضل الرحمن نے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ میں جو تقریر فلسطین کے حق میں کی وہ بھی بہت اچھی بات ہے لیکن یہ سعودی عرب کے شاہ سلیمان کیلئے سپاس نامہ زیادہ تھا اور عالم اسلام کیلئے رابطے کی اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ جب ہم اسلام کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے کو پیش کریں گے تو عالم اسلام کے تمام حکمران اس کی طرف بن بلائے بھی توجہ دیں گے۔ اسلام کے اندر یہ کمال ہے کہ مردہ قوموں میں اس کے ذریعے زندگی کی روح دوڑانے کی صلاحیت اللہ نے رکھی ہے۔ امید کرسکتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اس کیلئے اپنی اور اپنی جماعت کی خدمات پیش کریں گے۔ ان کی شخصیت کو حکومت،ریاست اور اپوزیشن میں قبولیت کا جودرجہ حاصل ہوا ہے اس موقع پر وہ دین کی درست خدمات انجام دے کر اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا احساس کریں گے۔ انشاء اللہ العزیز

(نوٹ: اس پوسٹ کے ساتھ عنوان ”ہر استحکام کیلئے ایک انہدام ضروری ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن ” کے تحت پوسٹ ضرور پڑھیں۔)

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ مارچ2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟