Molana Modudi, Molana Fazal ur Rehman, Mufti Taqi Usmani, Molana Khan Muhammad Sherani, The issue of writing Surah Al-Fatiha with urine and Dr. Fiza akbar khan's program on halala and muta on Bol Channel - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

Molana Modudi, Molana Fazal ur Rehman, Mufti Taqi Usmani, Molana Khan Muhammad Sherani, The issue of writing Surah Al-Fatiha with urine and Dr. Fiza akbar khan’s program on halala and muta on Bol Channel

Molana Modudi, Molana Fazal ur Rehman, Mufti Taqi Usmani, Molana Khan Muhammad Sherani, The issue of writing Surah Al-Fatiha with urine and Dr. Fiza akbar khan’s program on halala and muta on Bol Channel اخبار: نوشتہ دیوار

Molana Modudi, Molana Fazal ur Rehman, Mufti Taqi Usmani, Molana Khan Muhammad Sherani, The issue of writing Surah Al-Fatiha with urine and Dr. Fiza akbar khan’s program on halala and muta on Bol Channel

بولTvپر ڈاکٹر فضانے حلالہ و متعہ کے موضوع پرشیعہ سنی علماء کا پروگرام کیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سنی دیوبندی بریلوی علماء کے نزدیک حلالہ کا تصور ہے اور متعہ حرام ہے۔ شیعہ کے نزدیک متعہ کا تصور ہے اور حلالہ کامروجہ تصور نہیں ہے۔شیعہ عالمِ دین علامہ امین شہیدی نے کہا کہ حلالہ اور متعہ کو مکس نہیں کریں،یہ الگ الگ چیزیں ہیں۔ متعہ ایک وقتی نکاح ہے جس میں نکاح کے تمام شرائط ہیں ، بس یہ فرق ہے کہ مستقل نکاح عمر بھر کیلئے ہوتا ہے اور متعہ ایک مخصوص وقت کیلئے ہوتا ہے۔ یہ سعودی عرب میں مسیار کے نام سے جائز قرار دیا گیا ہے۔
مفتی ولی مظفر نے کہا کہ سعودی عرب میں مسیار اس نکاح کو کہتے ہیں جس میں عورت کو شوہر کے گھر میں جانا نہیں پڑتا ہے ، بعض عورتیں خود کفیل رہنا چاہتی ہیں اور وہ شوہر سے اپنے گھر میں تعلق قائم کرنا چاہتی ہیں، شوہر کے گھر نہیں جانا چاہتی ہیں،باقی وہ عام نکاح سے مختلف نہیں ہوتا ہے۔ متعہ ایک الگ چیز ہے۔
ایک دوسرے عالمِ دین نے کہا کہ ” اس پر زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس ہمارے نزدیک متعہ پہلے جائز تھا، پھر فتح خیبر کے موقع پر اس کو حرام کردیا گیا۔ صحیح بخاری میں یہ روایت ہے ۔یہ ہماری دلیل ہے۔
حلالہ متعہ نہیں بلکہ مستقل نکاح ہے ، جب تک شوہر اپنی مرضی سے بیوی کو چھوڑ نہیں دیتا ہے یا وہ فوت نہیں ہوجاتا ہے تو یہ اس کی بیوی رہتی ہے۔
حلالہ اور متعہ دونوں ایسے موضوع ہیں جن پر اینکر پرسن کو مکمل تیاری کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ نکاح، خلع،طلاق، رجوع، حلالہ اور متعہ کے الگ الگ تصورات کو پہلے سمجھنے کی ضرورت ہے اور پھر ان موضوعات پرٹی وی اینکر پرسن کو پروگرام کرنے کی ضرورت ہے۔ پروگرام سے پہلے علماء کرام کو بھی مکمل تیاری کیساتھ آنے کی ضرورت ہے اسلئے کہ اگر تیاری نہ ہو تو پھر جھوٹ اور حقائق کے منافی بات کرنے پر مجبور ہونگے اور تیاری کرنے کے بعد شاید وہ اپنا مؤقف بھی بدل ڈالیں اسلئے کہ جن گھمبیر مسائل کا ذکر کتابوں میں رائج ہے،اگر اسکے بھیانک نتائج سے آگاہ ہونگے تو کانوں کو ہاتھ لگاکر توبہ کرنے پر مجبور ہونگے۔
فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں باہمی ربط موجود ہے لیکن بڑے علماء کرام اور مفتیان عظام بھی اس کے بھیانک نتائج سے قطعی طورپر آگاہ نہیں ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ سے پہلے مجھے اتفاق سے دارالعلوم کراچی میں داخلہ ملا تھا۔میں نے اسٹیل مل کراچی ایشین کمپنی میں ایک ویلڈر مستقیم کیساتھ ہیلپری کا کام کیا۔ مستقیم نے مجھے دارالعلوم کراچی میں پڑھنے کا مشورہ دیا تھا جہاں نوکری اور دینی تعلیم دونوں ساتھ ساتھ ہوسکتے ہیں۔ مجھے دارالعلوم کراچی حفظِ قرآن کی کلاس میں داخلہ مل گیااور چار گھنٹے کی آدھی دیہاڑی پر ماچس فیکٹری میں کام بھی مل گیا۔ اسٹیل مل میں19روپے دیہاڑی تھی اور ماچس فیکٹری میں26روپے دیہاڑی تھی۔ چار گھنٹے میں13روپے پر مجھے بہت آسانی اور خوشی تھی۔ دارالعلوم کراچی کے طلبہ نے کہا کہ جب سب کچھ قیام وطعام مدرسے کی طرف سے ملتا ہے تو مشقت اُٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ تو میںنے عرض کیا کہ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اپنی کمائی کرکے اپنی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو میرا اپنا خرچہ اٹھانے میں کیا حرج ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ یہاںمفت میں سب کچھ ملتا ہے اور وہاں نہیں ملتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں سید ہوں ، میرے لئے زکوٰة جائز نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ مدارس میں اتنے سارے سادات گزرے ہیں انہوں نے تو کبھی زکوٰة کی وجہ سے مدرسے کا کھانا نہیں چھوڑا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا ان کی وجہ سے میرے لئے زکوٰة جائز ہوجائے گی؟۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ،زکوٰة تو آپ کیلئے جائز نہیں۔ پھران کے تعجب کومزید بڑھانے کیلئے میں نے حدیث دکھائی کہ نبیۖ نے ایک صحابی پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ قرآن سکھانے کے بعد اس کی طرف سے ڈھال کو کیوں قبول کیا ہے، یہ جہنم کی آگ کا طوق بنے گا۔ انبیاء کرام میں کسی نے بھی تبلیغ پر اجرت نہیں لی اور نہ یہ اسلام میں جائز ہے۔ میں قرآن اور نمازپڑھاؤں گا لیکن اس پر اجرت نہیں لوں گا۔ میری رپورٹ مدرسہ کے انتظامیہ کو پہنچادی گئی تومجھے بلاکر مدرسہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا کہ آپ کا داخلہ نہیں ہوسکا ہے۔
پھر جامعہ بنوری نیوٹاؤن کراچی گیا لیکن وہاں معلوم ہوا کہ داخلے بندہیں۔ وہاں سے واٹرپمپ دارالعلوم الاسلامیہ فیڈرل بی ایریا بھیج دیا گیا۔ جہاں میں نے عبوری دور میں کچھ حفظ وناظرہ اور قرأت وتجوید کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے رمضان میںدرسِ قرآن کے دوران یہ سنا تو بڑی حیرت ہوئی کہ ” قرآن کے مصحف پر حلف نہیں ہوتا ہے کیونکہ قرآن تحریری شکل میں اللہ کا کلام نہیں ہے، البتہ اگر زبان سے یہ کہہ دیا کہ قرآن یا اللہ کی کتاب کی قسم تو پھر اس حلف کا کفارہ دینا پڑے گا”۔ پھر شوال میں جامعہ بنوری نیوٹاؤن کراچی میں داخلہ مل گیا تو سرِ راہ ہمارے استاذ جو اس وقت میرے استاذ نہ تھے مفتی عبدالسمیع نے ایک صیغہ پوچھا، پہلا سال تھا، ہم علم الصرف پڑھتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ ماضی کا ایک صیغہ ہے ضربتما،اس کو دومرتبہ کیوں لکھا گیا ہے؟۔ وہ جواب دیتا تھا اور میں اس کوغلط قرار دیتا۔ آخر کار اس نے قرآن کا مصحف منگواکر پوچھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ یہ نقشِ کلام ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ آپ کافر ہوگئے،اسلئے کہ قرآن کی قرآنیت کا انکار کردیا۔ میں نے کہا کہ پھر تو مولانا یوسف لدھیانوی بھی کافر ہوگئے اسلئے کہ ان سے میں نے سنا ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں نقش کلام ہے اور اس پر حلف بھی نہیں ہوتا۔ پھر مفتی عبدالسمیع نے مجھے خوب برا بھلا بول دیا کہ تم افغانی سب کچھ پڑھ کرآتے ہو اور تمہارا مقصد ہی ہمیں ذلیل کرنا ہوتا ہے۔ مفتی صاحب دادو کے سندھی تھے۔ پھر جب میں نے مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب میں یہ دیکھا کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے توجامعہ بنوری نیوٹاؤن سے اسکے خلاف فتویٰ لیکردونوں کو شائع کردیا تھا۔
اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی نے دباؤ میں آکر وضاحت کرلی کہ میں نے اپنی کتابوں ”فقہی مقالات جلد چہارم اور تکملہ فتح الملہم” سے اس مسئلے کو نکال دیا ہے۔ روزنامہ اسلام میں پہلے پورا مضمون شائع کیا اور پھر اشتہار دیا کہ مجھ پر بہتان لگانے والے اللہ کا خوف کریں۔ پھر ضرب مؤمن کے ایک ہی شمارے میں دونوں باتیں وضاحتی بیان جس میں شکریہ بھی ادا کیا گیا تھا کہ مجھے اس طرف توجہ دلائی گئی۔ میں نے صرف نقل کیا ہے مگرمیرایہ مسلک و عقیدہ نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہ مجھ پر بہتان لگانے والے اللہ کا خوف کریں۔
ان دنوں میں مفتی محمد تقی عثمانی نے قرآن وسنت کی تحقیقات رابطہ عالم اسلامی مکہ کی رکنیت سے بھی اس خوف کے مارے استعفیٰ دیدیا تھا کہ کہیں عرب علماء پوچھ گچھ نہ کرلیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر والے ان کے پیچھے پڑگئے تھے لیکن پھر ہم نے بریلوی علماء کے فتوے بھی شائع کردئیے جس سے مفتی محمد تقی عثمانی نے اس عذاب سے چھٹکارا پالیا تھا۔ ضرب حق کے پبلشر اجمل ملک نے مفتی محمدتقی عثمانی کو اخبار کیلئے انٹرویو کا کہا تو مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ” مجھے کم گالیاں کھلائی ہیں، جس پر تمہارا دل ٹھنڈا نہیں ہوا ہے؟”۔ ملک صاحب نے کہا کہ ہم نے تو تمہاری جان بریلوی مکتب سے چھڑائی ہے، جس پر اس نے سکوت اختیار کیا۔
فتاویٰ شامیہ، فتاویٰ قاضی خان اوروزیراعظم عمران کے نکاح خواں مفتی محمد سعید خان نے اپنی کتاب ”ریزہ الماس ” میں سورۂ فاتحہ کوپیشاب سے لکھنے کے مسئلے کو ٹھیک قرار دیا ہے اور مولانا الیاس گھمن کا ایک کلپ بھی موجود ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ علماء ومفتیان اپنی جہالت کو سمجھ بھی نہیں رہے ہیں کہ وہ کونسی جہالت ہے کہ جس کی وجہ سے بڑے بڑے فقہاء نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا۔ جب اصولِ فقہ میں قرآن کی تعریف یہ ہے کہ” المکتوب فی المصاحف (جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے) لیکن لکھے ہوئے سے لکھا ہوا مراد نہیں ہے کیونکہ لکھائی محض نقوش ہیں جو اللہ کا کلام نہیں ہے”۔ تو پھر جب لکھائی کی شکل میں قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانا جاتا ہے تو اس پر حلف بھی نہیں ہوگا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب لکھائی کی شکل میں قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے تو پھر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
علماء ومفتیان کو اصول فقہ اور فقہ کے مسائل میں باہمی ربط کا بھی پتہ نہیں تھا اسلئے مفتی محمد تقی عثمانی نے پہلے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا اور پھر اپنی کتابوں سے اس کو نکال دیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی کا پہلا اختلاف مفتی رشید احمد لدھیانوی سے وقف شدہ مدرسہ میں ذاتی مکان خریدنے پر ہوا۔ پھر اس کا دوسرا اختلاف مفتی محمود سے جنرل ضیاء الحق کے دورمیں زکوٰة کی کٹوتی پر ہوا۔ پھر تیسرا اختلاف سود ی نظام کو اسلامی بینکاری قرار دینے پر مدارس بشمول مولانا سلیم اللہ خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سے ہوا۔یہ بڑے زمینی حقائق ہیں۔
ڈاکٹر فضا نے بول ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام ” ایسا نہیں چلے گا” میں جن علماء کرام اور مفتیانِ عظام کو دعوت دی تھی تو انہوں نے صفائی کیساتھ حقائق عوام کے سامنے لانے میں بڑے بخل سے کام لیا ۔جس طرح سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا اصل مسئلہ بڑے علماء ومفتیان کو اصولِ فقہ اور فقہ کی کتابوں میں باہمی ربط کیساتھ معلوم نہیں ہے اور نہ اس کے بھیانک نتائج سے آگاہ ہیں ،اسی طرح وہ نکاح، طلاق، خلع،رجوع، حلالہ اور متعہ کے موضوعات اور ان کے بھیانک نتائج سے بالکل آگاہ نہیں ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے مجھ سے کہا تھا کہ ” آپ مدارس کیلئے ایک نصابِ تعلیم تشکیل دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہی نصاب ہم مدارس میں پڑھائیںگے ”۔ لیکن جب وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بن گئے تو طلاق سے رجوع اور حلالہ کے خاتمے پر بھی آمادہ نہیں ہوئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین قبلہ ایاز صاحب سے بھی دو ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ان کی طرف سے تحریری خط کے باوجود بھی آخر کار معذرت خواہی کا نتیجہ نکل آیا اور چیئرمین اسلامی نظریانی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ” آپ علمی صلاحیت رکھتے ہیں اور علماء شاہ دولہ کے چوہے ہیں یہ مجھے مشکل سے اس منصب پر برداشت کررہے ہیں”۔
حلالہ اور متعہ کے موضوع پر ڈاکٹر فضا کے پروگرام میں علمی حقائق کا حق ادا نہیں ہوا ہے۔ محمد مالک نے ہم نیوز میں حلالہ کے موضوع پر قبلہ ایاز، علامہ طاہر اشرفی ، علامہ راغب نعیمی ، علامہ امین شہیدی اور ڈاکٹر ظہیر کو بات کرنے کا موقع دیا تھا لیکن جب تک فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں موجود فقہی مواد اور مسائل کے بھیانک نتائج عوام کے سامنے نہیں لائے جائیں گے اس وقت تک حقائق سے پردہ نہیں اُٹھ سکے گا۔ اس شمارے میں نکاح، طلاق، خلع، رجوع ، حلالہ اور متعہ کے حوالے سے بنیادی علمی حقائق اور اسکے نتائج ہمارے مدارس کے علماء اور طلباء کے سامنے بھی پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں اور ٹی وی چینل کے اینکر پرسنوں کو بھی یہ مواد پہنچاتے ہیں اور اپنے قارئین کو بھی آگاہ کرتے ہیں۔
افغان طالبان کے رہنماؤں کو ان حقائق کے سامنے آنے کے بعد اسلام پر چلنے میں اور اپنا نظام تشکیل دینے میں بہت آسانی ہوگی۔ انشاء اللہ العزیز۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اسلام کا حال مسالک اور فرقہ واریت کے نام پر علماء ومفتیان اور علامہ صاحبان نے اس سے بھی بدتر بنایا ہے کہ جو مسلم لیگ ن ، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے اپنے بیانیہ کیلئے وکیلوں، صحافیوں اور سیاستدانوں کے ذریعے سے پوری ریاست، حکومت، عدالت، سیاست اور قوم کا بنار کھا ہے۔جب مذہبی جماعتیں اور تنظیمیں اپنا حال سدھار لیںگی تو الیکشن میں ان کو ووٹ بھی ملیںگے اور نوٹ بھی۔اسلام اور مسلمان جیتے گا۔ امریکہ کوان کے چھوڑے ہوئے خراب جہازوں سے شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔

نکاح پر علماء کے عجب مسائل_
عقدِ نکاح کے بارے میں سادہ لوح عوام ، نام نہاددانشوراور علماء و مفتیان بہت کچھ جاننے کے باوجود بھی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نہیں جانتے ہیں اور اس میںمدارس کے علماء سے لیکر جماعت اسلامی کے مولانا سید مودودی اور ان کی باقیات تنظیم اسلامی کے ڈاکٹر اسرار اور جاوید احمد غامدی سب شامل ہیں۔
جن علماء کا تعلق دارالافتاء سے فتوے دینے کا ہوتا ہے وہ فقہی کتب کی تفصیل پر نظر رکھتے ہیں مگر جن کا تعلق قرآن یا احادیث یا عربی ادب، یا صرف ونحو سے ہوتا ہے وہ فقہی مسائل کی تفصیلات کو نہیں جانتے اور نہ ان سے کام رکھتے ہیں۔
قائدجمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے ایک بار میری دعوت پر علماء کے اجلاس میں آنے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ” مجلس فقہی کے مولانا انور شاہ صاحب کے ذمے اس مسئلے کو رکھیںگے اور اگرانہوں نے ٹھیک قرار دیا تو پھر ہم سیاسی اعتبار سے اس پر غور کریںگے کہ مصلحت کس میں ہے؟”۔ پھر مولانافضل الرحمن نے میرے اصرار پر مولانا عطاء شاہ صاحب کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے دیگر علماء کو بھی ٹانک سفید مسجد میں جمعیت علماء اسلام کے ضلعی سرپرست اعلیٰ مولانا فتح خان کے ہاں آنے سے روک دیا تھا۔ اگر اس وقت عالمی اسلامی خلافت کے مسئلے پر علماء کرام کے درمیان بحث ہوتی تو آج برصغیر پاک وہند ، عراق وشام اور افغانستان کو داعش کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور جذباتی نوجوان اتنی بڑی تعداد میں قربانیاں دینے اور اپنی ریاستوں کو مشکلات میں ڈالنے کے مراحل میں نہ ہوتے۔ داعش اور خلافت کیلئے کام کرنیوالے طبقات پہلے اسلام کے معاشرتی مسائل کی طرف توجہ دیں تو پھر دنیا کی کوئی بھی طاقت اسلام کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی ۔ انشاء اللہ العزیز الرحمن۔
جب عورت کا اپنے شوہر سے نکاح ہوجاتا ہے تو اپنے اپنے رسم ورواج اور مسالک کے مطابق حقوق، معاملات اور مسائل چلتے رہتے ہیں لیکن جب کچھ معاملات پیش آتے ہیں اور میاں بیوی مدارس کے فتوؤں کا رخ کرتے ہیں تو یہ مسئلہ بڑا گھمبیر ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک عورت کو اس کے شوہر نے کہا کہ3طلاق، اور پھر مکر گیا تو عورت اس پر حرام ہوگی اور حلالہ کے بغیر ان کا دوبارہ نکاح جائز نہیں ہوگا ۔ اگر شوہر نے انکار کیا تب بھی شرعی اعتبار سے عورت اس پر حرام ہوگی لیکن شوہر سے عورت کو اپنی جان چھڑانے کیلئے دو گواہ لانے پڑیںگے۔ اگر اس کے پاس دو مردگواہ نہیں ہوئے اور نہ ایک مرد اور دو خواتین گواہ ہوئے تو شوہر کو عدالت میں قسم اٹھانی پڑے گی۔ اگر اس نے جھوٹی قسم کھالی تو عورت بدستوراس کے نکاح میں رہے گی۔ عورت کو اس حرامکاری سے بچنے کیلئے ہرقیمت پر خلع لینا ہوگا اور اگر شوہر کسی صورت بھی خلع دینے پر آمادہ نہ ہو تو وہ عورت شوہر کے نکاح میں رہے گی اور عورت کو پوری کوشش کرنی ہوگی کہ س اسے حرامکاری نہ ہو لیکن اگر شوہر اس کے ساتھ حرامکاری کرے تو عورت اس سے لذت نہ اٹھائے ورنہ پھر گناہگار ہوگی۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے یہ مسئلہ اپنی کتاب ” حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا ہے اور دارالعلوم کراچی نے مزید حواشی وتزئین کیساتھ اس کو شائع کیا۔
اب بھی بریلوی دیوبندی مدارس میں اسی فقہی مسئلے پر میاں بیوی میں جھگڑا ہونے کی صورت میں یہی فتویٰ دیا جارہاہے۔ نکاح میں دوسرا گھمبیر مسئلہ حرمتِ مصاہرت کا ہے ، جس کی تفصیلات سے ہوش اُڑ جائیںگے، اصولِ فقہ کی کتب میں یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے پر شہوت کی نگاہ میں عذر ہے لیکن اگراندرونی حصے پر نظر پڑگئی اور اس میں شہوت آگئی تو شوہرپر بیوی حرام ہوجائے گی۔ درسِ نظامی کے نصاب میں پڑھائے جانیوالے ان مسائل کا اسلام سے بالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ فقہاء کی اپنی ذاتی اختراعات ہیں۔

خلع پرعلماء کے عجیب مسائل_
ٹی وی کی اسکرینوں پر علماء و مفتیان اور نام نہاد جاہل دانشور جھوٹ بولتے ہیں کہ عورت کو اسلام نے خلع کا حق دیا ہے۔ وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری نے ایک مرتبہ عدالتوں کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا جہاں عورتوں کو خلع ملتا ہے اور کہا تھا کہ ”عورت اور عدالت کا اسلام میں کوئی حق نہیں ہے کہ عورت کو خلع دیا جائے۔ جب تک شوہر اپنی طرف سے راضی نہیں ہوتا ہے ،عورت کو اسلام میں خلع کا کوئی حق حاصل نہیں ہے”۔
سورۂ بقرہ کی آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ درسِ نظامی کے نصاب میں حد درجہ حماقت کی گئی ہے کہ دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ طلاق کے درمیان خلع کا ذکر جملہ معترضہ ہے یا پھر تیسری طلاق سے متصل ہے؟۔ ایک مؤقف یہ ہے کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد یہ جملہ معترضہ ہے اسلئے کہ خلع بھی ایک مستقل طلاق ہے اور پھر تیسری طلاق کی گنجائش نہیں رہے گی ۔اور دوسرا مؤقف یہ ہے کہ عربی قواعد کے لحاظ سے فدیہ کی صورت سے تیسری طلاق کو متصل ماننا ضروری ہے اسلئے خلع کوئی مستقل طلاق نہیں ہے بلکہ تیسری طلاق کیلئے ایک ضمنی چیز ہے۔ حنفی مؤقف کی وجہ سے علامہ تمنا عمادی نے ایک کتاب ”الطلاق مرتان” لکھ دی تھی ، جس میں حنفی مسلک ، قرآن اور عربی قواعد سے یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی کہ طلاق صرف دو مرتبہ ہے اور حلالہ کا تعلق صرف خلع کیساتھ ہے۔ علامہ تمنا عمادی نے احادیث کا انکار بھی کردیا تھا۔ لیکن یہ بنیاد ان کو حنفی مؤقف کے اصولِ فقہ اور درسِ نظامی سے ہی فراہم ہوئی تھی۔
علماء و مفتیان کے نصابِ تعلیم میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت229کا خلع سے کوئی تعلق نہیں بن سکتا ہے۔ عدت کے تین مراحل میں تین بار طلاق کے بعد اگر عدت میں رجوع کا فیصلہ باہمی رضامندی، اصلاح و معروف طریقے سے کرنے کے بجائے عورت کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا جس کو قرآن نے او تسریح باحسان اور حدیث نے تیسری طلاق قرار دیا ہے تو پھر مسئلہ طلاق کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے کہ ” پھر تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لے لو۔ مگر یہ کہ جب دونوں کو خوف ہو کہ پھر اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے۔ پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو عورت کی طرف سے اس چیز کا فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے”۔ قرآن میں طلاق سے پہلے وضاحت ہے کہ دئیے ہوئے میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں اور پھر حدود پر قائم نہیں رہ سکنے کے خوف پر اس چیز کو واپس فدیہ کرنے کی بات ہے۔
خلع کا ذکر سورۂ النساء کی آیت19میں ہے۔ جس کے ناجائز ٹکڑے بناکر علماء ومفتیان نے قرآن کی اس خبرکو سچ ثابت کیا ہے کہ ”ان سے پوچھا جائے گا کہ قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیوں کیا تھا؟”۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو اور نہ ان کو اسلئے جانے سے روکو، کہ جو کچھ بھی تم نے ان کو دیا ہے،اس میں بعض واپس لے لو مگر یہ جب کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں اور ان سے اچھا سلوک کرو اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہیں بری لگتی ہوں اور اللہ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر بنادے”۔ (سورہ النساء آیت19)
علماء ترجمے میں تحریف نہیں کرسکے لیکن تفاسیر میں لکھ ڈالا کہ پہلے جملے میں عورتوں کے زبردستی سے مالک نہ بن بیٹھنے کے حکم سے مراد فوت شدگان کی وراثت سے ملنے والی خواتین ہیں اور دوسرے جملے میں اپنی بیگمات مراد ہیں۔ حالانکہ یہ ترجمہ وتفسیر کسی صورت میں ممکن بھی نہیں ہے۔ اللہ نے اس میں خلع کا حکم بیان کیا ہے اور پھر اگلی آیات20،21النساء میں طلاق کے احکام واضح کئے ہیں۔

خلع وطلاق پر علماء چت ہیں _
قرآن وسنت میں خلع وطلاق کا بالکل الگ الگ تصور ہے لیکن علماء نے اس کو بالکل مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ قرآن وسنت میں سورۂ بقرہ آیت229کا تعلق صرف طلاق ہی کیساتھ ہے۔ رسول اللہ ۖ سے پوچھا گیا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟۔ آپۖ نے فرمایا کہ آیت229میں الطلاق مرتٰن کے بعد تسریح باحسان (تیسری بار احسان کیساتھ چھوڑنا)تیسری طلاق ہے۔
مولانا سیدمودودی نے تفہیم القرآن میں آیت229کے ترجمے میں انتہائی غلطی کرکے عورت کی طرف سے فدیہ کو خلع میں معاوضہ قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی اپنے بانی کی غلطی کا کھل کر اعتراف کرکے خلوص کا ثبوت دیدے۔
علماء ومفتیان اپنے نصابِ تعلیم میںغلطی کا کھلے عام اعتراف کرکے قرآن کو ترجیح دیں اور امت مسلمہ کیلئے گمراہی کی جگہ ہدایت کا راستہ ہموار کریں۔ ناسمجھی اور جہالت کی وجہ سے اللہ نے غلطیوں کو معاف قرار دینے کا اعلان کیا ہے لیکن ہٹ دھرمی اور ہڈ حرامی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جب مسئلہ یہاں تک پہنچے کہ عورت شوہر کیلئے حرام ہو لیکن شوہر خلع دینے کیلئے راضی نہ ہو تو پھر بھی عورت حرامکاری پر مجبور ہو۔ کیا یہ بے حیائی اور بے غیرتی اسلام کا حکم ہوسکتاہے ؟ اور دنیا اس کو کس نظر سے دیکھے گی؟۔ عورت کی اس میں کس قدر حق تلفی ہے؟۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیںتو کہتے ہیںکہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اس کو کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ اللہ بے حیائی کے کام کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔بھلا تم اللہ کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو، جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔ (سورة الاعراف آیت:28)
اللہ تعالیٰ نے طلاق کے احکام یہ بیان کئے ہیں کہ عدت میں بھی باہمی رضا مندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور باہمی رضامندی کیساتھ عدت کی تکمیل پر بھی رجوع ہوسکتا ہے لیکن علماء ومفتیان نے سارا معاملہ تلچھٹ کردیا ہے۔ اور حلالہ کی لعنت کیلئے قرآنی آیات اور احکام سے کھلم کھلا انحراف کا راستہ اپنایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو نہ صرف خلع کا حق دیا ہے بلکہ شوہر کی طرف سے تمام منقولہ دی ہوئی چیزیں ساتھ لے جانے کی اجازت بھی دیدی ہے۔ البتہ عورت کو دی ہوئی غیر منقولہ اشیاء گھر، پلاٹ اورباغ وغیرہ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ کپڑے،زیورات، نقدی، گاڑی اور تمام دی ہوئی منقولہ اشیاء میں سے بعض کو خلع کی صورت میں واپس نہیں لے سکتا ہے لیکن اگر عورت کھلی فحاشی کی مرتکب ہو جائے تو پھر سب نہیں لیکن بعض چیزیں واپس لی جاسکتی ہیں۔ایک صحابیہ نے اپنے شوہر سے طلاق لینا چاہی تو نبیۖ نے فرمایا کہ ” اسکادیاباغ واپس کرسکتی ہو؟”۔ اس نے عرض کیا کہ ” اور بھی بہت کچھ واپس کرسکتی ہوں”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” اور کچھ نہیں”۔ وہ باغ واپس کیا گیا اور صحابی نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔
قرآن میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ ” خلع کی صورت میں زبردستی سے مالک بن بیٹھنا غلط ہے اور اس کو جانے سے اسلئے مت روکو کہ اپنی طرف سے دی ہوئی بعض چیزیں ان سے واپس لے لو مگر یہ کہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوجائیں”۔ قرآن کے قانون میں زبردست توازن ہے ۔ صحیح حدیث ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہے۔ سعودی عرب میں اس پر عمل بھی ہوتا ہے ۔پاکستان کا آئین قرآن وسنت کے مطابق بنانے پر اتفاق ہے لیکن مدارس کے علماء کا قرآن وسنت پر اتفاق نہیں ہے۔ جاہل دانشور اسلام کے نام پر عوام کو مزید گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
جب چھوڑرہی ہو تو پھر بھی اللہ نے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ بری لگتی ہوں تو بھی اس میں خیرکثیر کی نوید سنادی ہے۔ عورت واپس بھی آسکتی ہے لیکن زبردستی سے ساتھ رکھنے کے نقصانات سے بچت میں بھی خیر کثیر ہی ہے۔

میڈیا کوخلع کا مسئلہ اٹھانا چاہیے تھا! _ ایک ایرانی نژاد امریکن خاتون نے ” اسلام میں عورت کے حقوق پر” ایک بڑی کتاب لکھی ہے۔ جس میں زمینی حقائق اور کتابی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” ایک شخص نے40ہزار میں ایک عورت سے نکاح کیا۔ اس شخص کو لواطت کی علت پڑی تھی۔ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی تو اس نے خلع کا مطالبہ کیا۔ اس نے خلع دینے سے انکار کردیا۔ پھر اس نے50ہزار میں خلع لینے کی بات رکھی تو اس شخص نے طلاق دیدی تھی”۔ اگر خلع کے اسلامی تصور کو ملیامیٹ کرکے علماء کے تصور کو اسلام قرار دیدیا جائے تو اس کو مرد حضرات اپنا کاروبار بھی بناسکتے ہیں اسلئے کہ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوگی اور وہ حق مہر سے زیادہ رقم وصول کرنے کا مطالبہ کریںگے جس میں عورتیں مجبور ہوکر ان کے مطالبات خلع میں بھی پوری کریں گی۔ عورت مارچ والوں نے اگر اسلام کی درست تعلیمات کو سمجھ لیا تو پوری دنیا کی خواتین ہمارے دین کو اپنے لئے سب سے بڑا ہتھیار قرار دینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائیں گی۔ این جی اوز کیلئے کام کرکے پیسے بٹورنے والی خواتین نہیں چاہتی ہیں کہ یہ استحصالی نظام ختم ہو اسلئے کہ ان کا دانہ پانی بھی پھر بالکل ختم ہوجائیگا۔ مخلص علماء کرام اور مفتیان عظام اپنے مدارس اور مساجد سے اسلام کی درست تبلیغ شروع کریں تو تمام مذہبی، ریاستی، سیاسی ، قومی، علاقی، لسانی اور عالمی استحصالی طبقات سے چھٹکارا ملنے میں بالکل بھی کوئی دیر نہیں لگے گی۔ یہ کوئی جیت نہیں ہے کہ نیٹو اور امریکہ مل کر افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کو ملیامیٹ کرکے چلے جائیں اور پھر کہیں کہ ہم نے اپنے مقاصد حاصل کرلئے لیکن افغانیوں کو افغانیوں سے ہی لڑانے کی جو منصوبہ بندی کی تھی اس میں ہم ناکام ہوگئے ہیں اور افغانستان کے بہت سارے مالی اثاثے بھی منجمد کردیں کہ ہمارا حق ہے اور تم نااہل ہوگئے ہو۔ پاکستان کے مخلص علماء کرام ومفتیان عظام کو سب سے پہلے علمی بنیادوں پر ایک عالمگیر انقلاب کی بنیاد رکھنی پڑے گی اور پھر افغانستان میں اس کو عملی جامہ بھی پہنانا ہوگا۔ طالبان زبردستی سے دین کے نفاذ کی جگہ ان مسائل کو اجاگر کرنا شروع کردیں جن سے خواتین کو ان کے حقوق مل جائیں تو مغرب میں بھی آواز اٹھے گی کہ خواتین کو افغانستان کی طرح حقوق دینے ہوں گے۔ جب میاں بیوی اکٹھے رہتے ہیں تو ایک قالب دو جان ہوتے ہیں مگر جب جدائی کا مسئلہ آتا ہے تو بیشمار طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر عورت کو قرآن وسنت کے مطابق خلع کا حق مل جائے تو پھر شوہر بیگم پر مظالم کا تصور بھی چھوڑ دے گا۔ مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں شوہرو بیوی دونوں کو طلاق کا حق ہوتا ہے اور دونوں کی جائیداد بھی جدائی کے بعد برابر برابر تقسیم ہوتی ہے لیکن اسلام نے حق مہر صرف مرد پر فرض کیا ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو پھر آدھا حق مہر دینا فرض ہے۔ اور ہاتھ لگانے کے بعد پورا حق مہر فرض ہے اور جو کچھ بھی دیا ہے ،اس میں سے کچھ بھی واپس لینا حرام ہے، چاہے خزانے کیوں نہیں دئیے ہوں۔ طلاق کی صورت میں حق مہر کے علاوہ تمام منقولہ وغیر منقولہ دی ہوئی اشیاء عورت سے واپس لینا حرام ہیں۔ رہائشی گھر بھی عورت ہی کا حق ہے لیکن خلع کی صورت میں عورت کو گھر اور غیرمنقولہ جائیداد سے دستبردار ہونے کی قرآن وسنت میں وضاحت ہے۔ اگر مغرب کو پتہ چل گیا کہ علماء ومفتیان ہی نے اسلام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور اصل اسلام اس کے سامنے آجائے تو پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کہ وہ ہمارے معاشرتی نظام کی مخالفت کریں بلکہ مغرب بھی اسلام کے اصلی معاشرتی نظام اور خواتین کے حقوق پر افغانستان وپاکستان سے نہ صرف اتفاق کریگا بلکہ اس کو اپنائے گا بھی ۔ انشاء اللہ العزیز۔دیکھئے… بقیہ_
Page 2 and 3

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟
منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ
بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟