پنجاب کی 40ہزار سے زائد بیٹیاں جبری طور پر اغوائ۔ بی بی سی اردو - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

پنجاب کی 40ہزار سے زائد بیٹیاں جبری طور پر اغوائ۔ بی بی سی اردو

پنجاب کی 40ہزار سے زائد بیٹیاں جبری طور پر اغوائ۔ بی بی سی اردو اخبار: نوشتہ دیوار

پنجاب کی 40ہزار سے زائد بیٹیاں جبری طور پر اغوائ۔ بی بی سی اردو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کبھی 100بچوں کو قتل کرکے کیمیکل میں سڑانے کی خبر آتی ہے، کبھی قصور بچوں اور بچیوں کے ریپ کی کہانی میڈیا پر آتی ہے ،اچھے خاصے غیرتمند پنجاب کو کیا ہوا ہے؟۔یالیڈروں کا قصور ہے؟
پشتون، بلوچ ،سندھی اور مہاجروں کی تبلیغی جماعت ودعوت اسلامی کی طرز پرمگر ذرا ہٹ کے ٹیمیں تشکیل دیکر مظلوم پنجابی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے ہوں تو بے غیرتی کے وبائی مرض سے بچیں!
دعا زہرہ کیس میں سندھ ہائیکورٹ اور سندھ حکومت نے بڑا کچھ کیا ، ریاست نے کام دکھایامگر آخر میں والدین کو ملاقات کیلئے زیادہ وقت اور موقع ملنا چاہیے تھا وہ ابھی تک شکوہ کررہے ہیں۔
مئی کے آخر میں BBCاردو کی رپورٹ کہ پنجاب سے40 ہزار بیٹیاں 2017ء سے2022ء تک اغواء ہوئیں، 37ہزار بازیاب اور ساڑھے تین ہزار ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ایک بیٹی کے والدین کاانٹرویو دیا ۔ ماں باپ نے دو سال سے لاپتہ بیٹی کو بازیاب کرانے کی کوشش میں گھر بیچ دیا اور کنگال ہوگئے۔ ملزمان معلوم ہیں لیکن بااثر ہیں ۔پولیس اور عدالتوں کے چکر لگائے لیکن بیٹی نہ ملی۔ کھانا پینا ، سونا اور دن رات کا سکون غارت ہے۔ والدین نے BBCکے نمائندے سے کہا کہ زندہ یا مردہ حالت میں مل جائے، جینامشکل ہوا۔ یہ ایک بیٹی کے والدین کی کہانی نہیں اسی طرح ساڑھے تین ہزار بیٹیاں تاحال لاپتہ ہیں ۔ اگر پنجاب میں ہزاروں بیٹیوں کی داستانیں ہیں تو پختون، بلوچ، سندھی اور مہاجر کو اپنے مسنگ پرسن کا غم ایک طرف رکھ کر گوادر و تربت سے ڈیرہ بگٹی تک، حب چوکی سے کوئٹہ تک بلوچوں کی جماعتیںاور کراچی سے کشمور تک سندھی اور مہاجروں کی جماعتیں اور کوئٹہ سے سوات تک پشتون جوانوں کی جماعتیں تشکیل دینی ہوں گی جو تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے طرزپر مگر ذرا ہٹ کے اپنے مظلوم پنجابی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے ہوں اور ان کو برہمن واچھوت جیسے بدترین کلچر سے نکالیں۔ بے غیرتی وبائی مرض سے زیادہ خطرناک ہے جس پر قابو نہیں پایا گیا تو ملک کے طول وعرض میں بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ ہمارا پنجابی بھائی اپنی غیرت میں کسی سے پیچھے نہیں تھا لیکن جب سیاسی قیادت نے بدمعاشوں کی سرپرستی کرکے ظلم کی آبیاری کی تو بے غیرتی کی بیماری نے گھر کرلیا اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ کبھی سو بچے کو قتل کرکے کیمیکل میں گلانے کی کہانی سامنے آتی ہے ، کبھی قصور میں ان گنت بچے اور بچیوں کے ریپ کی میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے اور اب 40ہزار سے زائد بیٹیوں کے اغواء کی خبر نے دنیا کو حیران کیا۔ پنجاب میں ہندوستان کی طرح خواتین پر بہت مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ان کا تدارک کرنا حکومت، ریاست اور دانشوروں کا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔ بسا اوقات جھوٹی کہانیاں بھی گھڑی جاتی ہیں جو بہت خطرناک ہیں۔ چیچہ وطنی میں ایک مرتبہ ن لیگ کے رہنما کے مشورے پر جھوٹی کہانی میڈیا پر آئی اور افسوس کہ ہم نے بھی چھاپ دی ۔ جھوٹے قصے کہانیوں کے افواہ سازسوشل میڈیا سینٹرز سیاستدانوں کے نیٹ ورک ہیں۔ ان کو مین اسٹریم میڈیا پر پکڑکر سخت ترین سزائیں دی جائیں۔
اگر دعا زہرہ نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے تب بھی اس کے والدین کے حقوق سلب نہیں ہوتے ہیں۔ والدین کا دعویٰ ہے کہ بچی ان کے ساتھ جانے پر رضامند ہوگئی تھی لیکن ایک مونچھوں والے سادہ کپڑے میں ملبوس پولیس اہلکار نے بچی کا بازو پکڑا اور یہ کہہ کر لے گیا کہ میں اس کا باپ ہوں۔ پھر جج کے پاس گئے تو جج نے منع کیاکہ بار بار اسٹیٹ منٹ نہیں لی جاتی۔ ہمارے ملک میں عورت کواسلامی حقوق حاصل نہیں ہیں اور اگر ان کو اس طرح اپنے والدین کے آسرے سے دور رکھا گیا تو ان کا مستقبل بھیانک ہوسکتا ہے۔ اگر بچی نے مرضی سے شادی کی ہے تو بھی والدین سے رابطہ نہ کاٹا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یتیم عورتوں کا اسپیشل خیال رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر اس کے والدین زندہ ہوں اور پھر اس کو عدالتی حکم کے ذریعے سے والدین کے سائے سے محروم کیا جائے تو یہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ سندھ میں 16سال سے کم عمر کی لڑکی کیلئے قانون بہت پہلے بدل چکا تھا۔ جس میں عمر کی کم از کم حد 18سال کی گئی اور پھر پورے پاکستان میں بھی 18سال کی عمر لازمی کرنے کا قانون میڈیا میں آیاجو غالباً پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا تھا۔ یہ ان لڑکیوں کیلئے ہونا چاہیے جن کے والدین راضی ہوں۔ لیکن جب والدین راضی نہ ہوں تو حدیث میں آتا ہے کہ جس نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ اہل تشیع اور اہل سنت کی فقہ میں جمہور فقہاء مالکیہ، شافعیہ، حنبلیہ اور اہل حدیث اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ولی کی اجازت کے بغیر لڑکی کا نکاح ناجائز اور حرامکاری ہے۔ امام ابو حنیفہ نے بھی فرمایا ہے کہ اگر میری کوئی بات صحیح حدیث کے خلاف ہو تو اس کو دیوار پر دے مارو۔ امام ابو حنیفہ نے چیف جسٹس بننے کی پیشکش مسترد کردی تو ان کو زہر دے کر شہید کردیا گیا۔ اور مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے کہا ہے کہ 85فی صد فقہی مسائل امام ابو حنیفہ کی مخالفت میں ان کے فقہ کے نام پر دئیے جاتے ہیں۔ تاہم فقہ حنفی کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر لڑکی کا خاندان لڑکے کے خاندان سے دنیاوی وجاہت میں اعلیٰ درجے کا ہو تو پھر ولی کے مسترد کرنے سے نکاح شرعاً مسترد ہوجائے گا۔ امریکہ اور مغرب میں نکاح کے بعد عورت آدھی جائیداد کی مالک بن جاتی ہے اور جب چاہے شوہر سے اپنی جان بھی چھڑاسکتی ہے۔ ہمارے ہاں بچے جنوانے کے بعد بھی جب چاہیں تو لڑکی کو گھر سے نکال سکتے ہیں اور وہ خلع لینا چاہے تو مولوی کی شریعت میں خلع کا تصور نہیں۔ الا یہ کہ عورت کو بلیک میل کرکے اس کی تمام آباء و اجداد کی جائیداد کو اپنے نام کرواکر خلع دینے پر شوہر راضی ہوجائے۔ یہ جہالت ابو الاعلیٰ مودودی اور جاوید غامدی تک نے بھی قرآن کے من گھڑت ترجموں میں لکھی ہے۔ ججوں سے اتنی استدعا ہے کہ شریف والدین کے دل کی بدعاؤں سے بچیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟
منظور پشتین و سید عالم محسودکا مقدمہ
بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟