پوسٹ تلاش کریں

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف اخبار: نوشتہ دیوار

مجھے پاکستان دشمن ایک طاقتور ملک کے سربراہ نے استعمال کرنا چاہا: حامد میر کا انکشاف

کیا وجہ تھی کہ اتنی تھریٹس، اقدام قتل کی کوشش کے باوجودبھی آپ پاکستان سے باہر نہیں گئے؟،رؤف کلاسرا

ہرکوئی ہماری طرح اپنے اور اپنی فیملی کومشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لیتا، مجبوراً جاتاہے توغلط نہیں حامد

حامدمیر:پابندی کے دوران میں بیرون ملک گیا تو وہاں ایک ملک کے سربراہ نے مجھے اور بینظیر بھٹو کو کیا بڑی آفر کی؟ بینظیر نے عین موقع پر مجھے کیسے بچایا، حامد میر نے دھمکیوںکے باوجود ملک نہ چھوڑنے کی سنسنی خیز وجہ بتادی۔
رؤف کلاسرا: میں آج ارشد شریف کے گھر گیا ۔ ان کی مسز، والدہ اور بچوں سے بڑی دیر تک بات ہوئی اور انکے گھر آنا جانا بہت تھا ہر ہفتے جانا ہوتا تھا۔ تو جو سوالات آپ بتارہے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح کے سوالات اٹھائے ۔میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ آپ کو بھی بہت ساری تھریٹس مسلسل رہی ہیں، اب تک آپ نے بڑا بھگتا اور ان کا سامنا کیا ۔ کیا وجہ تھی اتنی تھریٹس، اقدام قتل کی کوشش کے باوجود آپ پاکستان سے باہرنہیں گئے ارشد بھی نہیں جانا چاہ رہا تھا۔ میرا بھی یہی خیال تھا میرے دوست ہیں سب کو پتہ ہے کہ ارشد کو نہیں جانا چاہیے تھا۔ وہ پاکستان میں دوسری جگہ کی نسبت زیادہ محفوظ تھا۔ جبکہ انکے پاسUKاورUSAکے ویزے نہیں تھے ۔ میں بھی کئی دفعہ ان کو کہہ چکا تھا۔ ہم سب دوستوں نے کہا وہ انٹرسٹڈ نہیں تھے۔ تو آپ سمجھتے ہیں ارشد کو باہر جانا چاہیے تھا ان حالات میں؟۔ اور آپ خود کیوں نہیں گئے تھے سر؟۔
حامد میر: رؤف کلاسرا صاحب ! آپ نے ایسا سوال مجھسے پوچھاہے، بہت سے لوگ پوچھتے ہیں تو میں نے آج تک کسی کو تفصیل سے جواب نہیں دیا تو اگر آپ چاہتے ہیں تو میں اس کا تفصیل سے جواب دیتا ہوں۔ (جی سر۔ میرا خیال ہے لوگ سننا چاہیں گے آپ سے : رؤف کلاسرا)۔ پہلی دفعہ2007میں مجھ پر پابندی لگی تھی پرویز مشرف کا دور تھا تو میں5،6دن کیلئے پاکستان سے باہر ایک کانفرنس کیلئے گیا۔ وہاں پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیااور وہ چھوٹے موٹے لوگ نہ تھے بہت بڑے بڑے لوگ تھے۔ مثلاً ایک بہت بڑی بین الاقوامی شخصیت نے رابطہ کیا، انہوں نے کہا کہ ہم بہت بڑا ٹی وی چینل لانچ کررہے ہیں آپ جوائن کرلیں تو میں بڑا حیران ہوا کہ یار یہ ایک ملک کا سربراہ ہے یہ مجھے ٹی وی چینل جوائن کرنے کیلئے آفر مار رہا ہے تو یہ کیا چکر ہے؟۔ یہ دیکھا کہ میں زیادہ مائل نہیں تو اس نے کہا کہ بینظیر بھٹو صاحبہ بھی ہمارا ٹی وی چینل جوائن کررہی ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ کیا کریں گی ٹی وی چینل میں؟۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو ہر ہفتے ایک لیکچر دیا کریں گی۔ وہ جو تھا ساؤتھ ایشین چینل تھا بہت بڑا اور گلف کی ایک کنٹری میں اس کا ہیڈ کوارٹر بننا تھا۔ میں بینظیر بھٹو صاحبہ کے پاس گیا ۔ کہا جی اس اس طرح پیشکش ہوئی تو بتائیں کیا کرنا ہے؟۔ تو بینظیر صاحبہ بڑی محتاط تھیں وہ مجھے اپنے لان میں لے گئیں اور کہا کہ موبائل فون وغیرہ اندر رکھ کر آؤ۔ لان میں انہوں نے کہا کہ بالکل جوائن نہیں کرنا اور یہ پاکستان کے دشمن ہیں ان کا اینٹی پاکستان ایجنڈہ ہے۔ یہ آپ اور مجھے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ آپ بھی اسٹیٹ کے اداروں سے لڑ رہے ہیں اور میرا بھی پھڈہ ہے ۔تو میں تو بات چیت کیلئے راستہ نکالنے کی کوشش کررہی ہوں۔ انشاء اللہ اس کا راستہ نکل آئیگا ، انکے ہاتھ نہ چڑھنا یہ پاکستان کیخلاف استعمال کریں گے۔تو جناب میں اگلے دن کی فلائٹ لیکر فوراً پاکستان آگیا۔ اسکے بعد میں ذرا ہوگیا محتاط۔2012میں میری گاڑی کے نیچے بم لگا تو ایک دفعہ پھر لوگوں نے مجھ سے کہا کہ پاکستان سے باہر چلے جاؤ۔ میں نے انکار کردیا۔ پھر2014میں حملہ ہوا، اسکے بعد یہاں تک ہوگیا کہ میں آغا خان ہسپتال میں ایڈمٹ تھا تو ایئر ایمبولینس مجھے اٹھانے کیلئے کراچی ایئر پورٹ پہنچ گئی۔ تو میں نے کہا کہ آپ مجھے پاکستان سے باہر نہ ہی لیکر جائیں۔ انہوں نے کہا کیوں؟۔ میں نے ان کو بتائی تو نہیں وہ بات لیکن میرے ذہن میں2007والی بات تھی کہ باہر جاکر بندہ زیادہ کمزور ہوجاتا ہے۔ اسکے بعد یہ ہوا کہ میں پاکستان میں ہی رہا لیکن دو گولیاں میرے جسم کے اندر تھیں۔ ان کو نکلوانے کیلئے ملالہ یوسفزئی نے برمنگھم کے ایک ہسپتال میں جہاں ان کی اپنی ٹریٹمنٹ ہوئی تھی تو وہاں پر انہوں نے میرا انتظام کیا۔ تو جب میںUKگیا تو کلاسرا صاحب وہاں پر بھی میرے پیچھے لوگ لگ گئے۔ انہوں نے کہا جی کہ آپ نے صرف ایک کتاب لکھنی ہے اور وہ کتاب ایسی ہٹ ہوگی پوری دنیا میں آپ اس کا ایڈوانس بھی لے لیں۔ آپ کو پاکستان جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اور میری فیملی کے سامنے ہورہا تھا یہ کام۔ تو میں نے جناب جان چھڑائی اپنی اور میں پاکستان واپس آگیا۔ ابھی پچھلے سال بھی یہی صورتحال تھی۔ پچھلے سال یہ ہوا کہ مجھے6مہینے کیFellowshipمل رہی تھی اور پھر کتاب ہی لکھنی تھی۔ میں بالکل جانے کیلئے تیار تھا اور پچھلے واقعات بھی میرے ذہن میں تھے لیکن میں نے کہا کہ چلیں اب اتنا ٹائم گزر چکا، میں اتنا تو سمجھدار ہوں کہ میں کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہوسکتا۔ لیکن پھر میرے ایک مہربان نے مشورہ دیا کہ آپ کو نہیں پتہ کہ کریمہ بلوچ کیساتھ کینیڈا میں کیا ہوا؟۔ آپ کو نہیں پتہ کہ ایک اور صحافی کیساتھ ناروے میں کیا ہوا ہے؟۔ باہر مت جائیں آپ (vulnerable)کمزور ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ پاکستان سے باہر نہیں جانا چاہیے لیکن میں نے تو پاکستان سے باہر ایک دفعہ2007میں جاکر دیکھ لیا کہ ایک تو پاکستان کے اندر آپ کے دشمن آپ کو جینے نہیں دیتے۔ پھر پاکستان سے باہر جو پاکستان کے دشمن ہیں وہ آپ کے پیچھے لگ جاتے ہیں وہ بھی آپ کو استعمال کرناچاہتے ہیں۔ لیکن ارشد شریف جن حالات میں گئے وہ ذرا مختلف حالات ہیں۔ کیونکہ مجھے ذاتی طور پر پتہ ہے کہ ارشد شریف باہر جانے کیلئے تیار نہیں تھا بہت سے دوست یہ گواہی دینے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن اگر ان کو بھیجا گیا تو شاید ان کا یہ خیال ہوگا کہ میں کچھ دن میں واپس آجاؤں گا لیکن وہ واپس نہیں آئے ۔ان کے پاس ویزہ بھی کوئی نہیں تھا۔ میرے پاس تو ویزے تھے لیکن انکے پاس ویزہ نہیں تھا وہ نہUKجاسکے نہUSA۔ سارے معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے لیکن میں یہ دوہرانا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی ان حالات میں پاکستان سے باہر چلا جاتا ہے تو غلط نہیں ۔ ہر کوئی بندہ ہماری طرح اپنے آپ کو اور اپنی فیملی کو مشکل میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔ تو اگر کوئی چلا جاتا ہے تو بہت مجبوری میں جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنی خوشی سے پاکستان نہیں چھوڑتا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟