پوسٹ تلاش کریں

مسلح افراد کیلئے کبھی احتجاج نہیں کیا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

مسلح افراد کیلئے کبھی احتجاج نہیں کیا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اخبار: نوشتہ دیوار

مسلح افراد کیلئے کبھی احتجاج نہیں کیا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

اسلام آباد میں دھرنے میں شریک لواحقین کے4لاپتہ افراد کو مچھ واقعہ کے بعد زندان سے نکال کر قتل کردیا گیا
ریاست پرامن جدوجہد کا راستہ اپنانے والے بلوچوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ناکام کرنا چاہتی ہے

معزز صحافی حضرات ! آپ اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ گذشتہ دو مہینے سے زائد عرصے تک بلوچستان انسانی حقوق کی سنگین پامالی بلوچ نسل کشی جس میں سر فہرست ہے۔ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے کیخلاف کیچ سے دھرنے کی شکل میں اسلام آبادکی طرف مارچ کیا بلوچستان کے ہر شہر اور گاؤں سے ہزاروں لوگوں نے ریاستی ظلم کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیااور سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ بلوچ عوامی رد عمل کے باوجود ریاست بلوچستان میں اپنی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی لانے کیلئے تیار نہیں۔ لانگ مارچ میں سینکڑوں لاپتہ افراد کے لواحقین نے اس امید اور بھروسے پر لانگ مارچ میں حصہ لیا کہ انکے پیاروں کو فیک انکاؤنٹر میں قتل نہیں کیا جائے۔ بدقسمتی سے ریاست ظالمانہ پالیسی کو جاری رکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔ حالیہ مچھ واقعہ میں جس طرح زندان سے لاپتہ افراد کو نکال کر قتل کیا گیا یہ ظلم اور جبر کی انتہاء ہے۔ ریاست مسلح افراد کی کاروائیوں کا جواز بنا کر لاپتہ افراد کو قتل کرکے غیر انسانی عمل کا ارتکاب کررہی ہے۔ ریاست نے جھوٹے بیانئے پر بلوچ نسل کشی جاری رکھی ہے کہ لاپتہ افراد پہاڑوں پر ہیں۔ لیکن حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے۔ جو لوگ مسلح لڑائی لڑ رہے ہیں ان کیلئے کبھی بھی لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاج نہیں کیا ریاست مسلح جدوجہد کا جواز بناکر جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کا قتل عام کررہی ہے اور قتل عام کو جھوٹے بیانئے کے ذریعے متنازع بنارہی ہے۔ لیکن ہم ریاست پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے پر ہم کسی بھی صورت خاموشی اختیار نہیں کریں گے۔
مچھ واقعہ میں جتنے مسلح افراد شامل رہے ہیں ان میں سے کسی ایک کا نام بھی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل نہیں۔ اور ناہی ان کے خاندان نے ان کے جبری طور پر گمشدہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ریاست روزانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد اٹھاتی ہے۔ انہیں دو مہینے چار مہینے حتیٰ کہ کئی کئی سالوں تک خفیہ زندانوں میں رکھا جاتا ہے۔ اور بعد ازاں انہیں رہائی حاصل ہوتی ہے۔ جن کی خبریں میڈیا اور لواحقین کی جانب سے آتی ہیں۔ ان افراد کی تعداد اندازاً لاکھوں میں ہوگی۔ ہمارا اصولی مؤقف قائم ہے کہ جبری گمشدگی اقوام متحدہ سمیت ازخود پاکستان کے اپنے آئین اور قانون کے مطابق سنگین جرم ہے۔ اگر ریاست کسی کو مجرم سمجھتی ہے یا کوئی الزام ہے تو عدالتیں موجود ہیں۔ ملکی قوانین کے تحت انہیں پیش کیا جائے تاکہ عدالتیں اور قانون فیصلہ کریں کہ یہ لوگ بے گناہ ہیں یا مجرم ہیں۔ اگر کوئی بھی جرم ثابت ہوتا ہے تو انہیں سزا دینے کیلئے عدالتیں موجود ہیں۔ لیکن غیر قانونی طور پرلوگوں کو جبری گرفتار کرکے انہیں مہینوں اور سالوں خفیہ زندانوں میں قید رکھنا اور کسی بھی مسلح کاروائی کے رد عمل میں جبری گمشدگی کے شکار افراد کو حراست سے نکال کر قتل کرنا انسانیت کی دھجیاں اڑانے اور ریاستی قانون اور آئین کو توڑنے کے مترادف ہے۔ مچھ واقعہ کے بعد پانچ میں سے چار لاشوں کو ان کے لواحقین نے شناخت کیا ہے۔ جو پہلے سے ریاستی اداروں کے پاس جبری گمشدہ تھے۔ ایک لاش کا ہمیں خطرہ ہے کہ وہ بھی جبری گمشدگی کا شکار فرد ہی ہے۔ جن کی شناخت ہوگئی ہے ان میں بشیر احمد مری ولد حاجی خان اور ارمان مری ولد نہال خان مری جنہیں2جولائی2023کو اٹھایا گیا، تیسراصوبیدار ولد گلزار خان ہرنائی بازار سے9ستمبر2023کو جبری طور پر گمشدہ کیا گیا تھا۔ ان تینوں لاپتہ افراد کے لواحقین نے اسلام آباد دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ اور چوتھی لاش کی شناخت شکیل احمد ولد محمد رمضان سکنہ زہری سے ہوئی ہے۔ جن کی شناخت ان کے خاندان نے کی۔ خاندان کے مطابق4جون2023کو جبری گمشدہ کیا گیا تھا۔ جن لواحقین کے افراد نے دھرنے میں شرکت کرکے بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ آج وہ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے آئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ریاست بلوچستان میں پرامن جدوجہد کی تمام راہیں بندکرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ لوگ ریاست سے مایوس ہوں۔ جبکہ دوسری جانب سول ہسپتال میں لائی گئی لاشوں کیلئے آنے والے خاندانوں کو ذہنی کوفت سے گزارا گیا وہ قابل افسوس ہے۔ آج بلوچستان میں ریاست کے حوالے سے بڑھتی مایوسی کی ذمہ دار ریاستی ادارے ہیں۔ جو مسلسل غیر قانونی اور غیر انسانی کاروائیوں سے خوف پیدا کرنے میں لگے ہیں۔ ارمان مری اور بشیر مری اور صوبیدار کے لواحقین اس امید سے اسلام آباد آئے تھے کہ انہیں اس ریاست سے انصاف ملے گا جو کہ ہر شہری امید رکھتا ہے۔ لیکن انصاف کے بجائے انہیں انکے بچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملیں۔ جبکہ ایک لاش اتنی مسخ کی گئی کہ اس کی شناخت نہیں ہوپارہی ہے۔ جو بلوچ دشمنی اور بلوچوں سے نفرت کی واضح مثال ہے۔ جن پانچ لاشوں کو کل سول ہسپتال کوئٹہ لایا گیا تھا ان کے حوالے سے ریاستی ادارے یہ جھوٹا بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ پانچ افراد مسلح تھے جو اس واقعہ میں مارے گئے ہیں۔ لیکن ریاست اس چھوٹی سے بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ جھوٹے بیانئے بنانے سے ریاست اپنے ظلم اور جبر کو چھپا نہیں سکتی۔ ان خاندانو ںکو اپنے بچوں کی لاشو ںکو لینے کیلئے ایک غیر قانونی فارم زبردستی دستخط کرنے کیلئے دیا جارہا ہے۔ جن میں زبردستی ان کے بچوں کو دہشت گرد ثابت کیا جارہا ہے۔ لہٰذا جن جبری گمشدگی کے شکار افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا انکے خاندان کسی صورت غیر قانونی فارم پر دستخط نہیں کریں گے۔ جبکہ ہم ایک مرتبہ پھر دنیا پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں اس وقت بلوچ قوم کی نسل کشی جاری ہے اور اس میں روز بروز شدت لائی جارہی ہے۔ لاپتہ افراد کو پھر جعلی مقابلوں میں قتل کرکے ریاست نے پیغام دیا ہے کہ وہ بلوچستان میں اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرے گی۔ ہم اقوام متحدہ سمیت ہیومن رائٹس اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں ان واقعات کا نوٹس لیں۔ جبکہ بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے لوگوں کی جبری گمشدگیوں پر خاموشی کے بدلے سیاسی جدوجہد کی راہ اپنائے۔ اور ہم اس پریس کانفرس کے ذریعے بلوچستان کی کوئٹہ کی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد سول ہسپتال پہنچیں اور جو لاپتہ افراد کے لواحقین اتنے عرصے سے درد اور کرب میں مبتلا تھے جن کے پیاروں کی لاشیں یہاں پر پھینکی گئی ہیں ان لاشوں کو ان لاپتہ افراد کے لواحقین کوہینڈ اوور کرنے میں ان کی مدد کریں۔
ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ یہ لاپتہ افراد کے لواحقین آج نہیں تو کل اپنی لاشیں یہاں سے لیکر جائیں گے پیچھے جو رہ جائیں گی وہ صرف نفرتیں ہوں گی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟