پوسٹ تلاش کریں

اور انہوں نے چال چلی اور اللہ نے چال چلی اور اللہ بہتر چال چلنے والا ہے۔ شہبازوزیراعظم بننے اور زرداری صدر مملکت بننے کا نتیجہ آخرکیا نکلے گا؟

اور انہوں نے چال چلی اور اللہ نے چال چلی اور اللہ بہتر چال چلنے والا ہے۔ شہبازوزیراعظم بننے اور زرداری صدر مملکت بننے کا نتیجہ آخرکیا نکلے گا؟ اخبار: نوشتہ دیوار

ومکروا ومکراللہ واللہ خیر الماکرین
اور انہوں نے چال چلی اور اللہ نے چال چلی اور اللہ بہتر چال چلنے والا ہے۔ شہبازوزیراعظم بننے اور زرداری صدر مملکت بننے کا نتیجہ آخرکیا نکلے گا؟

واتقوا النار التی وقودھا الناس و الحجارة
اور اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں
پیپلزپارٹی نے اگرجمہوریت کی بقاء کیلئے فیصلہ کیا ہوتا کہ تحریک انصاف نے عمر ایوب کو وزیراعظم نامزد کیا ہے ہم پارلیمنٹ میں تیسری بڑی جماعت ہیں اسلئے شہبازشریف اور عمر ایوب کے درمیان وزیراعظم کیلئے بالکل غیرمشروط عمر ایوب کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں تواس کا سب سے زبردست نتیجہ یہ نکلتا کہ جمہوریت اور عوام کا بھلا ہوجاتا۔ لیکن پیپلزپارٹی شاید جمہوریت اور عوام سے زیادہ اپنے مفادات کے کھیل کو ترجیح دیتی ہے اور یہ سمجھ رہی ہے کہ میری لاٹری نکلی ہے۔ پنجاب کی دونوں بڑی پارٹیاں تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان کھل کر کھیل کھیلنے کا موقع ملا ہے۔ جو اسٹیبلیشمنٹ اور مسلم لیگ ن کل تک پیپلزپارٹی کی بساط سندھ میں بھی لپیٹنے کے چکر میں تھی آج وہ زرداری کو صدر مملکت بنانے پر بھی مجبور ہیں جو انکے دل و دماغ میں پھوڑا بن کر نکلے گا۔ مرکزی حکومت کمزور گدھیڑے کی طرح ہاتھ کا کھلونا ہوگی جس سے سندھ حکومت کو تحفظ دینے کیساتھ ساتھ18ویںترمیم کی ان شقوں کو بچانے کا موقع ملے گا جس کو ن لیگ اور تحریک انصاف پرائے بچے کی طرح کھڈے لائن لگانا چاہیں تو لگام ہاتھ میں ہوگی۔ پھر جمعیت علماء اسلام،پختونخواہ ، بلوچستان اورسندھ کی پارٹیوں نے صدر زرداری کی سیاست کو سلام پیش کرنا ہے۔ تحریک انصاف شروع سے18ویں ترمیم کا خاتمہ چاہتی تھی لیکن اس کو موقع نہیں مل سکا۔ حالیہ دنوں میں اپنے نئے منشور کا اعلان بھی اسلئے کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دیدیا کہ
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
اپنی خدمات کسے پیش کریں کوئی جوہر قابل ہی نہیں
پیپلزپارٹی یہ سمجھ رہی ہے کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں وہ گدھیڑیاں ہیں جو اپنی دم ہمیشہ اٹھا کر جیتے ہیں۔اسٹیبلیشمنٹ کے گدھے اور ان کے درمیان فاصلہ نہیں رکھا تو چھوٹے تینوں صوبوں کو بھی مرکز یت کی بھینٹ چڑھاکر پنجاب کیلئے تختہ مشق بنادینگے۔ بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ من پسند لوگوں کو منتخب کرتی ہے اورپختونخواہ میں تیسری بار تحریک انصاف کو لایا گیا جو صوبے کا فنڈز لگانے کے بجائے صحیح سلامت واپس کردیتی ہے اور پنجاب میں ہمیشہ اطاعت گزار طبقہ ہوتا ہے جو مرکز کو فنڈز واپس کردیتا ہے لیکن ایک سندھ ہے جو ایک پائی بھی مرکز کو واپس نہیں کرتا ۔ پیرپگاڑو اور علامہ راشد محمود سومرو کو پہلے یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ حامد میر کے پروگرام میں انصار عباسی نے بتایا تھا کہGHQنے مولانا کوپلاٹوں سے بہت نواز دیا اسلئے نواز لیگ بن گیا۔ حالانکہ انصار عباسی کے ذاتی گھر تک شہباز شریف نے کروڑوں کے روڈ کا خرچہ کیا تو حامد میروہ بھی بتادیتے!۔

تیرے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن پر چیک ہوئے
بالفرض تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نےMQM، جمعیت علماء اسلام ، جماعت اسلامی، جمعیت علماء پاکستان ،تحریک لبیک، عوامی نیشنل پارٹی ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور سندھیوں و بلوچوں کی قوم پرست پارٹیوں کے ساتھ قومی حکومت بنالی تو کیا پھر عوام آنے والی مہنگائی کا بوجھ برداشت کرسکیں گے؟ اور نہیں تو سیکورٹی فورسز، سول بیرو کریسی اور عدالتوں کے ساتھ مل کر ان کے بدمعاش کارکن عوام کو سنبھال سکیں گے؟۔ قرآن نے سودی نظام کو اللہ اور اسکے رسولۖ کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے۔ اسرائیل کی حکومت2.5%سود لیتی ہے جبکہ ہمارے ہاں اب25%سے زیادہ سود ہے ۔ کون عذاب کا مستحق ہے؟۔جب ہماری سیاسی قیادت اورعسکری قیادت میں اتنا بھی دم خم نہیں ہے کہ عوام بھوک سے مررہی ہے ، مہنگائی کا طوفان ہے۔ گیس دستیاب نہیں ہے تو ایسی صورتحال میں ایران سے اپنے معاہدے کے مطابق گیس لے سکیں؟ ۔ تیل بڑے پیمانے پر سمگل کرنے کے بجائے عوام کو زبردست ریلیف دے سکیں؟۔تو پھر اس سے زیادہ غلامی کیا ہوسکتی ہے؟۔
عمران خان نے اعلان کردیا کہ پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن اورMQMکے علاوہ ساری جماعتوں سے اتحاد ہوسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اس کے بعد گرین سگنل دے دیا۔ تحریک انصاف کے وفد نے ملاقات کی اور دشمنی دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ یہی سیاست ہوتی ہے۔ اگر تحریک انصاف اعلان کردیتی کہ سب سے بات ہوسکتی ہے تو زیادہ بہتر بات تھی۔ اگر تحریک انصاف کہتی کہ ن لیگ اورMQMکے علاوہ سب سے بات ہوسکتی ہے تو پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمن سے مل کر حکومت بھی بنالیتے اور واضح دھاندلی کی نشستیں بھی پنجاب سے واپس لے سکتی تھی۔اپنی قیادت عمران خان اور کارکنوں کو جیلوں سے آزادی بھی دلاتی۔ کراچی میں بھی دھاندلی سے ہاری ہوئی سیٹوں کو واپس لینے کا موقع مل جاتا۔ سب سے بڑھ کر بات یہ کرسکتے تھے کہ فوج کو اپنی اصل پوزیشن پر واپس بھیج دیتے۔ پنجاب سے ن لیگ کا صفایا ہوجاتا تو سیاسی جماعتوں کی بالادستی یقینی ہوتی۔ صحافی حضرات بھی دلالی کا دھندہ چھوڑ دیتے۔ اب یہ تاثر باوثوق ذرائع سے پھیلایا جارہاہے کہ ن لیگ مرکز میں حکومت لینے کا ارادہ ترک کرچکی تھی لیکن ان سے کہا گیا کہ پھر پنجاب سے بھی بستر گول ہوگا۔ مریم نواز کی وزارت اعلیٰ نے مسلم لیگ ن کو زردای سے اتحاد کرنے پر مجبور کیا۔ سیاست حکمت کا نام ہے۔ اگر مریم نواز پنجاب اور مرکز میں عورت کے اسلامی حقوق کا ایجنڈہ اٹھالیتی ہے ۔ بشریٰ بی بی کے نکاح پر معاملہ واضح کردیتی ہے تو بڑا انقلاب آسکتا ہے

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،الیکشن شمارہ فروری2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟