پوسٹ تلاش کریں

پرویزمشرف کے دور میں سیکولر بل منظورہوا!

پرویزمشرف کے دور میں سیکولر بل منظورہوا! اخبار: نوشتہ دیوار

پرویزمشرف کے دور میں سیکولر بل منظورہوا!

حافظ حسین احمد اگر سورۂ نور میں لعان کی آیت کا حکم دیکھ لیں تو عوام کو ورغلانے کا جذبہ بالکل نکل جائیگا!

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ بل پاس ہوتا ہے کہ آپ کی بیٹی، آپ کی بیوی، آپ کی بچی، آپ کی خاتون کسی کیساتھ جائے نہ آپ اسے روک سکتے ہیں نہ آپ اس کے خلاف تھانے میں جاسکتے ہیں نہ آپ اس کو سزا دے سکتے ہیں۔ اس کیلئے بات ہوئی کوشش کی گئی، مفتی تقی عثمانی کو ڈالا گیا۔ چوہدری شجاعت کو ڈالا گیا۔ مشرف نہیں مان رہا تھا کہ ہم پر دباؤ ہے امریکہ کا۔ اس بل کو منظور کرنا ہوگا، عورتوں کو آزادی دینی ہوگی۔ ہمارا اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں فیصلہ ہوا۔ مولانا فضل الرحمن جوش میں آئے اورفرمایا کہ اگر یہ بل پاس ہواقومی اسمبلی میں تو ہم اسی وقت قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے کر باہر جائیں گے۔کہا تھا ،نہیں کہا تھا؟۔ بل پیش ہوا۔ پیپلز پارٹی نے مشرف کا ساتھ دیا۔ میں مولانا فضل الرحمن کے پاس پہنچاکہ آپ نے کہا تھا کہ اسمبلی کی چھت پر اللہ کے99نام لکھے ہیں ہمیں اس کی قسم ہے کہ اگر یہ بل پاس ہوتو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اسمبلی کو چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاگل نہ بنیں سیاست میں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے اپنا ہاتھ چھڑا دیا میں باہر نکلا اور آج تک باہر ہوں۔

__حافظ حسین احمد جناب پر نوشة دیوار کا تبصرہ__
لعان کا حکم سورۂ نور میں نازل ہو اتو سعد بن عبادہ نے اس پر عمل سے انکار کردیا ۔ اگر لعان کا حکم قرآن ہے کہ بیوی کو رنگے ہاتھوں پکڑکر قتل نہیں کرسکتے اور نہ سزا دے سکتے ہیں تو دیکھنا پڑے گا کہ کیا غلط اور کیا صحیح ہے؟۔ کہیں اسلام کا حکم تو علماء اور مذہبی طبقات نے غلط نہیں سمجھ لیا ہے؟۔ اس پر مشاورت کریں!۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟