پوسٹ تلاش کریں

قرآن اورسنت کے مقابلے میں اجتہاد کاکیا تصور ہے؟

قرآن اورسنت کے مقابلے میں اجتہاد کاکیا تصور ہے؟ اخبار: نوشتہ دیوار

قرآن اورسنت کے مقابلے میں اجتہاد کاکیا تصور ہے؟

معاذ بن جبل حاکم یمن بنا، رسول اللہۖنے پوچھا: فیصلہ کیسے کرو گے؟۔ معاذ : قرآن سے!۔ رسول اللہ ۖ : قرآن میں نہ ملے ؟۔ معاذ: سنت سے!۔ رسول اللہ ۖ: سنت میں نہ ملے؟۔ معاذ: اجتھدخود کوشش کروں گا۔ اجتھاد کوشش۔تلمیذ مجتہد ۔ محنتی شاگرد۔ رسول اللہۖ نے فرمایا :” اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنے رسول کے رسول کو اس بات کی توفیق عطاء کردی جو اللہ اور اسکے رسول کو پسند ہے”۔ رسول داروغہ ، نمائندے اور ڈاکیہ کو بھی کہتے ہیں۔
یہ فقہی مسائل کا استنباط اور مروجہ اجتہاد نہیں بلکہ حاکم کا اپنی ذہنی صلاحیت سے انصاف دینا ہے۔ حضرت عمر کے پاس ایک تنازعہ آیا۔ شوہر نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں اور کہہ رہا تھا کہ مجھے تین طلاق کے باوجود رجوع کا حق ہے لیکن اس کی بیوی رجوع کیلئے تیار نہیں تھی۔ اب حضرت عمر نے پہلے اس کا فیصلہ قرآن کے مطابق کرنا تھا اور جب قرآن میں نہ ملتا تو سنت کے مطابق کرنا تھا اور جب سنت رسول ۖ میں بھی نہ ملتا تو پھر اپنی کوشش ”اجتہاد”سے مسئلہ حل کرنا تھا۔
شیعہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عمر نے قرآن وسنت اور اہل بیت کے مقابلے میں ایک نئی گمراہی ”طلاق بدعت” امت میں پیدا کردی ، جس کی سزا آج تک مفتی مسلمان عورتوں کو ایک ساتھ تین طلاق دینے پر حلالہ کی شکل میں دیتے ہیں۔
اہلحدیث سمجھتے ہیں کہ حضرت عمر کی اجتہادی غلطی سے سنت کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ رسول اللہ ۖ، ابوبکر اور عمر کے پہلے3سال تک اکٹھی تین طلاق کو ایک قرار دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر نے3طلاق کو3قرار دینے کا حکم جاری کردیا۔ اس اجتہاد کو رسول اللہ ۖ کی سنت کے مقابلے میں جاری کرنا بالکل غلط ہے۔
چار فقہی امام کے مقلد سمجھتے ہیں کہ حضرت عمرنے اجتہاد نہیں کیابلکہ حدیث میں اکٹھی تین طلاق ہیں۔امام شافعی کے ہاں اکٹھی تین طلاق سنت اور مباح ہیں اسلئے کہ عویمر عجلانی نے لعان کے بعد بیوی سے کہا تھا کہ تجھے تین طلاق۔ یہی صحیح حدیث ہے،محمود بن لبید کی حدیث ناقابلِ اعتماد ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہ وامام مالک کے ہاں فحاشی پر اکٹھی 3طلاق میں حرج نہیں مگر اکٹھی3 طلاق دینا گناہ وبدعت ہے۔ محمود بن لبید نے کہا کہ رسول اللہ ۖ کو ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں۔ رسول اللہ ۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہو؟۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔
امام احمد بن حنبل سے دو اقوال نقل ہیں۔ ایک قول کے مطابق امام شافعی کی تائید کی ہے اور دوسرے قول میں حنفی ومالکی مسالک کی تائید کی ہے۔
امام اسماعیل بخاری نے صحیح بخاری میں فقہ حنفی کو شکست دینے کیلئے حدیث کا غلط اندراج کرکے امت مسلمہ کابیڑہ غرق کرنے میں بہت بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ”من اجاز الطلاق ثلاث” (جس نے تین طلاق کی اجازت دی) عنوان کے تحت اسماعیل بخاری نے امام شافعی کے مسلک کو ثابت اور امام ابوحنیفہ کے مسلک کو رد کرنے کیلئے ایسی حدیث درج کی جس کی سزا آج تک بہت سارے لوگوں کو اکٹھی تین طلاق دینے کے بعد حلالہ کی لعنت سے ملتی ہے کیونکہ امام بخاری نے یہ حدیث بھی اکٹھی تین طلاق کے جواز میں نقل کی کہ رفاعة القرظی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر عدت کے بعد اس کی بیوی نے ایک اور شخص عبدالرحمن بن زبیر القرظی سے شادی کی۔ اس نے رسول اللہ ۖ سے شکایت کی کہ اس کے پاس دوپٹے کے پلو کی طرح ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا :کیا آپ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟۔ پس نہیں! یہاں تک آپ اس کا ذائقہ چکھ لواور وہ تیرا ذائقہ چکھ لے ۔من اجاز طلاق ثلاث( صحیح بخاری )
یہ حدیث مختلف جگہوں پر احادیث کی کتابوں میںہے مگر اکٹھی تین طلاق کے جواز میں یہ نقل کرکے امت مسلمہ کا حلالہ کی لعنت سے بیڑہ غرق کیا ہے۔ اس سے مغالطہ ہوا کہ رسول اللہ ۖ نے بھی حلالہ کی لعنت کا فتویٰ جاری فرمایا۔ صحیح حدیث پر لوگ آنکھیں بند کرکے چلتے ہیں۔ بخاری نے ”کتاب الادب” میں یہ وضاحت کی کہ” رفاعة القرظی نے مرحلہ وار تین طلاقیں دی ہیں ”اور یہ بھی ایک اور حدیث میں واضح کیا کہ” اسکے شوہر عبدالرحمن بن زبیرالقرظی نے تردید کی کہ وہ نامرد ہے ۔ وہ اس کی چمڑی اپنی مردانگی سے ادھیڑ کے رکھ دیتا ہے”۔ بخاری اس واقعہ کی تمام روایات کو ایک جگہ نقل کرتا تو نہ صرف یہ ثابت ہوتا کہ اکٹھی تین طلاق پر حلالے کا حکم نہیں بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا کہ نبی کریم ۖ نے اس عورت کو اپنے نامرد شوہر سے حلالہ کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا اور احادیث کے واقعات کو غلط نقل کرکے احادیث کے خلاف بھی محاذ کھول دیاگیا ہے۔
آیت الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلاق دو مرتبہ ہے ، پھر معروف طریقے سے روکنا یااحسان سے چھوڑنا ہے”کو بخاری نے اکٹھی تین طلاق کے جواز میں پیش کیا۔ حالانکہ امام ابوبکر جصاص رازی نے یہ آیت اپنی کتاب ”احکام القرآن” میں مسلک حنفی کی طلاق سنت کیلئے زبردست دلیل کے طور پر پیش کی۔ بخاری کے معروف شارحیں نے اپنی اپنی شرح ” عمدة القاری ” اور ” فتح الباری” میں ایسی مضحکہ خیز شرح ان آیات کی لکھ دی ہے کہ ایک عام انسان بھی حیران ہوگا کہ یہ کیا کیاہے؟۔ فقہاء ومحدثین کا مسئلہ یہ ہے کہ حقائق تک پہنچنے کا سادہ طریقہ اپنانے کے بجائے معاملہ مزید الجھا دیتے ہیں۔ حالانکہ عام فہم زبان اور صحیح بخاری کی احادیث سے دو مرتبہ طلاق کی بات سمجھنا بہت آسان ہے لیکن بخاری نے ایک ساتھ تین طلاق کے جواز کے عنوان کے تحت آیت لکھ دی ہے تو پھر بہرصورت باب سے مناسبت پیدا کرنے کی الٹی سیدھی کوشش کی ہے جس کو دیکھ کر چھوٹے مگر سمجھدار بچے بھی ہنسیں۔
نبی ۖ محمود بن لبید کی مجہول حدیث میں غضبناک ہوئے تو اس سے شبہ پیدا کیا گیا ہے کہ اگر رجوع ہوسکتا تھا تو نبیۖ غضبناک نہ ہوتے۔ حالانکہ اس سے زیادہ مضبوط حدیث صحیح بخاری کی ہے جس میں نبی ۖ حضرت عمر کی خبر پر کہ عبداللہ بن عمر نے حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دی ہے غضبناک ہونے کا ذکر ہے۔ جو بخاری کی کتاب التفسیر سورہ طلاق میں ہے۔ اس سے طلاق مرتان کی بھی واضح تفسیر ہوجاتی ہے اور غضبناک ہونے کے باوجود بھی رجوع ثابت ہوتا ہے کہ نبیۖ اسلئے غضبناک نہیں ہوئے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں روایات میں یہ بھی ثابت ہے کہ محمود بن لبید کی روایت میں جس نے خبر دی تھی اور قتل کی پیشکش کی تھی وہ حضرت عمر تھے اور جس نے طلاق دی تھی وہ عبداللہ بن عمر تھے۔ محمود بن لبید تابعی تھے اور ان سے مضبوط روایت صحیح مسلم کی ہے جس کو حسن بصری نے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں اور20سال تک کوئی دوسرا شخص نہیں ملا جس نے اسکی تردید کی ہو۔20سال بعد ایک اور مستند شخص ملا جس نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی۔ حضرت علی سے منسوب ہے کہ حرام کہنے کو ایک ساتھ تین طلاق سمجھتے تھے۔ بخاری میں بعض علماء کے اس اجتہاد کو حسن بصری نے روایت بھی کیا ہے۔ جب حرام کا لفظ تین طلاق ہو تو پھر کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ حضرت ابن عمرنے تین طلاقیں دیں اور نبیۖ نے لوٹنے کا حکم دیا؟۔ حالانکہ حضرت علی نے اس صورت میں رجوع نہ کرنے کا حکم دیا تھا جب عورت راضی نہ ہو۔ اور جب عورت راضی نہ ہو تو ایلاء میں بھی رجوع نہیں ہوسکتا۔نبیۖ کو اللہ نے قرآن میں واضح حکم دیا مگر حقائق دیکھے نہیں؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

طالبان اور پاک فوج کے درمیان جنگ کو صلح میں بدلنے کیلئے ایک واقعہ کی تحقیق کی جائے!
چوہے کی بل سے آواز ایک بڑا راز ؟ فیس بک پر انگریزی کی تحریر کا ارود ترجمہ اور اس کاجواب!
پاکیزہ بات کی مثال پاکیزہ درخت کی طرح ہے اس کی جڑ مضبوط اور شاخیں آسمان میں ہیں