پوسٹ تلاش کریں

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کیساتھ مل جاؤ”۔صحیح بخاری

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کیساتھ مل جاؤ”۔صحیح بخاری اخبار: نوشتہ دیوار

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کیساتھ مل جاؤ”۔صحیح بخاری

رسول اللہ ۖ نے فرمایا :” مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کیساتھ مل جاؤ”۔صحیح بخاری

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ”نصاریٰ ایمان والوں سے موودت میں سب سے زیادہ اشد ہیں”۔ آج نصاریٰ کی دنیا میں بہت بڑی حیثیت ہے لیکن آج مسلمان اس حقیقت کو استعمال نہیں کررہے ہیں۔

قرآن پاک کی اس آیت کی سب سے بڑی تصدیق آج نصاریٰ کا وہ عمل ہے کہ جس قبلہ کو وہ اپنا مقدس مقام اورقبلہ مانتے ہیں اوران کے اندر قبضہ کی صلاحیت بھی ہے لیکن وہ مسلمانوں سے نہیں لے رہے ہیں

مسلمان دو بڑے فرقوں میں تقسیم ہیں۔ اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع۔ اہل سنت کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ73فرقوں میں سے ایک جنتی ہوگا اور باقی سب جہنمی ہیں ۔جنتی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ سنت سے رسول اللہ ۖ اور جماعت سے صحابہ کرام مرادہیں۔ دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور جماعت اسلامی خود کو اہل سنت سمجھتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق دور میں مشہوربریلوی عالم دین علامہ عطاء محمد بندیالوی نے تفصیل سے فتویٰ دیا کہ عالم اسلام پر فرض ہے کہ امام کا تقرر کریں۔ نہیں تو ان کی موت جاہلیت کی ہوگی۔ امام لازمی قریش ہو۔ جنرل ضیاء الحق کی موت بھی جاہلیت کی موت ہوگی۔
دیوبندی مدارس نے استفتاء کاجواب نہیں دیا۔مولانا محمدیوسف لدھیانوی نے ” عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰہ والسلام کے آئینہ میں” مساجد کے ائمہ ، مدارس کے مفتی ، سیاسی مذہبی جماعتوں کے علماء ، حکمران اور تمام فرقے اور مذہبی جماعتیں ایک ایک اور اجتماعی طور پر سب کوزبردست نشانے پر لے لیا تھا۔ حضرت حذیفہ نے کہا کہ لوگ خیر کا نبی ۖ سے پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں رہنمائی لیتا تھا تاکہ میں اس سے بچ سکوں۔ حذیفہ نے پوچھا:ہمیں یہ خیر (اسلام ) پہنچی تو کیا اسکے بعد کوئی شرپہنچے گا؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:ہاں! ( خلافت راشدہ میںجو جنگیں ہوئیں۔ جمل ، صفین ، نہروان ۔ عثمان کی شہادت سے علی کی شہادت تک )۔ حذیفہ:کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہوگی ؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : ہاں مگر اس میں دھواں ہوگا۔ان میں اچھے لوگ بھی ہوں گے اور برے بھی ۔ (30سالہ خلافت راشدہ کے بعدبنوامیہ وبنو عباس کی امارت اور خلافت عثمانیہ کی بادشاہت کادور۔ حسن کے بعد امیرمعاویہ سے عثمانی آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید سن1924،جبری حکومتوں کے دور سے طرز نبوت پرخلافت کے دوبارہ قیام تک کے موجودہ دور تک سب پراس خیر کا اطلاق ہوتا ہے جس میں خیر وشر دونوں ہوں گے۔ مفتی تقی عثمانی نے سود کو جائز قرار دیا تھا تو سب علماء ومفتیان نے مخالفت کی۔ دارالعلوم دیوبند کے دو ٹکڑے ہوگئے، جمعیت علماء اسلام ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی رہی، تبلیغی جماعت دو حصوںمرکز بستی نظام الدین اور رائیونڈمیں تقسیم ہوگئی،دیوبندیوں کے ٹکڑے، بریلویوں کے ٹکڑے ، اہل حدیث کے ٹکڑے، جماعت المسلمین کے ٹکڑے اور حزب اللہ کے ٹکڑے ۔اس طرح اہل تشیع میں آپس کی منافرت اورکئی ٹکڑے ) حضرت حذیفہ نے پھر سوال کیا کہ اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:ہاں!۔ داعی ہوں گے جو جہنم کے دروازے پر لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی دعوت قبول کرے گا تو اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔ جس پر حذیفہ نے پوچھا:یارسول اللہ ! ان کی نشانی کیا ہوگی؟۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: وہ ہمارے لبادے (مذہبی ) میں ہوں گے اور ہماری زبان (مذہبی اصطلاحات ) بولیں گے ۔حذیفہ:اگر میں اس وقت ہوا۔ تو مجھے کیا کرنا چاہیے۔رسول اللہ ۖ: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے مل جاؤ!۔ حضرت حذیفہ : اگر اس وقت نہ مسلمانوں کا کوئی امام ہو اور نہ جماعت توپھر؟۔ رسول اللہ ۖ : پھران تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ، چاہیے تمہیں کسی درخت کی جڑ میں پناہ لینی پڑے۔
(صحیح بخاری ۔ عصر حاضر : مولانامحمدیوسف لدھیانوی شہید)
اہل سنت الجماعت اور اہل تشیع نے دیکھا کہ جب ایران میں آیت اللہ خمینی کو قائدانقلاب اورامام بنایا گیا تو ایران کی بادشاہت ختم ہوگئی۔ جب ملا عمر کو امیر المؤمنین نامزد کیا گیا تو افغانستان میں بدمعاش جہادی کلچر کا خاتمہ ہوگیا اور آج افغانستان میں افغانستان کے حدود کیلئے امیر المؤمنین کا تقرر ہے۔ داعش (دولت اسلامیہ عراق وشام) نے بھی امیر المؤمنین بنائے لیکن عراق وشام میں بھی کامیابی نہیں ۔ سن1990کی دہائی میں ایک عرب نے بھی امیرالمؤمنین بننے کا دعویٰ کیا تھا جس نے اپنا ٹھکانہ خیبر ایجنسی میں بنایا تھا۔ اس سے پہلے ہم نے وزیرستان سے پاکستان اور دنیا بھر کیلئے امیر المؤمنین کے تقرر اور خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ وہ عرب امیرالمؤمنین پھر بیمار ہوکر امریکہ چلا گیا تھا اور اس کے پشاوری نمائندے نے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ آپ اپنے مشن سے دستبردار ہوجائیںاسلئے کہ اس عرب میں بہت صلاحیت ہے۔ آپ کی طرف سے پہل کی گئی ہے آپ کے ہوتے ہوئے وہ خلیفہ نہیں بن سکتا ہے۔
مفتی کامران شہزاد نے حال میں امام مہدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے جس میں قوم کی تبدیلی کو قرآنی انقلاب قرار دیا۔قوم کو اب تبدیلی کیلئے اٹھنا ہی ہوگا۔ انہوں نے یہ زبردست بات کی ہے کہ جب تک قوم خود کو نہیں بدلے اس وقت تک اللہ بھی قوم کی حالت نہیں بدلے گا اور جب قوم اپنی حالت بدلنے کا فیصلہ کرے گی تو ایک نہیں کئی امام مہدی بھی قوم کو مل جائیں گے، اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ ”اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم احسان کریں ان لوگوں پر جن کو کمزور بنایا جارہاہے کہ ان کو ائمہ بنائیں اور ان کو وارث بنائیں”۔( سورہ القصص آیت5)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا” اور جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی اِلٰہ کو نہیں پکارتے۔اور نہ کسی نفس کو قتل کرتے ہیں جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کیساتھ۔ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو ایسا کرے گا توسزا کو پہنچے گا ۔ اللہ ان کے عذاب میں قیامت کے دن دو چند اضافہ کرے گا اور وہ ہمیشہ اس میں ذلت کیساتھ رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور صالح عمل کئے تو ان لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں میں اللہ تبدیل کردے گا۔ اور اللہ غفور رحیم ہے۔ اور جو توبہ کرے اور عمل صالح کرے تو بیشک وہ اللہ کی طرف توبہ کرتا ہے متوجہ ہوکر۔ اور جو لوگ جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو بات سے گزرتے ہیں تو گزر جاتے ہیں عزت کیساتھ۔ اور جن کے سامنے اللہ کی آیات کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس پر بہرے اور اندھے ہوکر گر نہیں پڑتے۔ اور جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنی ازواج میں سے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک عطا ء فرمااور ہمیں متقیوں کا امام بنادے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اسکے بدلے میں کمرہ دیا جائے گا جو انہوں نے صبر کیا اسکے سبب جس میں ان کو سپاس نامہ اورسلام پیش کیا جائے گا۔یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جو بہترین ٹھکانا اور منصب ہے۔(الفرقان)
ان آیات میں توبة النصوح سے قاتلوں اور زناکاروں کیلئے بھی نہ صرف معافی کی گنجائش ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا” ان کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیں گے”۔ جس طرح اسلام قبول کرنے سے پہلے صحابہ کرام کافر و مشرک تھے اور بعد میں قرآن نے ان کی شان بیان کی ہے۔ ان میں بھی فتح مکہ سے قبل اور بعد والوں کے درمیان فرق ہے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد والوں کو بھی درجات کی خوشخبری ہے۔ کسی کی توہین کرنے سے فائدہ ہوتا تو اللہ مشرکوں کے خداؤں کو برا کہنے سے منع نہ فرماتا۔ لوگوں کے جذبات کو جس سے ٹھیس پہنچتی ہو اس سے ہم اجتناب کریں گے تو لوگ قرآن و سنت اور تاریخی حقائق تک پہنچ جائیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ جس طرح مہاجرین وانصار میں خلافت کے مسئلہ پر اختلاف تھا ،اسی طرح اہل بیت اور صحابہ کے درمیان بھی استحقاق خلافت پر یہی اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کو ائمہ اہل بیت اور ان کے صحیح پیروکاروں نے اپنی حد میں رکھا تھا، جب معاملہ اعتدال سے ہٹ جائے تو خونریزی تک پہنچتا ہے۔ جب انصاراسلئے خلافت سے محروم کردئیے گئے کہ نبی ۖ نے فرمایا تھا کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے تو قریش میں حضرت ابوبکر سے زیادہ اہل تشیع ہی نہیں حضرت ابوسفیان نے بھی حضرت علی ہی کو حقدار قرار دیا تھا۔ حدیث میں قریش کے بارہ خلفاء قریش کا ذکر ہے اور شیعہ سمجھتے ہیں کہ اہل سنت کے پاس معقول جواب نہیں۔ حالانکہ اہل سنت کی کتابوں میں آخری دور میں ان کا ذکر ہے۔
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اور مفتی عتیق الرحمن سنبھلی کے والد مولانا محمد منظور نعمانی نے شیعوں پر کفر کا فتویٰ لگانے کیلئے بڑا استفتاء لکھا تھا۔ جواب میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن نے تین وجوہات کی بنیاد پر شیعوں کو قادیانیوں سے بدتر کافر قرار دیا تھا۔ تحریف قرآن ۔ صحابہ کی توہین۔ عقیدہ امامت۔ جو کتابی صورت میں مارکیٹ میں بکتی ہے۔ پھر شیعوں کو متحدہ مجلس عمل، ملی یکجہتی کونسل اور اتحاد تنظیمات المدارس میں شامل کیا گیا۔
اگر ہمارے علماء احناف دیوبندی بریلوی اور علماء اہلحدیث و اہل تشیع اپنی جگہ پر قرآن و سنت کے مطابق درست لائحہ عمل بنالیں تو سب کی گمراہیاں نہیں رہیں گی اور مرزا غلام احمد قادیانی دجال کذاب معلون کے پیروکار بھی اپنے غلط عقیدوں اور سازشوں سے توبہ تائب ہوکر سچے اور پکے مسلمان بن جائیں گے۔
قرآن میں اللہ نے رسول اللہ ۖ سے فرمایا کہ مشرکوں سے قرابتداری کی محبت کا مطالبہ کرو۔ مشرکوں نے انتہائی دشمنی کا ثبوت دیا جس کی قرآن میں مکمل نشاندہی بھی کی ہے۔ لیکن مسلمانوں نے قرابتداری کی محبت کا مظاہرہ کیا اور فتح مکہ کے حسن سلوک سے تقریباً سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ نبی ۖ نے اہل بیت کے بارے میں بھی موودت کا مطالبہ کیا تھا لیکن خاندانی بنیادوں پر جب اقتدار قائم ہوا تو اس محبت کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے شیعہ صحابہ کرام سے بھی بدظن ہوگئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کنفرم کیا ہے کہ نصاریٰ کو اہل ایمان سے سب سے زیادہ شدت کی موودت ہے۔ جب مسلمان آپس میں بھی ایک دوسرے سے شدید بغض رکھتے ہیں تو نصاریٰ کس طرح سے محبت کے تقاضوں پر عمل کرسکیں گے؟۔ فلسطین اور بیت المقدس کے معاملے میں نصاریٰ کی ساری ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ نہ ہوتیں تو یہود کب کا تسلط جماچکے ہوتے۔ مسلمانوں کی طرف سے اگر تھوڑی سی حقیقت پسندی کا مظاہرہ ہو تو پھر دیکھنا کہ امریکہ ، برطانیہ، فرانس اور سارے عیسائی ممالک پکا معاہدہ کریں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد تک بیت المقدس کے متولی مسلمان رہیں گے اور یہود پھر دجال اکبر کا انتظار کریں گے۔ ان لوگوں کو یہ خطرات ہیں کہ مسلمان ہماری خواتین کو لونڈیاں بنادیں گے اور ہم اس بات پر بار بار زور دے رہے ہیں کہ اسلام نے لونڈی اور غلام کو نکاح و طلاق سمیت تمام حقوق دے دئیے۔ اور لونڈی و غلام بنانے کے سودی اور جاگیردارانہ نظام کا اسلام نے خاتمہ کردیا تھا۔ قیدیوں کیلئے صرف دو باتیں رکھی تھیں کہ ان کو احسان کرکے چھوڑیں یا فدیہ لیکر۔ جس سے قیدیوں کو قتل کرنے اور عمر بھرقید رکھنے کی گنجائش بھی نہیں رہتی ہے تو پھر ان کو لونڈی اور غلام بنانے کی بات تو کسی طرح سے قابل قبول نہیں۔ جب اللہ نے واضح کیا ہے کہ بنی اسرائیل کو لونڈی بنانا اہل فرعون کا وظیفہ تھا پھر کس طرح سے اسلام اہل فرعون کی نیابت کرسکتا ہے؟۔ جہاں تک قرآن میں بار بار ایک چیز کا ذکر ہے ما ملکت ایمانکم ”جس کے مالک تمہارے معاہدے ہوں” اس سے لونڈی و غلام بھی مراد ہیں جس کی وجہ سے ان کی حیثیت جانور کی طرح ملکیت سے نکل کر گروی کی ہوگئی ہے۔ جس طرح آج بھٹہ خشت اور مزارعت میں خاندان کے خاندان گروی ہوتے ہیں۔ گروی کو جب بھی مطلوبہ مال دے دیا جائے تو اس کی گردن آزاد ہوجاتی ہے۔ جہاں تک ان سے نکاح کے بغیر جنسی تعلق کی بات ہے تو اس میں لونڈی اور آزاد میں فرق نہیں۔ اس میں صرف نکاح کے وہ حقوق نہیں ہوتے جس کا قرآن نے ایسا ذکر کیا ہے کہ اگر مغرب کو پتہ چل جائے تو وہ اپنے خود ساختہ قوانین کو ختم کرکے اسلامی قوانین کو معاشرے میں رائج کریں گے۔ سعودی عرب نے مسیار اور شیعہ نے متعہ کے نام سے جس ایگریمنٹ کی اجازت دی ہے اگر قرآن میں اس کو تلاش کیا جائے اور حدیث سے تصدیق لی جائے تو شیعہ سنی تفسیروں کی فرقہ واریت ختم ہوجائے گی۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟