پوسٹ تلاش کریں

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا اخبار: نوشتہ دیوار

مظہر عباس جیسا صحافی اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھ لیںتواچھا ہوگا

سیاست میں اعتدال نہیں رہاہے تو مذہبی بے اعتدالی کا راستہ کون روکے گا؟ اللہ نے قرآن میں ہمیں امت وسط معتدل مزاج امت قرار دیا ہے

جس دن صحافیوں نے مذہب کی طرف توجہ کی تو پاکستانی قوم میں بہت بڑا فطری، نظریاتی اور انسانی انقلاب برپاہوجائیگا ذرا توجہ کریں تو سہی!

شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، حنفی اہل حدیث اور جماعت اسلامی وتبلیغی مرکز میں اختلافات ہیں۔ مولانا محمد منظور نعمانی کا تعلق پہلے جماعت اسلامی سے تھا اور پھر مولانا مودودی کے خلاف کتاب لکھ کر تبلیغی جماعت کے اکابر بن گئے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نے بھی ”فتنہ مودودیت” کتاب لکھ ڈالی تھی۔ مولانا منظور نعمانی نے شیعہ کے خلاف استفتاء لکھ کر پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے علماء ومفتیان سے شیعہ پر کفر کا فتویٰ لگوایا تھا، جن کے فرزند مولانا سجاد نعمانی ہیں جو شیعہ سنی اتحاد کے بہت بڑے داعی اور علمبردار بن گئے ہیں۔
علامہ شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مولانا عامر عثمانی نے جماعت اسلامی انڈیا میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ پھر عبارات کے حوالہ جات دئیے بغیر دارالعلوم دیوبند سے فتویٰ طلب کیا تھا۔ انہو ں نے مولانا مودودی وغیرہ کی عبارات سمجھ کر کفر اور گمراہی کے فتوے لگائے تھے۔حالانکہ دارالعلوم دیوبند کے اکابر کی کتابوں سے عبارات لئے گئے تھے۔جس پر شیخ الحدیث مولانا زکریا نے ایک اور کتاب لکھ ڈالی کہ ہم اپنے اکابرین اور دوسرے کے درمیان کیوں فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں؟۔ جس کا صاف الفاظ میں خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ ”اپنے کریں تو چمت کار اور دوسرے کریں تو بلت کار ”۔ دوسروں کو مطمئن کرنے کی جگہ اپنوں کو اطمینان دلاتے ہیںتو ہمارا مذہب صرف کمزور لوگوں میں خوش فہمی کا باعث بنتاہے۔
اللہ نے فرمایا: کل حزب بمالدیھم فرحون ” ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے ”۔ دیوبندی بریلوی اپنی کتابوں میں اپنے بزرگوں کے کرامات پر بہت خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے کیا کمالات حاصل کئے تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک ماموں کا قصہ بڑا عجیب ہے ۔ ملامتی صوفی اور بھی لوگوں نے دیکھے ہوں گے لیکن ماموں نے سب کو ماموں بنادیا تھا۔ جب بات غلو تک پہنچتی ہے تو پھر اس کو بیان کیا جائے تو ناقابل یقین بن جاتا ہے۔
مدارس اور مساجد میں ظلم وتشدد اور جبر واکراہ کا وہ سسٹم نہیں ہوتا ہے جس کو جماعت اسلامی نے کالج اور یونیورسٹیوں میں پروان چڑھایا ہے۔ مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبہ نے جس انداز میں مشعال خان کو شہید کیا تھا تو اس کاسارا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے بانی ومہتم مفتی محمد نعیم نے مشعال خان کی شہادت پر بہت افسوس کا اظہار کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے پشاور میںطلبہ کو شاباش دینے کیلئے جلسہ رکھا تھا۔ مدارس کی تعلیم میںشافعی حنفی مالکی حنبلی مسالک پڑھائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں علم وشعور اور اختلاف برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے مگر جماعتی بہت جاہل اور ظالم ہوتے ہیں۔وہ اس تشدد پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں ۔ان کو چاہیے کہ کسی عالم دین کو اپنا امیر بناکر جاہلوں سے تشدد کا عنصر بالکل نکال دیں۔
مظہر عباس ، وسعت اللہ خان اینڈ کمپنی،محمد مالک، روف کلاسرا ، سلیم صافی اور حامد میر وغیرہ کبھی مدارس ، تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی ، جماعت اسلامی اور مذہبی جماعتوں کو ایک ساتھ بٹھاکر کچھ مسائل پر افہام وتفہیم کی فضا بنائیں۔ مثلاً دعوت اسلامی کے مفتیوں نے مسئلہ بیان کیا ہے کہ ” روزے کی حالت میں ٹٹی کرنے کے بعد اپنے پاخانہ کی جگہ دھویں تو اس کو فوراً کپڑے سے سکھالیں، اگر ایسا نہیں کیا تو آنت کا ٹکڑا واپس اندر چلاجائے گااور روزہ ٹوٹ جائے گا”۔
آنت کا نکلنا ایک فطری عمل ہے لیکن اس پر کسی کو دسترس حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے کتنے لوگ نفسیاتی مریض بن گئے ہوں گے۔ جب یہ مسئلہ الیکٹرانک میڈیا پر اکابر ین کے سامنے زیر بحث لایا جائے گا تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر اکابر کی بات درست ہوگی تو بہت لوگوں کے روزے ٹوٹنے سے بچ جائیں گے اور اگر ان کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ اس مسئلے کی حیثیت ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے اسلئے کہ آنت بہت لمبی ہوتی ہے اور اس میں مقعد کے راستے سے معدے تک پانی کا اس طرح سے پہنچنا بھی ممکن نہیں ہے۔ کسی دور میں پچکاری کے حوالے سے یہ پریشانی لاحق ہوئی ہوگی کہ پریشر سے پانی معدے تک نہ پہنچ جائے لیکن الٹراساونڈ کی ایجاد سے مسئلہ سمجھنے میں مشکل نہیں اور بہت اکابر بھی اس بے جا مشقت سے بچ جائیں گے۔
مدارس میں پڑھایا جاتا ہے کہ ” غسل کے تین فرائض ہیں۔ کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہانا”۔ یہ حنفی کے نزدیک ہیں اور شافعی کے نزدیک کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں وضو کی طرح سنت ہے۔ مالکی کے نزدیک جب تک جسم کو مَل مَل کر نہ دھویا جائے توفرض پورا نہیں ہوگا۔ گویا ایک فرض پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ اختلاف کا سبب یہ ہے کہ قرآن میں وضو کے بعد اللہ نے فرمایا کہ وان کنتم جنبًا فطھّروا ” اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو”۔ حنفی کہتا ہے کہ وضو میں منہ اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں ہے لیکن اس آیت میں پاکی کے اندر مبالغہ ہے اسلئے جنابت سے نکلنے کیلئے یہ فرض ہے۔ مالکی کہتا ہے کہ مَل مَل کر دھونا بھی مبالغہ کی وجہ سے فرض ہے۔ یہ فرائض اور ان پر اختلافات قرآن وحدیث ، خلفاء راشدین ، صحابہ اور تابعین کے 7فقہاء مدینہ کے ہاں بھی نہیں تھے لیکن پھر وجود میں آگئے۔
اس مشکل سے نکلنے کیلئے قرآن میں ہے کہ جنابت سے نکلنے کیلئے غسل یعنی نہانا ہے۔ بس وضو کے مقابلے میں نہانے کے اندر جو مبالغہ ہے وہی کافی ہے۔ نہانا یہود، نصاریٰ ، مشرکین مکہ ، ہندو اور سبھی کو آتا ہے۔ حتی کہ جانور اور پرندوں کو بھی آتا ہے۔ اسلامیہ کالج پشاورمیں پوزیشن ہولڈر میرا ایک کزن اس کی وجہ سے کہ غسل ہوا یا نہیں ہوا ؟ اپنی زندگی کی خوشیوں سے ہمیشہ کیلئے ہاتھ دھو بیٹھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟