پوسٹ تلاش کریں

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف اخبار: نوشتہ دیوار

سکول ماسٹر خطیب مسجد کا بیٹا حافظ عاصم منیر شاہ ہمارا آرمی چیف

اللہ پاک اپنے قرآن پاک کی برکت سے اس اسلامی انقلاب کااب آغاز کردے جس سے آسمانوں اور زمین والے دونوں خوش ہوں اور اسلام کو اجنبیت کی دَلدَل سے نکال دے!

اللہ نے جنت باپ کے مونچھ نہیں ماںکے قدموں کے نیچے رکھی ہے۔ محمود خان اچکزئی

میں طالبان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ نبیۖ نے حضرت عائشہ کی ایسی تربیت فرمائی کہ ہزاروں احادیث آپ سے نقل ہیں،جب شیرخداعلی سے اختلاف ہوا تو لشکر کی قیادت کی تھی

محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ ایوب اسٹیڈیم میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے بہت بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک وقوم اور خطے کیلئے اہم نکات پیش کئے

افغانستان سے امن وامان کے حوالے سے بات کرنے پر سب سیاسی قائد خاموش ہیں، محمود خان اچکزئی نے اپنی جماعت کے کچھ بڑے بڑوں کی قربانی کارسک بھی لیا اور یہ بھی کہا کہ مقامی سطح سے بین الاقومی سطح تک مثبت بات کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے ۔ اب حنا ربانی کھر نے افغانستان کا دورہ کیا تو طالبان نے کابل ائیر پورٹ پراستقبال کیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ رسول اللہ ۖ اللہ کے آخری پیغمبر اور رحمت للعالمینۖ ہیں۔ میں عالم انسانیت کا سب سے بڑا لیڈر حضرت محمدۖ کو عقیدے کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلئے مانتا ہوں کہ آپ ۖ پڑھے لکھے نہ تھے اور صرف23سال میںپوری دنیا میں سب سے بڑا انقلاب برپا کردیا۔ عورت کی کوئی عزت نہیں تھی ، لونڈیوں کے لشکر لوگ پال کر رکھتے تھے۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیگم کی حیثیت سے عزت دی تو انقلاب برپا ہوا۔ عورت کو تعلیم، فن سپاہ گری، نرسنگ اور ہر شعبے میں صلاحیت منوانے کا حق دیا۔ طالبان کو کہتا ہوں کہ اسلام نے عورت کو حقوق دئیے اور تم حقوق سے محروم کرکے کیا اسلام نافذ کرسکتے ہو؟۔ عورت کے بغیر معاشرے کی ترقی نہیں ہوسکتی ۔…..
محمود خان اچکزئی نے خطے کے امن وامان، پشتونوں کے حقوق، قانون کی بالادستی کے لائحۂ عمل اور آئین کی تابعداری کرتے ہوئے سب کو اپنے دائرہ کار میں رہنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی گول میزکانفرنس کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
مولوی کہتا ہے کہ اسلام۔ مذہبی جماعتیں و تنظیمیں کہتی ہیں کہ اسلام۔ قوم پرست اور قومی سیاست کا کھیل کھیلنے والے کہتے ہیں کہ اسلام۔ ریاست کہتی ہے کہ اسلام۔ آئین کہتا ہے کہ اسلام۔مجاہد اور دہشتگرد کہتا ہے کہ اسلام۔ افسانہ نگار کہتا ہے کہ اسلام۔ ڈرامہ باز کہتا ہے کہ اسلام۔ امام حرم کہتا ہے کہ اسلام۔ سعودی عرب، ترکی ، ایران اور افغانستان کا حکمران کہتا ہے کہ اسلام۔ ٹک ٹاکرز کہتے ہیں کہ اسلام۔ اسلام اسلام اسلام مگرپھرہم کیوں ہیں اس میں ناکام ؟۔
جب اسلام نازل ہوا تھا تو یہود نے عورت کے حقوق یہ رکھے کہ حق مہر برائے نام تھا۔ بات بات پر طلاق کا حق مرد کو حاصل تھا۔ عیسائی مذہب میں شادی کے بعد عورت کو مرد تاحیات طلاق نہیں دے سکتا تھا ۔ افراط وتفریط نے عورت کی حیثیت مسخ کردی تھی۔ حضرت ابراہیم کی طرف منسوب مشرکین نے جہالت کی حد کردی تھی۔ نکاح کے مختلف اقسام اور طلاق کے مختلف اقسام کے علاوہ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے سے لیکر بہت کچھ ہوتا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کہلانے والے ہندؤوں نے عورت کیلئے بیوہ ہونے کے بعد ستی کی رسم جاری کی تھی ، شوہر کی وفات کے بعد اس کی بیگم کو بھی نذرِ آتش کردیا جاتا تھا۔
اہل مغرب اور ترقی یافتہ ممالک نے دورِ جاہلیت اور اپنے مذاہب کی رسوم اور مسائل سے جان چھڑاکر جمہوری بنیادوں پر بیگم اور شوہر کیلئے نکاح وطلاق پر قانون سازی کا سلسلہ جاری رکھا۔ آزاد و ترقی یافتہ، خوشحال وخود مختار اور جدید ترین تہذیب وتمدن کی بنیاد رکھ دی اور مذہب کو کھڈے لائن لگادیا گیا تو ہمارے معاشرے میں بھی اس بنیاد پر ترقی پسند تحریکوں، سیاسی جماعتوں اور ممالک نے آغاز کیا۔ ایران، ترکی ، افغانستان، لبنان، مصر ، دوبئی اورکئی مسلم ممالک کا حلیہ تبدیل ہوگیاتھا۔ اب سعودی عرب بھی اس پر گامزن ہے۔ ایران میں احتجاج شروع ہے۔ طالبان ہی دنیا میں تنہاء رہ گئے ۔جس سے نکلنا چاہتے ہیں۔
پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکی ، مصر ، ایران اور دنیا بھر کے مسلم ممالک کا ایک اجلاس طلب کیا جائے اور ان کے سامنے اسلام سے پہلے خواتین کیلئے غلط مذہبی رسوم ورواج اور اسلامی اصلاحات کا تفصیل سے ذکر کیا جائے۔ اللہ نے ایک ایک مسئلے کا حل پیش کیامگر کم بخت مذہبی طبقہ سننے پر آمادہ نہیں بلکہ کمزوری سے آگاہی پر جانور کی طرح اپنی دُم سے اپنی پچھاڑی چھپارہاہے۔
نمبر1:دنیا میں عورت کے خلاف انتہائی خطرناک مذہبی مسئلہ یہ تھا کہ جب اس کا شوہر کچھ الفاظ کہتا تھا تو ان میں صلح کا دروازہ بند ہوجاتا ۔عورت شوہر سے محروم بے سہارا بن جائے تومعاشرے پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ فتویٰ خدا کے نام پر کھیلاجارہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کی ابتداء میں اس کی مذہبی حساسیت اور اس کی تردید کا زبردست نقشہ کھینچا ہے۔
سورۂ البقرہ میں آیت224میں واضح کیا کہ اللہ کو اپنے عہد وپیمان کیلئے ڈھال مت بناؤ کہ تم نیکی ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں رکاوٹ بنو۔ یہ آیت طلاق کے مسائل کیلئے ایک مقدمہ ہے۔ جس کی زبردست طریقے سے آئندہ کی آنے والی آیات میں225سے232تک وضاحتیں ہیں۔
نمبر2:خطرناک مسئلہ یہ تھا کہ بھول بھلیوں کی طرح طلاقِ صریح وکنایہ کے بہت الفاظ تھے جن کی وجہ سے میاں بیوی کو شیطان وسوسہ ڈالتا تھا کہ رجوع ہوسکتا ہے یانہیں؟۔ مذہبی اتھارٹی سے پوچھا جاتا تھا کہ صلح ہوسکتی ہے یا نہیں؟۔ اللہ نے ان تمام الفاظ کا تدارک کردیا اور آیت225البقرہ میںہے کہ اللہ لغو الفاظ پر نہیںپکڑتا مگر دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ یعنی صلح کرنے اور کرانے کے حوالے سے طلاق میں اہمیت الفاظ کی نہیں بلکہ نیت وعزم اور طرزِ عمل کی ہے۔
نمبر3:ایک بڑا خطرناک مسئلہ یہ تھا کہ جب تک زبانی طلاق نہ دی جاتی عورت زندگی بھر بیٹھی رہتی ۔ اسکا حق اور نہ عدت تھی۔ نکاح کا یہ طوق عورت سے بڑا ظلم تھا۔ قرآن نے عورت کی جان اس ظلم سے چھڑائی ۔ آیت226البقرہ میں ناراضگی کی عدت کو واضح کردیا کہ طلاق کا اظہار نہ کیا جائے تو عورت پر4ماہ عدت کا انتظار ہے۔ باہمی رضامندی کیساتھ عدت میں رجوع ہوسکتا ہے اور4مہینے کی عدت کے بعدعورت دوسرے شوہر سے شادی کرنے میں آزاد ہے۔ بیوہ کی عدت4ماہ دس دن اورطلاق شدہ کی عدت3ماہ ہے۔
آیت نمبر227البقرہ میں اللہ نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اگر شوہر کا طلاق کا عزم تھا تو پھر اللہ سمیع علیم ہے۔ جو عزم کو سنتا اور جانتا ہے ۔ یہ دل کا گناہ ہے اسلئے کہ اگر طلاق کا عزم تھا اور اسکااظہار کردیتا تو عورت4ماہ تک انتظار کرنے کے بجائے3ماہ کی عدت میں فارغ ہوجاتی۔ ایک مہینے اضافی عدت کا انتظار کرانا ہی دل کا گناہ ہے جس پر آیت225البقرہ میں پکڑ کی بات ہے۔
نمبر4:ایک انتہائی غلط مسئلہ یہ تھا کہ شوہر ایک ساتھ تین طلاق دیتا تھا تو حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا تھا۔ دوسرا انتہائی ظالمانہ مسئلہ یہ تھا کہ عورت کو ایک طلاق کے بعد عدت میں بار بار رجوع و طلاق کا سلسلہ شوہر جاری رکھ سکتا تھا۔یہ دونوں مسئلے عورت اور معاشرے کے استحصال کیلئے استعمال ہوتے تھے۔
اللہ نے آیت228البقرہ میں ایک تیرسے دوشکار کردئیے، ایک ساتھ 3 طلاق پر حلالے کی لعنت کا خاتمہ کیا اور صلح کے بغیر بار بار رجوع کا حق ختم کردیا۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاً ”اورانکے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ،اگر اصلاح چاہتے ہوں”۔ حیض وپاکی کے 3مراحل تک عورت کوانتظار کا حکم ہے اورعدت میں اصلاح کی شرط پر باہمی رضامندی اور صلح کرکے شوہر عورت کو لوٹاسکتاہے۔ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالے کا فتویٰ باطل کردیا گیا اور عورت کی اجازت کے بغیر باربار طلاق کی غلط رسم بھی ختم کردی گئی لیکن قرآن پر توجہ نہیں دی گئی۔
نمبر5:آیت نمبر228میں طلاق کی عدت کے تین مراحل ہیں ۔یہ واضح کرنا ضروری تھا کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل ہی سے ہے اور ایک انتہائی غلط مسئلہ یہ تھا کہ طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیزوں سے عورتوں کو محروم کیا جاتا۔ آیت229البقرہ میں واضح ہے کہ ”طلاق دو مرتبہ ہے۔پھر معروف طریقے سے رجوع کرنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ رسول اللہ ۖ نے واضح فرمایا ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق ہی عدت کے تین مراحل سے ہے۔ ( بخاری کتاب التفسیر سورۂ طلاق)۔ نبی ۖ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ”قرآن میں تیسری طلاق آیت229میں تسریح باحسان ہے”۔
جب آیت228میں اصلاح کی شرط پر عدت میں رجوع کی اجازت ہے تو آیت229میں یہ تضاد نہیں ہوسکتا کہ دو مرتبہ غیرمشروط رجوع کی اجازت ہو اور تین مرتبہ کے بعد عدت میں بھی رجوع کی اجازت نہ ہو۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے معروف رجوع کی اجازت دی اور فقہاء نے منکر رجوع کی بنیادیں کھڑی کردیں۔ عورت کے حق صلح کی شرط کوغائب کردیا تو حنفی فقہاء نے لکھ دیا کہ ” نیت نہ ہو اور غلطی سے شہوت کی نظر پڑگئی یا نیند میں ہاتھ لگا تو رجوع ہے”۔ اور شافعی فقہاء نے لکھ دیا کہ ”نیت نہ ہوتو مباشرت سے بھی رجوع نہیں ہوگا”۔ قرآن کے معروف رجوع کے مقابلے میں فقہاء کا منکررجوع واضح ہے۔
آیت229میں یہ واضح ہے کہ جب پہلے دومرحلے میں دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دینے کا فیصلہ کیا تو دی ہوئی چیزوں میں کوئی چیز واپس لینا حلال نہیں ۔ مگر جب دونوں یہ خوف رکھتے ہوں کہ اگر کوئی خاص چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں اللہ کے حدودوں کو توڑنے کا خوف رکھتے ہوں۔ اس کاواضح مطلب تین مرتبہ طلاق کے بعد ایسی چیز کی نشاندہی ہے جو شوہر نے دی ہے اور وہ واپس کرنا حلال نہیں لیکن اگرخوف ہے کہ وہ چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں طلاق شدگان ناجائز جنسی تعلق کا شکار ہوکر اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے اور فیصلہ کرنے والے بھی اسی نتیجے پر پہنچ جائیں کہ اگر وہ دی ہوئی خاص چیز واپس نہ کی گئی تو بڑاکھڑاک ہوگا اور دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو شوہر کی طرف سے دی ہوئی اس چیز کوعورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں حرج نہیں ہے اور بال کی کھال اتارنے والے صحافی، وکیل، سیاستدان، جج، مولوی، تعلیم یافتہ لوگ اور بالکل ان پڑھ عوام قرآن کی اس بھرپور وضاحت کو سمجھ سکتے ہیں۔
یہ قرآن میں معمول کے بالکل واضح جملے ہیں مگر بڑے بڑوں نے الجھادیا ہے اور اس کے نتیجے میں سیدابوالاعلیٰ مودودی اور جایداحمد غامدی جیسے لوگوں نے بھی بہت بڑی ٹھوکر کھائی ہے۔ اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا ہے اور علماء وجدید اسکالروں نے اس سے خلع مراد لیکر عورت کے استحصال کا ذریعہ بنایا ہے۔ پہلے اللہ کے کلام قرآن سے اپنے اکابر کی غلط تفسیر سے توبہ کرکے اپنا معاملہ سلجھاؤ اور پھر دوسروں سے گلے شکوے کرو۔ آیت229کے پہلے حصے میں3مرتبہ طلاق اور دوسرے حصے میں عورت کو مالی تحفظ دینے کی بھرپوروضاحت ہے۔
نمبر6:عورت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ جب شوہر ایسی طلاق دیتا تھا کہ اس کو دوبارہ بسانے کا خیال بھی دل سے نکال دیتا تھا یا عورت خلع اور طلاق کے بعد اپنی مرضی سے کسی سے بھی شادی کرنا چاہتی تھی تو شوہر اس کو اپنی غیرت اور انا کا مسئلہ بنالیتا تھا، اس پر قدغن لگاتا تھا، اپنی مرضی سے کسی اور سے اس کو نکاح نہیں کرنے دیتا تھا۔ آج بھی جانور، چرندوں، پرندوں اور درندوں تک کی اکثریت میں اپنی مادہ سے کسی اور نر کیلئے جنسی تعلق پر غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ انسانوں کی اکثریت میں بھی یہ غیرت کا مادہ پایا جاتاہے۔ لیڈی ڈیانا کے قتل میں بھی اس غیرت کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمہ چلا ہے۔ انسان کی اس کمزوری کا14سوسال پہلے قرآن میں اللہ نے جو علاج کیا ہے ،اگر آیت کا حکم سمجھ میں آگیا تو پورے عالم کے انسانوں کیلئے اس کی حکمت وہدایت کافی ہے۔
اللہ نے آیت230البقرہ میں فرمایا ہے کہ ” پھر اگر اس نے طلاق دے دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ پھر اگر دوسرے شوہر نے طلاق دی تو دونوں پر حرج نہیں کہ اگر وہ رجوع کرلیں بشرط یہ کہ وہ یہ گمان رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم رہ سکیںگے”۔
آیت230البقرہ میں جس طلاق کا ذکر ہے اس کا تعلق حنفی مسلک کے مطابق آیت229کے دوسرے حصے فدیہ دینے کی صورتحال سے متعلق ہے۔ جس پرعلامہ تمنا عمادی نے اپنی مشہور کتاب ” الطلاق مرتان” میں لکھ دیا ہے کہ ”خلع سے آیت230کی طلاق کا تعلق ہے، جس میں جرم بھی عورت کرتی ہے اور اس کی سزا بھی حلالہ کی صورت میں عورت کو ملتی ہے”۔ لیکن یہ سزا نہیں ہے ۔ ایک غلط رسم کا خاتمہ ہے۔ عورت جب کسی بھی طلاق کے صلح اور معروف طریقے سے رجوع پرراضی نہ ہو تو پھر شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت اپنی مرضی سے جس سے بھی نکاح کرنا چاہے تو وہ بالکل آزاد ہے۔ شوہر نے ایک طلاق دی ہو تب بھی، دومرتبہ طلاق دی ہو تب بھی اور تین مرتبہ طلاق دی ہو تب بھی۔ عورت نے خلع لیا ہو تب بھی اور شوہر نے طلاق دینے کی جگہ صرف ناراضگی سے چھوڑا ہو تب بھی۔یہ عورت کی مرضی کیلئے بہت بڑی بنیاد اور اس کی غلط مردانہ غیرت سے جان چھڑانے کا زبردست ذریعہ ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیات231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش بالکل واضح الفاظ میں کی گئی ہے تو مذہبی طبقہ کیسے صلح میں رکاوٹ بن سکتا تھا؟۔ کچھ لوگ باہمی اعتماد کی وجہ سے نادانی میں بہہ گئے اور کچھ دیدہ دانستہ بااثر طبقے اور نفسانی خواہشات کا شکار ہوگئے۔ عوام تو عوام ، بڑے بڑے معروف مدارس کے علماء ومفتیان، مدرسین اور اصحابِ علم وکردار بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح پہلے اکابر علماء کی طرف سے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کے خلاف متفقہ فتویٰ دیا گیا ۔ پھر وہ مرگئے یا مار دئیے گئے تو علماء حضرات بے شرموں کی طرح سیمینار میں شریک ہو گئے؟۔
سورۂ بقرہ کی ان آیات میں عدت کے اندر اوطر عدت کی تکمیل کے فوراًبعد اور کافی عرصہ بعد رجوع کا دروازہ بالکل کھلا رکھا گیا ہے ۔ علماء ومفتیان نے لکھا ہے کہ ” اگر عورت نے آدھے سے زیادہ بچہ جن لیا تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر آدھے سے کم بچہ نکلا ہوا ہے تو رجوع ہوسکتا ہے”۔ کوئی پوچھ لے کہ اگر تیری ماں کو تیرے حمل کے دوران طلاق ہوتی اور جب نصف جننے کے بعد رجوع ہوتا تو کیا رجوع درست ہوتا یا غلط؟۔ تو علماء اپنا کیا جواب دیتے؟۔ قرآنی تعلیمات کو مسخ کرنے اور پھر اس پر ڈٹ جانے والوں کے دن بہت قریب لگتے ہیں۔
سورۂ طلاق میں بھی عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل کے فوراًبعد اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش ہے۔ جب حضرت رکانہ کے والد نے ام رکانہ کو سورۂ بقرہ اور سورہ ٔ طلاق کے مطابق مرحلہ وارتین طلاقیں دیں۔پھر کسی اور خاتون سے شادی کرلی۔ اس نے اسکے نامرد ہونے کی شکایت کردی تو نبیۖ نے اس دوسری خاتون کو طلاق دینے کا فرمایا اور ابورکانہ سے فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟۔ انہوں نے عرض کیا وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور پھر سورۂ طلاق کی ابتدائی تلاوت فرمائیں۔ (ابوداؤد شریف)
سورۂ طلاق میں مرحلہ وار تین طلاق اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع یا پھر معروف طریقے سے چھوڑنے کا حکم ہے اور دوعادل گواہ بھی مقرر کرنے کا حکم ہے۔ پھر یہ بھی واضح ہے کہ جو اللہ سے ڈرا اس کیلئے آئندہ بھی اللہ راستہ کھول دے گا۔ سورۂ طلاق کی پہلی دوآیات میں سورۂ بقرہ کی آیات کا خلاصہ ہے۔ اتنی تفصیل کے باوجود بھی علماء ومفتیان قرآن کی طرف رجوع کرنا اپنے فقہی مسالک اور فرقہ واریت کی موت سمجھتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا خاندان لکھا پڑھا گھرانہ ہے۔ پشتونستان کا نعرہ بلند کرنے کیساتھ ساتھ پشتون مذہبی قیادت کے ذریعے سے پشتون قوم کو حلالہ کی لعنت سے بچانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی حافظ قرآن ہیں۔PDMکی قیادت ، جماعت اسلامی اور عمران خان کے علماء کو بھی دعوت دیں۔ محمود خان اچکزئی کو میں اپنے بڑے بھائی کا کلاس فیلو ہونے کی وجہ سے اپنے سگے بھائی کا درجہ دیتا ہوں۔ سیاسی پارٹیوں کے اختلافات اپنی جگہ لیکن اسلام کی بنیاد پر جو معاشرتی مسائل حل ہوسکتے ہیں اس کیلئے پہل کرنے سے ایک اچھی فضاء قائم ہوجائے گی۔ اگر اتفاق رائے کے بعد مدارس، سکول، کالج ، یونیورسٹی اور مذہبی جماعتوں میں خواتین کے حقوق واضح کئے گئے تو ہمارا مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔ آرمی چیف ان مسائل پر علماء ومفتیان کے ذریعے قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔محمود خان اچکزئی کے بھائی حامد خان اچکزئی نے ایک تقریب خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انگریز کے دور میں جو غلامی بلوچستان پر مسلط تھی اور عبد الصمد خان اچکزئی نے جس طرح کی آزادی کیلئے محنت کی تھی اس کی ایک تاریخ ہے۔ جب انہوں نے سندھ ،پنجاب وغیرہ کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ لوگ آزادانہ تقاریر کرتے ہیں اپنے حقوق کا مطالبہ بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں آزادی کی یہ سہولت میسر نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے سب سے پہلے مسجد میں قرآن کا ترجمہ شروع کردیا۔ انگریز افسرنے کہا کہ مجھے اوپر سے آرڈر ہے کہ اس قسم کی سرگرمیوں سے آپ کو روکوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا مذہب ہے اور اپنے مذہب سے روکنا تمہارا کام نہیں ہے۔ انگریز نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے میں بھی آپ کی جگہ ہوتا تو یہی سوچتا لیکن مجھے روکنے کا ہی حکم ہے۔ مساجد میں قرآن کا ترجمہ کرنا مولوی اور مذہبی طبقے کا کام ہے۔ مذہبی طبقہ بھی انہی کے حکم سے چلتا تھا۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو ہم نے ووٹ کا حق مانگا اور اس پر ہمیں کافر قرار دیا گیا۔ آج مسلم لیگ اور جمعیت علماء ہم پر غداری و کفر کے فتوے نہیں لگاتے اور ہماری راہ پر آئے ہیں تو ہم نے ٹھیک اتحاد کیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟