صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟

صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟ اخبار: نوشتہ دیوار

صیہونیت نے سودی نظام کے ذریعے پوری دنیا پر قبضہ کرلیاجسکا علاج صرف اسلام ہے؟

رسول اللہ ۖ نے آخری خطبے میں سب سے پہلے اپنے چچاکا سود قتل معاف کرنے کا اعلان کیا تو پوری دنیا میں ایک عظیم انقلاب آگیا جسکے اثرات1924خلافت عثمانیہ تک موجود تھے

امریکہ سودی نظام کی وجہ سے بالکل کھوکھلا ہے ، یورپ اور آسٹریلیا سمیت پوری دنیا سودی نظام کی وجہ سے تباہی کے کنارے پر کھڑی ہوگئی ہے ۔حالانکہ سارے مذاہب نے سود کو حرام قراردیا ہے

صرف پاکستان سودی نظام کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر کھڑا نہیں ہے بلکہ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس، جرمنی ، آسٹریلیا ، بھارت اورپوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان اور سسٹم ناکام ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوان کی کتابیں ”تربیت اولاد” وغیرہ عربی اور ان کا اردو ترجمہ مارکیٹ میں دستیاب ہے لیکن ان کی ایک کتاب ”مسلمان نوجوان” عربی اور اس کا اردو ترجمہ کافی عرصہ ہواہے کہ مارکیٹ سے غائب کردیا گیا ہے۔ جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے پرنسپل ڈاکٹر حبیب اللہ مختار اس کتاب کا ترجمہ کرنے کی وجہ سے شہید کردئیے گئے تھے اور اس میں عالمی معاشی ماہرین کی رائے لکھی گئی تھی کہ معیشت کیلئے سودی نظام ایک ناکام نظام ہے۔ دوسری طرف مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن کے ذریعے سودی نظام کو جواز بخش دیا گیا اوردونوں کے مکروہ چہروں کو دیوبندی اور بریلوی وفاق المدارس پاکستان اور تنظیم المدارس پاکستان کا صدر بنایا گیا ہے۔ حالانکہ دونوںہی سب سے بڑے جرم کے مرتکب ہیں۔عالمی شیطانی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دے دیاہے۔
دنیا کے تمام مذاہب یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ مت اور پارسی سبھی کے ہاں سود حرام ہے ۔ اسلام اور مسلمانوں کی آواز پر دنیا کے تمام مذاہب سود کے خاتمے کیلئے زبردست کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ مزارعت کے ذریعے مزارعین کے خاندانوں کو غلامی میں جکڑا جارہا تھا اور سودی نظام کے ذریعے سے دنیا کے ملکوں اور قوموں کو غلامی میں جکڑا جارہاہے۔ امریکہ اور دنیا میں شرح سود پاکستان کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ہمارے تیل، گیس ، سونے و دیگر معدنیات کے خزانوں پر قبضہ مارنے کا خواب دیکھنے والے ہماری عوام اور حکمرانوں کو آخری حدتک پہنچانے کے درپے ہیں۔ قانون، اخلاقیات، مذہب، اقدار، روایات اور انسانیت کو ہمارے ہاں سے ملک بدر کیا جارہاہے لیکن ان کی تمام چالوں کو اللہ کی مدد سے ہم ناکام بناسکتے ہیں۔
ہمارے پاس وافر مقدار میں پانی کے بہاؤ کا نظام ہے۔ جس سے ہم سستی بجلی، کھیتی باڑی، باغات اور جنگلات اُگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہماری زمینیں معدنی ذخائر سے بہت مالامال ہیں۔ ہمارے پاس صحراؤں اور پہاڑوں کا بڑا سلسلہ ہے۔ ہمارے پاس محنت کش عوام ہیں اور ہمارے پاس دنیا کی بہترین صلاحیتوں والے دماغ ہیں۔ ہمارے پاس ایک اچھی خاصی افرادی صلاحیت ہے۔ کچے کے ڈاکو اور طالبان سے ہی بڑا کام لیا جاسکتا ہے۔ جب لوگ معاشی اعتبار سے مجبور ہوتے ہیں تو ہر غیراخلاقی کام پر کم معاوضے اور جان پر کھیل کر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ جب ملک وقوم پر سودی قرضوں کا بوجھ زیادہ سے زیادہ ہوگا تو ملک کے ادارے بھی کرپٹ بننے پر ہی مجبور ہوںگے۔ بے روزگار افراد بھی ڈکیتی کا راستہ اختیار کریںگے اور اچھے سے اچھے لوگ بھی برے سے برا بننے پر مجبور ہونگے۔
اگر بے کار لوگوں کو اچھا معاوضہ ملنے لگے تو وہ سب کارآمد بن جائیں گے۔ جب انسانوں کے دماغ اور ہاتھ پیر استعمال ہونا شروع ہوجائیں گے تو ملک وقوم میں دولت کی بہتات بھی ہوجائے گی۔ لوگوں کو دولتمند بنانے کیلئے چند کام کرنے ہیں۔
1:ایرانی تیل کی سمگلنگ کو رشوت کے بغیر قانونی جواز دینا ہوگا۔ پیٹرول سستا ہوگا تو بجلی کی پیداوار اور آمدورفت میں عوام وخواص کو فوری ریلیف ملنا شروع ہوجائے گا۔ مل، فیکٹری اور دیگر معاملات سستے چلنا شروع ہوں گے تو بیرون ملک کی مارکیٹوں میں ہمارا مال بکنا شروع ہوجائے گا اور ڈالروں سے ملک مالامال ہونا شروع ہوجائے گا۔ ایک بہت بڑے طبقے کو روزگار ملے گا۔ چین اور ہندوستان کو بھی سستا پیٹرول ہم دیں گے تو ان سے دوستی بھی مضبوط ہوجائے گی۔ جب لوگوں کے پاس کمائی ہوگی تو ریاست کو چلانے کیلئے عوام خود ٹیکس دے گی اور بیرون ملک کشکول لیکر نہیں گھومنا پڑے گا۔سودی قرضوں سے جان چھوٹ جائے گی اور ملک پر بوجھ کم ہوجائے گا۔
2:ملک میں زمینوں کو مزارعت پر نہیں بالکل فری دینا شروع کریں گے تو ایک بہت بڑا محنت کش طبقہ خط غربت سے اوپر آجائے گا۔ بہت بڑے پیمانے پر وہ سبزی ، اناج اور گنے وغیرہ اُگانا شروع کردیں گے۔ باغات اور جنگلات اگانے کی طرف بہت لوگ مائل ہوجائیں گے اور پاکستان جنت نظیر بن جائے گا۔ کچے کے ڈاکو اور طالبان ایک اچھے شہری کی زندگی گزاریں گے اور بدمعاشوں سے شریف لوگوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔ جنگلات اور باغات اگائیں گے اور دنیا بھر میں مزے سے سیر سپاٹے بھی کرسکیں گے۔ ان کے بچوں کو تعلیم وتربیت کی زندگیاں نصیب ہوں گی۔ کسی طاقتور طبقے کے پھر کبھی ٹاؤٹ کا کردار بھی ادا نہیں کریں گے۔ اسلام و انسانیت سے محبت کریں گے اور غلطیوں کی لوگوں سے معافی مانگیں گے اور ملک میں بیرون ملک سیاح بھی آسکیں گے۔
3:بہاولپور میں ایک بہت بڑا ہوائی اڈہ قائم کریں گے جو سستے پیٹرول کیلئے ایک مثالی مرکز ہوگا۔ دوبئی اور بھارت سے زیادہ بڑا کاروبار ہمارے ہاں چلے گا۔ دنیا کا بہترین بحری بندر گاہ گوادر اور بہترین ہوائی اڈہ بہاولپور کا ہے۔ صرف اس کو چالو کرنے کی ضرورت ہے۔ درآمدات وبرآمدات کیلئے پاکستان سے بہتر دنیا میں کوئی ملک نہیں ہے۔ بحری اور ہوائی راستوں کا معاملہ بھی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور بری راستے کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ ہندوستان ، برما ، بنگلہ دیش ، بھوٹان، تھائی لینڈ ، نیپال وغیرہ کو ٹرین اور سڑک کے ذریعے عرب اور یورپ کو ملایا جاسکتا ہے۔ دوبئی نے سمندری سرنگ کے ذریعے بھارت کیساتھ ملنے کا پروگرام بنایا ہے لیکن جب پاکستان کے ذریعے بائی روڈ و ٹرین راہداری قائم ہوگی تو ایک بہت بڑا کاروبار ہمیں ملے گا اور پاکستانیوں کوپوری دنیا عزت کی نظر سے دیکھے گی۔ صرف راہداری کے ٹیکس سے بھی ریاست اورحکومت کے تمام اداروں کو چلانے میں مشکل نہیں ہوگی۔
4:ہندوستان ، افغانستان اور ایران کے اشیاء کی خرید اور فروخت کا کاروبار شروع ہوجائے تو پاکستان کے اندر اور باہر ہمارے لوگ بہت بڑے پیمانے پر تجارت کرسکتے ہیں۔ مہنگائی اس وقت مسئلہ ہوتا ہے جب لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے لیکن جب پیسہ آتا ہے تو 5ہزار روپے کلو دودھ بھی لوگ خوشی سے لیں گے۔ بھینسوں کا پیشاب اور گوبر صاف کرنے، چارہ کھلانے اور نہلانے دھلانے اور دودھ نکالنے والوں کو بہت اچھا معاوضہ ملنا چاہیے۔ لوگوں کے پاس پیسہ ہوگا تو مہنگائی کے رونے والے نہیں ملیں گے ۔ روزگار کے مواقع ہوں گے تو پھر بدمعاشی ، چوری چکاری اور ڈکیٹی کی جگہ شرافت والی زندگی ہی گزاریں گے۔ پھر لوگوں کو سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کی فرصت بھی نہیں ہوگی ۔ ان کے اخلاق اور کردار بھی شرافت سے مالامال ہوجائیں گے۔
5:سولر بنانے کے کارخانے پاکستان میں آجائیں گے۔ اور دنیا بھر کو یہاں سے آسانی کیساتھ سپلائی ہوسکے گی۔ ساتھ دریاؤں پر ڈویژن ، ضلع اور تحصیل کی سطح پر بجلی بنانے کے ایسے ٹربائن لگائیں گے جس میں بڑے پیمانے پر سستی بجلی کی سپلائی ممکن ہوسکے۔ دور دراز سے کھمبوں اور تاروں کی ضرورت بھی نہ پڑے اور واپڈا کے محکموں کے ملازمین کو مقامی سطح پر تنخواہیں بھی دی جائیں۔ جس سے درآمدات کا سلسلہ کم اور برآمدات کا سلسلہ خود بخود بہت بڑھ جائے گا۔ یہ صرف مثال پیش کررہا ہوں ، باقی مشاروت سے ماہرین بہت زبردست تجاویز پیش کرسکتے ہیں اور نت نئے معاملات بھی سامنے آجائیں گے اور ڈیموں میں بڑے پیمانے پر مچھلیوں کا کاروبار بھی ہوسکتا ہے۔ دریاؤں کو مغلظات پھینکنے سے بھی صاف کرنے کا بندوست کرنا ہوگا۔ دور دراز کے علاقوں کو نہروں سے بھی مالامال کرنا ہوگا۔
پانی کو صاف کرنے کیلئے ریت کے ٹیلوں سے گزارنے کا طریقہ کار بھی بنانا ہوگا۔ قدرتی بارشوں اور ماحولیات کیلئے بھی بڑے پیمانے پر کام کی ضرورت ہوگی اور اس میں کافی لوگ بھی روزگار حاصل کریںگے۔
6:قرآن وسنت کے معاشرتی ، معاشی اور سائنسی آیات کیلئے بہترین تعلیمی ادارے بنانے پڑیں گے۔حضرت مولانا انور بدخشانی فرماتے تھے کہ ”مدارس میں فقہ نہیں فقہ کی تاریخ پڑھائی جارہی ہے”۔تسخیرکائنات کیلئے قرآنی آیات میں بڑا زور دیا گیا ہے، ہمارے تعلیمی اداروںمیں تسخیر استنجاء اور فرائض و آداب گھڑنے اور اختلافات پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
پسماندہ علاقوں میں بچوں کی وہ پود ہوتی ہے جن میں کافی صلاحتیں ہوتی ہیں لیکن ہمارے ہاں وہ قیمتی ہیرے مزارعت کی دنیا میں دفن ہوجاتے ہیں۔ڈکیت ، بدمعاش اور طالبان بن جاتے ہیں۔ جب اچھے سے اچھے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آئے گا اور قرآن وسنت کی درست تعلیمات سے یہ دنیا آگاہ ہوگی تو پھر پاکستان امامت کرے گا اور اسلامی ممالک اور باقی دنیا اس کے اقتداء میں کام کرنا شروع کریں گے۔
آج بھی پاکستان کی عوام اور خواص میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کچے کے ڈاکوؤں اور طالبان دہشت گردوں کی کتنی اچھی منجمنٹ ہے؟۔ لڑائی اور بدکرداری کی بدولت بہت کچھ ضائع ہوگیا ہے اور آئندہ بھی ضائع ہوتا رہے گا اسلئے آج ہمیں اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی۔ تیار مدارس اور سکول وکالج کا نظام بھی درست کرلیں تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ انشاء اللہ
7:کچے کے ڈاکو اور طالبان سے زیادہ بدتر ہمارے اپنے وہ مستحکم ادارے ہیں جہاں سے مدارس کے نام پر تعلیم دی جاتی ہے، جہاں عدالتوں میں انصاف کا ستیاناس ہوتا ہے۔ جہاں پولیس کے تھانوں میں انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے ۔ جہاں پر تعلیمی اداروں میں باصلاحیت افراد کو ضائع کیا جارہاہے ۔ اور جہاں فوج اور اس کے اداروں کے حالات دگرگوں ہیں۔ کوئی بھی ایسی قابل سیاسی جماعت نہیں ہے جس کے ذریعے کوئی کردار سازی کی جائے۔ ہر پرائیوٹ اور سرکاری ادارے میں چلتی کا نام گاڑی ہے مگر اب گاڑیوں کی مدت بھی ختم ہوگئی ہے اور اگر بروقت اچھے اقدامات نہیں اٹھائے تو بہت بگاڑ آسکتا ہے۔ صرف اگر اسلامی نظریاتی کونسل درست کردار ادا کرے تو بھی ایک انقلابی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے لیکن ہرکسی کو اپنی نوکری کی فکر ہے۔ اگر مجھے اس ادارے میں خدمت کا موقع دیاگیا تو قوم کے رحجات بدلتے ہوئے دکھائی دیں گے،مجھے کوئی عہدہ بھی نہیں چاہیے لیکن میری مفت خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔

اسلامی انسانی انقلاب
اسلامی خلافت کا قیام عمل میںآئے تو دنیا سے سودی نظام کا خاتمہ کریگا جس کی تائید تمام مذاہب کے مخلص طبقات بہت ایمانی غیرت کیساتھ کریں گے۔ امریکہ بھی سودی نظام میں بڑا ڈوبا ہواہے وہ تائید کرے گا۔ یورپی ممالک اور بھارت کا بھی قرضوں سے برا حال ہے وہ بھی تائید کریں گے۔ روس اس کی سب سے پہلے تائید کرے گا اسلئے کہ کمیونزم اور سوشلزم مذہب کے خلاف ہیں لیکن سودی نظام کے خاتمے کو خوش آئند قرار دینا اس کا نظریاتی مسئلہ ہے ۔ چین کی بھی اصل بنیاد وہی ہے۔
یہود کا مذہبی طبقہ بھی شیطان اور صہیونی سودی نظام سے دنیا کی جان چھڑانے کیلئے پیش پیش ہوگا۔ اسرائیل بھی فلسطین پر مظالم بند کردے گا۔ مسلمانوں کو دنیا میں دشمن نہیں سب سے اچھا دوست اور انسان تصور کیا جانے لگے گا۔ مزارعت پوری دنیا میں فری ہوگی۔ سودی نظام نابود ہوجائے گا۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کوتکلیف ضرور ہوگی کہ اچھا خاصا سودی بینک کا معاوضہ مل رہاتھا اور اب محنت مزدوری کرکے بچوں کی پرورش کرنی پڑے گی۔ پاکستان میں حشر کی عدالت لگے گی اور دنیا میں حساب کتاب ہوگا۔ علماء ، جرنیل، جج ، بیوروکریٹ، صحافی اور سیاستدان کے علاوہ تمام طبقات سے ناجائز دولت کا پوچھا جائے گا۔ اچھے لوگوں کیساتھ آسان حساب ہوگا لیکن بڑے بڑے ہاتھ مارنے پر مسلسل اصرار کرنے والوں کا محاسبہ ہوگا۔ عدالتوں میں مہنگے وکیل ان کی سہولت کاری نہیں کرسکیں گے ۔
قرآن میں اس بڑے انقلاب کا جا بجا تفصیل اور اجمال کیساتھ ذکر موجود ہے۔ جب دنیا میں معاشرتی، تعلیمی ، عدالتی اور حکمرانی کا طرزعمل درست ہوگا اور اقتصادی نظام کی درستگی کیلئے سود اور مزارعت کا نظام ختم ہوگا۔ سمگلنگ اور رشوت کے نظام کا خاتمہ ہوجائے گا تو تمام دنیا کے لوگ اس مثالی خوشی میں شریک ہوں گے اور پاکستان سے اپنے اپنے ممالک کیلئے ایسی منجمنٹ مانگیں گے جو ان کے ہاں بھی نظام کو درست کریں۔
عالمی اسلامی خلافت کے قیام میں دنیا بھر کے لوگ ہمارا ساتھ دیں گے۔ روس کا نظام بھی ناکام ہواہے اور امریکہ نے بھی مظالم کے پہاڑ توڑنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے ۔ اسلام کا انسانی انقلاب نہ صرف مسلمانوں کیلئے بلکہ تمام انسانیت کیلئے ہی ہوگا اور باقی مخلوقات جانور وںاور پرندوں کو بھی تحفظ دے گا۔ اجارہ داری نہیں ہوگی بلکہ ہرشعبہ میں بلاتفریق اہلیت کو ترجیح دی جائے گی۔ عدل اور اہلیت اس کی اصل بنیاد ہوگی ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار
لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا
جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری