پوسٹ تلاش کریں

سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد

سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد اخبار: نوشتہ دیوار

سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد

مفتی فضل ہمدرد نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ مجھے اس سوال کا جواب آج تک کسی سنی عالم نے نہیں دیا

مفتی فضل ہمدرد کی یہ خواہش بفضل تعالیٰ ہم پوری کردیتے ہیں لیکن وہ پھر اس کا تذکرہ ضرور بالضرور کریں

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت جب تک ان کو مضبوطی سے تھامو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے”۔ ہم نے اپنی کتابوں اور اخبار میں اتنی مرتبہ اس حدیث کا ذکر کیا ہے کہ شاید اہل تشیع نے بھی اس کو اتنا ہائی لائٹ نہیں کیا ہوگا لیکن اہل تشیع کی طرف سے بھی اس کا کوئی جواب نہیں ملتا ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں مَیں ہوں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ ، لیکن درمیانے زمانے میں ایک کج رو جماعت ہوگی وہ میرے طریقے پر نہیں اور میں اس کے طریقے پر نہیں۔ اس حدیث کو شیعہ سنی دونوں نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اہل تشیع نے اس سے مہدی عباسی بھی مراد لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب رسول اللہ ۖ درمیانہ زمانے تک خود نبی ۖ اُمت کو ہلاکت سے بچانے کا ذریعہ ہیں اور درمیانہ زمانے سے آخر تک درمیانے زمانے کا مہدی ہے تو پھر اگر اس سے مہدی غائب بھی مراد لیا جائے تو اُمت کا کیا قصور ہے؟۔ اہل تشیع کے ہاں اس کا بہت ذکر ہوتا ہے لیکن ان کو کونسی ہدایت ملی ہے؟۔ جب انصار ، مہاجرین، بنو اُمیہ، بنو عباس اور اہل بیت اپنے اپنے دور میں سب سے زیادہ خلافت کی اہلیت اور اس پر براجمان ہونے کی توقع کررہے تھے تو خاندانی اعتبار سے اہل بیت واقعی زیادہ مستحق تھے۔ لیکن وہ اس دوڑ میں ہی شریک نہ تھے۔ البتہ بعض لوگوں کی طرف سے ان کو اس استحقاق کی لڑائی میں گزند پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ اسلئے رسول اللہ ۖ نے اہل بیت پر ظلم و ستم کرنے سے اُمت کو ڈرایا تھا۔ جب ابوبکر کا انتخاب ہوا تو ابوسفیان نے علی کو پیشکش کی کہ اگر آپ کہیں تو مدینہ کو پیادوں اور سواروں سے بھردوں؟۔ حضرت علی نے اس پیشکش کو ٹھکرادیا تھا۔ حضرت علی نے اس وقت مسند خلافت کو قبول کیا جب شوریٰ نے ان کا پہلے تین خلفاء کی طرح انتخاب کیا۔ پھر حسن وحسین نے معاویہ کے حق میں دستبرداری اختیار کی۔ اگر یزید کا لشکر حضرت حسین کو61ہجری میں کربلا سے واپس مدینہ کی طرف جانے دیتا یا یزید کے پاس جانے دیتا یا پھر سرحد کی جانب جانے دیتا تو سانحہ کربلا پیش نہ آتا۔ مدینہ سے کوفہ پہلے آتا ہے اور پھر شام کے راستے میں کربلا بعد میں آتا ہے جو کوفہ سے دمشق کی جانب کافی فاصلے پر ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل بیت کا یہ قافلہ کوفہ سے بہت آگے شام کی طرف کربلا کیسے پہنچا؟۔ کربلا کی زمین کو کوئی اِدھر سے اُدھر تو نہیں کرسکتا اور مفتی فضل ہمدرد نے وہاں ماشاء اللہ زائرین کے ساتھ سفر بھی کیا ہے۔
نہج البلاغہ میں حضرت عمر کے وصال پر حضرت علی نے جس طرح کی بڑی زبردست تعریف کی ہے اس میں تو کسی سنی کی مداخلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یزید کے پاس پہنچنے کے بعد امام زین العابدین نے جمعہ کا فصیح و بلیغ خطبہ بھی دیا تھا۔ شیعہ جن کو ائمہ اہل بیت مانتے ہیں انہوں نے کبھی اُمت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ مفتی فضل ہمدرد کس چکر میں پڑ گئے ہیں۔ کیا علامہ سید جواد حسین نقوی نے اتحاد اُمت کیلئے جس طرح کی کوششیں شروع کی ہیں اس سے کسی سنی عالم کو شیعوں کی طرف سے چندے وغیرہ نہیں مل سکتے ؟۔ مولویوں کا تو کام یہ ہے کہ جہاں سے اچھا بھاڑہ ملے اس کیلئے بولتے ہیں۔
نبی کریم ۖ نے اپنے اہل بیت کو کشتی نوح کی مانند قرار دیا ہے۔ جب اُمت کی ہلاکت کا درمیانہ زمانہ آئے گا تو اہل بیت نے نمودار ہوکر کشتی نوح کا کردار ادا کرنا ہے۔ پہلے سیدھے سادے لوگوں کا دور تھا اسلئے اہل بیت نے یہ کردار ادا کیا کہ اچھی طرح سے سمجھادیا کہ حلالہ نہیں کرنا۔ چونکہ حلالہ ایک ساتھ تین طلاق کی وجہ سے ہوتا تھا تو اپنے متبعین پر لازم کردیا کہ الگ الگ مراحل میں ہی طلاق دینا ہے تاکہ وہ حلالہ کی لعنت والوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائیں۔
اب پڑھی لکھی عوام بہت ہے اور شیعہ سنی دونوں نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے اور اگر کوئی اہل بیت اٹھے اور قرآن کی طرف دعوت دے تو بہت جلد سارے فقہی اور مسلکی اختلافات کا قلع قمع ہوسکتا ہے۔ اُمت مسلمہ کو حلالہ سے بچانے کیلئے قرآن میں بہت ساری آیات نازل کی گئی ہیںمگر سنی علماء نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی ہیں۔ ایک انسان کو مارنا تمام انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ ایک انسان کی جان بچانا تمام انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔ مفتی فضل ہمدرد صاحب اچھے خاصے سمجھدار ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ۖ کا یہ شکوہ لکھا ہے کہ ”اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھاتھا”(سورة الفرقان)۔ رسول اللہ ۖ کا یہ گلہ قرآن میں نہیں ہے کہ میرے اہل بیت کو میری اُمت نے چھوڑا تھا۔ حضرت ابن عباس نے کہا کہ ”جب رسول اللہ ۖ نے سورہ نجم پڑھی تو شیطان نے آپ ۖ کی زبان سے لات منات اور عزیٰ کے بارے میں بھی کچھ کلمات کہلوائے”۔ اس حدیث کی بنیاد پر اہل سنت کی معتبر تفاسیر میں ہے : وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنٰی القی الشیطٰن فی اُمنیتہ… ”اور ہم نے آپ سے پہلے کسی رسول کو نہیں بھیجا اور نہ کسی نبی کو مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں اپنی بات ڈال دی”۔ (سورة الحج: آیت52)۔
سورہ نجم بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں شیطان مداخلت نہیں کرسکتا۔ ہوا یہ تھا کہ جب پہلی مرتبہ سورہ نجم میں آیت سجدہ نازل ہوئی اور اچانک نبی ۖ کو مشرکین نے سجدہ کرتے دیکھا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ اور پھر اپنی خفت مٹانے کیلئے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا کہ نبی ۖ نے شیطانی آیات پڑھی تھیں۔ حضرت ابن عباس کے والد بہت بعد میں مسلمان ہوئے تھے۔ جب ان کو بدر میں قید کیا گیا تھا تو رئیس المنافقین عبد اللہ ابن اُبی کا لباس پہنایا گیا تھا ۔ جس طرح معاویہ کیلئے نبی ۖ نے دعا کی کہ اللہ اس کو ہادی اور مہدی بنا۔ اسی طرح حضرت ابن عباس کیلئے بھی تفسیر کی دعا کی تھی لیکن نبی ۖ کی ہر دعا قبول ہوتی تو ابوجہل بھی اسلام قبول کرلیتا۔ روایات کو قرآن پر ترجیح دینا غلط ہے۔

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ2پر اس کے ساتھ متصل مضامین”حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر”
”ہمارا قبلہ اوّل بیت المقدس نہیںخانہ کعبہ ہے”
اور ”حق مہر ”اعزازیہ” نہیں بلکہ گارنٹی و انشورنس ہے” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟