پوسٹ تلاش کریں

The broadcasting institutions BBC &VOA, are part and parcel of war against terror policies: Akhtar khan.

The broadcasting institutions BBC &VOA, are part and parcel of war against terror policies: Akhtar khan. اخبار: نوشتہ دیوار

(کی ورڈ:بی بی سی، وائس آف امریکہ،مولانا سلیم اللہ خان، Zandan Maseed)


مریکہ اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور وائس آف امریکہ، جنگی پالیسی کا حصہ ہیں: اختر خان

گزشتہ دس گیارہ سالوں سے( BBCاورVOA)ڈیوہ مشعل کو بہت قریب سے دیکھ اور سن رہے ہیں انکا کاروبار،رپورٹنگ جنگ سے جڑی ہوئی ہے۔ جنگ جاری رہے گی انکا کاروبار چلتا رہے گااور جنگ بندتو انکا حساب بند ۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگ امریکہ اوربرطانیہ کا دہائیوںسے سب سے بڑا کاروبار رہا ہے اسلحہ بیچنے میں آج بھی امریکہ پہلے نمبرپر37% ہے۔ انکو یہ اسلحہ بیچنے کیلئے دوسرے ممالک میں جنگیںبرپا کرنی پڑتی ہیں۔ جنگوں کیلئے ماحول سازگار بنانے عوامی ذہن سازی کیلئے انہوں نے اپنے مخصوص پروپیگنڈہ ریڈیوز رکھے ہیں۔ جو ان ممالک کے اندرونی بدترحالات پر بات نہیں کر سکتے لیکن پاکستان اور افغانستان کیلئے دن رات ایک کیے ہوتے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں زہر گھولنا انکا صبح سے شام تک وطیرہ رہتا ہے۔
اپنے ان دوستوں جو ان ریڈیو سٹیشن کیساتھ منسلک ہیں معذرت کیساتھ کہ ہمارا اختلاف آپکے ساتھ نہیں، بلکہ آپکے ادارے کے ملک اور انکی جنگی پالیسی کو آپکے ادارے کے اور آپکے زریعے جس طرح پھیلایا جاتا ہے ھمارا اختلاف اس سے ہے۔ ہر اس رپورٹ کی قیمت دونوں اداروں کے رپورٹرز کو زیادہ ملتی ہے جس میں زہریلا پن زیادہ ہو، جس میں جنگ و جدل یا نفرتوں کا پرچار زیادہ ہو۔ جس سے ملکوں میں انارکی پھیلے وہ رپورٹ سب سے قیمتی ہوتی ہے۔
خطے (افغانستان+پاکستان)کیلئے دونوں ممالک کی مستقبل کی پالیسی انکے چینلز کی منافقت سے خود اخذ کریں۔ یہ ایک طرف پشتون قوم پرستوں کی تحریکوں کو بڑھاوہ دیکر جنگی(Conflict)والی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف افغانستان و پاکستان میں طالبان کے حملوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ عوام میں ایک جنگی صورت حال اور افراتفری والی سوچ قائم ہو۔اور جنگ کا ماحول ہر حال میں بنا رہے۔
لہٰذا ان چینلز کا بائیکاٹ کرکے جنگ کے اصل کرتا دھرتاؤں امریکہ اور برطانیہ کی انسان دشمنی اورپشتون دشمنی کو پہچانیں۔ انکو ایکسپوز کریں۔درمرجان وزیر
زانڈن ماسید(Zandan Maseed)اور اخترخان کی تائید
دنیا کو فتح کے طالب، مجاہد اور مولوی کو اپنی کتابوں سے خرافات نکالنے کی توفیق کیوں نہیں ؟۔ علماء اپنی اسٹیبلشمنٹ سے جان چھڑائیں۔ فوج کی قیادت کا امریکہ کوہاں کرناغلط تھا لیکن عالمی بینکنگ کے سودی نظام کو جواز فراہم کرنا شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن کیلئے کیسے جائز تھا؟۔ صدر وفاق المدارس مفتی محمود، مولانا سلیم اللہ خان، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے مفتی تقی عثمانی کی مخالفت کی مگرسبھی ناکام تھے۔وائس آف امریکہ کے شمیم شاہد(shamim shahid) نے جیوچینل کی طرح ہمارا پروگرام نشرنہیں کیا۔ اختر خان نے ٹھیک لکھا کہ چینلوں کے ملازموں سے گلہ نہیں مالکان جنگ کی فضاء پیدا کرنے میں بہت مگن ہیں۔
اگر مذہبی اورقوم پرست طبقات برطانیہ اور امریکہ کے نشریاتی دجالی میڈیا کو سمجھ جائیں اور آپس میں لڑنے مرنے کے بجائے صلح ، انسان دوستی ، خدا پرستی اور عدل و انصاف پر مبنی ایک نظام تشکیل دیں تو دجالی میڈیا کا کردار بالکل یہاں سے ختم ہوجائے گا۔ خوبصورت کالے تیتروں کا مقابلہ فقط آوازوں سے ہوتا ہے اور ہم بھی کردار کے نہیں گفتار کے غازی ہیں اور کردار ہوتا بھی ہے تو شیطانی۔سید عتیق الرحمان گیلانی
(Nawishta-e-Diwar-July-21-Page-01 syed atiq ur rehman gillani akhtar khan)

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ ریاست چھچھوری بھی ہوتی ہے۔ وسعت اللہ خان
سیاسی جماعتیں اپنی غلطیوں پر کم از کم معافی تومانگ لیں۔ سہیل وڑائچ
ایسٹ انڈیا کمپنی سے آج تک سلیکٹڈ و سلیکٹر کی سیاست۔ رضاربانی