پوسٹ تلاش کریں

سلطنتِ عثمانیہ نے اپنا بینک ماتحت کیا توعالمی بینک نے پیسہ روک کر اسکا خاتمہ کردیا ۔مولانا فضل الرحمن ۔

سلطنتِ عثمانیہ نے اپنا بینک ماتحت کیا توعالمی بینک نے پیسہ روک کر اسکا خاتمہ کردیا ۔مولانا فضل الرحمن ۔ اخبار: نوشتہ دیوار

سلطنتِ عثمانیہ نے اپنا بینک ماتحت کیا توعالمی بینک نے پیسہ روک کر اسکا خاتمہ کردیا ۔مولانا فضل الرحمن ۔

جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کا سوشل میڈیا پر مختصربیان ہے کہ جب عالمی ایمپائر سلطنت عثمانیہ نے اپنے بینک کو عالمی بینک کے تابع کردیا جب سلطنت عثمانیہ کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو عالمی قوتوں نے اپنے بینکوں سے بھی پیسہ نہیں لینے دیا جس کی وجہ سے ایک عالمی ایمپائر سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔ جس کی حکومت عرب سے افریقہ تک پھیلی تھی۔ اتنی بڑی سلطنت بینکوں کے نظام کی وجہ سے گرگئی تو پاکستان کی کیا حیثیت ہے؟۔ پچھلے عرصے میں جب میں نے کہا تھا کہ پاکستان جب عالمی اداروں کا مقروض ہوگا تو پھر عالمی قوتوں کی کالونی کے علاوہ پاکستان اور کچھ نہیں ہوگا۔ جس پر ایک صحافی اینکر نے ٹوئٹ کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن اتنا بے خبر ہے؟۔ پاکستان تو عالمی قوتوں کی کالونی بن چکا ہے اور اس کی خبر مولانا فضل الرحمن کو کیا نہیں ہے؟۔

تبصرہ: نوشتۂ دیوار …عبدالقدوس بلوچ
وزیر اعظم عمران خان نے بلدیاتی انتخابات کیلئے پٹرول سستا کیا تھامگر مولانا فضل الرحمن کو بلدیاتی انتخابات کی واضح جیت مبارک ہو۔ جنرل ضیاء کا مارشل لاء تھا تو مولانا کہتے تھے کہ فوج آنکھوں کی پلکیں ہیں جو ملک کی زینت اور حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ پلکوں کا بال آنکھ میں گھسے تو برداشت نہیں ہوتا۔ اب تو تمام پلکیں گھس گئیں۔ یہ دلیل نہیں کہ ملک کی حفاظت فوج کرتی ہے تو حکمرانی کا حق بھی اسی کو ہے۔ چوکیدار کو تنخواہ اور اسلحہ دیا جائے اور وہ قابض ہوجائے تو یہ بدمعاشی ہے۔ مفتی محمود کی وفات کے بعدMRDمیں شمولیت کو علماء ومفتیان نے کفر قرار دیا، اسلئے کہ اس میں پیپلزپارٹی شامل تھی۔1985ء نشتر پارک کراچی میںMRDکے جلسے کاBBCنے کہا تھا کہ ”یہ جمعیت علماء اسلام کا جلسہ لگ رہا تھا”۔88ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے غلام اسحاق خان کو صدارت کیلئے ووٹ دیا اور جمعیت علماء نے نوابزادہ نصراللہ خان کو۔ پھر جب نوازشریف کو تحریک عدم اعتماد کیلئے اسامہ بن لادن کی طرف سے رقم مل گئی تو چھانگا مانگا میں منڈی لگائی، پیپلزپارٹی نے ارکان کو سوات کے ہوٹل میں رکھاتھا ۔ جے یو آئی ف کے ارکان اسمبلی کھلے عام اسلام آباد میں گھوم رہے تھے ،ان کو خریدنے کا تصور نہیں ہوسکتا تھا۔ بشریٰ بیگم کا سسر غلام محمد مانیکا وغیرہ نے مسلم لیگ کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔ مولانا فضل الرحمن کو لیبیا کے صدر قذافی نے اسلامی یونیورسٹی جامعہ معارف الشرعیہ کیلئے رقم دینی تھی اور دھمکی دی کہ اگر تحریک عدم اعتماد میں حصہ لیا تو رقم نہیں ملے گی۔ مولانا کو اپنوں نے مشورہ دیا کہ یونیورسٹی بنانا زیادہ بہتر ہے لیکن مولانا نے اپنا ضمیر نہیں بیچا اور تحریک عدم اعتماد میں بھرپور حصہ لیا جس کی وجہ سے آج تک یونیورسٹی کی بلڈنگ ادھوری ہے جس میں ایک چھوٹا مدرسہ چل رہاہے۔ پھر اسلامی جمہوری اتحاد بنا تو نوازشریف کو لایا گیا اور اصغر خان کیس کا 16سال بعد فیصلہ ہونا تھا مگر اس کی فائل بند کردی گئی۔ پرویزمشرف وردی کو اپنی کھال قرار دیتاتھا مگر متحدہ مجلس عمل سے معاہدے کے تحت وردی اترگئی۔ اگر پیپلزپارٹی نہ ٹوٹتی تو مولانا فضل الرحمن کئی ووٹوں سے وزیراعظم بنتے۔ ق لیگ نے ایک ووٹ سے ظفراللہ جمالی ، چوہدری شجاعت اور شوکت عزیزکو وزیراعظم بنادیا تھا۔ پیپلزپارٹی میں جمہوری غیرت ہوتی توق لیگ کے مقابلے میں مولانا کو ووٹ دیتی۔ ایک سیٹ جیتنے والا کم عقل انسان عمران خان وزیراعظم بن گیا تو مولانا فضل الرحمن کیوں نہیں؟۔
مولانا فضل الرحمن کو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی طرح آخری وقت میں مسلم اُمہ کو قرآن سے استفادہ اور فرقہ پرستی سے کنارہ کشی کا واضح پروگرام دینا چاہیے شاہ ولی اللہ سے مولانا عبیداللہ سندھی تک کی روح قرآن و سنت سے زندہ کرسکتے ہیں۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء ومفتیان کو حق کیلئے ایک پلیٹ فارم پر لانا اور بڑے پیمانے پر ووٹ لیکر نظام بدلنااور وزیراعظم بنناکوئی مشکل نہیں ہے ۔
خیبر پختونخواہ تبدیلی اور انقلاب کی علامت ہے لیکن اس سیاست میں عوام حصہ دار نہیں ،یہ پارٹیوں کا مسئلہ ہے۔ نوازشریف نے زرداری کے مقابلے میںIMFسے ڈبل قرضہ لیکر دفاعی بجٹ سے سودڈیڑھ گنا زیادہ کیا ،جس کی ہم نے نشاندہی کی تھی۔ عمران خان نے سودی رقم نوازشریف سے بھی دگنی کرکے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں تین گنا کردی ۔ جب ٹیکسوں کے تمام محصولات کے قریب سود ہو تو ملک کا نظام کیسے چلے گا؟۔ جن جرنیلوں ، سیاسی قائدین ورہنماؤں ، ججوں، سول بیوروکریسی کے افسران اور صحافیوں نے یہاں سے بے تحاشا پیسہ کماکر بیرون ملک انویسٹ کردیا، وہ اپنی آدھی رقم سودی قرضہ چکانے میں دیں اور آدھی پاکستان کی تعلیم وترقی میں لگائیں جس کی بنیاد پر یہاں امن امان کی فضاء قائم ہوگی اور ہماری ترقی بھی مثالی ہوگی۔ اگرIMFکے سودی قرضے کو اسلامی بینکاری کے اصولوں سے حیلہ کرکے نام نہاد اسلامی بنایا جائے تو کیا قوم و ملک کو ریلیف ملے گا؟۔ ہرگز نہیں! تو پھر اسلام کو کیوں بدنام کیا جا رہاہے؟۔ سودی نظام سے زکوٰة کی کٹوتی کو مفتی محمود سود اور مولانافضل الرحمن اس کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتے تھے۔ نام نہاد اسلامی بینکاری کے شیخ الاسلام اور مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن کم ازکم وفاق المدارس اور تنظیم المدارس کے سربراہ کے اہل نہ تھے۔ مدارس کو ڈکٹیٹرنہیںجمہوری اندازمیں چلانا تھا۔ مفتی تقی عثمانی کے سودی حیلے کی اسکے استاذ مولانا سلیم اللہ خان سابق صدر وفاق المدارس اورعتیق گیلانی کے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سابق صدر وفاق المدارس پاکستان سمیت شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان اور تقریباً سب دیوبندی مکتب کے علماء نے مخالفت کی تھی۔ مولانا محمد امیر بجلی گھر کہتے تھے کہ ایک عورت نے دوسری سے کہا کہ ” خورے قیامت شو”۔ بہن قیامت ہوگئی۔ دوسری نے کہا کہ کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ ” ابا میں ملک شو” کہ میرا باپ ملک بن گیا۔ یعنی قحط الرجال آگیا کہ گاؤں والوں کو دوسرا چوہدری نہیں ملا تو میرا باپ چوہدری بنادیا گیا اور یہ قیامت کی نشانی ہے۔ مفتی محمود کے دور میں مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی محمد رفیع عثمانی نے سود سے زکوٰة کی کٹوتی کو جائز قرار دیا تو دونوں کی حیثیت نہ تھی۔ پھر سودکو جواز بخشا تو سب مخالف تھے۔ اگر مذہبی حیلہ سازوں کو آگے لایا جائے اور سیاسی اعتبار سے دوسری سیاسی جماعتوں جیسی روش اپنائی جائے تو پھر اسلام کے نام پر علماء ومفتیان سے لوگ نفرت کریں گے۔
موجودہ مذہبی،ریاستی اور سیاسی نظام ناکام ہے اور پاکستان سے انقلاب کیلئے ایسا پلیٹ فارم ضروری ہے کہ اگر حکومت نہ بھی ملے تو معاشرے میں مذہبی و معاشی بنیادپر انقلاب برپا ہوجائے لیکن جب سود اسلامی ہوجائے تو پھرکیا چیز غیر اسلامی ہوگی؟۔ جمعیت علماء ہند کے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے ضخیم کتاب لکھ کر سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیا۔ اندرون سندھ جمعیت علماء اسلام کے مراکز ہالیجی شریف، امروٹ شریف اور بیرشریف میں اسی بدعت پر عمل ہے۔ راشد محمود سومرو کے باپ دادا تذبذب کا شکار تھے کہ کیا سنت اور کیا بدعت ہے؟۔ خیبرپختونخواہ ، بلوچستان میں بھی دیوبندی اس بنیاد پر ایکدوسرے پر بدعتی اور قادیانی کے فتوے لگاتے تھے اور افغانستان میں بھی اس بدعت کا فتویٰ قبول نہیں کیا گیا تھا۔ تبلیغی جماعت والے رائیونڈ اور بستی نظام الدین میں ایسے تقسیم ہیں کہ ایکدوسرے کو اپنے مراکزمیں نہیںچھوڑتے اور دیگر ملکوں کی مساجد میں بھی ایکدوسرے کو نہیں چھوڑ تے ۔ فرقہ وارانہ جماعت بندی اور گروہ سازی کا راستہ قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے سے رُک سکتا ہے۔
سود کی آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو سود قرار دیا۔ جاگیر دار اپنی زمینوں کو خود کاشت کریں تو حرام خوروں کی صحت ٹھیک ہو گی اور کاشتکاروں کو مفت زمین ملے تو غربت وبیروزگاری بھی ختم ہو گی۔ قرآنی آیات سے ہماری دنیا روشن ہوسکتی ہے۔ سودی نظام کے خلاف آگ چھوئے بغیر بھی قرآنی آیات کا چراغ بھڑک کر جل اٹھ سکتا ہے۔ ندیم احمدقاسمی کا شعر ہے کہ
رات جل اٹھتی ہے شدت ظلمت سے ندیم لوگ اس وقفہ ماتم کو سحر کہتے ہیں
تاریخ کا تاریک ترین اندھیرا ہے۔ مذہبی روایات ، تعلیمات،معاشیات، ریاستی معاملات، سیاسیات اور اخلاقیات سب کچھ انتہائی درجہ تباہ ہیں۔مفتی تقی عثمانی کے اکابر مولانا درخواستی اورجمعیت علماء اسلام کے رہنما کہتے تھے کہ انگریز نے تنخواہ دیکر اپنے جاسوس مولانا احتشام الحق تھانوی کو پڑھایاکہ معلوم کریں کہ دارالعلوم دیوبند میں بغاوت کی تعلیم دی جاتی ہے؟اس جاسوس نے لکھا کہ مجھے نااہل سمجھو یہاں بغاوت کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ پھریہ مشن ملا کہ دارالعلوم دیوبند کی ہر تحریک کی مخالفت کریں۔
حضرت مولانا مفتی محمود فرماتے تھے کہ دنیا کی امامت کیلئے دنیاوی اور دینی تعلیم دونوں ضروری ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا دینی تعلیم یافتہ طبقہ دین اور دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ اپنی فنی تعلیم سے بھی جاہل ہے اور اب جہالت کا غلبہ بڑھتا جارہاہے اسلئے کہ پہلے قابلیت پر ڈگری ملتی تھی اور اب پیسوں سے ڈگریاں لی جاتی ہیں۔ قومی اسمبلی کے کئی مرتبہ ممبر رہنے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پاس ڈاکٹر کی ڈگری نہیں لیکن ڈاکٹر اسکے نام کیساتھ اس کی شناخت ہے۔
تین طلاق اور حلالہ کے حوالے سے عتیق گیلانی نے دھیان نہیں دیاتھا تو کئی واقعات پیش آئے مگر حلالہ کی لعنت کا فتویٰ نہ دیا، ایک ساتھی عیسائی سے مسلمان ہوا تھا اور اسکے چھوٹے بچے تھے۔ ایک نے اہلحدیث سے رجوع کا فتویٰ لیا تھا تو تنقید نہ کی لیکن کراہت تھی کہ اس نے اچھا نہیں کیا۔ ایک نے حلالے پر اصرار کیا تو اس کو منع کردیا لیکن اس نے پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے فتویٰ لے لیا اس فتوے میں لکھا تھاکہ ” طلاق کا حق عورت اپنے پاس رکھے تاکہ جب طلاق لینا چاہے تو اس شوہر کو چھوڑ سکے”۔ جامعہ دارالعلوم کراچی کے فتوے میں طلاق کا اختیار حلالہ کرنے والے لعنتی مولوی کے پاس رہتا ہے جس سے عورت کوجتنا مرضی وہ بلیک میل کرسکتا ہے اور خواتین اور حلالے کروانے والے اسکے شوہر اس کی بدمعاشی کا شکار ہونے کے بعد کسی سے اس کا تذکرہ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کے اکابر کی مخالفت اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلوی قندھاری نے کی تھی۔ دارالعلوم دیوبند سے نمازکی سنتوں کے بعد دعا بھی بدعت قرار دی گئی تو مولانا احمدرضاخان نے اس تحریک کو اکابر کیخلاف زہرقرار دیا تھا۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے ”بدعت کی حقیقت”میں فقہی تقلید کو بدعت قرار دیا۔ اس وقت حجاز پر وہابیوں کی حکومت نہیں تھی اسلئے مولانا احمدرضا خان بھی حرمین کے علماء سے فتویٰ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ دیوبند کے اکابر نے اس فتوے کے خوف سے اپنی دُم ایسی گھسیڑدی کہ آج تک نہ نکال سکے۔ بریلوی سے مفتی تقی عثمانی کا باپ اور استاذ دیوبند کیلئے زیادہ خطرناک تھے ۔70ء میں جمعیت علماء اسلام پر بھی کفر کا فتویٰ لگادیا تھا۔ جامعہ دارالعلوم کراچی اور جامعة الرشید دراصل دارالعلوم دیوبند کا مدِمقابل اور ضد ہیں۔اسلامی شعار کی حفاظت کیلئے دارالعلوم دیوبند کا وجود ناگزیز تھا لیکن اب سودتک بھی حلال کردیا گیاہے۔
جب نوازشریف کے دور میں دفاع کے بجٹ سے ڈیڑھ گنا صرف سودی رقم بڑھ گئی تھی تو فوج نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ لینا بھی چھوڑ دیا۔ پھر فوج نے ٹول ٹیکس وغیرہ کے ٹھیکے لینا شروع کردئیے۔ اگر نوازشریف سی پیک کے مغربی روٹ کو نہ بدلتا جو مولانا فضل الرحمن نے زرداری کیساتھ مل کر چین کیلئے طے کیا تھا تو آج اس پر گوادر سے چین کیلئے ٹریفک ہوتی۔ جس سے بڑی تعداد میں ٹول ٹیکس کی مدمیں بھی پیسہ آنا شروع ہوجاتا۔ اور ایران کیساتھ جو گیس پائپ لائن کا معاہدہ زرداری نے کیا تھا، اگر اس پر نوازشریف کے دور میں عمل درآمد ہوجاتا تو پاکستان کو بھی قطر سے مہنگی اور وقتی گیس لینے کی ضرورت نہ پڑتی اورہندوستان کوبھی گیس پاکستان کے راستے سے جاتی ۔ ایرانی گیس و تیل سے ہندوستان کو بھی امریکہ کے مقابلے میں اپنے قریب کیا جاسکتا تھا۔ آج روس سے بھارت نے دفاعی سسٹم خرید لیا ہے جس سے ہمارے میزائل کا خطرہ بھی نہیں رہے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

 

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ ریاست چھچھوری بھی ہوتی ہے۔ وسعت اللہ خان
سیاسی جماعتیں اپنی غلطیوں پر کم از کم معافی تومانگ لیں۔ سہیل وڑائچ
ایسٹ انڈیا کمپنی سے آج تک سلیکٹڈ و سلیکٹر کی سیاست۔ رضاربانی