جب تک اسلام کا سماجی اور معاشی نظام قائم نہیں ہو گا پاکستان میں کوئی نظام کامیاب نہیں ہو گا۔ عتیق گیلانی - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

جب تک اسلام کا سماجی اور معاشی نظام قائم نہیں ہو گا پاکستان میں کوئی نظام کامیاب نہیں ہو گا۔ عتیق گیلانی

جب تک اسلام کا سماجی اور معاشی نظام قائم نہیں ہو گا پاکستان میں کوئی نظام کامیاب نہیں ہو گا۔ عتیق گیلانی اخبار: نوشتہ دیوار

پچھلے شمارے میں اتفاق سے ہم نے ملک میں صدارتی نظام کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا میں صدارتی نظام کی بحث چھڑ گئی اور اب اس حوالے سے کچھ وضاحت بھی کردیتے ہیں۔ جب تک اسلام کا معاشرتی اور معاشی نظام رائج نہیں ہوجاتا تو پاکستان میں کوئی نظام کامیاب نہیں ہوگا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان اسلام کے نام پر جمہوریت سے بنا۔ مملکت کانام اور آئین بھی اسلامی جمہوری ہے ۔ جمہوریت سکہ رائج الوقت ہے۔ لیکن آج تک ملک کو جمہوری اسلامی پاکستان ہمارے اصحاب حل وعقد نہیں بناسکے ۔ قائداعظم نے منتخب صدر کی جگہ نامزد گورنر اور قائدملت لیاقت علی خان نے غیرمنتخب وزیراعظم بننا قبول کیا۔ مسلم لیگ کے نظریاتی رہنماؤں نے چاہا کہ پارٹی صدارت اور سرکاری عہدے جدا جدا ہوں لیکن لیاقت علی خان کا کوئی حلقہ انتخاب بھی نہیں تھا اسلئے وہ مسلم لیگ کی صدارت اور وزیراعظم کا عہدہ دونوں اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔ قائداعظم کا قائدملت سے یہ پھڈہ تھا کہ وہ کیوں اپنا حلقہ انتخاب بنانے کیلئے ہندوستان کے مخصوص مہاجرین کو کراچی میں آباد کرنا چاہتے ہیں۔ لسانی پھڈہ اسلئے شروع ہوا کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے لوگ بنگالی کو سرکاری زبان بنانا چاہتے تھے لیکن بابائے قوم قائداعظم نے خود ارود نہ بولنے کے باوجود اردو کو مسلط کردیا۔ ہندوستان کی ہندی اور اردو زبان میں معمولی فرق ہے۔مشرقی اور مغربی پاکستان کوایک قومی رابطے کی زبان پر متحدکرنے کیلئے اردو کے علاوہ دوسرا چارہ نہ تھا۔ پاکستان کی بنیاد بنگال اور سندھ سے پڑی اور سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں کراچی، حیدر آباد، میرپور خاص،سکھر اور نوب شاہ وغیرہ میں ہندوستان سے آئے ہوئے اردو بولنے والے مہاجرین دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن سندھی زبان لکھائی اور پڑھائی میں مضبوط ہونے کی وجہ سے پورے پاکستان میں ایک واحد زبان ہے جواردو کے مقابلے میں مضبوط چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ پنجابی، سرائیکی، پشتو اور بلوچی کے مقابلے میںاردو نے اپنا زیادہ اثر اسلئے دکھایا کہ مقامی زبان میں لکھائی پڑھائی کا سلسلہ بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ جتنے بھی لکھے پڑھے لوگ تھے وہ مقامی زبان سے زیادہ دوسری زبانوں میں لکھنے پڑھنے کی مہارت رکھتے تھے۔ خان عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان شہید کے خاندان اردو اور انگریزی زبانوں میں زیادہ مہارت رکھتے تھے۔ اردو زبان کو پختونخواہ، پنجاب، اور بلوچستان سے بہت زیادہ ادیب اور شاعر بھی مل گئے ۔سندھی زبان کا یہ اعزاز تھا کہ فارسی واردو سے پہلے سندھی میں قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا۔ اگرشاہ عنایت شہید کا مشن کامیاب ہوجاتا جو اس نے اسلامی نظام کیلئے شروع کیا تھا کہ ”جو فصل بوئے گا وہی کھائے گا” تو کارل مارکس اور اس کے نظرئیے کیمونزم اور سوشلزم کی پوری دنیا میں پذیرائی نہیں ہوسکتی تھی۔ اسلئے کہ سندھ سے اُٹھنے والے اسلامی نظام نے پوری دنیا میں عدل واعتدال کا جھنڈا بلند کرنا تھا۔ یہ وہی شاہ عنایت شہید کی روح اوراس کے ہزاروںساتھیوں کی قربانی تھی جس نے آنے والی نسل کوپاکستان بنانے میں پہل پر آمادہ کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پاکستان کو اسلامی آئین دیا، مرزائیوں کو کافر قراردیا اور اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا لیکن جب اس کوپھانسی دی گئی تو اس کو ہندو ثابت کرنے کیلئے اس کے ختنے کی تصویرلی گئی۔
جنرل ایوب خان نے فوجی وردی میں الیکشن لڑا تو مقابلے میں مادر ملت فاطمہ جناح تھی۔ جوقائداعظم کی بہن تھی لیکن اگر قائداعظم کی غیرمسلم بیگم رتن بائی زندہ ہوتی یا اس کی بیٹی دینا جناح اپنے غیرمسلم کزن سے شادی نہ کرتی تو قائداعظم کے ولی وارث بیوی اور بیٹی بنتے۔ ایک طرف فوجی ڈکٹیٹر الیکشن لڑرہاتھا تو دوسری طرف مادر ملت نے پاکستان مخالف جماعتوں نیشنل عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی وغیرہ کی قیادت کرتے ہوئے الیکشن لڑا۔ مخالفین الیکشن میں الزام لگانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،اسلئے فاطمہ جناح پر بھارتی ایجنٹ کا الزام لگادیا ۔
پاکستان کاایک بہت بڑا نمایاں سانحہ یہ تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے ریفرینڈم سے منتخب ہونے کیلئے لوگوں سے پوچھا تھا کہ ”تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟”۔ اسلام چاہنے کا مطلب اسلام نہیں بلکہ جنرل ضیاء کا وردی میں صدر منتخب ہونا تھا اور اسلام نہ چاہنے کا مطلب کافر بن جانا تھا۔گویا امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق کوسراپا مجسمۂ اسلام ماننا تھا۔ جماعت اسلامی اور کراچی کے اکابر مفتیان نے جنرل ضیاء کے ریفرینڈم کو اسلام اور کفر کا محاذ قرار دیا۔ جماعت اسلامی واحد جمہوری جماعت ہے لیکن اس کا اپنا طرزِ عمل ڈکٹیٹر شپ اور ڈکٹیٹروں کی لونڈی والارہاہے۔ جماعت اسلامی نے اسلامی جمہوری اتحاد میں غلام مصطفی جتوئی کی قیادت میں آئی ایس آئی کی مدد سے انتخابات میں حصہ لیا تھا تو جماعت کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفوراحمد کوبہت بعدمیںخبر ہوئی کہ جماعت اسلامی استعمال ہوگئی ۔ کیا اسلامی اور جمہوری پارٹی کا یہ کردار ہوسکتا ہے؟۔ مدارس کے علماء ومفتیان اور جماعت اسلامی کی اپنی سب سے بڑی کمزوری اسلام اور جمہوریت دونوں سے جہالت ہے۔
مولانا فضل الرحمن اور ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان دونوں نے ریفرینڈم اور اس کے حق میں دئیے جانے والے فتوؤں کی مخالفت کی تھی اور پاکستان بھر سے علماء نے پہلا فتویٰ مولانا فضل الرحمن پر لگایا تھا جس کے خلاف بائیس بہترین اشعار لکھ کر میں نے بفضل تعالیٰ ناکام بنایا تھا اور پھرکراچی کے اکابرنے حاجی محمد عثمان پربھی بھونڈے فتوے لگائے اس کو بھی میں نے بفضل تعالیٰ ناکام بنایا تھا۔
میں عربی کی درجہ ثانیہ میں تھا تو جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم پر طلبہ میں تقریر کی کہ عربی میں اعراب کی16اقسام ہیں۔ زیدُ’،زیداً،زیدٍ۔ ابو، ابا، ابی اور موسیٰ، موسیٰ ، موسیٰ…….۔ضیاء الحق کے ریفرینڈم کیلئے اعراب کی نئی17ویں قسم ایجاد کرنی پڑے گی۔ جو اس کی مدت کوکھینچنے پر دلالت کرے۔ اعراب ضیاء پر آتا ہے ۔ جب ضیاء کے ہمزہ کو کھینچ لیا جائے تو ضیاء الحق سے ضیاع الحق بن جائے گا۔ مدارس کے مفتیوں کا کام سیاسی فتوے نہیں۔ سیاسی میدان کا آدمی مولانا فضل الرحمن ہے ، ہرفن کا اپنا آدمی ہوتاہے۔ شریعت، تصوف اور سیاست کااپنا اپنا میدان ہے۔ فتوے کا کام فقہ کے مسائل کا حل ہے۔ علماء ومفتیان نے اس وقت سیاست اور تصوف دونوں اعتبار سے انتہائی غلط فتوے دئیے۔پھر پتہ چلا کہ یہ فقہی میدان کے گدھے ہیں۔ قرآن نے عقل وسمجھ کے اعتبار سے بعض کو گدھا قرار دیا لیکن لالچ کے لحاظ سے (عالم باعورائ) کو کتا قرار دیا، جس نے دین کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جھکاؤ اختیارکرلیا تھا۔مفتی ولی حسن سیدھے سادے تھے اورمفتی تقی عثمانی چالاک ہیں۔
پنجاب کے پانچ دریا سندھ کی شاخیں ہیں۔پانی سے پاکی ہے۔ پاک دریا کو ناپاک کرنے کیلئے فیکٹریوں، کارخانوں اور ملوں کے علاوہ گٹر کے گند سے دریا کے پانی کو آلودہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔ زیرِ زمین ذخائر بھی آلودگی سے بھر دئیے گئے ۔ پاکستان کا ظاہر اور باطن دونوں گندے کردئیے گئے تو اس کو پاکستان کی جگہ ناپاکستان کہا جاسکتا ہے۔ کیا فوج، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، تحریک انصاف نے کبھی پاکستان کو اس گند سے پاک رکھنے کی کوشش کی؟۔ علماء ومفتیان نے فتویٰ جاری کیاہے کہ دریا میں گند ڈالنا جائز نہیں؟۔ فوج تو ادارہ ہے جسکے سربراہ بدلتے رہتے ہیں لیکن پارٹیوں میں کیا جمہوریت کا تصور ہے؟ جہاں قیادت کی تبدیلی ممکن ہو؟۔ زمین جنبد یا نہ جنبد گل محمد نہ جنبد۔ زمین ہلے یا نہ ہلے مگر گل محمد نہیں ہلتا۔ بلاول بھٹوزرداری، نوازشریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمن ، چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور سب چھوٹی بڑی پارٹیوں کے سربراہ اپنی پارٹیوں کے گل محمد ہیں۔ جماعت اسلامی کوحقیقی جمہوری پارٹی کہا جاتا ہے جو ہمیشہ بد چلن رہی ہے ۔ جب سید منور حسن سے سلیم صافی نے بیان اگلوایا تھا کہ ”طالبان کے مقابلے میں امریکی فوجی شہید نہیں ہیں تو پاک آرمی بھی شہید نہیں ”۔ جسکے بعد امیر جماعت سیدمنور حسن کو جانا پڑا تھا اورچالاک سراج الحق کو جماعت اسلامی کا امیر بنانا پڑا تھا ۔
جمہوری پارٹیاںاپنا بااختیار صدر چاہتی ہیں لیکن پارلیمانی نظام کیلئے صدارتی نظام کے بجائے کٹھ پتلی وزیراعظم کا نظام اسلئے چاہتی ہیں کہ اس میں ان کو ہر حکومت میں حصہ بقدر جثہ ملتا ہے۔وہ ہمہ وقت اقتدار میں رہتی ہیں۔ مسلم لیگ ق کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں جمعیت علماء اسلام ف حکومت کا حصہ تھی تو ڈیرہ اسماعیل خان میں سرکاری محکموں کے آفیسر کی تعیناتی مولانا کے اختیار میں ہوتی تھی اور انکے بھائی پیسوں کے لین دین پر تبادلے کرتے تھے۔ لوگ اگر علماء کو چندے دیتے تو دوسرے علماء کرام مولانا کے مقابلے میں زیادہ دولتمند نظر آتے۔ سیاست مفادات کا ایک پیشہ بن چکا ہے۔اگر نوازشریف اور شہباز شریف سیاسی مصروفیت کے باوجود اتنے کا میاب موروثی طور پر کاروباری بن سکتے ہیں تو دوسرے بھائی اور کزنوں کو زیادہ امیر ہونا چاہیے تھا اسلئے کہ وہ خالص کاروبار کررہے تھے۔ کیپٹن صفدر کو اپنی چہیتی بیٹی مریم نواز دینے والے اور جنرل ضیاء الحق کو شہید اور امیرالمؤمنین کہنے والے نوازشریف کیابدل گئے ؟۔
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے
پنجاب، پاک فوج اور کٹھ پتلی جمہوریت میں چولی دامن کا ساتھ تھا لیکن نواز شریف کے بعد عمران خان کی صورت میں نیا مہرہ تلاش کیا گیا تو نوازشریف نے پنجاب میں فوج کے خلاف آگ لگائی۔ پختونخواہ، بلوچستان اور کراچی نے اقلیت ہونے کے ناطے نظریۂ ضرورت کے تحت اپنا ذاتی مفادحاصل کرنا ہوتاہے اورپیپلز پارٹی سندھ میں واحد وفاق کی حامی پارٹی ہے جس کی پنجاب و دیگر صوبوں میں اپنی جڑیں مضبوط نہیں۔ پہلے مشرقی پاکستان کی کہانی ختم ہوگئی اور اب سندھ، پختونخواہ، بلوچستان ، کراچی اور پنجاب تعصبات کی زد میں ہیں۔ عمران خان کی بھڑکیوں نے باشعور، پڑھے لکھے طبقے اور سیاسی کارکنوں و رہنماؤں کیساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی متأثر کیا لیکن اب اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں نکل کھڑا ہوا تو عوام کسی بھی اشارے کے بغیر وہ خالی کرسیاں اسکے سرپر ماریں گی جو میڈیا اس کو کامیاب بنانے کیلئے دن رات دکھاتا رہتا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کمزور ہے اور سیاسی پارٹیوں میں بھی دَم نہیں رہا بلکہ گھوڑوں، لوٹوں اور گدھوں سے بات آگے نکل چکی ہے۔ عوام کے اعتماد کے بغیر کوئی حکومت اور ریاست بھی نہیں چل سکتی ہے۔اگر ابوسفیان کے کہنے پر حضرت ابوبکر مسند سے اتار دئیے جاتے اور علی کو بٹھادیا جاتا تو خلافت راشدہ کے ابتدائی دور میں فتنے کھڑے ہوجاتے اور حدیث قرطاس لکھوائی جاتی تو مدارس اور مساجد سے لیکر پارٹیوں ، جماعتوں اور اقتدار کے ایوانوں تک وصیت پر کام چلتا۔
اسلام کے قلعے مدارس گمراہی کے مراکز بن گئے ۔ ان گمراہیوں کے قلعوں کا حدیث میں ذکرہے۔ معیشت کی اہمیت کا اندازہ قرآن کی سورۂ جمعہ سے لگائیں۔ عبادا ت میں اہم ترین نماز اورنمازِ جمعہ کی سب زیادہ اہمیت ہے لیکن جمعہ کی آذان پر تجارت چھوڑ نے اور نماز پوری ہونے کے بعد اللہ کے فضل کیلئے نکلنے کے حکم سے معیشت کی اہمیت کا زبردست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ علماء ومفتیان دنیا کی بے رغبتی دلاکر چندہ مانگتے ہیں تو ان کی وجہ سے لوگ اسلام کی طرف راغب ہونگے؟۔
قرآن وسنت کے تحفظ میں علماء کرام کی خدمات سب سے زیادہ ہیں لیکن پھر اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے میں بھی سب سے بڑا گھناؤنا کردار انہی کا ہے۔ جب حامدمیر کو افغانستان میں طالبان کارکنوں نے پکڑلیا کہ تمہاری داڑھی نہیں اور کیمرہ ساتھ ہے تو اپنے بڑوں کے کہنے پر چھوڑدیا تھا۔ اُسامہ بن لادن اورالجزیرہ ٹی وی کو اس وقت بھی افغانستان میں تصاویر کی اجازت تھی ۔ اگر حامد میر جیو ٹی وی پر اس وقت ان تضادات کو اجاگر کرتا تو افغانستان اور پاکستان کی عوام کو شعور ملتا لیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے پیپلزپارٹی دور میں طالبان کی مخالفت کا بیڑہ اٹھایا تو حامد میر نے یہ انکشاف کیا کہ” طالبان امریکہ نے بینظیر بھٹو اور جنرل نصیراللہ بابر کے ذریعے بنوائے تھے”۔ صحافت کا مشن قوم کو بروقت دیانتدارانہ شعور دینا ہے۔
پاکستان میں اسلامی جمہوری بنیاد پر انقلاب برپا ہو تو ملک وقوم میں خوشحالی کا طوفان آجائے،مایوسی کے شکار عوام اور مملکت کے ریاستی اداروں میں نئی روح پیدا ہوجائے۔ زن، زمین ،زر فتنہ اور آزمائش ہیں اور خوشحالی یا بدحالی کا اہم ذریعہ بھی۔ عورت کے اسلامی حقوق بحال ہوں تو اسلام کا ڈنکا بجے گا۔ اسلامی مزارعت سے پاکستان دنیا میںبہت بڑا زرعی ملک بن جائیگا۔ سود کا مکمل خاتمہ ہو تو معیشت کی ترقی میں اتنی تیزی آئے گی کہ پوری دنیا سود کے خاتمے پر متحد ومتفق ہوجائے گی۔
پاکستان کو جنت بنانے میں بالکل دیر نہیں لگے گی۔ جن لوگوں میں ڈاکٹر اور انجینئربننے کی صلاحیت ہو ،ان کو تعلیم کے ذریعے انسانیت کی خدمت کیلئے تیار کیا جائے اورجن لوگوں کے دماغ موٹے ہوں ان سے محنت مزدوری کا کام لیا جائے تو ان کی صحت اور طبیعت دونوں ٹھیک رہیں گے۔ دریاکے پانی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ،ایک کھانے پینے اوردوسرے کھیتی باڑی کیلئے ۔ گٹر لائن سے جنگلات آباد کئے جاسکتے ہیں۔ گومل ڈیم کے نیچے پختونخواہ اور پنجاب کے کئی علاقوں کو بڑے پائپوں کے ذریعے پینے کا شفاف ، تازہ اور صحت بخش پانی پہنچایا جاسکتا ہے۔اسی طرح دریائے کرم، دریائے کابل، تربیلہ ڈیم، دریائے جہلم وچناب اور دریائے راوی کو نہ صرف آلودگی سے پاک رکھا جاسکتا ہے بلکہ کھانے پینے اور کھیتی باڑی کیلئے الگ الگ معیاری پانی کا بھی بندوبست ہوسکتا ہے ۔ پانی سے سستی بجلی پیدا کرکے ملک وقوم کو خوشحال بنایا جاسکتا ہے اور کارخانوں، فیکٹریوں ، ملوں کو پابند بنایا جاسکتا ہے کہ آلودگی صاف کرنے والی مشینریاں بھی لگانی ہوںگی۔
ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو بڑے پیمانے پر انتخابات جیت کر ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ پرویز مشرف کوعدلیہ نے تین سال تک قانون سازی کی اجازت دی۔ ریاستی اداروں کا کسی سیاسی پارٹی کو سپورٹ کرنا مجرمانہ فعل ہے مگرحق کی آواز بلند کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا آئینی فریضہ ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتیں غنڈہ گردی سے ہرکسی کا جینا دوبھر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہم نے حلالہ کا مسئلہ اٹھایا، علماء نے حمایت شروع کی، پھر اخبار بندکرنے کا سرکاری حکم جاری ہوا اور دہشتگردوں نے گھر پر حملہ کرکے13شہداء کی سوغات دی۔صحافی محمد مالک نے ہم ٹی وی پر اس مسئلے پر پروگرام کاوعدہ کیا لیکن بہادری کا ایسا مظاہرہ نہیں کرسکاجس کا ہمارے سامنے اظہار کیا تھا۔اسلئے ریاست تحفظ کو یقینی بنائے۔
پاکستان74سالوں میں پارلیمانی نظام ، صدارتی نظام،مارشل لاء اور سول و ملٹری بیوروکریسی کے ذریعے چہرے بدلتا رہاہے لیکن برطانیہ کی کالونی سے تاحال نکل نہیں سکے ہیں۔ خلیفہ المسلین کیلئے صدارتی نظام کا تجربہ ناگزیر ہے تاکہ دنیا کے دل سے اسلام کا خوف جمہوری انداز میں نکلے اور بادشاہت بھی قائم نہ ہو۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار
لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا
جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری