پوسٹ تلاش کریں

یہ الیکشن8فروری جمہوریت کی تاریخ میں آخری کیل ٹھوکنے کیلئے پرعزم تو نہیں؟

یہ الیکشن8فروری جمہوریت کی تاریخ میں آخری کیل ٹھوکنے کیلئے پرعزم تو نہیں؟ اخبار: نوشتہ دیوار

یہ الیکشن8فروری جمہوریت کی تاریخ میں آخری کیل ٹھوکنے کیلئے پرعزم تو نہیں؟

وزیرستان کچہری میں ووٹوں کا دھاندلا
جنوبی وزیرستان کے الیکشن8فروری2024کیلئے بڑا فراڈ پکڑ لیا گیا۔ جب بڑے پیمانے پر بیلٹ پیپر ز لانے کی عالم زیب خان محسود کو اطلاع ملی تو اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے سے خبر کو عام کردیا۔ رنگے ہاتھوں کھلی دھاندلی پکڑی گئی تو حاجی سعید انور محسود آزاد امیدوار قومی و صوبائی جنوبی وزیرستان نے جلسہ عام میں کہاکہ جمعیت علماء اسلام پہلے بھی دھاندلی سے یہ الیکشن جیتی تھی اور یہ حربے اب ہم کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ بغیر نمبر پلیٹ ٹویوٹا فیلڈر گاڑی میں بیلٹ پیپرز لائے گئے جو پھر ٹانک ڈاکخانے میں پہنچائے گئے ۔ ملکی سطح پر کیا دھاندلی ہوگی؟

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
تاریخ کے پتوں پہ ہم کو تم مردم بولانی لکھنا
گمنام ہماری قبروں پہ تم چکیں بلوچانی لکھنا
صدرجمعےة علماء ہند مولانا حسین احمد مدنی نے انگریز فوج میں بھرتی کے خلاف فتویٰ دیا ،انگریز جج نے عدالت میںپوچھا کہ آپ نے یہ فتویٰ دیا ؟۔ مولانا نے کہا : ہاں، اب بھی دیتا ہوں، آئندہ بھی دیتا رہوں گا۔ مولانا محمد علی جوہر پاؤں میں پڑگئے کہ اپنا فتویٰ واپس لو۔ جج نے کہا کہ پتہ ہے کہ اس کی سزا کیا ہے؟، بغاوت میں موت کی سزا دے سکتا ہوں۔ مولانا حسین احمد مدنی نے کہا کہ مجھے پتہ ہے ۔اگر تم مجھے لٹکادوتو میں دیوبند سے نکلتے ہوئے کفن ساتھ لایا ہوں۔ مولانا جوہر نے کہا
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے
کیا غم ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے
مولانا حسین احمد مدنی اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود الحسن کیساتھ1920میں مالٹا کی جیل سے رہا ہوکر آئے تھے۔ وہ مقدمہ میں مطلوب نہ تھے ،اپنی خوشی سے استاذ کیساتھ گئے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ قوم وطن سے بنتی ہے تو اقبال نے کہا کہ ” یہ دیوبند کا حسین احمد ا بولہب ہے”۔نبی ۖ عربی تھے ۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
انگریز ”لڑاؤ اور حکومت کرو” پر عمل پیرا تھا۔مشرقی بنگال کو الگ انتظامی صوبہ بنایا توہندو نے برا منایا۔ نواب وقار الملک نے1906میں آل انڈیا مسلم لیگ بنائی ۔ سر آغا خان کو صدر بنادیا۔ قائداعظم نے ہندیوں کو برطانیہ کی طرح انسانی حقوق دلانے کیلئے کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور سقوطِ خلافت کے بعد بحالی خلافت کیلئے ہندؤں نے مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد1930میں انگریز سے مطالبہ کیا کہ” مسلمانوں کو خود مختار صوبے دو”۔1947میں مشرقی بنگال کا صوبہ پاکستان اور موجودہ پاکستان معروضِ وجود میں آیا تو ہندوستان کے تین ٹکڑے ہوگئے۔ سندھ میں5قومی اسمبلی کے ممبر تھے۔GMسید نے قراردادِ پاکستان پیش کی جو 2 کے مقابلے میں3سے پاس ہوگئی۔ صوبہ سرحد میں کانگریس کی حکومت تھی اور مکران کے ممبر میرغوث بخش بزنجو کمیونسٹ پارٹی کے تھے۔جو بلوچستان کا الحاق ہندوستان سے چاہتے تھے۔ جبکہ خیر بخش مری کے دادا خیر بخش مری نے1916میں بلوچ قوم کی انگریز کی فوج میں بھرتی کی مخالفت کی تو انگریز سے مل کر خان آف قلات نے ان بلوچوں کے خلاف سخت اقدام کیا۔
قائداعظم اور قائد ملت لیاقت علی خان نے پاکستان بنایا مگر اپنا وطن ہندوستان قربان کرکے۔ پاکستانی قومیت بنائی مگر ہندوستانی قومیت کو ذبح کرکے۔ انگریز برصغیر پاک و ہند کی مٹی اور قوموں کا دشمن تھا۔ انگریز گیا تو ریاستی ڈھانچہ وہی رہا اور ہندوستان کی سیاسی قیادت نے وطن اور قوم سے محبت کی۔ مگرہماری سیاسی قیادت نے مٹی اور قوم سے محبت کرنے والوں کو انگریز کی طرح غدار قرار دیا۔ پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کو جیلوں میں بند رکھا اور بندوقوں کی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ حبیب جالب نے بہت انقلابی اشعار گائے مگرریاست کے ملازمین کو اپنی ڈیوٹی اور تنخواہ سے کام تھااور پنجابی عوام کو نہیں جگاسکے۔
قائداعظم و قائدملت سے سکندر مرزا تک جتنے گورنر جنرل اور وزیراعظم گزرے ، جمہوریت ڈھونگ تھی۔پھر جنرل ایوب نے قبضہ کیا تویہ پہلا باوردی عوامی الیکشن تھا۔ باچا خان، غوث بخش بزنجو،مولانامودودی سب نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا ۔1970الیکشن میں اکثریت کو حکومت دینے سے انکار ہوا، جس سے ملک ٹوٹا۔بیگم راعنا لیاقت علی کو تحفے میں پیرس کے اندر مکان ملا تو پاکستان کو دیا۔اب ریاست جذبہ حب الوطنی، قوم پرستی ، جمہوریت، دیانتداری سے عاری چاروں شانوں چت ہونے کے بجائے حقائق کو دیکھے۔سارا ملبہ سیاستدانوں اور فوج پر ڈالنے کے بجائے قوم اپنے اجتماعی ضمیر کو جگائے۔
نہرو کو امریکہ نے بلایااورامریکی بلاک میں شمولیت کی دعوت دی جو نہرو نے مسترد کردی اور غیر جانبدار ی کا فیصلہ کیا۔ لیاقت علی خان کو دعوت نہیں ملی تو روس کو چٹھی بھیجی کہ مجھے بلاؤ۔ روس نے بلایا تو امریکہ نے بھی دعوت دی، قائدملت نے روس کو چھوڑ کر امریکہ کی دعوت قبول کی اور بلاک کا حصہ بن گئے۔
نوازشریف نے کوئٹہ سے سی پیک کا روٹ چھین لیا۔ آرمی چیف کی ملازمت اسکی رہین منت ہے مگر پنجاب کا اعتماد کھو دیا۔ بلوچ کی مٹی سے وفاکووہ فوجی و سیاسی قیادت نہیں سمجھ سکتی جو اپنی مٹی چھوڑ آئی ۔جنرل عاصم منیر اور نواز شریف دونوں کی جو پاکستان سے محبت ہوسکتی ہے وہ وطن اور قومیت کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی۔ اسلئے کہ دونوں کا تعلق بھارتی پنجاب سے ہے۔ جب ان کے آباو اجداد نے پنجاب اور ہندوستان کو تقسیم کردیا تو پھر کس طرح پاکستان کی مٹی اور قومیت سے فطری طور پر محبت رکھ سکتے ہیں؟۔ یہ نہیں سمجھتے کہ سندھ ، بلوچستان ، پختونخواہ ، کشمیر اور پنجاب کے جن لوگوں نے اپنے وطن ، مٹی اور قومیت کی کوئی قربانی نہیں دی ہے ان کے جذبات کیا ہیں؟۔ ایک ہجڑے کو ماں باپ کی بچوں سے محبت کا جس طرح سے ادراک نہیں ہوتا اسی طرح یہ لوگ بھی وطن اور مٹی کی محبت کے احساسات سے محروم ہیں۔ یہی حال قائد اعظم محمد علی جناح، قائد ملت لیاقت علی خان اور انگریز کی ریاست میں ملازمت کرنے والے فوجی اور سول ملازمین کا شروع سے ہے۔ اس لئے انہوں نے ہمیشہ آزادی کے مجاہدین غفار خان ، میر غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل ، خیر بخش مری ، فیض احمد فیض اور حبیب جالب کا جذبہ کبھی نہیں سمجھا۔ جب ان لوگوں نے مادر ملت فاطمہ جناح کی حمایت کی تو جنرل ایوب خان نے اس کو بھی غدار قرار دیا تھا۔
جس لا الہ الا اللہ کے نام پر ملک بنا تھا اس لا الہ الا اللہ کے نام لیوا مذہبی طبقات نے قرآن و سنت کا بیڑہ غرق کیا ہے تو پھر فوجی و سول بیروکریسی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کا بھی کیا قصور تھا؟۔ جب نواز شریف کیخلاف خلائی مخلوق استعمال ہوئی تو ہم نے غلط قرار دیا تھا اور نواز شریف کیلئے سارا نظام استعمال ہورہا ہے تو بھی یہ انتہائی قابل مذمت اور خطرناک ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟