پوسٹ تلاش کریں

ہندوستان اور خلیجی ممالک پر برطانوی راج تھا

ہندوستان اور خلیجی ممالک پر برطانوی راج تھا اخبار: نوشتہ دیوار

و ما قدراللہ حق قدرہ”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیساکہ قدر کا حق تھا”۔

روپیہ اور سماجی اقدار کی ویلیو ہے ۔ سورہ نور میں غیرت پر قتل نہیں ، اللہ نے حلالہ کو ختم کیا، مگر اللہ کی قدر نہ کئی گئی۔علماء بچی کو ڈانس نہ کروائیں اور شیخ بیوی کو حلالہ ۔ اگرحلالہ کروادیاتو غیرتمند اور نہیں توپھربے دین ؟۔

وماھو بقول شیطٰن الرجیمOفائن تذہبونO

”اوروہ شیطان کا قول نہیں تو تم کدھر جارہے ہو؟”۔ قرآن کی طرف تمام مسائل کا حل ہے

عورت مارچ پر نعمان ولاگ نے بتایا:1963ء میں امریکی عورت نے کتاب میں مردسے مزاحمت کا درس دیاپھر8عورت مارچ2016ء میں تحریک کی بنیاد رکھ دی گئی۔برطانوی ہند میں اپنے اہل خانہ سے دور رہنے والے فوجیوں کیلئے پہلی بار مقامی لوگوں کے جنس فروشی کے اڈے بنائے گئے۔

ایک عربی نے ولاگ میں کہاکہ60سال پہلے عورت کے مختصر لباس اور فحاشی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ مذہب اوراقدار تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد لوگ مرگئے اور عورتیں بے سہارا ہوئیں تو ماحول بدل گیا اوربیوہ عورتوں نے کاروبار کیلئے1925میں بازار کا رخ کیا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد عورتیں جنسی تسکین اور جنس فروشی کیلئے نکلیں، لباس مختصر اور فحاشی کے اڈے کھلے۔ پھر برائی کو برائی نہیں سمجھتے تھے۔

بیگم ثریاکا جدیدلباس افغانی لڑکیوںپرپاکستانی ماحول کو بدلنے میں1980ء کے اندر نمایاں تھا۔1978ء میں چیچہ وطنی کا ایک واپڈا اہلکار جو سعودی عرب میںمیٹر ریڈر بھرتی ہوکر آیا تھا تو اس نے سعودی گھروں میں فحش لباس کاانکشاف کیا تھا۔

https://zarbehaq.com/hindustan-aur-khaleej-mamalik-par-bartanvi-raj-tha

 

 

 

 

 

 

جبکہ1991رزمک وزیرستان پبلک ٹرانسپورٹ کے اندر ایک معمر شخص کو شکوہ کرتے ہوئے سنا کہ ہم پر کیا زمانہ آیا ہے کہ روایتی لباس چھوڑ کر عورتیں ڈنڈا بن کر گھروں میں گھومتی ہیں ،روک ٹوک نہیں ہے۔

وزیرستان سوشل میڈیا ”دلگاری غوڑہ” میں بچہ بازی سے متعلق بتایا کہ مروت و بنوں میں تو یہ بہت پہلے تھا اور اب وزیرستان میں بھی کم نہیں جو معیوب بھی نہیں رہا۔ چھوٹے بچوں سے زیادتی قانوناً جرم ہے اور اسلام نے بہت پہلے اسکے خلاف تعلیم دی۔PTMکے عالم زیب خان نے پوسٹ لگائی کہTTPیہ عمل کو ختم کرنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

سورہ عنکبوت28تا30میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

” اور لوط کو(بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی فحاشی کے مرتکب ہو کہ تم سے پہلے کسی نے بھی جہانوں میں یہ نہیں کیا۔ بیشک تم مردوں سے برائی کرتے ہو اور تم راستے کو منقطع کررہے ہو؟اور منکر فحاشی کیلئے اعلانیہ بلاتے ہو۔ پس قوم کے پاس اور کوئی جواب نہیں تھا مگر یہ کہ انہوں نے کہا کہ توہم پراللہ کاعذاب لاؤ، اگرآپ سچوں میں سے ہو۔ کہا: اے میرے رب ! میری مدد فرما ، فسادی قوم پر”۔

روس کے خلاف جہاد میں امریکہ نے پیسہ لگایا تھا اور مجاہدین قوم لوط کے عمل میں ملوث تھے۔ روس کو شکست کے بعد افغانستان قوم لوط کا مرکز بنا اور پھر طالبان آئے اور پھر بھی یہ عمل نہیں رکا تو نیٹو کے عذاب نے آلیا اب پختونخواہ میں قوم لوط کی اعلانیہ رپوٹنگ ہورہی ہے مگرقوم کو کوئی پروا نہیں ہے؟۔
حضرت لوط و حضرت ابراہیم حالات کی وجہ سے فرشتوں سے ڈر رہے تھے۔فرمایا: ” اور ابراہیم کے فرشتوں نے داخل ہوکر سلام کیا تو کہا کہ بیشک ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ فرشتوں نے کہا کہ ڈرو مت بیشک ہم تمہیں عالم لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔ کہا کہ مجھے بشارت دیتے ہو بڑھاپے میں تو کس چیز کی بشارت دیتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم حق کی بشارت دیتے ہیں، پس ناامید نہ ہونا۔ کہا کہ اپنے رب کی رحمت سے کون مایوس ہوتا ہے مگر گمراہ لوگ ! کہا کہ اے بھیجے ہوئے تو تمہارا کیا مقصد ہے؟۔ کہا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں مگر لوط کی آل ان سب کو نجات دیں گے مگر اس کی بیوی کو۔وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی۔ جب آل لوط کے پاس فرشتے آئے ۔ کہا کہ تم منکر قوم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم تیرے پاس وہ لائے ہیں جس میں یہ جھگڑتے ہیں اور ہم تیرے پاس حق لیکر آئے ہیں اور بیشک ہم سچے ہیں پس اپنے گھر والوں کو رات کے کسی پہر لیکر نکلواور آپ ان کے پیچھے چلو اور کو ئی بھی تم سے پیچھے متوجہ نہ ہو اور چلے جاؤ جیسے کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور ہم نے فیصلہ کردیا اس کی طرف کہ صبح ہوتے ہی ان کی چوتڑ کاٹ دی جائے گی”۔(سورہ الحجر آیات:52تا66)

ولاینال عہدی الظالمین

دو فرزنداسحاق و اسماعیل سورہ حجر میں غلام علیم کون؟۔قوم لوط کا عمل اور مایوسی بڑھ جائے تویہ بشارت بہت مفید ہے۔

برصغیر پاک وہند ، وزیرستان کے کلچر اور اسلام کو مربوط کریں تو جانوروں سے بدتر حالات ٹھیک ہوں۔ قرآن کی واضح تعلیم کو عام فہم بنانا لازم ہے۔ موٹی موٹی باتیں ذہن نشین ہوں توپھر جلد اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی ۔انشاء اللہ العزیز ۔

اسلام کی نشاة ثانیہ کا واضح خاکہ پہلے بھی مختلف سورتوں سے واضح کیا ہے۔مکمل سورہ ”ص” کو سمجھ کرچودہ طبق روشن کریں:

”ص اور قرآن نصیحت والا،بلکہ منکر عزت اور کم بختی میں ہیں… ہم نے ان سے پہلے زمانے میںکتنوں کو ہلاک کیاپھر اس وقت انہوں نے پکارا جب خلاصی کا وقت گزر چکا تھا… اور انہوں نے تعجب کیا کہ انہی میں کوئی ڈرانے والا آیااور کافروں نے کہا کہ یہ جھوٹا جادوگر ہے… کیا اس نے معبودوں کو ایک کردیا ہے بیشک یہ بہت عجیب بات ہے۔ پس ان میں سے سردار یہ کہتے ہوئے الگ ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ بیشک اس کے پس پردہ کوئی ایجنڈا ہے… ہم نے پچھلوں سے یہ نہیں سنا اور بیشک یہ کوئی بنائی ہوئی بات ہے… کیا ہم میں سے اس پر نصیحت اتاری گئی بلکہ ان کو تو میری نصیحت میں بھی شک ہے۔ بلکہ ابھی تک انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھا… یا انکے پاس تیرے زبردست دینے والے رب کی رحمت کے خزانے ہیں۔ یا انکے پاس آسمانوں ، زمین اور انکے درمیان کی حکومت ہے…تو اسباب کے ذریعے چڑھ جائیں گے… وہاں پرلشکرہے جس سے سارے گروہ شکست خوردہ ہیں… اس سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور عاد اور بساط دنیا پر لنگر انداز فرعون نے… اور ثمود اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ اور یہ وہ گروہ ہیں… ان میں ہرایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور عذاب تک جاپہنچے… یہ لوگ نہیں انتظار میں مگر ایک چیخ کے جس سے دیر نہیں لگے گی… اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں کاٹ ڈال یوم حساب سے پہلے انکی باتوں پر صبر کراور یاد کرو ہمارے بندے داؤد کو بیشک وہ ہاتھ والا تھا اور رجوع کرنے والا تھا… بیشک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کیا جو صبح و شام تسبیح کرتے تھے اور پرندے جمع ہوتے اور ہر ایک اس سے رجوع کرتااور ہم نے اسکے ملک کو مضبوط کیا اور اس کو حکمت اور فیصلہ کن تقریر کی صلاحیت دی… تو کیا تمہیں خبر ہے جھگڑے والے کی جب محراب کو پھاند آئے… جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو ان سے گھبرا یا…انہوں نے کہا کہ ڈرو مت ، ہم دوجھگڑنے والے ہیں ایک نے دوسرے پر زیادتی کی …پس ہمارے درمیان حق کیساتھ فیصلہ کر اور التواء مت ڈالو اور ہمیں سیدھی راہ کی رہنمائی کیجئے … یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس99دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہے تو اس نے کہا کہ یہ بھی مجھے دیںاور وہ مجھ سے گفتگو میں تگڑا ہے… کہا کہ تحقیق اس نے آپ پر ظلم کیا تمہاری دنبی کو اپنے دنبیوں کے ساتھ ملانے کا سوال کرکے …اور بیشک بہت سارے مشترک مالکان ایک دوسرے کیساتھ زیادتی کرتے ہیں بجز جوایمان اور درست اعمال والے ہیں اور وہ بہت کم ہیں… بس داؤد سمجھ گیا کہ ہم نے اس کو فتنے میں ڈالا اور اپنے رب سے معافی مانگ لی اور جھک کر گرپڑا اور توبہ کرلی…پس ہم نے اس کو وہ چیز معاف کردی اور اس کیلئے ہمارے پاس مرتبہ اور بہترین ٹھکانہ ہے… اے داؤد ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ،پس لوگوں میں حق کیساتھ فیصلہ کرو…پس خواہش کے پیچھے مت چلو تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے گمراہ کردے گی… بیشک جو لوگ اللہ کی راہ سے گمراہ ہوئے تو ان کیلئے سخت عذاب ہے جو حساب کے دن کو بھول گئے… اور ہم نے آسمان و زمین اور انکے درمیان میں جو پیدا کیا، باطل نہیں ہے… یہ کافر لوگوں کا گمان ہے تو ہلاکت ہے کافروں کیلئے آگ سے…کیا ہم نے ایمان اوردرست اعمال والے زمین میں فسادیوں کی طرح بنائے یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح بنایا… کتاب ہم نے تیری طرف نازل کی مبارک تاکہ اس کی آیات پر غور کریں اور تاکہ عقلمند نصیحت لیں اور ہم نے داؤد کو سلمان عطا کیا ، اچھا بندہ تھا…بیشک وہ رجوع کرنے والا تھا… جب اسکے سامنے تیزرو گھوڑے پیش کئے گئے تواس نے کہا کہ بیشک میں نے مال کی محبت کو میرے رب کے ذکر پر ترجیح دی یہاں تک کہ حجاب کا شکار ہوگیا…ان کو میرے پاس لوٹاؤ اور اس کی ٹانگوں اور گردن کو چھوتا رہا…اور ہم نے سلیمان کو فتنے میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر وہ رجوع ہوا… کہا کہ میرے رب مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کو نہیں ملے…بیشک تو بہت دینے والا ہے… پھر نے اس کیلئے ہوا کو مسخر کیا جو اس کے حکم سے چلتی تھی نرم جہاں بھی پہنچنا ہوتا تھااور شیاطین کو جو سب معمار اور غوطہ زن تھے…اور دوسروں کو بڑی زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا…پس یہ ہماری عطا ہے پس احسان کرو یا اپنے پاس رکھو حساب کے بغیر… اور ان کا ہمارے پاس بڑا مرتبہ اور بہترین ٹھکانہ ہے… اور ایوب کویاد کرو جب اس نے رب کو پکارا کہ شیطان نے چھوکر لگایا اور عذاب میں ڈالا…اپنے پاؤں مار اور یہ ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کا ہے… اور ہم نے ان کے اہل کو دیا اور ان جیسے اور بھی ساتھ کردئیے… ہماری طرف سے رحمت اور عقلمندوں کیلئے نشاندہی ہے… اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لے پس اس کو مار اور قسم کو مت توڑ … بیشک ہم نے اس کو صابر پایا… بہت اچھاوہ بندہ…وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا تھااور ہمارے بندوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کو یاد کروجوہاتھ اور آنکھوں والے تھے… بیشک ہم نے انہیں گھر کی یاد کیلئے خالص کردیا تھا… اور بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے… اور یاد کرو اسماعیل، یسع اور ذی الکفل کو وہ سب اچھے لوگ تھے… یہ قرآن یادہانی ہے اور بیشک پرہیز گاروں کیلئے اچھا ٹھکانہ ہے…دائمی باغات ہوں گے…سینسر سے ان کیلئے دروازے کھلیں گے… تکیہ لگائے بیٹھے طلب کریں گے بہت سارے پھل اور مشروبات… اور انکے پاس چھوٹے طیارے ہوں گے پیک قد کے برابر… یہ ہے وہ جس کا حساب کے دن کیلئے تمہارے ساتھ وعدہ ہے… بیشک یہ ہمارا رزق ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے… یہی ہے اور بیشک سرکشوں کیلئے برا ٹھکانہ ہے… جہنم ہے جس میں وہ پہنچیں گے… پس وہ برا جھولا ہے… یہی ہے پس اس کو چکھو سخت گرمی اور گھپ اندھیرے اور اس کی دیگر قسم کی مشکلات بھی ہوں گی … یہ لشکر ہے جس کو تمہارے ساتھ ٹھونس دیا گیا…ان کی خوش آمدید نہیں ہے وہ بھی دوزخ میں آرہے ہیں… وہ کہیں گے کہ تمیں خوش آمدید نہیں…تم نے یہ بلا ہم پر مسلط کردی ہے… جو بہت برا ٹھکانہ ہے… وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے تو اس کیلئے عذاب کو دوزخ میںڈبل کر… اور کہیں گے کہ ہمیں کیا ہوا ہے کہ جن کوہم سزا دیتے تھے جو اشرار میں سے تھے کہ ان کو نہیں دیکھتے…ہم نے انہیں تمسخر کے ساتھ پکڑا تھا یا ان سے ہم نے آنکھیں پھیر لی تھیں… بیشک یہ دوزخیوں کے آپس کا جھگڑا حق ہے… کہہ دو کہ بیشک میں ایک ڈرانے والا ہوں…اور اللہ کے سواکوئی معبود نہیں جو ایک قہار ہے… رب ہے آسمانوں اور زمین اور جواس کے درمیان میں ہے زبردست مغفرت والا… کہہ دو کہ یہ عظیم انقلاب کی خبر ہے، تم اس سے منہ پھیرے ہوئے ہو… مجھے ملاء اعلیٰ کے بارے میں علم نہیں تھاجب وہ جھگڑ رہے تھے مگر جو مجھے وحی کیا گیا مگر میں کھلا ڈرانے والا ہوں… جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں مٹی سے بشر بنانے والا ہوں…پس جب اس کو برابر کردوںاور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کیلئے سجدے میں گر پڑو… تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں… اس نے تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا… کہا کہ اے ابلیس کس چیز نے تمہیں سجدہ سے منع کیا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایاتو نے تکبر کیا یا تو بڑوں میں سے تھا… کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں… مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا کہا کہ نکل تم بیشک مردود ہو… تم پر لعنت ہو جزا ء کے دن تک… کہاکہ مجھے بعثت کے دن تک مہلت دے… کہا کہ تمہیں ایک معلوم وقت تک مہلت ہے…کہا کہ تمہاری عزت کی قسم کہ ان سب کو بہکادوں گامگر تمہارے مخلص بندوں کے… کہا کہ حق ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں … میں جہنم کو بھردوں گا تجھ سے اور جس نے تمہاری پیروی کی سب سے… کہہ دو کہ میں تم سے اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں… یہ قرآن نہیں ہے مگر تمہام جہاں والوں کیلئے نشاندہی… اور تم ضرور جان لوگے کچھ مدت کے بعد کہ اس نے جو بڑے انقلاب کی خبر دی ہے”۔

سورہ ص پر تبصرہ : عتیق گیلانی

انبیاء کے کچھ معاملات کا ذکر تاکہ معصوم اور مافوق الفطرت افرادکے انتظار میں مسلمان نہ بیٹھ جائیں، اللہ نے واضح کیا کہ یہ لوگ انبیاء کے منکر ہی نہیں ہیں بلکہ اللہ کی وحی کے منکر تھے۔ نبوت کا دروازہ بند اور قرآن محفوظ ہے بقول مولانا انور شاہ کشمیری اس میں معنوی تحریفات ہیں ۔ مفتی زرولی خان نے کہا ” مولانا انور شاہ کشمیری سید نہیں وزیرستان کے پٹھان تھے”۔ جس نے دیوبند میں پڑھا ، پڑھایا اور آخر میں کہا کہ” میں نے زندگی ضائع کردی”۔ کانیگرم اور دنیا بھر کے بے گناہوں کو سزا دی گئی اور دنیا کے یوم حساب میں جزا مل جائے گی۔ انشاء اللہ

جن کا تمسخر اڑایا گیااور اشرار سمجھا گیا تو مجرم ان کو اپنے ہاں نہ پائیںگے۔کچھ کے خلوص کا غلط فائدہ اٹھایا جاتا ہے جوخود ایک عذاب اور آزمائش سے گزرتے ہیں۔ دنیا میں اصل مجرم الگ کردئیے جائیں گے اورتوبہ نہیںکی تو آخرت الگ ہے۔

سورہ ص میں یوم الدین اور یوم البعث الگ الگ ہیں۔

قاصرات الطرف اتراب

کا تعلق بھی یوم الدین یوم حساب یعنی دنیا سے ہے۔ دائمی باغات کا معنی یہ ہے کہ لیز پر نہیں ہوں گی۔ متشابہ آیات اپنی نظیر وںسے سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن کھلی ہوئی عربی زبان میں ہے۔ گاڑی ، جہاز، دروازہ کھلنے کا جدید نظام نہیں تھا تو ہرچیز سے حورمراد لی گئی اور مولوی خود گمراہ ہوگیاتھا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

نوشتہ دیوارخصوصی شمارہ مئی 2026
ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ سورہ الحجر ان یضعن ثیابھن غیر متبرجات بزینة سورہ
قال ھٰولآء بناتی ان کنتم فاعلین سورہ الحجر71