رحمت کے دو حصوں پر ایمان
مئی 26, 2026
یاایھاالذین اٰمنوا اتقوااللہ واٰمنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ
”اے ایمان والو! اللہ سے خوف کھاؤ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ،اس نے اپنی رحمت سے تمہیں دو حصے عطا کردئیے ہیں”۔ (سورہ الحدیدآیت:29)
علامامت قیامت کا پہلا حصہ اول سے درمیان تک اور دوسرا حصہ درمیان سے آخر تک واضح ہے:
پہلا:رسول اللہ ۖ کا ظہور، شق قمر، پتھروں کا کلمہ پڑھنا، قرآن کا نزول ، صحابہ کرام کی فتوحات ، بنوامیہ و بنوعباس، خاندان غلاماں کا اقتدار ،چنگیز کی اولادکاقبول اسلام اورعرب کی جگہ اقتدار قائم کرنا یہ ساری قیامت کی چھوٹی علامات تھیں۔ نبیۖ کی بعثت، خلافت راشدہ کا سپر طاقتوں کو شکست، بنوامیہ وبنو عباس اور غلاموں کا اقتدار بڑی بات تھی اوررضیہ سلطانہ کا ہندوستان میں اقتدار بڑی بات تھی لیکن دور ہونے کی وجہ سے چھوٹی علامت ہیں۔
چھوٹی علامت کے بعد درمیانہ علامات ہیں۔ استاذمولانا محمد جامعہ بنوری ٹاؤن سے کوئی وہ سوال پوچھتا جو کتاب میں آرہا ہوتا تو کہتے ”کیماڑی ابھی آئی نہیں اور تین ہٹی پر شلوار اتار دی”۔ درمیانہ علامات پوری نہیں مگر دجال ، مہدی آخرزمان اور عیسیٰ کی پیشگوئی والے علماء ومشائخ، ستارہ شناش کیماڑی سے پہلے تین ہٹی پر شلواراتار رہے ہیں۔
امام احمد بن حنبل کو بنوعباس نے کوڑے مارے اور امام رضا مامون الرشید کے داماد و جانشین تھے۔
تاریخی کتب چھوڑ دو، پنکی کھلاڑ یوں کی فٹ بال ہے۔اگرسعد بن عبادہ پہلے خلیفہ بنتے توکئی نمبر1کہہ دیتے۔ علامہ شہر یار رضاعابدی اتحاد کی بات پر علامہ جواد نقوی کو گالیاں دیتا ہے لیکن اتحاد کی بنیاد تو امام خمینی نے رکھی تو انکے آگے دم اٹھاتاہے؟۔
مہدی غائب کا نائب عثمان عمری اور دوسرا محمد بن عثمان عمری تھا۔ فاطمی خلافت پر ائمہ اہلبیت نے سنی خلفاء کو ترجیح دی۔ فاطمی رافضی نہیں سنی کے پیچھے نماز پڑھتے۔ امامت پر ان کا اختلاف مسلمانوں اور قادیانیوں جیساتھا لیکن سنی ان میں برج تھے۔ جو نہ اسماعیلی کے دشمن تھے اور نہ اثنا عشریہ کے لیکن جب امام خمینی نے امام کا لفظ استعمال کیا تو اختلاف بالکل ختم ہونا چاہیے مگرپھر بھی کیوں نہیں ہوا؟۔
پنجاب بڑا صوبہ اور لاہور تبدیلیوں کا مرکز ہے۔ علماء کرام مینار پاکستان منٹو پارک میں بڑے فخر سے خطاب کرتے ہوئے سریلی آواز میں کہتے ہیں کہ ”لاہور عروس البلاد ہے”۔ مسند احمد میں ہے کہ
” عن انس بن مالک: قال رسول اللہ ۖ عسقلان احد العروسین ، یبعث منھا یوم القیامة سبعون الفا، لاحساب علیھم،و یبعث منھا خمسون الفا شہداء ،وفود الی اللہ ،وبہا صفوف الشہداء رؤوسھم مقطة فی ایدیھم تئج أوداجھم دمایقولون : ربنا آتنا ما وعدتنا علی رسلک انک لا تخلف المیعاد ، فیقول: صدق عبیدی اغسلوھم بنھر البیض ،فیخروجون منہ نقاء بیضا، فیسرحون فی الجنة حیث شاء وا ”۔
نبیۖ نے عسقلان کو عروس البلاد میں ایک قرار دیا۔ ۔ ۔ ۔
جس میں70ہزار کا حساب نہیں ہوگا۔50ہزار شہداء ہونگے اوراللہ کی طرف آئیں گے۔ شہداء نے اپنے سروں کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہوگا اور جسموں سے خون بہہ رہا ہوگا۔ کہیں گے اے اللہ جو رسولوں کیساتھ وعدہ کیا تھا یعنی شہداء جنت میں جائیں گے تو ہمارے ساتھ وعدہ پورا کریں بیشک آپ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ پس کہے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا ،اس کو سفید نہر میں غسل دو تو وہ وہاں سے بالکل صاف ستھرے نکل آئیں گے پھر جنت میں گھومیں گے جیسے چاہیں” ۔
غزہ کے غازی اور شہداء اسرائیل نے مارے۔ وزیرستان میں مسلمان مسلمان، پختون پختون اور جان سے عزیز مہمان کو مارہاہے۔لوگ متنفر ہیں۔ کراچی میں لسانی جنگ تھی لیکن قبائل اور پختونخواہ میں تو نہ روسی ہے، نہ امریکی، نہ یہودی، نہ ہندو ۔
ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس
”لوگوں میں فساد برپا ہوگیا خشکی اور پانی میں بسبب ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے”۔نبی اکرم ۖ نے فرمایاکہ
” اس الامر کا پہلا معاملہ نبوت و رحمت ہے۔ پھر خلافت و رحمت ہے۔ پھر بادشاہت و رحمت ہے ۔ پھر امارت و رحمت ہے۔ پھر چال چلیں گے گدھوں کی چال۔ پس تم پر جہاد فرض ہے اور افضل جہاد الرباط ہے اور تمہارا افضل رباط عسقلان ہے”۔
اس حدیث سے مختلف ادوار کیساتھ رحمت کا ذکر ہے اور آخر میں گدھوں کی چال کا ذکر ہے اور ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ ”گدھے کی محبت لات مارنا ہے”۔ حکمرانوں اور باثرطبقات کے اقدامات اگر خلوص پر مبنی ہوتے ہیں تب بھی نقصان پہنچتا ہے اور گدھوں کے اقدام سے بالکل معاملہ واضح ہے۔
دوسرا: اول سے درمیان تک قیامت کا سلسلہ نبیۖ سے موجودہ دور تک خلافت، امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے ادوار ہیں اور پھر طرز نبوت کی خلافت قائم ہوگی اور اس کا تعلق درمیانہ زمانے سے ہوگا۔ پھر اسکے بعد قیامت تک یہ سلسلہ چلے گا اور بالکل آخر میں امت محمدیہ کا آخری امیرہوگا اور حضرت عیسیٰ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اوردجال اکبر کو قتل کریں گے۔ اور یاجوج ماجوج نکل آئیں گے۔ جب ہم کسی کے کہنے پر خلائی مخلوق کو اترتے ہوئے مان سکتے ہیں تو یاجوج ماجوج کی خبر میں کیا حرج ہے؟۔
جاویداحمد غامدی نے قرآن و احادیث کی واضح پیشگوئیوں کو رد کرتے ہوئے قرآن کے نام پر نوجوانوں میں مایوسی پھیلائی ہے کہ مسلمان پھر قیامت تک اقتدار میں نہیں آسکتے۔ امریکہ ، چین ، یورپ اور ہندوستان کے کچھ حضرت نوح کی وہ اولاد ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو اقتدار تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ حالانکہ نسل اور دین الگ الگ چیزیں ہیں۔ عرب مسلمان تھے اور نسل میں ترک چنگیز و ہلاکو خان نے شکست دی اور پھر اللہ نے چنگیز کی اولاد کو مسلمان کردیا تھا۔ جاوید احمد غامدی کو اصل مسئلہ اسلام سے ہے۔ مثلاً اگر حضرت غامدیہ کا ناجائز بچہ یزید کا ساتھ دیتا اور کہتا کہ ہماری ماں نبیۖ نے اسلام کی بنیاد پر سنگسار کردی ہے تو اپنی ماں کا انتقام نبیۖ کی اولاد سے لینا ہے تو کوئی بات ہوتی مگر غامدی شیطان کی طرح اسلام سے انتقام لینے میں لگاہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ بیچارے پر رحم فرمائے۔
مفتی رفیع عثمانی نے اپنی کتاب ”علامات قیامت اور نزول مسیح” میں تین قسم کی علامات کا ذکر کیااور لکھا نبیۖ نے فرمایا کہ ” دجال سے زیادہ بدتر حکمران اور لیڈر ہوں گے”۔ ظاہر ہے کہ دجال درمیانہ زمانے میں نہیں آخرمیں ہوگا۔ طالبان کو حکمران اور لیڈرکیخلاف خود کش حملوں کے فتوے دئیے گئے۔ جس کی وجہ سے فساد اور قتل وغارت کا سلسلہ ا بھی جاری ہے۔ لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا پہلے ملاؤں کے فتوے پر جہاد شروع کیا گیا اور پھر یوٹرن لیا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کے آئینہ میں” کے اندر علماء ،ائمہ مساجد اور دنیا اور حکمرانوں کیساتھ ملنے والے علماء کی نشاندہی ہے۔ شیعہ امام مہدی غائب کے انتظار میں ہیں۔ امریکہ ایران کو ملیامیٹ کرتا لیکن حافظ سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ سے بچانے میں کردار ادا کیا جس پر ایرانی قوم نے پاکستان کا دل سے شکریہ ادا کیا۔
محسن داوڑ سابقMNAشمالی وزیرستان قائدPTMکہتا ہے کہ حافظ گل بہادر اور حافظ عاصم منیر ایک ہیں؟۔حالانکہ اگر موقع ملے تو ایک دوسرے کو قتل کریں۔پہلے طالبان نے شمالی وزیرستان سے ڈاکوؤں کا خاتمہ کیا تو دوبئی میں بھی شوق سے وہ ویڈیوز دیکھے جارہے تھے۔ اگر بدر وحنین کے صحابہ کرام میں بھی جنگ ہوسکتی ہے توموجودہ دور کے لوگوں کی کیاحیثیت ہے؟۔
نبی ۖ نے فرمایا کہ وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جسکے اول میں میں ہوں ، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ لیکن درمیان میں کج رو لوگ ہونگے۔ مہدی کے بعد11مہدی ہیں جن میں پہلے5افراد امام حسن کی اولاد سے ہونگے پھر5افراد امام حسین کی اولاد سے ہونگے اور آخری فرد پھر حسن کی اولاد سے ہوگا۔ (مظاہر حق شرح مشکوٰة ) سنی شیعہ کتب میں ان بارہ کا ذکر ہے لیکن عوام کے سامنے نہیں لایا جارہاہے۔
اللہ نے امت کے دونوں حصوں میں رحمت کا ذکر واضح فرمایا:
” اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ جس نے تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے دئیے ہیں اور اس نے تمہارے لئے نور بنایا جسکے ذریعے تم چلتے ہو اور تمہاری مغفرت کردے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔ تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے۔ اور فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہے دیدے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے”۔
سورہ الحدید کی یہ آخری آیات جاوید غامدی کے منہ پر تھپڑ ہیں۔ الحدید آیت10میں صحابہ فتح مکہ سے پہلے و بعد والے۔ پہلوں کا زیادہ بڑا درجہ اور دونوں کیساتھ نیک جزا کا وعدہ ہے۔ تاکہ غلیظ لوگ فرقہ پرستی نہ کریں ۔ ۔ ۔
پھردرمیانہ زمانہ مخاطب کیاکہ
”کیا ایمان والوں کیلئے ابھی وقت نہیں کہ انکے دل اللہ کے ذکر اور جو اللہ نے حق نازل کیا کیلئے جھکیں؟ اور ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جن کو کتاب دی گئی اور پھر ان پر بہت سارا وقت گزر گیا۔تو انکے دل سخت ہوگئے اور ان میں اکثریت فاسقوں کی تھی اور جان لو کہ بیشک اللہ زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے تمہارے لئے اپنی آیات کو واضح کردیا تاکہ تم عقل سے کام لو۔اوربیشک جو تصدیق کرنے والے مردہیں اورتصدیق کرنے والی عورتیں ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسنہ دیا تو اللہ دگنا کرے گا ان کیلئے اور عزت والا بدلہ ہے اور جولوگ اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لائے تو یہی لوگ صدیقین اور شہداء ہیں اور ان کیلئے اپنے رب کے پاس ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے انکار کیا اور جھٹلایا ہماری آیات کو تو یہ جحیم والے ہیں۔ (سورہ الحدید:آیت16تا19)
شیخ الہندنے فرمایا
” زوال امت کے دو اسباب: قرآن سے دوری اور فرقہ پرستی”۔قرآن کی طرف متوجہ کرنے میں ان کے اصل جانشین مولانا عبیداللہ سندھیاور اتحادامت میں اصل جانشین مولانا محمدالیاس بانی تبلیغ اور حاجی محمد عثمان تھے۔ مولانا سیدمحمد یوسف بنوری، مفتی محمود اور دیگر مکاتب فکر کے علماء حق کے انتقال سے علم ، اخلاص اورجرأت کی بیخ کنی ہوگئی۔ حاجی عثمان کے بعد اکابرعلماء ومفتیان کی بدلتی ہوئی حالت دیکھی۔
ــــــــــ
تنبؤات ابن مسعود
عربی چینل :ا بن مسعود سے مہدی کی منقول پیشگوئیاں:
” عبداللہ بن مسعود اولین صحابہ میں جن سے ظہور مہدی سے متعلق معرفت میں گہری دلچسپی ثابت ہے۔ احادیث مہدی اور اشراطِ الساعةکی کتب میں آپ معتبر حوالہ ہیں۔فرمایا کہ مہدی (نبی ۖ) کی ذریت سے ہوں گے، ان کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہوگا جب فتنے کثرت سے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان حق ضائع ہو چکا ہوگا۔ مہدی تب تک ظاہر نہ ہوں گے جب تک افراتفری عام نہ ہو اور ذاتی مفادات معاشرتی مفادات پر غالب نہ آ جائیں۔ وہ ابتدا ء میں مظلوم اورممکن ہے کہ لوگ ان کی دعوت کا انکار کریں اور ان کی شخصیت پر شک و شبہ کا اظہار کریں یہاں تک کہ انکے قریبی لوگ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہے کہ مہدی کسی ایسے زمانے میں ظاہر نہ ہوں گے جہاں امن و انصاف ہو، بلکہ تب آئیں گے جب حق (پر چلنا) بوجھ ہو گا اور دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی۔ابن مسعود نے کہا کہ مہدی آغاز تنہا کریں گے اور ابتدا میں حامیوں کی تعداد بہت کم ہوگی یہاں تک کہ حق خود کو ثابت کر دے گا اور دھیرے دھیرے لوگوں کو اپنی طرف راغب کر لے گا۔ حامیوں کی کم تعداد اور انکے اثر و رسوخ کی وسعت کے درمیان یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ مہدی کی اصل قوت تعداد میں نہیںبلکہ اس ”حق” میں ہے جو وہ تھامے ہوئے ہوں گے۔
ابن مسعود نے بیان کیا کہ مہدی عادل، کسی کو قانون سے تجاوز کی اجازت نہیں دیں گے، چاہے اس کا مرتبہ بلندیا قوت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ عدل انکے دورِ حکومت کا پیمانہ ہوگا، حقداروں کو حقوق واپس دلائیں گے اور طویل راستے پر صبر کرنے والوں کو نوازیں گے، مہدی کو ہر طرف سے دشمنوں کا سامناہو گا، جو دشمنی کا اعلان کریں گے اور پوشیدہ دشمن جو اندھیروں میں سازشیں کریں گے۔ مہدی اللہ کی پناہ میں ایمان کے مالک اور دنیا سے بے رغبت (زاہد) ہوں گے۔ وہ دنیا کو اپنی طرف مائل نہیں کریں گے بلکہ حق کو ہی اپنا واحد مرجع (Reference)بنائیں گے۔ ان کا ظہور ذاتی مفادات یا اقتدار کیلئے نہیں ہوگا بلکہ جامع اصلاحی منصوبہ ہوگا جو دنیا کا توازن بحال کرے گا۔ فتنوں سے بھرا زمانہ ہوگا۔ جنگیں، تصادم، امت کی کمزوری ، قیادتوں میں بگاڑ ہوگا۔ لوگ عدل سے غافل حقیقت پر مفاد کو ترجیح دیں گے۔ اس تاریکی میں مہدی لوگوں کیلئے راستے کو روشن کریں گے ،ان کا کردار کھوئی ہوئی اقدار کی بحالی اور مظلوم سے ظلم کو ختم کرنا ہوگا۔
یہ بھی ذکر کیا کہ انسانیت کی مجموعی عمر کے مقابلے میں مہدی کی حکومت کا دورانیہ نسبتاً مختصر ہوگا، لیکن وہ دنیا پر دائمی اثرات چھوڑیں گے جو اقدار بوئیں گے وہ باقی رہیں گی اور جو عدل وہ قائم کریں گے وہ انسانی تاریخ کا ناقابلِ فراموش معیار بن جائے گا۔ ان کا ظہور فساد کے دور کے خاتمے اور ایک نئے عہد کی ابتدا کی علامت ہوگا جس میں حق کا بول بالا ہوگا۔
یہ بھی واضح کیا کہ لوگ ابتدا میں انکے ظہور کی اہمیت کو نہیں سمجھ پائیں گے، کچھ شک ، کچھ مسترد اور کچھ مذاق اڑائیں گے۔ یہ اس آزمائش کا حصہ ہے جس سے مہدی اوروہ لوگ یکساں طور پر گزریں گے۔ آزمائش اور رد کیا جانا ”تمکین” (اقتدار و غلبہ) کی راہ کا حصہ ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو حق کے علمبردار کے راستے کو آسان اور آرام دہ راستوں سے ممتاز کرتی ہے اور مہدی مافوق الفطرت (Supernatural)ہیر و نہیں ہوں گے اور نہ بہت بڑی مادی قوت کے مالک ، بلکہ ان کی اصل طاقت عدل، ثبات اور ایمان میں ہوگی۔ ان کی طاقت بکھرے ہوئے معاشرے میں توازن پیدا کرنے اور وقت کیساتھ مٹ جانے والی اقدار کو بحال کرنے میں ہوگی۔ یہ اللہ کی حکمت کی عکاسی ہے کہ اس نے مہدی کو مناسب وقت اور حالات میں بھیجنے کا فیصلہ کیا، تاکہ شروع میں حامیوں کی کمی کے باوجود حق ایسی قوت بن جائے جس کا مقابلہ نہ کیا جا سکے۔
ابن مسعود نے کہا: مہدی صابر ، تکلیفیں برداشت کرنے اور سختیوں کے سامنے ڈٹنے والے ہوں گے۔ چیلنجز اور دباؤ کتنا ہی کیوں نہ بڑھ جائے، حق سے انحراف نہیں کریں گے۔ یہ صبر نصرت کی کنجی اور دعوت کے تسلسل کا سبب ہوگا، جو ثابت کرے گا کہ حق کو باقی رہنے کیلئے انسانی سہارے کی ضرورت نہیں بلکہ حق کیساتھ سچے دلوں کی ثابت قدمی درکار ہے۔ابن مسعود نے کہا کہ مہدی اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکومت کریں گے اور کسی فیصلے میں اللہ کی شریعت سے انحراف نہیں کریں گے، خواہ حالات کتنے کٹھن اور دباؤ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو۔ یہی ظالموں کی مخالفت میں اضافے کا سبب ہوگا کیونکہ مہدی سمجھوتہ کریں گے اور نہ باطل پر راضی ہوں گے۔ اسی سے مہدی کا لوگوں پر گہرا روحانی اثر ہوگا، وہ دلوں کو حق کی طرف موڑ دیں گے اور سخت خطرات کے وقت بھی نفوس میں اطمینان اور عدل کی روح پھونک دیں گے۔ یہ روحانی تاثیر حامیوں کی قلت کے باوجود حق کو استحکام بخشے گی اور حق کی قوت کے سامنے فساد اور کج روی زیادہ دیر نہیں ٹھہر پائے گی۔ اوریہ بھی واضح کیا کہ مہدی اصلاحی اقدامات کا آغاز چھوٹی چیزوں سے کریں گے پھر بڑی چیزوں تک لے جائیں گے۔ ہر حقدار کو اس کا حق دیں گے، تاکہ عدل کا تسلسل اور معاشرے کا استحکام یقینی ہو۔
انکے پاس اصلاح اور اقدار کی نئی ترتیب کا واضح وژن ہوگا، یہی چیز ان کی قیادت کو ماضی کی تمام قیادتوں سے ممتاز کرے گی۔ مہدی طاقت نہیں بلکہ حکمت کے ذریعے حکومت کرنے آئیں گے۔ وہ اپنی مرضی جبر سے نہیں بلکہ عدل اور اچھی نصیحت سے نافذ کریں گے اور دباؤ کے بغیر لوگوں کو حق پر قائل کرنے کی صلاحیت رکھیں گے۔ یہ عکاسی ہے کہ مہدی کی طاقت خود حق اور ان کی دعوت کی سچائی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ اسلحے یا تعداد میں۔ابن مسعود نے کہا کہ مہدی کا ظہور فساد و ظلم کے خاتمے اور عدل و مستحکم اقدار کی ابتدا کی علامت ہوگامگر یہ راستہ آسان نہیں بلکہ چیلنجز اور آزمائشوںکا ہوگااور انکے دور میں رہنے والے کیلئے نفسیاتی و روحانی تیاری ضروری ہے۔ مہدی صالح قائد کا نمونہ ،ہر عمل عدل واصلاح کا ہوگا۔ لوگوں کو اقتدار اور قیادت کا وہ تصور لوٹائیں گے جیسا اللہ چاہتا ہے۔
مہدیِ محض تاریخی یا افسانوی نہیں ،حقیقی اصلاحی منصوبہ ہیں جو حق، صبر اور عدل سے دنیا کا توازن بحال کرے گا۔ انکے بارے میں وہی فہم رکھنا چاہیے جو صحابہ سے مروی ہے۔ نصوص سے ہٹ کر اضافہ یا مفروضہ شامل نہیں کرنا چاہیے ۔ابن مسعود نے تاکید کی کہ مہدی انبیاء کی طرح معصوم نہیں لیکن وہ حق میں سچے، دباؤ کے سامنے ثابت قدم اور اللہ کے احکامات کے پابند ہوں گے۔ شروع میں انہیں شک اور انکار کا سامناہو گاکیونکہ حق اکثر ان کیلئے اجنبی ہوتا ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کے عادی ہو ں۔ آپ نے یہ کہا کہ مہدی عدل کو ایسا معیار بنا دیں گے جس سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور وہ حق کے قیام اور ظلم کے خاتمے کیلئے ہر ممکن راستہ اختیار کریں گے، چاہے قربانیاں اور نقصانات کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، کیونکہ حتمی مقصد زمین پر اللہ کا ترازو (انصاف)قائم کرنا ہے”۔
ــــــــــ
اُمہ الشریفة
مہدی کی ماں شریفہ اور ان کا عزم کمزور ہے، یہ ابن عربی کا قول ہے۔ نبی کریم ۖ سے آثارہیں کہ مہدی حسن بن علی بن ابی طالب کی نسل سے ہونگے اور ان کی والدہ حسین کی نسل سے ہوں گی۔ ہم یہ معاملہ دو جہتوں پر محمول کر سکتے ہیں۔
پہلی جہت:
شاید عبداللہ محض کی نسل سے ہو، جن کی زوجہ فاطمہ بنت الحسین ۔اسی وجہ سے شاید کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ ادریس بن عبداللہ المحض بن حسن المثنی بن حسن بن علی بن ابی طالب نے مراکش کا سفر کیا اور خروج المغرب سے ہوگا۔
دوسرا احتمال:
اپنی سگی والدہ جنہوں نے انہیں جنم دیا بطن میں اٹھایا، وہ سادات اشراف میں سے ہوں، چاہے اس بات کو جانتے ہوں یا نہیںکہ حسین بن علی بن ابی طالب کی نسل سے شریف خاتون ہیں۔کچھ وجوہات سے بعض سادات نے اپنے شجرے بدل دئیے اسلئے کہ کہیں سادات کو عزت ملتی تھی تو کہیں ان کیلئے یہ نسبت موت کا ذریعہ بنتی تھی۔والسلام علیکم
تبصرہ:
اقبال شاہ نے بتایاتھا کہ خاتون کو شجرہ یاد تھا ۔ ممکنہ حسینی سادات ہیں۔ شجرہ بدلنے کی2وجوہات تھیں۔ ایک انگریز کیلئے7افراد کا کرائے پر شہید کرنا جس میں2خاص شامل تھے۔ پھر بدلے میں اپنے دو بھائی اور ایک سسر کوشہید کروانا مجرمانہ فعل تھا جس کے بعد دشمنی جاری رہنے کا ڈر تھا۔ دوسرا وزیرستان کے ڈومیسائل کے بغیر خان کی نوکری پر ناجائز قبضہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ اسلئے بادین زئی محسود یوسف خیل کے کزن سفیان خیل بننے کی ساز باز کی۔کرائے کے قاتل اور کسی اپنے کو قتل کیلئے آگے کرنا کل بھی غلط تھا اور آج بھی غلط ہے اور آئندہ بھی غلط ہوگا۔
فقال ربنا بٰعد اسفارنا و ظلموا انفسھم فجعلنٰھم احادیث ومزّقنٰھم کل ممزقٍ ان فی ذٰلک لاٰیٰت لکل صبارٍ شکورٍO
”پس کہا کہ ہمارے رب ہماری دستاویز میں دوری ڈال اور خودپر ظلم کیا تو ہم نے ان کو قصے بنا دیا اور انہیں پھاڑدیا ہرطرح سے اور اس میں ہر زیادہ صابر شاکر کیلئے بڑی نشانیاں ہیں”۔ (سورہ سبا:19)
سورہ سبا کے متشابہات کی نظیر ملی۔ اسفار کی دوری متشابہ اورشجرہ یا ڈومیسائل کی تبدیلی نظیر ۔خالد بن ولید کے والد ولید بن مغیرہ قریش نہ تھا ، تبدیلی نسل پر سورہ قلم میں ”زنیم” کہا گیا۔ انگریز کیلئےUSEسیدکرائے پرقتل چھپی سازش قبائلی غیرت نہیںہے ۔ اوچھے ہتھکنڈے اورمجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب ہونگی۔ انشاء اللہ ۔DNAکی وجہ سےUSELESSمافیا کو حس نہیں؟۔ سوال اٹھانے پر کہا کہ ہمارا نام آیا تو جرگہ ہوگا۔
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
زبان چلنے لگی لب کشائی کرنے لگے
نصیب بگڑا تو گونگے برائی کرنے لگے
ہمارے قد کے برابر نہ آسکے جو لوگ
ہمارے پاؤں کے نیچے کھدائی کرنے لگے
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ