ولاتبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ سورہ الحجر ان یضعن ثیابھن غیر متبرجات بزینة سورہ
مئی 26, 2026
علامہ شامی، مفتی شفیع نے غلط فقہ و تفسیر لکھ دی اور مدارس پھلاتے ہیں تو درست پیغام کیسے پہنچے گا؟۔ پاکستانی آئین کے مطابق اعلیٰ عدلیہ جسٹس عائشہ ملک نے فیصلہ دیا اور2007ء سے2026ء تک میں نے چار کتابوں ، کئی سارے اخباری مضامین ، ویڈیوز اور بالمشافہہ ملاقاتوں کے ذریعے طلاق کے واضح مسائل کو بہت وضاحتوں کیساتھ سمجھایا لیکن پھر بھی حلالہ کی لعنت سے باز نہیں آتے ہیں۔
معاشرے میں اسلام کو اتنا اجنبی بنادیا گیا ہے کہ قرآن و حدیث اور مسلک حنفی کے اصول فقہ کے مطابق دلائل اور اکابر علماء کی حمایت کے باوجود بھی لوگ حلالہ کے نام پر عزتیں لٹوائے جارہے ہیں۔
ایک جگہ فرمایا:
وقرن فی بیوتکن و لا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولٰی
اور سکون سے رہو اپنے گھروں میں اور جاہلیت اولیٰ کی طرح اپنے حسن النسا ء کی نمائش کرتے ہوئے مت پھرو۔
دوسری جگہ فرمایا:
فلیس علیھن ان یضعن ثیابھن غیر متبرجاتٍ بزینةٍ
پس ان کیلئے کوئی گناہ نہیںکہ اپنے کپڑے اتاردیں بغیر دکھائے زینت کے۔
دورجاہلیت میں ایک عورت کے دس دس شوہر بھی ہوتے تھے اور بیشمار لوگوں سے جنسی تعلقات کو بھی جائز سمجھا جاتا تھااور اعلیٰ خاندانوں سے حمل کی تلاش میں بھی کم نسل رہتے تھے اسلئے عورتیں اپنی حسن النساء کی نمائش کرتی تھیں۔جب بازاروں، پارکوںاور مختلف مقامات پر نکلنے والی عورتوں کیلئے تصور ہوگا کہ قرآن کی خلاف ورزی کررہی ہیں تو لوگ اسلام کے نفاذ نہیں قیامت کا انتظار کریںگے اور کہا جائے گا کہ قرآن میں اجتہاد کا راستہ کھلا ہے اور یہ احکام بدل کر اجتہاد کے نام پر تحریف کر ڈالو اور پتھر کے زمانے میں عوام کو مت دھکیلو۔ لیکن یہ پتہ نہیں کہ پتھروں کا زمانہ موجودہ دور سے بہت بدتر تھا۔ آج یہ ایڈوانس دور کہلاتا ہے لیکن جب اس ویڈیو میںلڑکی کا شرٹ کاٹا تو اس کو خدشہ ہوا کہ حسن النساء ننگے ہوجائیں گے تو اس نے پریشان ہوکر ہاتھ رکھ لیا۔یہ قرآن کے حکم کی اہمیت کو واضح کرتا ہے لیکن علماء نے قرآن کے حکم کا مطلب بدل دیا۔
امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی غیر فطری جنسی عمل کے سخت خلاف ہے۔ جب امریکہ میں جرائم پیشہ عورتوں کو ننگے لباس میں پولیس پکڑتی تھی تو پھر ان سے بعض پولیس والوں نے زیادتی بھی کی اور شکایت پر عدالت میں ان کو سزائیں بھی دی گئیں ۔ عورت مارچ والے جبری جنسی زیادتیوں کیخلاف امریکہ میں بہت انوکھا فحش احتجاج کرتی ہیں۔ اسلام نے عورتوں کیلئے دو اقسام کے لباس واضح کئے ہیں۔ ایک کو تو غیرمسلم اور مغرب آسانی سے قبول کرلیںگے اور ان پر جبر نہیں ہے اور دوسرے سے معاشرے میں شرافت کا توازن قائم ہوتا ہے۔ جبر و زبردستی سے نہیں۔ عورت اپنی عزت کا احساس کرتی ہے۔ اگر ایک خوشحال معاشرہ ہوگا تو پھر کسی غریب کی بچی کی عزت برائے فروخت نہیں ہوگی۔ اب تو جبری اڈے چلانے کا انکشاف ہواہے۔
عورتوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی نہیں تھی بلکہ حسن النساء جاہلیت کی طرح دکھاتی پھرنے سے منع کیا گیا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ نے جنگ کی قیادت کی ۔ حضرت زینب بنت علی نے کربلا کے بعد قافلے کی قیادت کی۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ قائم رکھنے کیلئے ابوسفیان حضرت فاطمہ کے پاس گئے۔
مدارس کے طلبہ لڑکوں کے پاس حسن النساء ہیں اور نہ ان کا پردہ ہے ۔ شہوت سے تومفتی عزیز کو بھی دیکھنا اور چھونا جائز نہیں ہے ۔ اگرعلماء قرآن کی صحیح تفسیر کو نہ مانیں توپھر حکومت کریک ڈاؤن بھی کرسکتی ہے۔خاتون نے مجادلہ کیا تو سوہ مجادلہ نازل ہوئی اور جب عورت مفتی سے کہے گی کہ میرا حلالہ کردو توکیا بدکردار اور گمراہ لوگ چھوڑدیں گے؟۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مئی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ