”دو ندیاں” جہاں امام مہدی کی جگہ ہے
جون 4, 2026
اس عربی چینل نے گویا وزیرستان کے مختلف مقامات سے ڈرون کے ذریعے تصاویر لی ہیں۔ وزیرستان کے اونچے پہاڑ کا نام ”پیر غر(پریغال)” یعنی ” پیرکا پہاڑ” ہے۔
کراچی میں ”دو دریا ” سمندر جہاں ملیر اور لیاری ندی کا ملاپ تھا۔ سمندر، دریا، ندی اور نالے کو عربی میں بحر کہتے ہیں۔
مرج البحرین یلتقیٰنOبینھما برزخ لایبغیٰن O
”اس نے دو سمندر ملادئیے جو تسلسل سے ملتے ہیں ،ان میں برزخ ہے ایکدوسرے پر تجاوز نہیں کرتے”۔ الرحمن19،20
آیت کا آئینہ:
کراچی میں مہاجر ، سندھی، پختون، پنجابی، بلوچ وغیرہ ایکدوسرے کو نیست ونابود کرنا چھوڑ دیں۔ پاکستان کی قومی زبان کا سب سے بڑا شہر کراچی لیاری و ملیر ندی کے برزخ میں ہے۔ یہ پاکستان کا دارالخلافہ تھا اور انقلاب کا بھی دارالخلافہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارا کانیگرم شہر بھی دو ندیوں کے درمیان میں ہے اور گومل کا مکان بھی دو نالوں ہی کے درمیان میں ہے جہاں دہشتگردوں نے13افراد کو شہید کیا تھا۔جٹہ قلعہ بھی دو نالوں کے درمیان تھا۔ پنجاب پانچ دریاؤں کا نقشہ بھی دریاؤں اور نہروں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ستلج، راوی، چناب ، جہلم اوردریائے سندھ۔نہروں کا الگ سلسلہ۔
سورہ فرقان انقلاب کا آئینہ
ارایت من اتخذ الھہ ھواہ افانت تکون علیہ وکیلاO
” کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا خدا بنارکھا ہے کیا آپ اس پر وکیل ہیں” ۔
سورہ فرقان کی یہ آیت43واضح کرتی ہے کہ مسلمان اپنے نفسانی خواہش کو اپنا معبود نہیں بناسکتا ہے۔16صفحات کے چھوٹے سے رسالہ ”دعوت فکر” کی تحریر میں نے اپنے ساتھی کو سنائی تو میرے والد پیر مقیم شاہ نے سن لی اور گھر میں بہت خوشی کا اظہار کیا کہ یہ دنیا کو ہلاکر رکھ دے گا۔ اس میں نفسانی خواہش کو معبود بنانے پر بات تھی اور ڈاکٹر اسرار احمد کے ہاں عالمی خلافت کانفرنس میں یہی بات میں نے کی تھی۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ قرآن کو قصے کہانیوں کی کتاب سمجھتے ہیں۔ قرآن آئینہ ہے جہاں سے ہم اپنا اور اپنے مخالفین کا چہرہ سب کو دکھا سکتے ہیں۔ اس آئینہ میںہر ایک اپنی شکل دیکھ سکتاہے۔
فلا تطع الکافرین و جاھدھم بہ جھادًا کبیرًاOوھوالذی مرج البحرین ھٰذا عذب فرات و ھٰذا ملح اُجاج و جعل بینھما برزخًا و حجرًا محجورًاOو ھوالذی خلق من الماء بشرًا فجعلہ نسبًا و صھرًا وکان ربک قدیرًاOو یعبدون من دون اللہ مالا ینفعھم و لایضرھم و کان الکافر علی ربہ ظھیرًاOو ما ارسلناک الا مبشرًا و نذیرًاOقل مااسالکم علیہ من اجرٍ الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلًاOوتوکل علی الحی الذی لا یموت و سبح بحمدہ و کفٰی بہ بذنوب عبادہ خبیرًاOالذی خلق السماوات والارض و مابینھما فی ستة ایامٍ ثم استوی علی العرش الرحمٰن فاسال بہ خبیرًاO
ترجمہ :”اور کافروں کی اطاعت مت کرو۔اور ان کیساتھ جہاد کرو بہت بڑا جہاد۔ وہی جس نے بحروں کو ملادیا ۔یہ میٹھا خوشگوار ہے اور یہ کھارا کڑوا ہے۔ اور ان کے درمیان برزخ اور مبہوت العقل آڑہے۔ وہ اللہ جس نے پانی سے بشر کو بنادیا اور اس کیلئے نسب اور دامادی کا رشتہ قائم کیااور تیرا رب قادر ہے۔ اور وہ عبادت کرتے ہیں اللہ کے علاوہ جو ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور کافر نے اپنے رب کو پشت پھیری ہوئی ہے اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر بشارت دینے والا اور ڈرانے والا۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس پرکوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر کہ جو چاہے کہ اس کے ذریعے رب تک پہنچنے کی راہ اپنائے اور توکل کرے زندہ پر جو مرتا نہیں ہے اور اس کی پاکی بیان کرو اس کی تعریف کیساتھ، وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونے کیلئے کافی ہے۔ اس نے آسمانوں، زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تخلیق کی چھ دنوں میں پھر عرش پر استواء کیا ۔رحمن کا اس سے پوچھ جو اس کی خبر رکھتا ہے۔(فرقان:52تا59)
ان آیات میں جہاد کبیر کا ذکر ہے اور بشر کو پانی سے پیدا کیا اور ماں باپ کے نطفہ امشاج کے درمیان بھی ملاپ، کشمکش اور حد سے تجاوز نہ کرنے کا ایک نمونہ ہوتا ہے جس کو آج کا سائنس تسلیم کرتاہے۔ نسب اور دامادی کے رشتے کا سلسلہ عرب میں اسماعیل کے بعد قریش اور بنوخزاعہ کے درمیان بھی چلا۔ قریش کو ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے ارد گرد سے بے دخل کیا گیا تھا۔پھر بنوخزاعہ سے دامادی کے رشتے کے سبب واپس آگئے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انقلابی بننا تھا اور غلطی سے قبطی کو قتل کیا تھا تو دامادی کے رشتے سے ٹھکانہ مل گیا تھا۔
میرے ننھیال کے جداعلیٰ سید سبحان شاہ کا تعلق ٹانک سے تھا اور اس کا ایک بیٹا کانیگرم کے خان سید دل بند شاہ کا داماد تھا اور تین بیٹے میرے پردادا سید حسن شاہ کے داماد تھے۔ میرے سوتیلے ماموں محمود شاہ کی ماںسیداکبر کی بیٹی تھی جس نے اپنی ماں و نانی کے توسط سے خانی کے حصول کیلئے اپنی جعلی شناخت یوسف خیل بادین زئی محسودکے جعلی کزن سفیان خیل سے بنائی اور جب سیداکبر اور صنوبر شاہ نے انگریز کیلئے قتل کئے تو اپنے سسر اور بھائیوں سید دل بند شاہ، مظفر شاہ اور منور شاہ کو جرگہ میں بھیج دیا جہاں وہ قتل کردئیے گئے اسلئے کہ وزیر وں کے7افراد شہید کروائے تھے جن میں دو خاص انقلابی شامل تھے۔
صنوبر شاہ کے قتل کو دوسرا رنگ دیا گیااور ممکنہ طور پر کرائے کے محسود قاتل سے بدلہ لینے کیلئے محسود عورت سے شادی کرکے اس کو جھوٹا الزام لگاکر قتل کیا گیا اورپھر اس کے بدلے میں محمود شاہ کو بھی قتل کردیا گیا۔ سبحان شاہ کا شجرہ سیدکبیر سے ملتا تو پھر اس کے بیٹوں کی قبریں کیوں دوسری جگہ ہوتیں؟۔ قبروں اور شناخت کے پیچھے ایک دشمنی کا مسئلہ تھا اور دوسرا خانی پر قبضے کا۔ پھر مظفر شاہ کے4بیٹوں کو جائیداد کا آدھے سے بھی چار بیٹیوں کی طرح2افراد پر شمار کرنا اور صنوبر شاہ کے3بیٹے کو3پر شمار کرنا دو ا پنجہ کی تقسیم تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔ پھر بعد میں بھی ان کی زمینوں پر قبضہ کیا۔گدھا نمک کی کان میں نمک بنتا ہے لیکن سبحان شاہ کے بیٹوں سے نسل در نسل سسر اور دمادی کے رشتوں کا سلسلہ بعد کی نسلوں میں بھی ماشاء اللہ جاری ہے۔
شہر یار اور اسفندیار قاتل بھیجتے ہیں یا ان کو فرنٹ لائن کے طور پر ٹریک ریکارڈ کی طرح استعمال کیا جاتا ہے پھر مجھ پر زور پر پڑتا ہے کہ واقعہ میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کی بات اپنی جگہ لیکن قاتل بھیجنا ہی شوٹ کرنے کیلئے کافی ہے لیکن پہلے اجداد نے ان کے اجداد کو پالا تھا اور ان کی اولاد پھر ہمارے ذمہ لگ جائے تو فائدہ کیا؟۔ عربی میں حجر عقل کو کہتے ہیں اور محجور عقل سے پیدل معذور کو کہتے ہیں۔ حجر محجورًا کے معنی اس آیت میں کم عقلی اور دامادی کے امتزاج کی وجہ سے چھوڑنے کے بنتے ہیں۔ لیکن انقلاب کی آمد کے بعد یا قیامت میں پھر یہ رعایت نہیں چلتی۔ چنانچہ آیت22الفرقان میں اس مجرم کے چیخ وپکار کا ذکر ہے کہ وہ رعایت مانگے گا کہ ذہنی معذور قرار دیا جائے۔ دنیا بھر کے سمندروں، دریاؤں ، ندی اور نالوں سے لیکر نطفہ امشاج سے بننے والی نسلوں تک کا وسیع آئینہ قرآن کی آیات میں فوکس کرکے دیکھ سکتے ہیں۔ مرج البحرین دونوں کا آمنا سامنا اور یلتقیان جھگڑنے کے معنی میں بھی آتے ہیں اور لایبغیان اپنی حدوں سے تجاوز نہیں کرتے۔
دوالگ الگ نسب کے لوگوں میںرشتہ دار ی کے باوجود بھی نوک جھونک رہتی ہے لڑائی جھگڑے اور قتال تک ہوتا ہے لیکن پھر بھی رشتہ داری کا لحاظ رکھ کر ایک حد سے تجاوز نہیں کرتے۔
مولوی کہتا ہے کہ حضرت علی سے یہودی نے کہا کہ آپ کی داڑھی گھنی ہے میری ہلکی تو اس کا قرآن میں کہاں ذکر ہے تو علی نے جواب دیا کہ ”قرآن ہے کہ خبیث کم سبزہ اگاتا ہے ، طیب زیادہ”۔ لیکن ایک صحابی کا ایک بال تھا اور چین، کوریا،تائیوان وغیرہ کی داڑھیاں نہیں ہوتی ہیں تو اس کی زد سب پر پڑتی ؟۔
اللہ نے فرمایا:” اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیںاور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں۔ تم پر سلام ہو ، ہم نہیں چاہتے جاہلوں کو۔ بیشک آپ جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جانتا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کے ساتھ ہدایت پر چلے تو ہمیں اپنی زمین سے اچک لیا جائے گا۔ اور کیا ہم نے انہیں حرم میں نہیں بسایا جو امن کی جگہ ہے؟ جہاں ہر طرف سے پھل پہنچتے ہیں ہر چیز کے روزی کے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ”۔ (سورہ القصص:55تا57)
حضرت ابوطالب کے بارے میں کوئی سوچ سکتا ہے کہ وہ اس خوف سے نبیۖ کی اتباع نہ کرتے کہ اچک لئے جائیں گے؟۔ لیکن آیات کو بغیر سیاق وسباق کے گدھوں نے ان پر ہی فٹ کردیا ہے۔ جب1987ء میں نے جٹہ قلعہ سے سارےTVنکلوادئیے تو ماموں غیاث الدین نے کہا کہ دنیا بھر میں کسی کی نماز نہیں ہوتی اسلئے کہ لالچ میں ائمہ نماز پڑھاتے ہیں لیکن میرا بھانجا اللہ کیلئے پڑھاتا ہے اسلئے ہماری نماز ہوتی ہے لیکن جب1991ء میں خلافت کے قیام اور نظام کی تبدیلی کی محنت شروع کی تو مجھے جیل میں بند کرادیا کہ لوگ ہمیں نیست و نابود کردیں گے۔ خالد بن ولید کے والد بنی اسرائیل تھے لیکن جعلی قریشی بن گئے تھے۔اسکو خدشہ ہوسکتا تھا کہ اگر نبیۖ کی اتباع کی تو ہمیں لوگ اچک لیں گے۔ ابوطالب نے نبیۖ کی سرپرستی کا کردار ادا کیا۔
میرے والد نے محسودقوم کو جواب دیا کہ برکی اور محسود کے درمیان تمہاری ثالثی نہیں مانتے ۔ ایک محسود نے پیرمبارک شاہ کے پاگل بیٹے کو رشتہ دینے سے انکار کیا تو میرے والد نے گالی دیکر کہا کہ رشتہ دینا پڑے گا لیکن یہ اپنی عزت پر بھروسہ تھا۔ دوسری طرف میرے بھانجے کیلئے اٹکل پچھو کرکے اس طرح سے رشتہ لیا گیا کہ بھائیوں کی آپس میں ناچاکی کرادی اور ہم اس مصیبت میں پھنس گئے کہ غیرت کے نام پر کون ہمیں پیچھے سے قتل کرواسکتا ہے۔
معروضی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو پھر سورہ فرقان، سورہ رحمان، سورہ واقعہ ، سورہ الزمر، سورہ ص ،سورہ الدھر اوردیگر سورتوں کے معانی سمجھ میں آسکتے ہیں۔ کانیگرم کی تاریخ بھی دو ندیوں کے درمیان وہ برزخ ہے جس میں بڑے حقائق ہیں ۔ جٹہ قلعہ ، وزیرستان اور ہمارے گھر کے واقعہ کے پیچھے چھپے حقائق بھی کھل سکتے ہیں اور ٹانک زام اور گومل زام کے درمیان کا علاقہ بھی انقلاب کیلئے حقائق رکھتا ہے۔ سورہ سبا کی تفسیر میں باعدبین اسفارنا شجرہ نسب کی تبدیلی، سیل العرم دہشتگردی کی لہراور اثل کریر کے پھل کی وضاحت بریک تھرو تھا۔ خیر الکلام ماقل ودل بہترین کلام جو کم ہو اور دلالت کرے ۔قرآن ہر چیز کو واضح کرتا ہے نطفہ امشاج کے قطروں اور سمندر وں اور نسلوں تک ۔ہاہاہا
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ