پوسٹ تلاش کریں

کراچی سے ایک پائیدار اسلامی جمہوری انقلاب آسکتاہے

کراچی سے ایک پائیدار اسلامی جمہوری انقلاب آسکتاہے اخبار: نوشتہ دیوار

کراچی سے ایک پائیدار اسلامی جمہوری انقلاب آسکتاہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ڈاکٹر فاروق ستار اور اس کا گروپ، ایم اکیو ایم بہادر آباد، ایم کیوا یم حقیقی، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن، پیپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی، سندھ کی تمام مقامی پارٹیاں اور مہاجر،پنجابی، پشتون، بلوچ، سرائیکی، ہزارے وال،کشمیری اور پاکستان کے چپے چپے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک اچھی خاصی تعداد کراچی میں پرامن طریقے سے اپنے روزگار کیلئے رہتی ہے۔ اگر یہاں اخوت اوربھائی چارے کا ماحول پیدا کیا گیا تو مقتدر قوتوں کو بھی عوام کے مفاد میں اپنی مفادپرستی سے ہاتھ اُٹھانے پڑیں گے۔ یہاں بجلی، گیس، پانی ، ٹوٹی ہوئی سڑکوں، تعلیم اور علاج کے علاوہ قبضہ مافیا ز کے بہت سارے مسائل ہیں۔ ہلڑ بازی اور لڑائی سے مسائل بڑھ سکتے ہیں لیکن کم نہیں ہوسکتے ہیں۔ کون کس کو ماموں بنارہاہے؟ ۔ اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی سے کامیاب معاہدہ کیا لیکن گیم سندھ پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ہے جس پرمعاہدہ کرنے والے عمل در آمد نہیں کراسکتے ہیں۔ اب عدالت نے ایم کیو ایم کی درخواست پر سندھ حکومت کے خلاف فیصلہ دیا ہے کہ شہری حکومت میں صوبائی حکومت مداخلت نہیں کرسکتی۔
ڈکٹیٹر شپ نے بھی روشنی اور امن وامان کے شہر کراچی کو ہتھوڑا گروپ سے لیکر بیت الحمزہ کے نام سے ٹارچر سیل بنانے اور گرانے تک پتہ نہیں کیا کیا دیا؟۔ اب پھر عوام کے اندر تعصبات کا کیڑا جگانے کی ناکام کوشش ہورہی ہے لیکن اب عوام کا کسی پر بھی اعتماد نہیں ہے کیونکہ عوام کیلئے کسی نے بھی کچھ نہیں کیا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار، حافظ نعیم الرحمن، ایم کیوایم متحدہ اور ایم کیوایم حقیقی کے اصحاب حل وعقد کے علاوہ تمام پارٹیوں اور قومیتوں کے سرکردہ لوگ بیٹھ جائیں۔ ماؤں ،بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کی عزتوں کے تحفظ کیلئے سب سے پہلے کراچی شہر سے حلالہ کی لعنت کے خاتمے کیلئے بڑے بڑے مدارس میں میٹنگ رکھ کر فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ اسلام، مذہب اور معاشرے کی سمت درست ہوجائے گی تو پھر دوسرے مسائل کی طرف بھی توجہ جائے گی۔ جماعت اسلامی سندھ کے دفتر فیڈرل بی ایریا میں اتحادالعلماء سندھ کے صدر مولانا عبدالرؤف سے ملاقات کیلئے حاضری دی تھی تو ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی سے بھی سرسری دعا سلام ہوئی تھی۔ مولانا عبدالرؤف کے داماد مفتی محمود شاہ نے پیشکش کی تھی کہ حلالہ کے بغیر رجوع کیلئے ایک مدرسہ قائم کرلیتے ہیں لیکن مجھے گروہی کام میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام ایک اجتماعی دین ہے اور سواداعظم کے نام سے لوگوں نے اپنے چہرے سیاہ کئے ہیں لیکن ایسا کام نہیں کیا کہ اس کی وجہ سے امت مسلمہ کی ایک بہت بڑی جماعت عوام کا رُخ درست جانب موڑ سکے۔ ویسے اعظم کے معنی اکثر کے نہیں ہیں اسلئے کہ عربی میں اکثر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور قرآن نے اکثریت کو معیار بنانے کی مخالفت کی ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ سب پر غالب ہونگے”۔
جس کو اہل حق ہونے کا یقین ہوتا ہے تو وہ صلح حدیبیہ کی شرائط پر بھی صلح کرتا ہے اور فاتح مکہ بن کر بھی اپنے دشمنوں کو عزت بخش دیتا ہے لیکن جو اندرسے بڑا کمزور ہوتا ہے وہ گروہ پرستی اور طبقات پرستی کے تعصبات کو ہوا دینے میں عافیت ڈھونڈتا ہے۔ انگریز نے لڑاؤ اور حکومت کی پالیسی بنائی اور آج بھی اس کی باقیات اپنی سوچ سے تائب ہونے کیلئے تیار نہیں ہے لیکن اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سلیم صافی نے چند جنرلوں امجد شعیب ، اعجاز اعوان اور اسد خٹک کی بیٹھک کرائی اور تینوں نے اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کیا ۔ امجد شعیب نے فوج کے خلاف سخت پروپیگنڈے کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اس بات کی طرف نہیں دیکھا کہ جب سروس روڈ ، پبلک پارک اور سرکاری تعلیمی اداروں پر فوج کے ادارے قبضہ کریں تو عام آدمی کی زبان پر بھی حقائق آئیں گے اور جو غلط وکالت کریگا وہ بھی مسترد ہوگا۔ اعجاز اعوان نے بہت اچھی باتیں کیں کہ اشرافیہ کا تعلق جس طبقے سے بھی ہو اسکی بے تحاشاہوس زر نے قوم کو اس حد تک پہنچادیا ہے۔ اسد خٹک نے عام آدمی کے نام سے سیاسی پارٹی بنانے کی خبر دی ہے۔
قرآن کی سورۂ واقعہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بڑے بڑے ہاتھ مارنے پر مسلسل اصرار میں مگن ہوں اور ان کا دنیا میں حشر نشر بھی بتایا ہے۔ سورہ دھر میں ایک انقلاب عظیم اور ملک عظیم کی خبر ہے اور ایک بدنما بیماری کا ذکر بھی ہے۔ کرونا کے حوالے سے مولانا سلیم اللہ خان نے صحیح بخاری کی حدیث کا ذکر کیا ہے۔ اب قرآنی اور اسلامی انقلاب کی راہ میں عوام اور سیاسی پارٹیاں نہیں بلکہ مذہبی لوگ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے۔ جمعیت علماء اسلام ایک بڑی مذہبی جماعت ہے اور بریلوی ، دیوبندی ، شیعہ اور اہلحدیث بڑے بڑے فرقے ہیں۔ سب اسلام چاہتے ہیں لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

بیداری کسی عنوان کے بغیر اور شیطان پر ایک حملہ
مشرق سے دجال نکلے گا جس کے مقابلے میں امام حسن علیہ السلام کی اولاد سے سید گیلانی ہوگا! علامہ طالب جوہری
حقیقی جمہوری اسلام اور اسلامی جمہوری پاکستان کے نام سے تاریخ ، شخصیات ، پارٹیاںاور موجودہ سیاسی حالات :حقائق کے تناظرمیں