پوسٹ تلاش کریں

آج شیعہ سنی اختلافات کا خاتمہ بالخیر کیسے کرسکتے ہیں؟

آج شیعہ سنی اختلافات کا خاتمہ بالخیر کیسے کرسکتے ہیں؟ اخبار: نوشتہ دیوار

آج شیعہ سنی اختلافات کا خاتمہ بالخیر کیسے کرسکتے ہیں؟

اصل مسئلہ صحابہ کرام و اہل بیت کی توہین ہے؟یا خلافت وامامت پر اختلاف یا یہ عقائد پر اختلاف ہے؟

مسجد وامام بارگاہ اور خانقاہ کے منبرسے اورپرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے ہرفورم پر حل پیش کرنا ہوگا

پارلیمنٹ سے تحفظ صحابہ واہل بیت بل منظور ہوا مگر کیا3سال سے بڑھاکر سزا10کی گئی تومسئلہ حل ہوا؟۔ عشرہ مبشرہ ، بدری صحابہ ،السابقون الاولون کے مہاجرین وانصار، حضرت علی و حضرت عائشہ نے ایک دوسرے سے جنگیں لڑی ہیں جس کی متتازع تاریخ احادیث کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ کیا اختلافات کو بیان کرنا بھی توہین ہے؟۔ پھر تو قرآنی آیت پر پابندی لگائی جائے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑلیا ؟۔کیا آیت بیان کرنا پیغمبروں کی توہین ؟۔ اگر ایک فرقہ حضرت موسیٰ اوردوسرا حضرت ہارون کے نام پر بنتا تو پھر روایات ،تفسیر،تاریخ کی کتابوں میں یہ معاملہ کہاں سے کہاں تک پہنچادیاجاتا؟، اس کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
صحابہ کرام کی تعریف وتوصیف قرآن میں بھی موجود ہے اور اہل سنت مکتبہ فکر میں بھی نسل در نسل ان کی عظمت وتوقیر کی عقیدت ہے۔ اگر ان کی کوئی توقیر نہیں ہو تب بھی توہین اسلئے اہل تشیع کے مراجع اور مجتہدین نے حرام قرار دی ہے کہ اس سے مسلمانوں میں نفرت کو ہوا ملتی ہے اور نتیجہ قتل وغارت تک پہنچ جاتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں باطل معبودوں کو بھی اسلئے برا بھلا کہنے کی ممانعت کردی ہے کہ وہ پھر معبود برحق کو بھی برا کہنا شروع ہوجائیں گے۔
کیا اہل تشیع اس بات کو برداشت کرسکتے ہیں کہ ان کے امام زمانہ غائب مہدی کو اہل سنت برا بھلا کہیں؟۔ ہرگز نہیں۔ سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق نے جب مہدی غائب کی توہین کی کہ وہ اہل سنت کے امام نہیں شیعہ کے ہیں تو اس پر کتنے قاتلانہ حملے ہوگئے؟۔ آج تک سپاہ صحابہ کے کسی قائد میں پھر توہین کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ جب شیعہ اپنے مقدسات کی توہین برداشت کرنا گوارا نہیں کرتے تو اہل سنت سے کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ برداشت کریں؟۔
اگر انصار ومہاجرین اور قریش واہلبیت میںمسئلہ خلافت پر اختلاف تھا تو امام حسین کے بیٹے زین العابدین کے بیٹوں امام زید اورامام باقر میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا۔ حضرت زید نے امام حسین کے راستے پر چل کر مزاحمت کی لیکن امام باقر نے امام حسن کی طرح مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ پھر امام جعفر کی اولاد میں بھی مسئلہ امامت وخلافت پر اختلاف آیا۔ ایک طرف امام اسماعیل کے بیٹے سے موجودہ آغا خانی اور بوہرہ فرقوں نے جنم لیا ، جنہوں نے فاطمی خلافت قائم کی تھی اور دوسری طرف امام باقر سے امامیہ نے جنم لیا جس کی شیعہ اکثریت ہے۔
اسماعیلی آغا خانی اور بوہری امام حسن کی امامت کے قائل نہیں جو خلافت سے دستبردارہو چکے تھے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ امامت وہ نور ہے جو نسل در نسل منتقل ہوا ہے۔ حضرت علی سے حضرت حسین، پھر موجودہ آغا خان یا بوہری کے امام تک۔ اگرچہ آغا خانی اب پھنس چکے ہیں اسلئے کہ بیٹا بھی نااہل ہے اور بیٹی کو امام بنائیں تو بھی مسئلہ ہے اور بوہریوں میں بھی کچھ عرصہ پہلے مسئلہ کھڑا ہوا تھا کہ بیٹے یا بھائی کو امام بنایا جائے ؟۔دوسری طرف شیعہ امامیہ کا عقیدہ ہے کہ بارہ امام کو نور امامت ایک دوسرے سے پشت در پشت منتقل ہوتا رہاہے۔ البتہ حسن سے یہ نور پھر حسین اور ان کی اولاد میں کیسے منتقل ہوا؟۔ اس کا جواب حسن الہ یاری نے خوب دیا کہ محمد بن ابی بکر اصل میں علی کے بیٹے تھے ،جس کو ابوبکر کے شجرہ خبیثہ سے شجرہ طیبہ میں منتقل کیا گیا۔ غیر مہذب گفتگو علامہ شہریار رضا عابدی کا بھی کرتا ہے کہ ابوبکر کے باپ کی اپنی بھتیجی سے شادی ہوئی تھی لیکن تاریخی مغالطوں کو توڑ مروڑ کرمنطقی نتائج نکالنا غلط ہے۔ اگر کوئی ملحد ابراہیم کے خلاف توہین آمیز منطق بنائے کہ دو باپ تھے ۔ایک آذر اور دوسرا تارخ۔تو چچا بھی باپ تھا اور باپ بھی باپ تھا؟۔ عبد المطلب اپنے بھائی مطلب کا بھائی نہیں غلام تھا اور ہاشم کا پوتا نہیں شیبہ کو کہیں اور سے لایا گیا تھا؟۔یا نکاح نہیں متعہ کی اولاد تھا؟۔ تو ایسی توہین آمیز گفتگو اور منطقی نتائج سے سادات اور بنوہاشم کو کتنی تکلیف ہوگی؟۔ اگر ابوطالب علیہ السلام اور حضرت عبداللہ علیہ السلام پیدائشی مسلمان تھے جو بالکل ہوں گے اسلئے کہ اہل کتاب کو بھی قرآن میں پہلے سے ہی مسلمان قرار دیا گیا ہے تو یہودونصاریٰ کی طرح مشرکین عرب میں بھی مسلمان تھے۔مگر ابوطالب نے اپنی بیٹی ام ہانی کا رشتہ طلب کرنے کے باوجود بھی نبی ۖ کو نہیں دی اور حضرت ابوبکر نے اپنی16سالہ کنواری بیٹی کا رشتہ مشرک سے توڑ کر نبیۖ کو دیا تھا۔ حسن الہ یاری کی بات درست ہو تو حضرت ابراہیم کیلئے آذر یا تارخ کے بیٹے کا مسئلہ نہیں بنتا ہے جو اہل تشیع بناتے ہیں؟۔جب شیعہ کے ائمہ کے گھرسے ہی اختلافات اٹھے ہیں اور بارہ ائمہ پر ان کا آپس میں بھی اتفاق نہیں ہے تو بہتری اس میں ہے کہ سب مل جل کر چلیں۔ توہین وتذلیل کی جگہ عزت وتوقیر کی راہ پر خود بھی چلیں اور دوسروں کو بھی گامزن کریں۔ شیعہ کے سنی بننے اور سنی کے شیعہ بننے سے فرق نہیں پڑے گا بلکہ خطیبوں کامزید بوجھ بڑھے گا۔ اپنے خطیبوں کا بوجھ نہیں اٹھتا تو دوسرے کے چاچا خوامخواہ نہ بنیں۔
جہاں تک بارہ امام اور خلفاء کا تعلق ہے تو اہل تشیع سے زیادہ اہل سنت کے پاس اس کا نقشہ موجود ہے۔ پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے اپنی کتاب ” تصفیہ ما بین شیعہ وسنی” میں لکھا بھی ہے کہ ”یہ بارہ خلفاء آئندہ آئیں گے، جن پر سب کا اتفاق واتحاد ہوگا اور ان کو حکومت بھی ملے گی ”۔ علامہ جلال الدین سیوطینے یہ اپنی کتاب ”الحاوی للفتاویٰ” میں واضح کردی تھی ۔ مشکوٰة کی شرح ”مظاہر حق” میں بھی واضح ہے کہ ان خلفاء کا تعلق نہ صرف قریش بلکہ اہل بیت حضرت حسن و حضرت حسین کی اولاد سے ہوگا۔ اہل تشیع کی کتابوں میں بھی درمیانہ زمانے کے مہدی اور مہدی کے بعد گیارہ مہدیوں کو حکومت ملنے کی بڑی وضاحت ہے لیکن اہل تشیع اپنی کتابوں سے بھی امت مسلمہ کو اتحادواتفاق اور وحدت کا درس نہیں دیں گے اور اختلافات کو اچھالیں گے تو دہشتگردی کے سوا کیا ملے گا؟۔
سب سے زیادہ خطرناک نصیری فرقہ علی کو خدا مانتا ہے۔جب ایک طرف علی، حسن ، حسین کی انتہائی مظلومیت کا عقیدہ رکھا جائے اور دوسری طرف علی ہی کو خدا اور مشکل کشا مانا جائے تو اس بڑے تضاد کو دور کرنے کی کوشش میں بھی جاہل نصیری سے لیکر مناظرانہ صلاحیت رکھنے والوں کی بڑی اصلاح ہوسکتی ہے ۔ پھر شیخ احمدسرہندی المعروف مجدد الف ثانی سے شاہ ولی اللہتک اور حضرت شاہ اسماعیل شہید سے علامہ یوسف بنوری تک کے عقائد سے اہل تشیع کو بہت بڑی ڈھارس مل سکتی ہے۔ فتویٰ لگاکر دیکھ لیا۔ قتل و غارتگری بھی ہوگئی۔ پارلیمنٹ میں بل پاس کرلیا اور اب ایک خوشگوار فضاء بھی بنائی جائے تو کیا حرج ہے؟۔ عباسی خلیفہ مامون الرشیدکے داماد اور جانشین امام رضا شہیدشیعہ امام تھے تو اب اتحاد و اتفاق اور وحدت کی راہ میں کونسی رکاوٹ باقی رہ گئی ہے؟۔آئیے بسم اللہ کیجئے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

حضرت اُم ہانی کو اپنے مشرک شوہر سے سچی محبت تھی۔
قرآن پاک کی عظمت
امریکہ کی نصاب کتاب میں شیخ الاسلام کی خدمات کا بیان