پوسٹ تلاش کریں

امیر جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمةاللہ علیہ جنہوں نے ناموس رسالت کیلئے اپنے جوان بیٹے کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیاتھا۔

امیر جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمةاللہ علیہ جنہوں نے ناموس رسالت کیلئے اپنے جوان بیٹے کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیاتھا۔ اخبار: نوشتہ دیوار

امیر جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمةاللہ علیہ جنہوں نے ناموس رسالت کیلئے اپنے جوان بیٹے کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیاتھا۔

__ آپکابیٹا آج شام تک کا مہمان ،علاج نہیں!__
ڈاکٹر کے یہ الفاظ سن کر مولانا روپڑے اپنے بیٹے کو گھر لے آئے ۔گھر میں کھڑے اپنے بیٹے کی تیمارداری کررہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ مولانا دروازے پر گئے ،باہر ایک بوڑھے شخص کو کھڑے پایا حضرت نے سلام و دعا کے بعد پوچھا بابا جی خیریت سے آئے ہو؟۔وہ کہنے لگا خیریت سے کہاں آیا ہوں ہمارے علاقہ میں ایک قادیانی مبلغ آیا ہوا ہے وہ لوگوں کو گمراہ کر رہاہے۔امت گمراہ ہو رہی ہے اور آپ گھر میں ہیں!۔ مولانا نے جیسے ہی یہ بات سنی آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔بیوی سے فرمایا بی بی میرا بیگ کہاں ہے؟۔ بیوی نے بیگ اٹھا کر دیا۔ آپ بیگ ہاتھ میں پکڑے گھر سے روانہ ہونے لگے، بیوی نے دامن پکڑ لیا اور کہنے لگی۔مولانا!آخری لمحات میں اپنے نوجوان بیٹے کو اس حالت میں چھوڑ کر جا رہے ہو؟۔ مولانا نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اور رو کر روانہ ہونے لگے تو جاں بلب بیٹے نے کہا:ابا جان !میں آج کا مہمان ہوں چند لمحے تو انتظار کر لیجئے میری روح نکل رہی ہے، اس حال میں چھوڑ کر جا رہے ہو؟۔مولانا نے اپنے نوجوان بیٹے کو بوسہ دیا۔ رونے لگے اور فرمایا:اے بیٹے! بات یہ ہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی خاطر جا رہا ہوں، کل قیامت کے دن حوض کوثر پر ہماری تمہاری ملاقات ہو جائیگی۔یہ فرمایا اور گھر سے روانہ ہو گئے ۔ اڈے پر پہنچے ابھی بس میں بیٹھے ہی تھے کہ چند لوگ دوڑے آئے اور کہنے لگے۔مولانا!آپکا بیٹا فوت ہو چکا ہے اس کا جنازہ پڑھاتے جائیے! مولانا نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اور رو کر فرمانے لگے۔جنازہ پڑھانا فرض کفایہ ہے اور امت محمدیہ کو گمراہی سے بچانا فرض عین ہے فرض عین کو چھوڑ کر فرض کفایہ کی طرف نہیں جاسکتا۔پھر وہاں سے روانہ ہو گئے۔ اس علاقے میں پہنچے اللہ تعالی نے کامیابی عطا کی وہ قادیانی مبلغ بھاگ گیا ۔ مولانا تین دن کے بعد گھر واپس پہنچے۔بیوی قدموں میں گر گئی اور رو کر کہنے لگی مولانا!جب آپ جا رہے تھے تو بیٹا آپ کی راہ تکتا رہا اور کہتا رہا۔ جب ابا جان واپس آئیں تو انھیں میرا سلام عرض کر دینا۔مولانا نے جب یہ سنا تو فوراً اپنے بیٹے کی قبر پر گئے اور دعا مانگنے لگے۔اے اللہ !ختم نبوت کے وسیلے سے میرے بیٹے کی قبر کو جنت کا باغ بنا دے۔مولانا دعا مانگ کر گھر واپس آئے تو رات بیٹے کو خواب میں دیکھا۔ بیٹے نے اپنے ابا سے ملاقات کی اور کہاکہ:رب محمد ۖ کی قسم! ختم نبوت کے وسیلے سے اللہ تعالی نے میری قبر کو جنت کا باغ بنا دیا ہے۔ ختم نبوت کے اس مجاہد کو دنیا حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحم اللہ کے نام سے جانتی ہے …..”۔
ایسے تھے ختم نبوت کے مجاہد عظیم جنہوں نے ناموس رسالت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔۔۔اللہ جل شانہ ہم سب کو ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام کرنیکی توفیق عطا فرمائے۔!الٰہی آمین یا رب العالمین۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

حضرت اُم ہانی کو اپنے مشرک شوہر سے سچی محبت تھی۔
قرآن پاک کی عظمت
امریکہ کی نصاب کتاب میں شیخ الاسلام کی خدمات کا بیان