ایک عظیم انسانی معاشرہ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

ایک عظیم انسانی معاشرہ

ایک عظیم انسانی معاشرہ اخبار: نوشتہ دیوار

ایک عظیم انسانی معاشرہ
قرآن کریم کی تعبیر وتشریح پر حنفی، شافعی، مالکی ، حنبلی، جعفری اور اہلحدیث وغیرہ کا اتفاق ہوجائے تو امت مسلمہ کے مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔ کیا حنفی اور شافعی کا قرآن کی تفسیر پر کوئی اتفاق تھا؟۔ نہیں، ہرگز بھی نہیں!۔ لیکن اسکے باوجود حنفی و شافعی ایک دوسرے کیلئے قابل احترام ہیں؟۔ہاں جی بالکل بھی!۔
مفتی منیر شاکر نے عوام کو قرآن پہنچانے کی جس تحریک کا آغاز کیا، بہت لوگ ان کی سن رہے ہیں، سمجھ رہے ہیں اور اتفاق کررہے ہیں ۔ جب آدمی چلنا پھرنا سیکھتا ہے تو گرتا اور سنبھلتا ہے۔غلطی کرتا ہے اور ٹھیک طریقے سے سدھرتاہے۔
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولاناانور شاہ کشمیری نے فرمایا کہ ”میں نے ساری زندگی ضائع کردی ۔ قرآن وحدیث کی خدمت نہیں کی بلکہ فقہی مسلک کی وکالت کی ہے”۔ اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ” قرآن میں معنوی تحریف بہت ہوئی ہے”۔
قرآن کے ذریعے عالم اسلام اور عالم انسانیت کا ایک عظیم معاشرہ بن سکتا ہے۔ قرآن وسنت کی تعلیم کو علماء ومشائخ کے سامنے لائیں گے تو بات بن جائے گی۔ علماء دیوبند نے1857کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد معاشرے میں اسلامی تعلیم کو زندہ رکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔
برصغیر پاک وہند میں مدارس قرآن وسنت کی تبلیغ کا اہم ترین ذریعہ تھے۔ قرآن واحادیث کے الفاظ کی حد تک تو مدارس اہم ذریعہ ہیں کیونکہ عربی کے بغیر قرآن اور احادیث کے الفاظ بھی نہیں پڑھ سکتے۔ لیکن جس طرح سے کہا جاتا ہے کہ حج وعمرے کے مسائل اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتے جب تک کوئی عملی طور پر حج وعمرے کی ادائیگی نہ کرے۔ اسی طرح قرآن و حدیث کے احکام کا تعلق اگر عبادات سے ہو تو جب تک عملی طور سے عبادات کو اپنا لائحہ عمل نہ بنالیا جائے تو عبادات سمجھ میں نہیں آسکتی ہیں۔ مثلاً نماز، روزہ، وضو اور غسل کے احکام کو سمجھنے کا تعلق عملی زندگی سے ہے۔ اسی طرح معاشرتی احکام کا تعلق بھی عملی زندگی سے ہے۔ جب تک نکاح وطلاق اور دوسرے معاشرتی معاملات سے کسی کا عملی واسطہ نہیں پڑتا ہے تو پڑھنے اور پڑھانے سے شرح صدر نہیں ہوتا ۔ اسی طرح معاشی واقتصادی مسائل ہیں اور اسی طرح وہ احکام ہیں جو حکومت کے نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے بعد افغانستان میں طالبان کو اس سے واسطہ پڑگیا ہے۔ امیر المؤمنین ملا عمر اور امیرالمؤمنین ہیبت اللہ کے اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے حوالے سے بہت فرق ہے۔ داڑھی، تصویر اور نماز کے مسئلے پر پہلے جیسی شدت ابھی نہیں رہی ہے۔ یہ انحراف نہیں بلکہ سمجھ اور تجربات کا بہت واضح فرق ہے۔
سعودی عرب اور ایران بھی بدل رہے ہیں۔ خلافت کے قیام سے نئے نئے تجربات پہلے سامنے آئے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے زبردستی سے زکوٰة کا نظام نافذ کیا اور اس کیلئے قتال بھی کیا۔ حضرت عمر نے بدری اور غیربدری صحابہ میں وظائف کے اندر فرق رکھا۔ حضرت عثمان نے حضرت ابوبکر وعمر کا نظام اپنایا۔ حضرت علی نے نبی ۖ کے نظام کو زندہ کرنے کی کوشش شروع کردی لیکن ان کو دسترس حاصل نہیں ہوسکی تھی۔ حضرت حسن نے امیرمعاویہ کے حق میںدستبرداری اختیار کی اور یزید کے دور میں حضرت حسین نے حکومت کا تختہ الٹنے کی بنیاد رکھ دی۔ عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں اپنی خلافت قائم کی۔ یزید کے بعد مروان نے عبداللہ بن زبیر کے اقتدارکا خاتمہ کردیا۔شہید کی لاش کو کئی دنوں تک عبرت کیلئے ٹانگ دیا تھا۔
نبی کریم ۖ نے سود کی آیات نازل ہونے کے بعد مدینہ میں مزارعت کو سود قرار دیا، مزارعین میں قوت خرید پیدا ہوگئی۔ مزودر کی دیہاڑی دوگنی تگنی چگنی ہوگئی۔ تاجروں کے حالات بدل گئے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا کہ” مٹی میں ہاتھ ڈالتا ہوں اور سونا بن جاتا ہے”۔ جاگیردارانہ نظام بنیادتھا غلام اور لونڈی پیدا کر نے کا۔ عربی میں غلام کو ”عبد” اورلونڈی کو ” امة” کہتے ہیں۔ قرآن نے غلام اور لونڈی کے نکاح کا حق دیا تھا بلکہ واضح کیا کہ ” مؤمن غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے۔ اگرچہ تمہیں مشرک زیادہ اچھا لگے”اور مؤمنہ لونڈی آزاد مشرکہ سے بہتر ہے ۔ اگر مشرکہ تمہیں زیادہ اچھی لگتی ہو”۔
غلام اور لونڈی جانوروں کی طرح بازاروں میں بکتے تھے۔ ان کے کوئی انسانی حقوق نہیں تھے۔ اسلام نے فیصلہ کردیا کہ ”مزارعت سود اور حرام ہے ” تو اس حکم سے غلامی کی فیکٹریوں کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی۔ جنگوں، بردہ فروشی اور جوئے اور سودی قرضوں کی وجہ سے بھی لوگوں کی اولاد ، بیگمات اور وہ خود غلامی کی زنجیروں میں جکڑجاتے تھے۔ غلامی کے تمام ذرائع کا خاتمہ کردیاتھا۔ جنگوں میں بچوں ، عورتوں اور پر امن لوگوں پر ہاتھ اٹھانے تک ممانعت کردی تھی۔ پہلے ادوار میں عزتدار لوگوں کی تذلیل کردی جاتی تھی اسلئے کہ معزز بچوں اور خواتین کو بھی غلام اور لونڈی بنادیا جاتا تھا۔ حضرت زید بردہ فروشی کے ذریعے غلام بنائے گئے تھے اور نبیۖ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا مگر پھر بھی غلامی کے دھبے کی وجہ سے اپنی بیگم کو طلاق دینی پڑگئی۔ حضرت بلال اصلی نسلی غلام تھے مگر آپ کی عزت مشرکینِ مکہ کے سرداروں سے بھی بڑھ گئی تھی۔
پھر وہ وقت آیا کہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت علی کی اولاد نے پھر ملوکیت کے دور میں مزارعت شروع کردی تھی اور صحیح بخاری ومسلم وغیرہ ان حضرات کی وجہ سے دورِ رسالتۖ کے مقابلے میں مزارعت کے سود کو جواز مل گیا۔ غلام بنانے کا ایک ہی معتبر طریقہ تھا وہ مزارعت کا جاگیردارانہ نظام تھا۔اس کو مسلمانوں نے دوبارہ رائج کردیا تھا تو جو اسلام انسانوں کی غلامی سے انسانوں کو نکالنے کیلئے آیا تھا وہ اپنی افادیت کھو گیا۔
معیشت کی وجہ سے پاکستان اسرائیل کے غلام امریکہ کا غلام بن گیا اوربتوں کا پجاری بھارت معیشت میں مستحکم ہونے کی وجہ سے آزاد اور عزت دار ہے ۔پاکستانی مقتدرہ اور حکمران کی عزت فالودہ بن گئی۔ عبادات میں اہم نماز اورنمازِ جمعہ ہے جس سے پہلے تجارت چھوڑنے اور بعد میں فضل تلاش کرنے کا حکم ہے۔ دنیا میں سودی نظام کی وجہ سے امریکہ ویورپ اب اسرائیل کے غلام بن چکے اور روس نے سوویت یونین کے ممالک کو خودہی آزاد کردیااسلئے کہ وہاں سودی ناسور نہیں تھا۔ ہم اسلام کے معاشی اور معاشرتی نظام سے بہت دُور ہوچکے۔
مولانا مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب”سوانح قاسمی جلد2” میں لکھا کہ مسلمان نسل درنسل ہندؤوں کی رسم ”ستی” سے متأثر تھے۔ بیوہ شوہر کی وفات کے بعد خود کو جلادیتی تھی اور بیوہ دوسری شادی نہیں کرتی تھی۔ شاہ ولی اللہ نے لکھاکہ اگر اس رسم کے خلاف بول نہیں سکتے تو دل سے برا سمجھے۔ شاہ اسماعیل شہید نے اپنی بیوہ بہن کو مشکوٰة پڑھائی تو بیوہ کے نکاح کرانے کے باب کو اس سے چھپایا ۔ جب سیداحمد بریلوی کی صحبت کا فیض حاصل کیا تو کھلم کھلا تقریریں کرنے کی ہمت ہوئی۔ جس کی وجہ سے بیوہ کی شادیاں کرانے والے کے نام سے مشہور کیا گیا۔ پھر ایک دن کسی نے سوال کیا تو سمجھ گئے اور کہا کہ جواب بعد میں دوں گا۔ سیدھا اپنی بیمار بہن کے پاس پہنچ گئے اور منت کی کہ میرا وعظ بے اثر ہوگا اسلئے دوسرا نکاح کرو۔ وہ بیمار تھی مگر مجبور ہوکر نکاح کرلیا۔ یہی صورتحال مولانا قاسم نانوتوی کی بھی بیان کی ہے جن کو ”الامام الکبیر” کے لقب سے یاد کیا ہے۔
شاہ ولی اللہ ، شاہ اسماعیل شہید اور مولانا محمدقاسم نانوتوی کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوانہ رسوم سے نکلے لیکن قرآن کا درست ترجمہ و تفسیر اس وقت سامنے نہیں آسکی تھی۔ اللہ نے سورہ نور آیت32میں بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کرانے کا حکم دیا اور صالح غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کا بھی۔ اور ساتھ یہ صورت بھی بتادی کہ اگر آزاد عورت کا نکاح کسی غلام سے کیا جائے تو اس میں مکاتبت یعنی لکھت کا معاہدہ ہوگا ۔ اگر اس میں خیر نظر آئے تو یہ معاہدہ ہونا چاہے اور اس پر وہ مال بھی خرچ کرو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ پھر کنواری لڑکیوں کا مسئلہ بھی حل کیا ہے لیکن ان آیات کا انتہائی غلط ترجمہ وتفسیر کیا ہے۔ علماء ومفتیان اور شیخ القرآن وشیخ الحدیث اور جدید دانشوروں کی ایک ٹیم بیٹھ جائے۔ انشاء اللہ بہت آسانی کیساتھ اُمت کو موجودہ دور کی مشکلات سے قرآن کی واضح ہدایت سے نکالیں گے۔ ہم قرآن وسنت کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ مسلکانہ اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر مدارس ومساجد کو استعمال کررہے ہیں۔ اچھے اچھے علماء حضرات کی سرپرستی میں قرآن وسنت کی طرف توجہ سے ہدایت کے راستے کھل جائیں گے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ” جولوگ ہمارے (احکام) میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور بضرور اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے”۔ القرآن

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

جھوٹ نے قوم کو اندھا کردیا؟
ہم تمہاری عزتیں ، تمہاری جانیں اور تمہارے مالوں کوبچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو!
قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ