پوسٹ تلاش کریں

غلط مہم سے 3خواجہ سرا قتل۔

غلط مہم سے 3خواجہ سرا قتل۔ اخبار: نوشتہ دیوار

غلط مہم سے 3خواجہ سرا قتل۔

نادرا کاریکارڈ ہے کسی نے جنس بدلی اور نہ بدل سکتا ہے شہزادی

جسکا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا وہ ناگوار گزرا،قمر زمان کائرہ

جماعت اسلامی ، علماء نے بلایا جس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادی نے کہا کہ ایک منٹ میں بات کہنا ناممکن ہے کیونکہ بات ہمارے لئے ہورہی ہے۔ تو ہمیں وضاحت کا موقع بھی بھرپور دیا جائیگا۔ معذرت کیساتھ ہم آپ کی کہی ہوئی باتوں سے متفق نہیں کیونکہ اس بل کو صحیح سے پڑھا نہیں گیا۔ اس بل کے رولز میں بہت صاف لکھا ہے کہ مرد سے عورت آپ نہیں بن سکتے۔ نہ عورت سے آپ مرد بن سکتے ہیں۔ آپ ایکس کارڈ کی طرف جاسکتے ہیں ہمارے کارڈ کی طرف۔ آپ نے کہا کہ یہ LGBTIQ کا بل ہے۔ اس بل کو دوبارہ پڑھیں اس میں LGBTIQیا شادی کی تو گنجائش موجود ہی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کی باتیں ڈاکیومینٹیشن الگ ہوتے ہیں۔ ایک صاحب نے نادرا کا ذکر کیا میرے پاس نادرا کا ڈاکیومنٹ ہے ،آپ کو دے سکتی ہوں۔ نادرا کے ڈاکیومنٹ میں انکے پاس ایسا کوئی عمل درج نہیں کہ کسی عورت نے مرد کا کارڈ بنوایا یا مرد نے عورت کا کارڈ بنوایا۔ صرف ایک بات کہنا چاہوں گی کہ یہ LGBTIQکی اصطلاح تو 80 ایز کی ہے ہم تو 4ہزار سال پرانی ثقافت رکھتے ہیں۔ یہاں سندھ کے لوگ بیٹھے ہیں جہاں 4 ہزارسال قبل ہیجڑا کلچر موجود تھا۔ کیا ہماری کلچری ویلیوز نہیں ہیں؟۔ آپ لوگوں نے کہا اس ایکٹ کے ذریعے بڑا غلط ہوگا، میڈیکل ٹیسٹ ہوگا۔ سر آپ مجھے بتائیں کہ کیا آپ لوگوں کا میڈیکل ٹیسٹ ہوا NICکیلئے؟ نہیں ناں۔ تو میرا کیوں ہو؟۔ اگر میرا ہو بھی تو بات آجاتی ہے مذہب پر تو یہ مذہب نہ آپ کا ہے نہ میرا ہے۔ اوپر سے ایک ہی آیا ہے اس میں رد و بدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ الحمد للہ میں بھی مسلمان ہوںلیکن ہمیں موجودہ صورتحال کو بھی تو دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کس حال میں ہے یہ آپ نہیں جانتے؟۔ آپ نے کہا کہ ایک مرد پروفیسر ایک عورت پروفیسر ایک سرجن ہمارا ٹیسٹ کریگا۔ ٹیسٹ تو ہوتا ہی نہیں جینڈر کا۔ نالج کہاں ہے؟ٹیسٹ نہیں ہوتا معذرت کیساتھ ، پاکستان میں بہت سارے ٹیسٹ موجود ہی نہیں جو انٹر سیکس کے ہونے چاہئیں۔ میں امام خمینی کا وہ خطبہ آپ سب کو پڑھنے کو بولوں گی جو 1979میں انہوں نے دیا تھا۔ ایران میں تو یہ ساری باتیں بہت پہلے ہوگئی تھیں۔ ہم تو اب اس پر آئے ہیں۔ خدارا ان سب چیزوں کا جو اثر پڑ رہا ہے، میں مسلمان ہوں جمعہ کی نماز میں نے بچپن میں مسجد میں بھی ادا کی ہے۔ میں نے آج تک کبھی خواجہ سراؤں کا ذکر نہیں سنا۔ آپ کے نصاب میں آپ کے کری کولم میں خواجہ سراؤں کا ذکر نہیں ہوتا۔ آج سینیٹر مشتاق نے ٹوئٹر کیا کہ جمعہ کی نماز کے بعد سب لوگ مظاہرہ کریں۔ کیا ہمارا دین اسلام اتنا کمزور ہے کہ خواجہ سراؤں کے بل سے اس کو خطرہ ہوگا؟۔ ایسا نہیں ہے۔ ہمارے تین لوگ مرچکے ہیں اس کیمپئن میں۔ قتل کیا گیا تین لوگوں کا۔ کراچی کے ایک انسان نے قتل کرنے کے بعد فرمایا کہ میں جہاد کررہا ہوں۔ ایسامؤقف نا پیش کریں۔ آپ ہمارے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کریں اور دنیا کو بتائیں کہ احتجاج سے کام نہیں ہوتا ہے۔ بیٹھ کر بات کرنی ہوتی ہے۔ یہ جو کرنٹ سچویشن میں جو چیزیں موجود ہیں ان کیساتھ بات کرینگے حقائق کیساتھ بات کرینگے۔ ہمارے پاکستان میں آپ کہتے ہیں کہ جو ڈاکٹر ہمیں چیک کریگا میڈیکل ٹیسٹ ہوگا، سر میں نے بہت کوشش کی ہمارے پاس بہت سے میڈیکل ٹیسٹ موجود نہیں۔ ہمارے پاس ایکوپمنٹ ہی موجود نہیں ہیں۔ ایسا نہ کریں ہم لوگ دربدر ہوئے ہیں ساری زندگی بڑی مشکلوں سے گزاری ہے۔ اور آج آپ لوگوںنے کہا کہ ہم میدان میں اتریں گے ، ہمارے حقوق کیلئے تو آپ کبھی میدان میں نہیں اترے۔ ہمارے ساتھ بیٹھیں ایسا نہ کریں۔ آج صبح میں ان صاحب کیساتھ بیٹھی میں نے انکے ساتھ بات کی کچھ چیزیں میں نے ان سے سیکھیں۔ اسلام کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ خواجہ سرا بات نہ کرسکیں۔ آپ لوگ عالم ہیں میں یہاں بات کررہی ہوں۔ لیکن جب میں باہر ہوتی ہوں مجھ سے کوئی بات کرتا ہے مجھے پتہ ہوتا ہے کہ اس کی دینی تعلیم کم ہے میری اس سے زیادہ ہے میں نہیں بول پاتی کیونکہ میں خواجہ سرا ہوں مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جلادے گا۔ پلیز خدا کا خوف کریں۔ آج ان سے جب بات ہوئی تو دل خوش ہوا۔ ترامیم بل میں ہوسکتی ہے۔ لیکن جو یہ جنگ آپ لوگوں نے شروع کی اور جن لوگوں نے بھی شروع کی اسے روکنے میں تو مدد کریں۔ ہم خواجہ سرا بہت مظلوم طبقہ ہے۔
قمرالزماں کائرہ: ابھی ٹرانس جینڈر بل میں تھوڑی بہت ایڈجسٹمنٹ کی بات کی گئی کئی اطراف سے سوال اٹھا کہ اس کو لنک کیا جائے سیلف ڈکلیریشن نہ ہو بلکہ اس کو میڈیکل کیساتھ طلب کیا جائے۔ یہ ترمیم ہے اس پر اعتراض ہے۔ آزادی رائے ہے سب کا حق ہے۔ جو بل اس وقت موجود ہے اس میں تو گنجائش نہیں لیکن جو اعتراض کرنے والے ہیں انکے پاس بھی کوئی لاجک ہے۔ ان کی بات سننی چاہیے اگر ان کی بات میں وزن ہوا تو سنیں گے نہیں ہوا تو بات ختم ہوجائے گی۔ انٹروڈکشن ہوا ہے ابھی ایک پرائیویٹ ممبر نے ترمیمی قرارداد پیش کی۔ جس طرح غلط مہم جوئی کرکے معاشرے میں پھیلایا گیا ہے اس پر جس طرح گورنمنٹ کو گالیاں پڑ رہی ہیں اور جس طرح اس کو متعارف کرایا جارہا ہے اس کا کوئی عنوان، سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ۔ کوئی ایسی صورتحال نہیں۔ یہ بل تو 2018میں بن گیا تھا۔ لیکن کسی کو یاد آجاتا ہے پتہ چلتا ہے ہوش آتا ہے تو جو اپنا تعصب ہوتا ہے وہ اٹھ جاتا ہے میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ مایوسی کی باتیں کرنا چھوڑ دیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

حضرت اُم ہانی کو اپنے مشرک شوہر سے سچی محبت تھی۔
قرآن پاک کی عظمت
امریکہ کی نصاب کتاب میں شیخ الاسلام کی خدمات کا بیان