حنفی فقہاء کے 7طبقات اور نتیجے میں اپاہج یہ علماء ومفتیان؟ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

حنفی فقہاء کے 7طبقات اور نتیجے میں اپاہج یہ علماء ومفتیان؟

حنفی فقہاء کے 7طبقات اور نتیجے میں اپاہج یہ علماء ومفتیان؟ اخبار: نوشتہ دیوار

حنفی فقہاء کے 7طبقات اور نتیجے میں اپاہج یہ علماء ومفتیان؟

پہلا طبقہ مجتہد فی الدین: ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد بن حنبل ۔ مجتہدفی اصول و فروع ۔ دوسرا طبقہ مجتہد فی المذہب :ابوحنیفہ کے تمام شاگرد: اصول و فروع میں امام سے اختلاف تھا۔ تیسرا طبقہ مجتہد فی المسائل : اصول وفروع میں مقلد۔ جن مسائل کی تصریح نہ ہو،ان میں اجتہاد ۔ چوتھا طبقہ اصحاب تخریج: مسائل کو ائمہ کی کتابوں سے نکالنا۔ پانچواں طبقہ اصحاب ترجیح: راجح و مرجوح ، فاسد و صحیح اقوال کی پہچان۔ مسئلے میں دو قول یا دو احتمال ہوں تو ایک درست، دوسرا غلط قرار دینا۔ چھٹا طبقہ اصحاب تمیز : اقوال میں صحیح واصح ، اولیٰ و غیر اولیٰ کی تمیزکرنا مگر صحیح و غلط کی تمیز نہیں رکھنا ۔ ساتواں طبقہ مقلدین محض: اندھی نقل کرنا۔ مقلد محض ابن عابدین شامی نے2سو سال قبل ان طبقات کا ذکر کیاہے ۔ درس نظامی میں ”قدوری ” اور فتاویٰ میں قاضی خان کا مقام اصحاب ترجیح ہے۔ قدوری420ھ کی تصنیف ہے۔ درس نظامی میں ”کنزالدقائق” اور ” ہدایہ ” کا مقام اصحاب تمیز ہے۔
” علاج کیلئے ناک کے خون سے سورۂ فاتحہ کو پیشانی پر لکھنا جائز۔ پیشاب سے لکھنا بھی جائز ہے، اگر یقین ہو کہ علاج ہوجائیگا”۔ (رد المختار) علامہ سعیدی نے لکھا کہ” علامہ شامی کو قرآن سے محبت تھی لیکن بال کی کھال اتارنے کے چکر میں غلطی سرزد ہوگئی۔ اگر سورج نکلنے کی طرح یقین ہو تب بھی فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے سے مر جانا بہتر ہے”۔( شرح صحیح مسلم) علامہ غلام رسول سعیدی کے ہاں ہم نے حاضری دی تو فرمایا کہ ” اس بات پر میرا علماء نے گریبان پکڑ لیا تھا کہ تمہاری یہ جرأت کیسے ہوئی کہ علامہ شامی کے خلاف یہ جسارت کرلی ہے؟”۔
الحمد للہ ہماری کاوش سے مفتی تقی عثمانی پر جب دباؤ پڑا تو اپنی کتابوں سے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کو نکالنے کا اعلان کردیا۔ اللہ خیر کرے گا۔
علامہ شاہ تراب الحق قادری نے مسئلہ بیان کیا کہ ” اگر روزے میں پاخانہ کیا اور پاخانہ کرتے وقت آنت کا ٹکڑا نکلتا ہے جو پھول نما ہوتا ہے۔ اگر وہ پھول دھونے کے بعد کپڑے سے خشک نہیں کیا اور اندر گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا”۔
شاگردابوحنیفہ عبداللہ بن مبارک نے ابویوسف کیخلاف لکھا کہ ”عورت کی گواہی ناکافی قرار دیکربادشاہ کیلئے باپ کی لونڈی جائز قرار دی”۔ یہ شکر ہے کہ سورۂ مجادلہ کا حوالہ نہیں دیا کہ ” ان کی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے”۔پھر یہ مذہبی اجتہاد بنتا کہ” سوتیلی ماں جائز ہے”۔ سوتیلی بیٹیوں کیلئے مصنف عبدالرزاق کی روایت ابن حجرنے نقل کی کہ اگر حجرات میں نہ پالی ہوں تو علی نے جائز قرار دیا۔مولانا سلیم اللہ خان نے کشف الباری میں یہ دلیل مضبوط قرار دی۔ ام المؤمنین ام حبیبہ نے نبی ۖ کو بیٹیاںپیش کیںتو نبی ۖ نے فرمایا: ”یہ میرے لئے حرام ہیں”(بخاری)۔مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا: ”بیٹے سے بدفعلی کی ہو تو اسکی ماں بالاتفاق جائز ہے”۔اگراپنے بچے پرشہوت کا ہاتھ غلطی سے لگا تو بیوی حرام اورکسی اور بچے سے بدفعلی کی تو اسکی ماں حلال ہو؟۔ مولانا منظور مینگل نے کہا: ”میری ماں نے جامعہ فاروقیہ میں گالی دی کہ عورت کی طرح علماء کو بھی پیٹ ہوجاتاہے”۔شافعی وحنفی مسالک میں حرمت مصاہرت کے انتہائی تضادات کے باوجود بیٹے اور ماں کے شکاریوں کا اتفاق عجیب ہے اور وہ گالیاں تو اسلئے کھائیں گے کہ اسکے مستحق ہیں۔ سود کے گناہ کو کم ازکم ماں سے زنا کے برابر قرار دینے والے سود کو جائز قرار دیں تو کیا حیا باقی ہوگی؟۔
اگرقرآن پر توجہ دیتے دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن ”اگرتم نے ان میںڈالا اور اگرتم نے نہیں ڈالا ہے …. ”۔ تو حرمت مصاہرت پر متضاد بکواس کی ضرورت نہ پڑتی۔مثلاً ”اگر ساس کی شرمگاہ پر باہر سے شہوت کی نظر پڑگئی تو معاف ہے اگر اندر پڑگئی تو بیوی حرام ہوگئی”۔( نورالانوار ملا جیون) ڈاکٹر اسرار نے کہا : ” یہ قرآن کاپی ہے، اصل کوصرف پاک چھوسکتے ہیں”۔ امام ابوحنیفہنے لامستم النسائمس سے جماع مرادلیاکہ اس لونڈی کوبادشاہ جائز نہ سمجھے پھر بیوقوف فقہاء نے مسائل کے نام پر وہ سرکس لگائی کہ الحفیظ والامان۔ ان حقائق سے مدارس کے علماء ومفتیان بدک کر گدھوں کی طرح بھاگتے ہیں۔
14 فرائض میں حنفیوں کا آخری فرض ”اپنے ارادہ کیساتھ نماز سے نکلنا، بھلے ریح خارج کرکے نکلے”۔ جبکہ لفظ سلام سے نکلنا دوسروں کے ہاں فرض اور حنفی کے ہاں واجب ہے۔میرا سوال تھا کہ ریح خارج کرکے نماز سے نکلے تو نماز واجب الاعادہ ہوگی ۔ وضو ٹوٹے تو سجدہ سہو نہ ہو گا؟۔ یہ کیسا فرض ہے؟۔ جس کاجواب مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی سے بھی مجھے نہیں مل سکا تھا۔
ابن رشد کی کتاب ”بدایة المجتہد نہاےة المقتصد” میںحدیث ہے ”آخری قاعدہ میں ریح خارج کردی تو نماز مکمل ہوگئی”۔ حدث ریح خارج ہونا،احدث ریح خار ج کرنا۔ احدث ” ارادةً ریح خارج کرنے کو فرض بنادیا”۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ فوت ہوایاانتقال کرگیا۔ ارادةً روح نکالنا مراد نہیں۔ جیسے انتقال کیلئے اختیار اور بے اختیاری مراد نہیں ہوتی ہے ۔اسی طرح ریح کے الفاظ کا حال ہے۔ اگرحدیث صحیح ہو تو مطلب یہی ہے کہ جس نے آخری قاعدہ تک نماز کے سارے ارکان ادا کرلئے تو پھر ریح نکل گئی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی ہے۔
دیوبندی بریلوی اختلاف کا خاتمہ قاری محمد طیب ( مہتمم دارالعلوم دیوبند) کی اس نعت سے کم کریں۔ یہ غزوہ ہند یا غزہ نہیں بلکہ دیوبند کی داخلی لڑائی تھی۔
نبی اکرم شفیع اعظمۖ دکھے دلوں کا پیام لے لو
تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہوئے ہیں سلام لے لو
شکستہ کشتی ہے تیز دھارا ، نظر سے روپوش ہے کنارا
کوئی نہیں ناخدا ہمارا ، خبر تو خیر الانام لے لو
قدم قدم پہ ہے خوف رہزن، زمین بھی دشمن فلک بھی دشمن
زمانہ ہوا ہے ہم سے بدظن، تم ہی محبت سے کام لے لو
کبھی تقاضا وفا کا ہم سے، کبھی مذاق جفا ہے ہم سے
تمام دنیا خفا ہے ہم سے، خبر تو عالی مقام لے لو
یہ کیسی منزل پہ آگئے ہم، نہ کوئی اپنا نہ ہم کسی کے
تم اپنے دامن میں آج آقا، تمام اپنے غلام لے لو
یہ دل میں ارماں ہے اپنے طیب مزار اقدس پہ جاکے اک دن
سناؤں ان کو میں حال دل کا کہوں میں ان سے سلام لے لو

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ
ایک عظیم انسانی معاشرہ
قرآن کریم کی غلط تعبیر سے کس نے گمراہ کیا؟