حرام کے لفظ پر قرآن وسنت کی وضاحت اور عمر و علی کے اختلافات کی وضاحت! - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

حرام کے لفظ پر قرآن وسنت کی وضاحت اور عمر و علی کے اختلافات کی وضاحت!

حرام کے لفظ پر قرآن وسنت کی وضاحت اور عمر و علی کے اختلافات کی وضاحت! اخبار: نوشتہ دیوار

حرام کے لفظ پر قرآن وسنت کی وضاحت اور عمر و علی کے اختلافات کی وضاحت!

”جب رسول اللہ ۖ نے حضرت ماریہ قبطیہ کے حوالہ سے فرمایا: مجھ پر حرام ہے” تو سورہ تحریم میں بھرپور وضاحت آئی کہ بیوی کو حرام کہہ دینے سے حرام نہیں قرار دیا جاسکتا تو کیا یہ کم رہنمائی ہے؟
علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے زادالمعاد میںبیوی کو” حرام ” کہنے پر20اجتہادی مذاہب کونقل کیاہے کہ حضرت عمر ایک طلاق اور حضرت علی تین طلاق قرار دیتے

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ امام مہدی کا ظہور قریب ہے۔ ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کس کا اجتہاد ٹھیک اور کس کا غلط ہے اور امام مہدی کا فیصلہ حق ہوگااوران کا مخالف باطل ہوگا

جب حضرت معاذ بن جبل یمن کے حاکم بنادئیے گئے تو نبی ۖ نے پوچھا کہ لوگوں کے درمیان کس چیز پر فیصلہ کروگے؟۔ ابن جبل نے عرض کیا کہ قرآن سے۔ نبی ۖ نے پوچھا کہ اگر قرآن میں نہ ملے تو؟ ، معاذ بن جبل نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی ۖ کی سنت سے ۔پھر پوچھ لیا کہ اگر سنت میں بھی نہ ملے توپھر؟۔ معاذبن جبل نے عرض کیا کہ پھر میں خود کوشش کروں گا۔ نبی ۖ نے اس پر انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا تھا۔
عربی میں اجتھد میںکوشش کروں گا۔ انا مجتھد میں محنتی ہوں ۔ھو مجتھد وہ محنتی ہے۔بدقسمتی سے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ ڈال دیا گیا ہے کہ ” اجتہاد” مستقل مذاہب ہیں جن کی تقلید کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیوی کو ” حرام” کہنے پر علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے20اجتہادات کو نقل کیا ہے۔ لکھاہے کہ حضرت عمر کے نزدیک بیوی کو ”حرام” کہنے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ جبکہ حضرت علی کے نزدیک بیوی کو ” حرام” کہنے سے تین طلاق مغلظہ واقع ہوں گی۔ اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ اجتہادی غلطی پر ایک نیکی ملتی ہے اور اگر اجتہاد ٹھیک ہو تو پھر دو نیکیاں ملتی ہیں لیکن یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کس کا اجتہاد ٹھیک ہے اور کس کا اجتہاد غلط ہے؟۔ امام مہدی تشریف لائیں گے تو ٹھیک اور غلط واضح ہوگا۔
علامہ ابن تیمیہ نے ایک کتابچہ لکھا ہے جس میں چاروں فقہاء کی تقلید کو فرقہ واریت اور ناجائز قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے شاگرد علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب زاد المعاد میں4کی جگہ20اجتہادات لکھ دئیے۔
اہل سنت صحیح بخاری کے بارے میںکہتے ہیں کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح البخاری ”اللہ کی کتاب کے بعدسب سے زیادہ صحیح کتاب صحیح بخاری ہے”۔ حسن بصری سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ” بیوی کو حرام کہنا بعض علماء کے اجتہاد کے مطابق تیسری طلاق ہے اوریہ کھانے پینے کی اشیاء کی طرح نہیں ہے کہ کفارہ ادا کرنے سے کام چل جائے بلکہ تیسری طلاق کے بعد بیوی حلال نہیں ہوتی ہے کہ جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرکے ہمبستری نہ کرلے”۔ اورابن عباس نے کہا کہ ” بیوی کو حرام کہنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا نہ طلاق اور نہ قسم کا کفارہ۔ یہ سیرت رسول ۖ کا تقاضہ ہے ”۔(سورۂ تحریم ماریہ قبطیہ حرام کرنے پر اتری) بخاری کی ان روایات میں بہت بڑا تضاد ہے۔ کہاں تیسری طلاق اور کہاں کچھ نہیں؟۔
اللہ نے فرمایا کہ ” اپنی زبانوں کو ملوث مت کروکہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے”۔ (القرآن)۔ کیا حضرت عمر، علی اورا بن عباس نے اللہ کی کتاب قرآن کے منافی حلال اور حرام کے اجتہادات کرلئے تھے؟۔ جب سورہ تحریم میں اللہ نے قرآن میں نبی ۖ کی سیرت کے ذریعے اتنی زبردست وضاحت فرمائی ہے تو کیا صحابہ اور خاص طورپر خلفاء راشدین حضرت عمر اور حضرت علی میں اتنے بڑے تضادات ہوسکتے تھے؟۔
امام مہدی حنفی مسلک، علی اور عمر میں کس کی تائید یا تردید کرے گا؟۔ قرآن وسنت اور خلفاء راشدین کی صحت کا فیصلہ کس طرح کرے گا؟۔ اگر ان کی آمد سے پہلے امت نے معقول حل تلاش کیا تو کیا ہوگا؟۔
قرآن وسنت میں طلاق اور اس سے رجوع کرنے کا ایک بنیادی مسئلہ میاں بیوی میں معروف رجوع ہے اور معروف رجوع کا مطلب قرآن وسنت میں بالکل واضح ہے کہ شوہراورعورت رجوع کیلئے راضی ہوں اور یہ مفہوم بار بار قرآن میں اللہ نے واضح کیا ہے۔ یہاں تک کہ جب نبی ۖ نے ایلاء کیا تھا تب بھی اللہ تعالیٰ نے نبی ۖ سے فرمایا کہ رجوع کرنے سے ان کو علیحدہ ہونے کا مکمل اختیار دے دو۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ خلفاء راشدین حضرت عمر اور حضرت علی میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ جب ایک شخص نے اپنی بیوی کو حرام قرار دیا اور اس نے حضرت عمر سے پوچھ لیا کہ رجوع ہوسکتا ہے؟۔ حضرت عمر نے اس کی بیوی کی رضا مندی معلوم کرنے کے بعد رجوع کا فتویٰ دیا۔ پھر حضرت علی کے پاس ایک اور مسئلہ آیا کہ ایک شخص نے بیوی کو حرام قرار دیا۔ حضرت علی نے معلوم کیا تو بیوی رجوع کیلئے راضی نہ تھی اسلئے فتویٰ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ۔ اس کو کسی نے تین اور کسی نے تیسری طلاق کا نام دیا لیکن یہ نہیں دیکھا کہ قرآن وسنت کے مطابق بالکل درست فتویٰ دیاتھا۔ حضرت عمر وعلی کی کوشش(اجتہاد) میں تضاد نہیں قرآن وسنت سے مطابقت ہے۔
تحریم کا معنی حرام کرناہے۔سورۂ تحریم اور نبی ۖ کا بیوی کو حرام قرار دینے سے مسئلہ سمجھنا مشکل نہ تھا۔ ”فتاویٰ عثمانی” میں ہے کہ ” بعض علماء کے نزدیک ” میں نے تجھے چھوڑ دیا” طلاق صریح ہے جو طلاق رجعی ہے اور اس میں نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن” تومجھ پر حرام” سے طلاقِ صریح کیوں واقع نہیں ہوتی بلکہ بائن واقع ہوتی ہے جس میں نکاح کی ضرورت پڑتی ہے؟”۔اس میں کیا فرق ہے؟۔ جواب:” اس فرق کو سمجھنے کیلئے فقہ پڑھنے کی ضرورت ہے، لہٰذا یا تو آپ فقہ کی تعلیم حاصل فرمائیں یا پھر اہلِ علم سے مسئلہ پوچھ کر اس پر عمل فرمائیں اور دلائل کے پیچھے نہ پڑیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۔ فتاویٰ عثمانی جلد دوم صفحہ ٣٧٤،٣٧٥

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ
ایک عظیم انسانی معاشرہ
قرآن کریم کی غلط تعبیر سے کس نے گمراہ کیا؟