پوسٹ تلاش کریں

میں تم سے قرآن کا بدلہ نہیں مانگنا چاہتا لیکن رشتہ دار ہونے کے ناطے اس کی فطری محبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غور کرو۔

میں تم سے قرآن کا بدلہ نہیں مانگنا چاہتا لیکن رشتہ دار ہونے کے ناطے اس کی فطری محبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غور کرو۔ اخبار: نوشتہ دیوار

قل لا اسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربٰی (القرآن الکریم)
یہ مکی ہے اور اس کے اولین مخاطب قریشِ مکہ ہیں اور نبی ۖ سے ارشاد ہے کہ ان سے فرمائیے
کہ مجھے قرآن پر تم سے کوئی بدلا نہیں مانگنا ہے لیکن جوقرابتداری ہے اسکی فطری محبت کا لحاظ کیجئے

احادیث صحیحہ میں ہے کہ نبیۖ نے فرمایا کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور
دوسرے میرے اہلبیت۔اور قرآن میں مودة فی القربیٰ سے مسلمانوں کیلئے اہلبیت نبیۖ مراد ہیں!
اگرمودة فی القربیٰ کے فطری تقاضوں پر عمل ہوجائے توعالم اسلام اور انسانیت کے تمام مسائل کا حل نکلے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہندوستان کی آزادی کے عظیم سپوت مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا ” یہ آیت مکی ہے اور اس سے مراد اہل بیت نہیں ہوسکتے، حدیث میں اہل بیت مراد ہیں ۔ یہ آیت مکی دور میں نازل ہوئی تھی۔ علی و فاطمہ، حسن و حسین خاندان اہل بیت کا وجودمدنی دور کے آخر میں آیا تھا۔ آیت کے مخاطب تو صحابہ نہ تھے ۔ اللہ نے مشرکینِ مکہ کو مخاطب کرنے کا حکم دیا: ” ان مشرکینِ مکہ سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے قرآن پر بدلہ نہیں مانگتا مگر قرابتداری کی فطری مودة کا لحاظ رکھیں ”۔اگر نبیۖ کی مودة کا لحاظ رکھا جاتا تو آپۖ اور آپ کے صحابہ ہجرت بھی نہ کرتے۔
مولانا آزاد نے انگریز کے مقابلے میں ہندوؤں سے مودة فی القربیٰ کے تقاضے پر عمل کیا۔ ہندو اورمسلمان یہی مطالبہ رکھیں کہ ہم وطن اور ہم زبان ہونے کی فطری مؤدت کا لحاظ کیجئے۔احادیث میں اہل بیت سے مودة فی ا لقربیٰ کی تلقین ہے ۔ مسلم لیگ کا مسلم قومیت کی بنیاد پر مودة فی القربیٰ کا نعرہ ہندو کے مقابلے میں تھا ۔ مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب اور یہود کے مقابلے میں عیسائی مسلمانوں کے قریب تھے۔قرآن کے مخاطب تمام بنی آدم بھی ہیں۔
اس بات پر اتفاق ہے کہ نبیۖ نے کسی سے قرآن کے بدلے کچھ نہ مانگا لیکن علماء ومفتیان، خطباء وذاکرین ، مساجد ومدارس اور مذہبی خدمات پر سب معاوضے کی طلب رکھتے ہیں۔ آیت مودة کے پہلے حصے پر عمل ہوتو بقیہ حصہ پر عمل کرنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی۔ امارت و اختیار کا طلب کرنا بہت بڑا عوض ہے اور آج دین کے بدلے سیاسی اور مذہبی دکانیں چمکائی جارہی ہیں۔
جب حضرت ابوبکر پہلے خلیفہ بنائے گئے تو ابوسفیان نے سفر سے واپسی پر کہا کہ کیا بنی ہاشم مرگئے تھے کہ بنی تمیم کمزور قبیلے سے خلیفہ بنایا گیاہے؟۔ اس القائے شیطانی نے تعصب اور خود غرضی کا بیج بودیا۔ علی نے جواب دیا کہ کیا اسلام قبول کرنے سے پہلے کم اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا کہ اب بھی مسلمانوں میں دشمنی کا بیج بورہے ہو؟۔ نبیۖ نے فرمایا :”کسی بات کو لوگ ہلکا سمجھتے ہیں لیکن وہ اتنا بھاری گناہ ہوتا ہے کہ مشرق ومغرب اس سے بھر جاتے ہیں”۔ ابوسفیان کی صدائے بازگشت سے جو فضاء بنی، اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ حسن نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ” آپ میرے باپ کے منبر سے اُترجاؤ”۔حضرت ابوبکر نے روتے ہوئے حضرت حسن کو اپنی گود میں اٹھایااورفرمایا کہ ” خدا کی قسم ! یہ تیرے باپ کا منبر ہے ، میرے باپ کا نہیں ”۔ پھر حسین نے حضرت عمر سے کہا کہ ” تم نے میرے باپ کے منبر پر قبضہ کیا ہے”۔ حضرت عمر نے پیار کیا اور پوچھا کہ ”آپ کو کس نے یہ بات سمجھائی ؟”۔ حسین نے کہا کہ ” میں خود کہہ رہاہوں ۔کسی نے بھی نہیں سمجھایا”۔ حضرت عمر نے کہا ” آپ نے سچ کہا ہے۔ یہ تیرے ہی باپ کا منبر ہے”۔ یہ باتیں تبلیغی جماعت کے نصاب ”فضائل اعمال ” میں ایک کتابچہ” موجودہ پستی کا واحد علاج ”کے مصنف مولانا احتشام الحسن کاندھلوی نے اپنی ایک تصنیف میں درج کیں،جو کافی عرصہ پہلے نظرسے گزری تھی۔
اللہ نے قرآن میں فرمایا:وماارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القا الشیطان فی امنیتہ…”اور ہم نے کسی نبی کو نہیں بھیجا اور نہ رسول کو مگر جب وہ تمنا کرتا ہے تو شیطان اس کی تمنا میں القا کرتا ہے۔ پھر اللہ مٹا دیتا ہے جو شیطان نے القا کیا ہوتا ہے اورپھر اپنی آیات کو استحکام بخش دیتا ہے”۔
نبیۖ نے بنی آدم میں سب سے زیادہ اپنے دور میں قریش اور بنی ہاشم کو افضل قرار دیا جس سے اللہ نے رحمة للعالمینۖ کا انتخاب کیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ حضرت ابوبکر وحضرت بلال سے ابولہب وابوجہل بہتر تھے اور اس شیطانی القا کو حضرت ابوسفیان نے اپنے رنگ میں پیش کردیا۔ حضرت علی نے حضرت ابوبکر کے مقابلے میںاس کو مسترد کردیا۔حضرت عمر سے حضرت علی نے کہا کہ آپ خود جنگ پر تشریف نہ لے جائیں اور حضرت عثمان کی مدد کیلئے حضرت علی کے صاحبزادوں حضرت حسن و حضرت حسین نے پہرہ دیا تھا اور جب مسندِ خلافت اس لائق نہیںتھی کہ کوئی اس کو قبول کرتا تو حضرت علی نے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ پھر حسن نے مسند کو مفاد عامہ کیلئے قربان کردیا اور حسین نے مفاد عامہ کیلئے کربلا میں قربانی دی۔ زین العابدین اور ائمہ اہلبیت کا احساس ہمیشہ ذمہ دارانہ رہا۔ شیعہ ذاکرین نے ابوسفیان کے نعرے سے متأثر ہوکر ائمہ اہل بیت اور اسلام کا چہرہ اجنبی بنادیا لیکن کافی علماء کی سوچ بہت مثبت بھی ہے۔
علماء کرام کو جمعہ کے خطبات میں فضائل صحابہ اور فضائل اہل بیت کی ساری احادیث کو باری باری پیش کرنا چاہیے۔ حضرت آدم کی نافرمانی اور شیطان نے جو نافرمانی کی تھی ،ان دونوں میں عبادت ، تجربہ ، نیکوکاری کے لحاظ سے ابلیس کو عزازیل اور فرشتوں کے استاذ کا درجہ حاصل تھا۔ فرشتے بھی عزازیل کی مکاری سے معصومانہ سوال کر بیٹھے تھے لیکن عزازیل کو قوم پرستی اور گھمنڈ نے خوار کردیا تھا اور حضرت آدم نے غلطی کی معافی مانگ کرخلافت کا استحقاق حاصل کرلیا تھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

رسول ۖ کی عظمت کا بڑ اعتراف
جامعہ بنوری ٹاؤن کے بانی کا بہت مثالی تقویٰ
قرآن کی تعلیم احادیث صحیحہ سے متصادم نہیں اور فقہ سمجھ کا نام ہے جو ہدایت دیتا ہے۔