پوسٹ تلاش کریں

علم و شعور کی بنیاد پر اختلاف رحمت ہے لیکن جاہل اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتا ہے۔

علم و شعور کی بنیاد پر اختلاف رحمت ہے لیکن جاہل اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتا ہے۔ اخبار: نوشتہ دیوار

علم و شعور کی بنیاد پر اختلاف رحمت ہے لیکن جاہل اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتا ہے۔

پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ! اس کا ایک منفی پہلو ہے کہ سب بتوں کی نفی ہے اور دوسرا مثبت پہلو ہے کہ اللہ پاک کی معبودیت کا اقرارہے!

ہم نے پاکستان کی بنیاد ہندؤوں اور ہندوستان سے نفرت پر رکھی ہے جو منفی پہلوہے لیکن اسلام کو بطورنظام نہیں اپنا یاہے جوبڑا مثبت پہلو تھا

زرداری سے نواز شریف وشہباز شریف کی نفرت کے بعد اب دونوں سے عمران خان کی نفرت اور پھر عمران خان پر فائرنگ تک معاملہ پہنچ گیا۔

جب1948میں جہاد کشمیر پرپاکستانی انگریز آرمی چیف نے قائداعظم محمدعلی جناح کو جواب دیا کہ ”میں اپنے سینئر افسران اور بڑی تعداد کی فوج سے نہیں لڑ سکتا ” تو قائداعظم نے قبائل سے جہاد کی اپیل کردی۔ پنجاب کی عوام کو بزدل کہنا بہت بیوقوفی ہے۔ احمد خان کھرل سے بڑا عظیم سپوت خطے نے نہیں پیدا کیا ہے لیکن ہمارے تعلیمی نظام میں ہیروز کا کوئی ذکر نہیں۔ پختون ہیروز بھی انگریز کے جانے کے بعد انگریز کی باقیات کا شکار ہوگئے۔1965میں بھی ہم نے جنگ جیتی نہیں تھی بلکہ پنجاب اور سندھ کی غیور عوام نے بڑے پیمانے پر دفاع کیا تھا۔1971کی جنگ میں تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرکے ہم نے مشرقی پاکستان گنوادیا تھا۔ صرف ایک کارگل کی جنگ میں ہماری فوج نے بہت زبردست فتح حاصل کرلی تھی جس میں کرنل شیرخان شہید کو نشان حیدر مل گیا تھا۔ باقی1948سے روس وامریکہ کے خلاف افغان جہاد تک ہماری فوج کا کوئی جہادی کارنامہ نہیں ۔ اگر اپنے ہی لوگوں کو فتح کرنا ہے تو پھر فوج کو پولیس بنادیا جائے۔ یہ رائے عامہ ہے اور ہماری قوم ایسی بن چکی ہے کہ یہ پولیس کے ہاتھوں سدھرنے والی بھی نہیں ہے لیکن دوسری طرف فوج کی ٹریننگ دشمن کیلئے ہوتی ہے اور اپنی عوام پر فوجی رویہ مسلط کرنا دشمن بنانے کے مترادف ہے۔ ہمارا سارا سیاسی اشرافیہ بھی بقول شیخ رشید کے فوجی گملوں میں پلا ہوا ہے ۔ جلا دو،گرا دو اور راکھ کا ڈھیر بنادو۔ پارلیمنٹ پر لعنت ۔ یہ مشہور ڈائیلاگ اور عوامی مقبولیت کے نشانات ہیں۔ اس قوم کو انقلابی اور مثبت فکر دینے کی سخت ضرورت ہے۔
جب جنرل ایوب خان نے فاطمہ جناح کو غدار کہہ دیا تو اصلی مسلم لیگیوں کو فوج سے نفرت ہوگئی۔ وہ بنگلہ دیش کے مجیب الرحمن بن گئے۔ پھر فوج کے گملے سے ذوالفقار علی بھٹو برآمد ہوگئے۔ بھٹو نے بھی ڈکٹیٹر شپ کا رویہ اختیار کرلیا پھر جنرل ضیاء الحق تشریف لائے۔ پھر پیپلزپارٹی کے جیالوں اورMRDوالوں کو فوج سے نفرت ہوگئی۔ جعلی مسلم لیگی بنائے گئے اور جب جنرل ضیاء حادثے کا شکار ہوگئے تو پیپلزپارٹی کی حکومت آئی اور پھر اسلامی جمہوری اتحاد میں بڑے عناصر اکٹھے کئے گئے۔ پیپلزپارٹی اور نوازشریف ایک دوسرے کے حریف بن گئے۔ پھر پرویزمشرف کی آمد ہوئی اور فوج سے محبت رکھنے والوں کی باقیات کو بھی فوج سے نفرت ہونے لگی۔ پھر باری باری پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف کو لوگوں نے آزمایا مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ موجودہ اتحاد کی حکومت آئی تو عوام کو سب سے نفرت ہوگئی۔ عمران خان نے پھر اپنی طرف سے نفرت کا جادو جگایا اور عوام اسکے پیچھے چل پڑی ہے۔ اب زیادہ تر لوگ کسی پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ کوئی مستحکم پارٹی اور نظام نہیں۔ زرداری کیخلاف آگ اگلنے والا شہباز شریف عوام کے دلوں پر راج کرتا تھا اور اب کہتا ہے کہ وہ سنجیدہ بن چکاہے اور عمران خان نیازی نفرتوں کو ہوادے رہاہے؟۔کوئی شرم بھی ہوتی ہے کوئی حیاء بھی ہوتی ہے والی تقریر بھی عمران خان کو پارلیمنٹ میں یاد ہے؟۔
پنجاب میں بغیر مغز والی سری کو فوجی سری کہتے ہیں۔ جنرل امجد شعیب نے براڈ شیٹ میں کتنا گھناؤنا کردار اپنی کم عقلی سے ادا کیا تھا؟۔ سیاستدانوں کیلئے اساتذہ ، مرشد اور تربیت کی رہنمائی والے فوجی سپہ سالار ہوں گے تو ان کی تعلیم و تربیت کیا ہوگی؟۔ ریاست پر یلغار کرنے والے صحافی حضرات بھی فوجیوں کے شاگرد ہیں۔ ہمارے معاشرے میں استاذ، پروفیسر ، علماء ، مرشد اور لیکچرار کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہے تو جہالتوں کا دور دورہ نہیں ہوگا تواور کیا ہوگا؟۔
ہندوستان میں فوج کی حیثیت ایک ادارے کی ہے اور اس نے اتنی ترقی کرلی کہ خود کو سپرطاقتوں میں شمار کرتا ہے۔فوج کی تربیت دشمن سے نمٹنے کیلئے ہوتی ہے۔ ہندوستان نے بنگلہ دیش پر قبضہ نہیں کیا تو پاکستان پر کیوں کریگا؟۔ کشمیر اور گلگت پر بھڑکیاں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہم مستقبل کو سنوارنے کیلئے ایسا نظام تشکیل دے سکتے ہیں کہ نہ صرف بھارت بلکہ عالم اسلام، چین ، روس اور مشرق ومغرب کی ہم قیادت کرسکتے ہیں۔ مولوی کا اسلام ناکارہ اور بہت خطرناک ہے لیکن اللہ کا اسلام دنیا کیلئے آج بھی بہت بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ہم اپنی تعمیرنو علم وشعور کی بنیاد پر کرسکتے ہیں۔
پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالالہ الااللہ۔ لیکن اب تک صرف لاالہ تک بات چل سکی ہے ۔ ہم نے ہندومذہب کے بتوں ،سومنات کے مندر سے تعصبات کی حد تک کلمے کا پہلا حصہ پڑ ھا ہے اور ابھی تک الا اللہ کے نظام پر نہیں آئے ہیں۔ اگر الااللہ کے نظام کی طرف آتے تو جس طرح مشرکینِ مکہ نے اسلام قبول کیا تھا ،اسی طرح تمام ہندو بھی خود بخود اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرتے۔
قائداعظم کی پہلی بیگم فوت ہوگئی تو دوسری بیگم کی ضرورت پڑی۔39سالہ محمد علی جناح کا16سالہ رتن بائی پارسی لڑکی سے معاشقہ ہوا۔ پارسی مذہب کی تعلیمات میں یہ بات شامل ہے کہ کسی اہل کتاب سے ان کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ قائداعظم بھی پہلے پارسی بیگ گراؤنڈ سے تعلق رکھتے تھے۔ پھر اس کا دادا آغا خانی شیعہ بن گیا۔ قائداعظم کے والد کا نام ذوالجناح کی وجہ سے پوجا جناح رکھا گیا جو بعد میں بگڑ کر پونجا جناح بن گیا۔ جیسے کراچی کو آج بھی ہمارے کچھ مہاجر بھائی کرانچی بولتے ہیں۔ جب رتن بائی کی عمر18سال کو پہنچی تو کورٹ میرج کرلیا اور کورٹ میرج میں محمد علی جناح سے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا تھا اسلئے جناح کو تحریری طور پر لکھ کر دینا پڑگیا کہ میرا کسی کتاب مذہبی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ وجہ تھی کہ احراری طعنے دیتے تھے کہ ایک لڑکی کی خاطر اسلام کو چھوڑا۔ اسلام سے اس کا کیا تعلق ہے۔ رتن بائی نے باپ سے بغاوت کی تھی ،پارسیوں کے ہاں اس کا رشتہ ختم تھا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو آغا خانی مذہب کے پیشوانے بھی اس کا جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا۔ قائداعظم نے سر آغا خان سے سفارش کیلئے کہا لیکن آغا خان نے کہا کہ اس نے ٹھیک کیا ہے۔ پھر قائداعظم اس وجہ سے فرقہ واریت کے خلاف ہوگئے۔ جب قائداعظم کی بیٹی دینا جناح نے اپنے پارسی کزن سے کورٹ میرج کی تو قائداعظم نے بہت روکا لیکن ا س نے کہا کہ آپ نے بھی میری ماں کیساتھ کورٹ میرج کی تھی۔
پاکستان میں اسلامی نظام کے اثرات تو دور کی بات ہے کو ئی اشارات بھی دکھائی نہیں دئیے۔ مولوی خود بھی اسلام سے دور فرقہ واریت کا شکار تھے اور آج تک زبانی جمع خرچ کے علاوہ اسلام کی درست تعلیمات پر عمل تو بہت دورکی بات ہے اس کی سمجھ بھی نہیں ہے۔ اسلام کا معاشی اور معاشرتی نظام سامنے آتا تو دنیا پاکستان کی امامت قبول کرتی۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو5سو بااثر مسلم شخصیات میں چھٹا نمبر دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کو پہلا نمبر دینا چاہیے اسلئے کہ اس نے زکوٰة کو پہلے تحلیل کردیا اور پھر سود کو جواز بخش دیا۔ اگر کوئی دوسرا ایسا کرتا تو اس کے ساتھ کیا ہوتا؟۔ قائداعظم کے بعد عمران خان نے لاالہ الااللہ کا نعرہ لگایا ہے لیکن اب تیرا میرا رشتہ کیا؟۔” لڑکیاں ناچیں لڑکوں نے جھپٹا مارا” نہیں ہونا چاہیے۔ لوگ75سالوں سے دھوکے کھائے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کے حالات بہت زیادہ بدسے بدترین حد تک پہنچ سکتے ہیں۔
اگر ٹرانس جینڈر بل میں ایک ہیجڑے کو یہ اختیار دینا غلط ہے کہ وہ خود کو مرد کی طرف مائل محسوس کرتا ہے یا عورت محسوس کرتی ہے؟۔ ظاہر ہے کہ کسی مشین کے ذریعے تو 51فیصد مرد یا عورت کا پتہ نہیں چلے گا۔ پھر بھی چلو خلاف اسلام یہ سراسرکفر ہے تو پھر جماعت اسلامی بتائے کہ جب جنرل ضیاء الحق نے پوچھا تھا کہ ریفرینڈم میں اسلام چاہیے یا نہیں؟۔ تو کیا مسلمانوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسلام چاہیں یا نہیں؟۔ جماعت اسلامی اور بڑے مدارس نے اپنے اس فتوے سے اب تک توبہ کی ہے؟۔ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن والے اس گناہ میں شریک نہیں تھے۔ ولی خان کہتا تھا کہ اسلام چاہیے یا نہیں؟ کیلئے پہلے جنرل ضیاء الحق کرسی پر اپنا ناجائز قبضہ چھوڑ دے۔ ہمیں اسلام چاہیے لیکن یہ نہیں کہ جہاد افغانستان میں ہو اور مالِ غنیمت منصورہ لاہور میں بٹ جائے۔
جماعت اسلامی کے مخلص لوگ بہت خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے اچھا کیا ان کو بھی درست آئینہ دکھا دیا۔ پہلے یہ بھی کہا تھا کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا بدلہ علماء سے سید عتیق گیلانی نے اتار دیا۔
ہمارا مقصد بالکل بھی انتقامی کاروائیاں نہیں ہیں۔ علامہ جواد حسین نقوی نے ڈاکٹر اسرار احمد کے مرکز لاہور میں شجاع الدین شیخ امیر تنظیم اسلامی،اوریا مقبول جان اور سینیٹر مشتاق احمد خان کو خوب دھویا۔ علامہ جواد حسین نقوی نے اس جمہوری نظام کو اسلام سے متصادم قرار دینے کیلئے بہت مؤثر دلائل دئیے لیکن یہ ان کی زبردست غلط فہمی ہے۔ اولی الامر سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ اولی الامر کو ایسا ہی ہونا چاہیے جس سے اختلاف کی گنجائش ہو۔ رسول اللہ ۖ سے بھی جن صحابہ کرام نے مختلف امور پر اختلاف کیا تھا ،اس کی نہ صرف گنجائش تھی بلکہ اللہ نے کئی جگہوں پر صحابہ کرام کی تائید بھی فرمائی ہے۔ سورہ مجادلہ ، بدر کے قیدیوں پر فدیہ اور سورہ عبس میں اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ قرآن سے شیعہ سنی اسلئے روگردانی کرتے ہیں کہ بعض معاملات سے ان کے فرقے اور مسالک ملیامیٹ ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ فرقہ واریت سے ہٹ کر دین کی خدمت کریں۔
حضرت علی نے حضرت ابوبکر کی خلافت سے درست مشاورت کا حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے اختلاف کیا تھا۔ چونکہ انصار و قریش میں بھی تناؤ پیدا ہوا تھا اسلئے وسیع مشاورت کا موقع نہیں ملا۔ قرآن میں مشاورت کا حکم بھی ہے اور اس کی خبر بھی ہے۔ اولی الامر کیلئے مشاورت کا بہترین طریقہ کار جمہوری نظام ہے اور اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اہل سنت کے خلیفہ سوم کیلئے گنجائش تھی کہ منصب چھوڑ کر اپنی جان بچاتا لیکن حضرت عثمان نے خواب کی وجہ سے منصب نہیں چھوڑا تھا۔ جبکہ اہل تشیع کے دوسرے امام حضرت حسن کیلئے منصب چھوڑنے کی اہل تشیع کے نزدیک گنجائش نہیں تھی اور انہوں نے چھوڑ دیااسلئے آغا خانی اور بوہری شیعہ امام حسن کی امامت کو بھی نہیں مانتے ہیں۔
حضرت علی نے بھی اس وقت منصب خلافت کے فرائض انجام دینا شروع کئے جس وقت کچھ لوگوں نے مشاورت سے مسند پر بٹھادیا۔ جب تک دوسرے خلفاء تک تھے تو حضرت علی نے بڑے خلوص کیساتھ ساتھ دیا۔ جب حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد امام زین العابدین نے پیری مریدی کی طرح مسند سنبھال لیا تو صوفیاء نے بھی اس طرز پر خلافت باطنیہ کا سلسلہ شروع کیا۔ البتہ آغا خانیوں کے ائمہ کو خلافت فاطمیہ کا موقع مل گیا تھا۔ حسن بن صباح کی کہانی بھی مشہور ومعروف ہے۔ جس کے جانشین کی حکومت کو ہلاکو خان نے تاراج کیا تھا۔ دنیا میں موجودہ ریاستوں میں باطل نظام کا ڈھانچہ بھی جمہوریت سے ہی آسانی کیساتھ بدل سکتا ہے۔ انقلاب سے بنوامیہ کی جگہ بنوعباس آسکتے ہیں اور جمہوریت سے دلائل کی بنیاد پر خلافت راشدہ قائم ہوسکتی ہے لیکن ہمارے ہاں کی موجودہ جمہوریت بھی ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار اور ایک ڈھونگ ہے۔
جمعیت علماء اسلام ، جمعیت علماء پاکستان ، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک وغیرہ تمام مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں۔ اسلام کا معاشی نظام اور قرآن وسنت میں عورت کے حقوق کا درست معاشرتی معاملہ عوام کے سامنے پیش کردیں۔ سول وملٹری بیوروکریسی ، تمام صوبوں کی عوام اور خطے کے ممالک کو ہمارا جمہوری اسلامی انقلاب بہت پسند آئے گا اور اس کے اثرات پوردی دنیا کو بھی ایسا متأثر کریں گے کہ خلافت علی منہاج النبوت کے قیام پر امریکہ، اسرائیل اور یورپی یونین بھی آمادہ ہوجائیںگے۔ عورت کے ٹھوس حقوق سے پوری دنیا میں عورت کا ووٹ اسلام کیلئے استعمال ہوگا۔
پہلے امریکہ کیخلاف اور طالبان کے حق میں پختونخوا ہ کے اندر بڑے جلوس نکلتے تھے۔ اب طالبان کیخلاف امن کے نام پر جلوس نکل رہے ہیں۔ پہلے مذہبی طبقہ جلوس نکالتا تھا اور اب قوم پرست طبقہ جلوس نکال رہا ہے۔ پہلے محسن داوڑ پر باجوڑ میں جماعت اسلامی والوں نے کرسیاں پھینکی تھیں اور اب سینیٹر مشتاق خان منظور پشتین کے ساتھ کہتا ہے کہ ریاست آدم خور ہے، پشتونوں کی قاتل ہے اور مورچے میں بیٹھے ہوئے طالبان اور قلعے میں بیٹھے ہوئے فوجی ایک ہیں۔ ہمارا اتنا مطالبہ ہے کہ لاہورکی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں مولانا ہدایت الرحمن بلوچ آسکتے ہیں تو منصورہ لاہور میں بھی سینیٹر مشتاق قوم پرستوں کو ضرور بلائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

نماز تراویح پرمفتی منیر شاکر، مولانا ادریس اور علماء کے درمیان اختلاف حقائق کے تناظرمیں
پاکستان میں علماء دیوبند اور مفتی منیر شاکر کے درمیان متنازعہ معاملات کا بہترین حل کیا ہے؟
عورت مارچ کیلئے ایک تجویز