پوسٹ تلاش کریں

موجودہ سسٹم میں پاکستان قرضوں کی دلدل سے نہیں نکل سکتا بلکہ مزید دھنسے گا۔ نمائندہ نوشتہ دیوار شاہد علی، ماہر معاشیات ۔

موجودہ سسٹم میں پاکستان قرضوں کی دلدل سے نہیں نکل سکتا بلکہ مزید دھنسے گا۔ نمائندہ نوشتہ دیوار شاہد علی، ماہر معاشیات ۔ اخبار: نوشتہ دیوار

موجودہ سسٹم میں پاکستان قرضوں کی دلدل سے نہیں نکل سکتا بلکہ مزید دھنسے گا۔ نمائندہ نوشتہ دیوار شاہد علی، ماہر معاشیات ۔

پچھلے سال کی کل آمدنی کا تخمینہ 7909ارب تھا ۔ چاروں صوبوں کا حصہ 3412ارب۔ وفاق کے پاس 4497ارب بچ گئے ۔ وفاق کو 4497ارب میں درج ذیل کام کرنے ہوتے ہیں۔
(1)قرضوں کی قسط اور سُود 3060 (2) دفاعی بجٹ1370 (3) پنشن 480 ۔ ( فوجی 360اور سویلین 120) (4) حکومت چلانے کے اخراجات479ارب (5)سبسڈیز682ارب (6)صوبوں کو گرانٹ 1168ارب (7) متفرق اخراجات284ارب ۔وفاقی کل اخراجات8487ارب ۔آمدنی4497 ارب اورخسارہ3990 ارب ۔ خسارے کیلئے سودی قرضہ لیاجاتاہے۔

وفاق 3990 کا خسارہ پورا کرنے کیلئے IMFاور دیگر ممالک اور مقامی پرائیویٹ بینکوں سے قرضہ لیتا ہے تو سودی رقم مزید بڑھ جاتی ہے!

شاہد علی نے کہا کہ ہم سودی قرضوں کے دلدل سے نکل نہیں رہے بلکہ مزید دھنس رہے ہیں۔( شاہد کی سیاسی ہمدردیاں تحریک انصاف سے تھیں اور ہیں۔) اسٹیٹ بینک سے سستے سود پر قرضہ ملتا تھا، IMFنے اسٹیٹ بینک کوروک دیا۔ اب حکومت کو کمرشل بینکوں سے مہنگے شرح سود پر قرضہ لینا پڑتا ہے۔ جو ہردفعہ شرح سود کو بڑھاتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک سے کم شرح سود اور پرائیویٹ بینکوں سے 13سے ساڑھے 15فیصد تک شرح سود پر قرضہ ملا ہے۔ پہلے جس طرح امریکہ ڈالر چھاپتا تھا اسی طرح ہم اسٹیٹ بینک سے نوٹ بھی چھپوالیتے تھے۔
یہ اعداد و شمار پچھلے سال بجٹ کے ہیں اورجون میں نیا بجٹ آئیگا تو اگلے شمارے میں تفصیل دیں گے۔ ہمارے ہاں احتساب کا کوئی درست نظام نہیں۔ بجٹ کا وفاق، دفاع ،چاروں صوبے اور تمام اخراجات کا حساب نہیں دیا جاتا۔ پہلے نیب تھا اس کے بھی پر کاٹ دئیے۔سیاستدان، جج، جرنیل ، سول افسر کے بیٹے اور بیگمات بیرون ملک کے شہری ہیں اور منی لانڈرنگ کے ذریعے سے پیسے اپنے خاندانوں کو منتقل کئے جاتے ہیں لیکن ان سے حساب نہیں لے سکتے ہیں۔
بینظیر بھٹو نے امریکہ کے کہنے پر کالاباغ ڈیم اور چھوٹے بڑے ڈیموں سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے فرنس آئل ، ڈیزل اور گیس سے چلنے والے بجلی کے پلانٹ لگادئیے۔ اب ہمارے پاس پانی کے ذخائر بھی نہیں اور بجلی بھی مہنگی پڑتی ہے اور گیس کے ذخائر بھی تقریباً ختم ہیں۔ یوریاکھاد گیس سے بنتا ہے اور گیس نہ ہونے کی وجہ سے یوریا کھاد کی پیداوار کم ہوگئی۔ امپورٹڈ گیس سے یوریا بنائیں گے تو لاگت دوگنی ہوجائیگی۔ پرویز مشرف نے گاڑیوں کو گیس پر کنورٹ کردیا جو گیس پچاس ساٹھ سال چل سکتی تھی وہ چند سال میں ختم ہوگئی۔ سعودی عرب میں گیس اور تیل کے بڑے ذخائر ہیں جو دنیا کو دیتا ہے لیکن اسکے باوجود گھروں میں گیس کے کنکشن نہیں لگائے اور لوگوں کو گیس سلینڈر استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ جس کا فائدہ یہ ہے کہ لوگ گیس کو ضائع نہیں کرتے ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک میں بھی گیس کے کنکشن گھروں میں نہیں لگائے جاتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ شمارہ جون 2022

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

پاکستان کے ماہرین معیشت دلے سمجھتے نہیں یا جان بوجھ کر دلال بن گئے؟ شاہد علی
ہندو سینیٹر نے سود سے متعلق اللہ کا حکم سناکر حکمران اور علماء کو پانی پانی کردیا؟
جب سُود کی حرمت پر آیات نازل ہوئیں تو نبی ۖ نے مزارعت کو بھی سُود قرار دے دیا تھا