انکار حدیث کے ذریعے فتنہ کس نے برپا کیا؟ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

انکار حدیث کے ذریعے فتنہ کس نے برپا کیا؟

انکار حدیث کے ذریعے فتنہ کس نے برپا کیا؟ اخبار: نوشتہ دیوار

انکار حدیث کے ذریعے فتنہ کس نے برپا کیا؟

جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے …

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا ہونا آیت حتیٰ تنکح زوجًا غیرہ سے ہرگز متصادم نہیں ہے

درسِ نظامی کی فقہ حنفی ہے کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ ”حتی کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے ”( البقرہ:230) اس آیت میں عورت اپنے نکاح کیلئے خود مختار ہے۔ جس میں حدیث خبر واحد کی وجہ سے اس کو اپنے ولی کی اجازت کا پابند نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا: ایما امرأة نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ یہ حدیث خبرواحد ہے اور قرآن کی آیت سے متصادم ہے اسلئے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان کے آئین میں قرآن وسنت کے منافی قوانین کی گنجائش نہیں ۔ لڑکی گھر سے بھاگتی ہے پھر اغواء کا مقدمہ ہوتا ہے پھر عدالت سے رہائی ملتی ہے جب لڑکی کہتی ہے کہ وہ اپنی رضامندی سے گئی تھی اورمولوی کا نکاح نامہ پیش کیا جاتاہے ۔
اگر حنفی قرآنی آیت سے حدیث کو متصادم نہ قرار دیتے تو معاملہ مختلف ہوتا۔ یہ احادیث حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں کہ ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہیں۔200احادیث عورت کے نکاح کو ولی کی اجازت کے بغیر باطل قرار دیتی ہیں لیکن حنفی مسلک و درسِ نظامی کی تعلیمات یہی ہیں کہ قرآن سے متصادم ان احادیث کو ناقابل عمل قرار دیتے ہیں۔ مفتی منیر شاکر کی بھی تعلیم وتربیت اسی درسِ نظامی اور حنفی مسلک میں ہوئی ہے۔
مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری اور اہل حدیث کے جمہور فقہاء و محدثین ان احادیث کو مانتے ہیں۔ ولی کی اجازت کے بغیر وہ عورت کے نکاح کو باطل سمجھتے ہیں اسلئے پاکستان وہندوستان کے علاوہ دوسری جگہ لڑکی کے بھاگ کر نکاح کرنے کامعاملہ کم ہوتا ہے۔ جمہور فقہاء ومحدثین نے امام ابوحنیفہ اور مسلک حنفی کے علمبرداروں کو ”منکرین حدیث” قرار دینا شروع کیاتھا۔
علماء غلط تعلیم دیتے ہیں کہ ”یہ قرآن سے متصادم ہے”۔ اصل حنفی مسلک یہ ہے کہ جب قرآن و احادیث کی تطبیق ہوسکتی ہو تو تطبیق کردی جائے ،امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ ” جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے”۔ سارے ائمہ یہی کہتے تھے کہ قرآن کے خلاف حدیث کو وہ نہیں مانتے۔ حدیث کے مقابلے میں ہمارے مذہب کو دیوار پر دے مارا جائے۔
اگر ولی کی اجازت کے بغیر عورت کے نکاح کو باطل قرار دینے والی احادیث کو کنواری لڑکیوں سے خاص کردیا جائے اورقرآنی آیات کو طلاق شدہ اور بیوہ کیساتھ خاص کردیا جائے تو قرآن و احادیث میں تصادم نہیں تطبیق ہوجائے گی۔ مسلک حنفی کا یہی تقاضا ہے جس کی نشاندہی دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام قاری محمد طیب نے اپنی کتاب” اجتہاد وتقلید” میں بہت وضاحتوں کیساتھ کردی ہے۔ جو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مفتی حسام اللہ شریفی کے استاذ تھے۔
البقرہ آیت230میں طلاق شدہ سے زیادہ ١لبقرہ:234میں اللہ تعالیٰ نے بہت واضح الفاظ میں بیوہ عورت کو عدت کی تکمیل کے بعد خود مختار قرار دیا ہے۔ اگر حنفی مسلک والے ان دونوں آیات کو اپنی تعلیمات میں پیش کرتے اور احادیث صحیحہ کو کنواری لڑکیوں سے خاص کردیتے تو جمہور فقہاء ومحدثین بھی ان آیات کے انکار یا تأویل کے مرتکب نہ ہوتے۔
علماء کرام کو چاہیے کہ قرآن و احادیث پر متفق ہوجائیں اور ایک دوسرے پر منکرین قرآن وحدیث کا فتویٰ لگانے سے پرہیز کریں۔ جمہور فقہاء ومحدثین کی مصیبت یہ ہے کہ احادیث صحیحہ کی وجہ سے آیت230،234البقرہ کے خلاف بھی عورت کی خود مختاری و آزادی کو نہیں مانتے۔ آج سوشل میڈیا کے ذریعے مسائل کو علماء تک محدود نہیں رکھا جاسکتا ۔اسلئے عوام مذہبی طبقے سے بہت تیزی کیساتھ مسلسل متنفر ہورہی ہے۔
برصغیرپاک وہند کے مایہ ناز حنفی عالم علامہ تمناعمادی نے پاکستان کی تشکیل کے بعد مشرقی پاکستان کے ریڈیو سے قرآن کا درس دینا شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآنی آیات بھی سمجھانے کیلئے تمرین (مشق) کرائی جائے۔ جس طرح حنفی اصول فقہ میں آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ کے مقابلے میں حدیث کی تردید ہے ،اسی طرح آیت وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ” اور انکے شوہر اس عدت میں ان عورتوں کو لوٹانے کا زیادہ رکھتے ہیں اگروہ صلح چاہتے ہوں”۔ کے مقابلے میں پہلے تو کوئی خبر واحد کی حدیث نہیں ہے کہ جس میں نبیۖ نے عدت میں رجوع سے روک دیا ہو۔ لیکن اگر کوئی صحیح حدیث ہوتی تب بھی قرآن کی آیت سے متصادم ہونے کی بنیاد پر اس کو رد کردیا جاتا۔
علماء کی بڑی کم بختی یہ ہے کہ قرآن کی آیات کو بھی آپس میں متصادم کر دیا جو کام قرآن کے دشمن نہ کرسکے وہ نادان دوستوں اور احمق گدھوں نے کردیا۔ اللہ نے عدت میں باہمی اصلاح سے شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا تو حلالہ کی لت والے مفتیان کس طرح فتویٰ دیتے ہیں کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے؟۔
عورت کی عزت کو قرآن وسنت نے تحفظ دیا لیکن علماء نے اسلام اور حلالہ کے نام پر عورتوں کی عزتوں کو پامال کردیا ہے۔ حنفی مسلک فطرت کے عین مطابق تھا لیکن احمق گدھوں نے مسلک حنفی کی غلط ترجمانی سے حقائق کو بالکل مسخ کردیا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

جھوٹ نے قوم کو اندھا کردیا؟
ہم تمہاری عزتیں ، تمہاری جانیں اور تمہارے مالوں کوبچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو!
قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ