پوسٹ تلاش کریں

اسلام نے دنیا میں انسانیت کی بنیاد پر انقلاب برپا کردیا تھا اور آج ہمارا خطہ پاکستان سے پھر طرزنبوت کی خلافت کا خواہاں ہے۔ آئیے ہم مل کر آغاز کریں ۔

اسلام نے دنیا میں انسانیت کی بنیاد پر انقلاب برپا کردیا تھا اور آج ہمارا خطہ پاکستان سے پھر طرزنبوت کی خلافت کا خواہاں ہے۔ آئیے ہم مل کر آغاز کریں ۔ اخبار: نوشتہ دیوار

اسلام نے دنیا میں انسانیت کی بنیاد پر انقلاب برپا کردیا تھا اور آج ہمارا خطہ پاکستان سے پھر طرزنبوت کی خلافت کا خواہاں ہے۔ آئیے ہم مل کر آغاز کریں ۔

جب اسلام دنیا میں آیا تھا تو حجاز مقدس میں اس وقت کسی کی بھی کوئی ریاست اور حکومت نہیں تھی لیکن یہ بات تاریخ کی ایک حقیقت ہے کہ جب رسول اللہ ۖ پر اسلام کے نزول کی تکمیل ہوئی اور آپۖ اس دنیا سے عالم برزخ کی طرف انتقال فرماگئے تو خلافت راشدہ کے زمانے میں مشرق ومغرب کی سپر طاقتوں کو ہم مسلمانوں نے شکست دی تھی۔ اگرحضرت عثمان کی المناک شہادت کے بعد عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرام حضرت طلحہ ، حضرت زبیر، ام المؤمنین حضرت عائشہکے بعد خوارج کی حضرت علی سے جنگیں نہ ہوتیں تو ممکن تھا کہ خلفاء راشدین مہدیین کے بعد خاندانی امارت اور بادشاہت میں سلطنت اسلامیہ نہ بدلتی۔ جو کچھ بھی ہوا ہے، کیا فرقے بن گئے، کیا احادیث اور تاریخ کے اختلافات ہیں اور کیا مسالک کے معاملات ہیں؟۔ یہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے۔ اب ہم نے آگے کرنا کیا ہے ؟۔ اس کیلئے سوچ وبچار کی سخت ضرورت ہے۔
پاکستان میں دیوبندی بریلوی حنفی مکتب کی اکثریت ہے جو بخاری کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ سمجھتے ہیںجس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے بعد صحیح ترین اور مستندترین کتاب صحیح البخاری ہے۔ نماز میں تمام مسالک مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری ، وہابی اور اہل حدیث وغیرہ رکوع میں جاتے اور اٹھتے ہوئے رفع الیدین کرتے ہیں اور صحیح بخاری میں غالبًا17روایات ہیں۔ جن میں رفع الدین کا ثبوت ہے لیکن حنفی پھر بھی اپنے مسلک کو نہیں چھوڑتے۔ حالانکہ رفع الدین کا عقیدے ، اجتہاد اور تقلید سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک روش ہے جس پر ایکدوسرے کو دیکھ کر آباء اوجداد سے ہم چل رہے ہیں۔ کانیگرم جنوبی وزیرستان میں میرے ساتھ ایک استاذ محمدانور صاحب گئے تھے۔ جو اہلحدیث تھے اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے۔ جب لوگوں نے مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے رفع الید ین کرتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ کیا یہ شیعہ ہیں؟۔ میں نے کہا کہ نہیں سنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر نماز میں ناچ کیوں رہاہے؟۔ میں نے بتایا کہ ” حرم کے امام بھی نماز میں اسی طرح رفع الیدین کرتے ہیں”۔ عربی مقولہ ہے کہ انسان جس چیز کو نہیں جانتا ہے اس کا دشمن ہوتا ہے۔
جب میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتا تھا تو کچھ طلبہ نے بتایا کہ ”اہلحدیث کے مدرسے جامع ابی بکر سے کچھ طلبہ آتے ہیں اورہمارے پاس ان کی باتوں کا جواب نہیں ہوتا ۔ آپ ان سے بات کریں”۔ اہلحدیث کے طلبہ نے20رکعت تراویح پر بات کی تو میں نے عرض کیا کہ نبیۖ نے باجماعت تراویح کیلئے اس طرح اہتمام فرمایا؟، تو پھر آپ لوگ کیوں کرتے ہیں؟۔ ہم تو20تراویح باجماعت کو حضرت عمر کے دور کی سنت سمجھتے ہیں اور نبیۖ نے فرمایا : علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین” تم پر میری سنت اور ان خلفاء کی سنت لازم ہے جو صاحب رشد مہدی ہیں”۔آپ لوگ ایک طرف حضرت عمر کی سنت کو بدعت سمجھتے ہیں اور دوسری طرف تراویح باجماعت کی بدعت کو اپنائے ہوئے ہیں؟۔ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور وہ اپنے اساتذہ سے جواب لینے کا کہہ کر گئے تھے مگر واپس نہیں کبھی نہیں آئے۔
حنفی اور اہل حدیث بھی اپنے اپنے ماحول کے مقلد ہیں اور اہل تشیع بھی۔ مذہبی معاملے کے علاوہ ہمارا سیاسی ماحول بھی تقلید اور وکالت کا ہے۔ جن جن سیاسی جماعتوں سے جس جس کی وابستگی ہے وہ اپنی جماعت کی وکالت کا وطیرہ اپنا فرض سمجھتا ہے جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت مذہبی طبقات اور سیاسی جماعتوں سے بہت بدظن ہے۔ الیکشن میں بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے جاتے ہیں اور ووٹ ڈالتے وقت یہ بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ کس پارٹی کو ووٹ ڈالنے سے کیا فائدہ اور کیا نقصان ہوگا؟۔ پاکستان کو آزادی کے بعد ورثہ میں ریاست ملی تھی۔ فوج، عدلیہ، سول بیوروکریسی کی انتظامیہ اور پارلیمنٹ لیکن ہم نے ان کل پرزوں سے ترقی کرنے کے بجائے تنزلی کا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ ایک ایسی سیاسی پارٹی کی ضرورت کا احساس ہوگیا ہے جو اپنی مقبولیت کیلئے نظام سے لڑنے کا نعرہ لگانے کے بجائے نظام کو بہت زبردست اللہ کی نعمت سمجھے اور دوسروں سے نفرت کے جذبات اجاگر کرکے اپنی مقبولیت کی بلڈنگ کھڑی کرنے کے بجائے مثبت انداز میں دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف اور خامیوں پر تنقید کرے اور اپنی اصلاحِ احوال پر بہت زیادہ زور دیکر رول ماڈل بن جائے۔

(نوٹ: مکمل آرٹیکل پڑھنے کیلئے ”اسلامی انسانی انقلاب کا منشور اور اس کے بنیادی نکات” پڑھیں۔ )

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

رسول اللہ ۖ ، صحابہ ، امام ابوحنیفہ ، شاہ ولی اللہ اور دار العلوم دیوبند کے سپوت کپوت تک کا سلسلہ
مذہبی جماعتوں نے کبھی پاکستان میں ایک مرتبہ بھی قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی نہیں کی!
آواز آئی کہ تمہاری طلاق نہیں ہوئی ،قرآن کھول کردیکھ لو!