جیسے دوسرے مذاہب مسخ کردئیے گئے اسی طرح اسلام بھی مسخ کردیا گیا۔ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

جیسے دوسرے مذاہب مسخ کردئیے گئے اسی طرح اسلام بھی مسخ کردیا گیا۔

جیسے دوسرے مذاہب مسخ کردئیے گئے اسی طرح اسلام بھی مسخ کردیا گیا۔ اخبار: نوشتہ دیوار

جیسے دوسرے مذاہب مسخ کردئیے گئے اسی طرح اسلام بھی مسخ کردیا گیا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کی ایسی حالت مولوی نے کردی جیسے لاوڈ اسپیکر پر خراب سبزی اور پھل ریڑی پر بیچنے کی ہوتی ہے کہ کچھ لاچار وغریب لوگ اسکے خریدار ہوتے ہیںمگراور کوئی نہیں پوچھتا

تازہ پھل خوش رنگ، خوش ذائقہ اور صحت بخش ہوتے ہیں لیکن جب ان کا حلیہ بگاڑ دیا جائے، باسی ، بدرنگ اور بدذائقہ ہوجائیں تو وہ مضر صحت بن جاتے ہیں۔ فیروز بھائی نے بتایا کہ بھارت میںان کا گاؤں غریب تھا، سبزی والا پکارتا تھا کہ خراب سبزی لے لو۔ آج مختلف فرقوں، جماعتوں، مسلکوں اور دانشوروں کا اسلام انسانوں کیلئے قابلِ التفات نہیں ۔ایک مولوی نے گاؤں میں نمازِجمعہ کی تقریر کرنے سے گریز شروع کردیا۔ عربی خطبہ پڑھ لیتا تھا، پہلے لوگ خوش تھے کہ جلد جان چھوٹ جاتی ہے لیکن پھر ان میں مولوی صاحب کی سریلی آوازنے تشنگی کا احساس پیدا کردیا۔ ہاتھ جوڑ کر لوگوں نے فرمائش کی کہ مولوی صاحب کچھ ہمیں بتائیں، وعظ کریں، نصیحت کریں،ہماری تعلیم وتربیت کریں۔ جب مولوی صاحب نے دوبارہ منبر پربیٹھ کر تقریر کرنیکا فیصلہ کیا تو جمعہ کے دن عوام سے مسجد کھچاکھچ بھر گئی۔ مولوی صاحب کے دل ودماغ پر یہ بات چھاگئی تھی کہ یہ لوگ مردہ ضمیر بن چکے ہیں۔ ان کی آنکھیںہیں مگر اس سے دیکھتے نہیں۔ انکے کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں۔ ان کے دل ہیں مگر اس سے سمجھتے نہیں۔ ان کی مثال جانوروں کی بن چکی ہے بلکہ ان سے بھی یہ لوگ بدتر حالت پر پہنچے ہیں۔ چنانچہ مولوی صاحب نے جب تقریر شروع کی تو لوگ ورطہ حیرت میں پڑگئے۔ فرمایا : حاضرین مجلس! میری بات غور سے سن لو!۔ دوسروں تک بھی میرایہ پیغام پہنچادو۔ آج کے بعد زنا کرو، قوم لوط کا عمل کرو، قوم ثمود اور قوم عاد کا عمل کرو۔ جو غلط کام جی میں آئے ،بالکل بلاسوچے سمجھے کر گزرو۔ چوری ، ڈکیتی، قتل، رشوت اور جس گناہ کا بس چلے تو موقع ہاتھ سے مت جانے دو۔ مولوی نے وہ ایک ایک برائی گن گن کر اس پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے اپنی تقریر ختم کی تو لوگ بہت حیران تھے۔ نمازِ جمعہ کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ آج آپ کو کیا ہوا تھا کہ ساری باتیں الٹ کررہے تھے؟۔ مولوی نے کہا کہ تمہیں معلوم تھا کہ یہ سب باتیں غلط ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ بالکل ۔ کچھ تو پہلے سے پتہ تھیں اور کچھ آپ سے سنی تھیں کہ غلط ہیں۔ مولوی نے کہا کہ پھر تمہارا عمل کیا تھا؟۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان سب منکرات میں ملوث ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا کہ جب آپ کو سب معلوم ہے اور منع نہیں ہوتے تو خوامخواہ مجھے کیوں بھونکواتے ہو؟۔
جب انسانوںپر برائی کے کاموں سے موت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے تو اللہ بھی قرآن میں کبھی بنی اسرائیل سے فرماتا ہے کہ ” اپنے نفسوں کو قتل کرو”۔ کبھی قرآن کے مخالف دشمنوں سے فرماتا ہے کہ ” اپنے غصے کے سبب مرجاؤ”۔ انسانی ضمیر مردہ ہوجاتا ہے تو اس کو جگانے اور بیدار کرنے کیلئے حکمت عملی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اسلام نے انسانوں کو جان ، مال اور عزت کا تحفظ دیا ہے لیکن جب اسلام پر عمل نہیں ہوگا تو جان ، مال اور عزت کو تحفظ نہیں مل سکتا ہے اور آج کشمیراور فلسطین کے مسلمانوں کی بات صرف نام کی حد تک ہے۔ مسلمان دہشتگردوں سے مسلمانوں کی جان ، مال اور عزتوں کو تحفظ حاصل نہیں تو امریکہ کے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی کاروائی پر کیا ماتم کیا جائے؟۔سراج الحق کہتا ہے کہ سود کو اللہ نے اپنی ماں سے 36مرتبہ زنا کے برابر گنا ہ قرار دیا ہے۔
لاہور کے مولانا محمد مالک کاندھلوی نے کہاتھا کہ ” جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء اسلام کے مطابق ہے۔ پہلا مارشل لاء حضرت ابوبکر صدیق نے لگایا تھا”۔ حضرت ابوبکر صدیق نے جبری زکوٰة لینے کا حکم نافذ کیا تھا اور چاروں فقہی ائمہ امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے جبری زکوٰة کو ناجائز قرار دیا لیکن جبری نماز پڑھانے کو فرض قرار دیا۔ جنرل ضیاء الحق نے زکوٰة کے حکم پر عمل کو زندہ کیا یا اس کو مزید ملیامیٹ کرکے رکھ دیا؟۔ جب جنرل ضیاء الحق نے بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی کا حکم جاری کیا تو اہل تشیع نے احتجاج کیا جس کی وجہ سے شیعہ کے اکاؤنٹ سے زکوٰة کی کٹوتی روک دی گئی اور پھر ایسے دیوبندی عالم کو بھی ہم جانتے ہیں جس نے اپنی بیگم کو جھوٹ سے شیعہ لکھ کر اکاونٹ کھولا، تاکہ اس کی زکوٰة نہیں کٹے۔ شیعوں کی اس تحریک سے لوگوں نے سمجھا کہ شاید وہ زکوٰة کے منکر ہیں۔ حالانکہ زکوٰة کے منکر کو کون مسلمان سمجھ سکتا ہے؟۔
اسلام کے اجنبی بننے کی کہانی تو بہت پہلے شروع ہوئی تھی۔ جن ائمہ فقہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے جبری زکوٰة پر اختلاف کیا اور نماز کیلئے جبری تصور گھڑ لیا وہ ہدایت کے مقابلے میں گمراہی کی بڑی سیڑھی پر چڑھ گئے تھے۔ جنرل ضیاء الحق اور اس کی تائید کرنے والے مفتی محمد تقی عثمانی ومفتی محمد رفیع عثمانی نے اسلام کو اجنبیت کی آخری حد تک پہنچانے میں زبردست کردار ادا کیا۔ سود اور زکوٰة ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ 10لاکھ کی رقم پر سالانہ 25ہزار زکوٰة بنتی ہے۔ اور اگر 10لاکھ پر بینک سے ایک لاکھ سود ملے تو یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی بالکل اُلٹ اور ضد ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے جب بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی کا حکم جاری کیا تو 10لاکھ پر ایک لاکھ سود کی رقم ملتی تھی اور 25ہزار زکوٰة کے نام سے کٹتے تھے۔ نتیجے میں اصل رقم 10لاکھ اپنی جگہ پر محفوظ رہتی تھی اور 75 ہزار مزید سود کی رقم بھی ملتی تھی اسلئے زکوٰة کی ادائیگی کی جگہ سود میں تھوڑی کمی تھی۔
ایک پانچویں جماعت کے بچے اور ان پڑھ شخص کو بھی یہ معاملہ سمجھ آسکتا تھا اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود نے مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی کو سمجھایا بھی تھا لیکن جب انسان کے دل ودماغ پر مفادات کے پردے پڑجائیں تو اس کی آنکھیں، کان اور دل سب چیزیں کام کرنا چھوڑدیتی ہیں اسلئے کہ دماغ میں اپنا مفاد اٹکا ہوا ہوتا ہے۔ کہاں حضرت ابوبکر کی طرف سے جبری زکوٰة کی ہدایت؟ اور کہاں سود کے نام سے زکوٰة کی کٹوتی اور زکوٰة کی عدم ادائیگی کی بڑی بدترین گمراہی ؟،دونوں مارشل لاء میں آسمان وزمین کا فرق تھا۔ مولانا فضل الرحمن کہتا تھا کہ ”مدارس یہ زکوٰة نہ لیں ، یہ آب زم زم کے لیبل میں شراب کی بوتل ہے”۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے کروڑوں روپے ، مدرسے کی لائبریری اور ایک بہت بڑا پلاٹ لیکر فتویٰ جاری کردیاتھا۔ جب بات مالی مفادات کی آتی ہے تو اس پر علم وفہم کے اختلاف کی بات کرنا بھی فضول ہے۔حاجی عثمان ایک بڑے اللہ والے تھے اور ان کے مریدوں کا صاف ستھرا کاروبار تھا لیکن جب مفتی محمد تقی عثمانی نے اس میں یہ گندے پیسے ڈال دئیے تو کاروبار سودی لین دین میں بدل گیا۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے ان کے ساتھ مل کر انتہائی بیہودہ اور ناممکن الزامات بھی لگا دئیے تھے۔ پہلے مالدار لوگ زکوٰة کو فرض سمجھ کر ادا کرتے تھے تو غریبوں کو اس کا بہت فائدہ پہنچتا تھا۔ دیندار لوگ بینکوں کا سود بھی علماء کو لیٹرین بنانے کیلئے دیتے تھے۔پھر جب زکوٰة کی ادائیگی بھی نہیں رہی اور حکومت کے مختلف اداروں میں زکوٰة کے نام پر وہ سودی رقم بھی حرام خوری کیلئے استعمال ہونے لگی تو پاکستان سے دینداری کا نام ونشان بھی ایک خول کی طرح رہ گیا لیکن اس میں مغز نہیں رہا۔ اب یہ معاشرہ بے روح وجان لاش کی طرح بن کررہ گیاہے۔
پھر کرائے کے مجاہدین نے روس کے جانے کے بعد افغانستان میں بڑی بدمعاشی اور غنڈہ گردی قائم کی جس کے خلاف طالبان میدان میں آگئے تھے۔ طالبان نے جبری نماز کے فقہی مسئلے پر عمل کرکے جس کو اسلام کی نشاة ثانیہ سمجھ لیا تھا وہ تصور بھی مزید دنیا میں اسلام کا تماشا کرگیا۔ اسی طرح سنگساری کرنے کا مسئلہ دنیا کیلئے بالکل ناقابلِ قبول تھا۔ جس کی وجہ سے طالبان کے مثالی امن کو بھی ایک خوف کی علامت قرار دیا گیا۔ تصاویر پر پابندی بھی دنیا کیلئے عجوبہ تھی۔ زبردستی داڑھی رکھوانے کا عمل بھی تاریخ اسلامی کی پہلی نادر چیز تھی۔ عورتوں پر زبردستی سے شٹل کاک کی پابندی اور بچیوں کی تعلیم پر پابندی بھی ناقابل فہم تھی۔
افغان طالبان نیٹو افواج کے انخلاء اور برسر اقتدار آنے کے بعد اگرچہ کچھ تو بدل گئے ہیں لیکن جدت اور قدامت پسندی کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ افغان طالبان اور دارلعلوم دیوبند کے اساتذہ کے درمیان ایک اعتماد کا رشتہ ہے اور پاک فوج سے بھی افغان طالبان کو زبردست مدد ملتی رہی ہے۔ کچھ کم بختوں نے اپنے مفادات اٹھائے اور بے ضمیری کے ریکارڈ قائم کئے لیکن ایسے لوگ ہر معاشرے، طبقے اور جگہ میں ہوتے ہیں۔ جب نیٹو کی سپلائی کراچی سے کابل جاتی تھی تو پاکستان کے حدود میں ان کو زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔قطر سے ڈرون اُڑ سکتے ہیں تو قطر سے طالبان کابینہ نے بھی پرواز کرکے افغانستان کے اقتدار تک پہنچنے تک براستہ پاکستان اڑان بھری۔ اسامہ بن لادن پرحملہ کیا گیا تو امریکہ کو پاکستان اپنی سرزمین پر کاروائی سے نہیں روک سکا۔ بھارت نے میزائل چھوڑ دیا تو پاکستان نہیں روک سکا۔ امریکہ کے خلاف جو جنگ طالبان نے افغانستان میں لڑی ہے وہ دراصل پاکستان ہی میں لڑی گئی ہے۔ پاکستان کا ایک ایک فرد سرکاری ،غیر سرکاری، مرد ، عورت، بوڑھا، جوان اور بچہ نے کھل کر طالبان کا ساتھ دیا۔ اس کی سزا بھی قوم نے بھگت لی۔ اب اگر طالبان کوپاک فوج سے لڑایا گیا جس کے بھرپور خدشات ہیں تو پھر اس خطے کے باسی نیٹو لڑائی کو بھول جائیںگے۔ شیروں ، چیتوں، بھیڑیوں اور لگڑ بگھا کی لڑائی میں جنگل کے معصوم جانوروں کی خیر نہیں ہوگی۔ فضائی حملوں اور دہشت گردانہ کاروائیوں میں آبادیوں کو نقصان پہنچانے میں جو ہولناک مناظر ہوں گے اس کا فائدہ انہی قوتوں کو جائے گا جن کا منصوبہ ہے کہ یہاں کے وسائل پر قبضہ جمایا جائے ۔
اسلام دشمن طاقتوں کو سب سے بڑا خطرہ اصلی اسلام سے ہے اور طالبان بھی اصلی اسلام کا نام لینے سے نہ صرف ڈرتے ہیں بلکہ مکمل توبہ بھی کرچکے ہیں اور اصلی اسلام پوری دنیا میں خلافت کے نظام کا قیام ہے۔اغیار دہشت گردوں سے خوف زدہ نہیں بلکہ دہشت گرد پیدا کرتے ہیں۔ دہشت گردی پر مجبور کرتے ہیں تاکہ مسلمان آپس میں لڑ جھگڑ کر عالمی اسلامی خلافت کے قیام سے پہلے نابود ہوجائیں یا اس قابل نہیں رہیں کہ وہ خلافت نافذ کرسکیں۔ ان کے نزدیک دشمنی کی بنیاد یہ ہے کہ مسلمان زبردستی سے اسلام قبول کرنے پر مجبور کریںگے یا جزیہ لیںگے اور اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات نہیں مانی جائے تو عورتوں کو لونڈیاں اور مردوں کو غلام بنایا جائیگا۔ جب تک مسلمان اس تصور سے دستبردار نہیں ہوتے ہیں اس وقت تک غیر مسلموں نے اسلام اور مسلمان دشمنی کا تصور قائم رکھنا ہے۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ برمودہ ٹرائی اینگل سے امام مہدی غائب برآمد ہوں گے اور وہ اصلی اسلام کو دنیا میں نافذ کریںگے اور سنی سمجھتے ہیں کہ کوئی عام مسلمان خلافت قائم کرکے امام مہدی کا کردار ادا کریںگے۔ اغیار نے یہ تصور نوٹ کرلیا ہے اور شیعہ سنی تفریق کے علاوہ ممالک ، علاقوں ، قوم پرستی اور مختلف بلاکوں میں بٹے رہنے کو غنیمت سمجھ رکھا ہے۔ اگر چہ کسی بھی ملک میں خلافت کے قیام کی ہمت نہیں ہے اور ترکی وغیرہ نے اسرائیل تک کو تسلیم کیا ہے لیکن طالبان کو تسلیم کرنے سے بھی اسلامی ممالک کتراتے ہیں اور طالبان کو بھی مسلم ممالک سے زیادہ اغیار کے تسلیم کرنے کا فائدہ لگتا ہے۔ جب طالبان کو سعودی عرب، عرب امارات اور پاکستان نے تسلیم کیا تھا تب بھی امریکہ ونیٹو نے کیا حشر کیا؟۔ عراق ولیبیا، شام ویمن اوردیگر ممالک کا کیا حشر ہوا؟۔ پاکستان کٹھ پتلی کی طرح استعمال ہوا لیکن پھر بھی کیا حشر ہوا؟۔ اگر دیکھا جائے تو اسلامی ممالک کی عوام کو بھی اسلامی نظام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ طالبان اس خوف سے انتخابات بھی کرانے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان میں مذہبی پارٹیاں اپنے اسلام کو چھوڑ جائیں تو بھی عوام کیلئے ان کا کردار قابلِ قبول نہیں ۔ عورت کی آواز کو پردہ کہنے والوں کی خواتین کو قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں اور ٹی وی اسکرین پر دیکھ کر طالبان کو عبرت پکڑنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اب بھی علماء خود کو محکوم سمجھتے ہیں۔ جب سود کے طاغوتی نظام کے خلاف ناکامی ہوئی تو سود کو اسلامی قرار دے دیا۔
امت مسلمہ پر پوری دنیا میں موت کی سی کیفیت طاری ہے۔ ان میںروح دوڑانے کیلئے ایسے اقدام کی ضرورت ہے کہ جس سے ان میں زندگی کی رمق دوڑ جائے۔ انڈوں کو مہینوں، سالوں اور صدیوں محفوظ کرکے رکھ لو تو وہ مردہ ہی رہیں گی لیکن جس دن اس کو مطلوبہ حرارت مل جائے اور پھر اس کو مسلسل قائم بھی رکھا جائے تو ٹھیک 21دن بعد چلتے پھرتے ، کھاتے پیتے اور دوڑتے ہوئے چوزیں دکھائی دیں گے۔ جن برائیوں کا پتہ ہونے کے باوجود بھی لوگ اس کے مرتکب بنتے ہیں تو وہ وعظ ونصیحت اور تلقین وتقریر سے نہیں نظام بدلنے سے رک سکتے ہیں۔ حلالہ ایک ایسی لعنت ہے کہ جو پوری دنیا کے کسی مذہب، ملک اور قوم کیلئے قابل قبول نہیں لیکن طالبان کے اساتذہ اس کے مرتکب ہیں۔ جب فیصلہ ہوجائے کہ حلالے کا تصور غلط ہے اور قرآن نے حلالے کے بغیر رجوع کو واضح کیا ہے تو اُمت میں زندگی کی حرارت پیدا ہوجائے گی اور پھر عورت کے حقوق کے حوالے سے سب چیزیں اجاگر ہوں گی تو امت مسلمہ اٹھ کھڑی ہوگی۔
ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے 9/11کے 5دن بعد 16ستمبر 2001کو علماء و مشائخ اور صحافیوں کو بلایا تو مجھے بھی دعوت دی۔ میں نے کہا کہ(1) جب تک طالبان پر جرم ثابت نہ ہو تو ان کو سزا دینا غلط ہے۔ یہی بات دوسروں نے بھی کی تھی۔ (2) امریکہ کے کہنے پر ہم نے طالبان کو بنایا ۔ وہ بینظیر کا دور تھا اور نصیر اللہ بابر وزیر داخلہ تھے۔ تو اب ہمارے لئے یہ بے غیرتی بھی ہے کہ ان کے کہنے پر طالبان سے لڑیں۔ (3) یہ اسلام کے خلاف ہے کہ مسلم ملک پر غیر مسلم کا اتحادی بن کر لڑیں۔ پرویز مشرف نے کہا کہ امریکہ ہمیں کشمیر دلادے گا اور ایٹمی پروگرام میں مدد کرے گا۔ میں نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن امریکہ کے پیچھے اسرائیل ہے اور اسرائیل پاکستان کا اصل دشمن ہے اسلئے ایک دن ہماری باری بھی آئے گی۔ ڈاکٹر اسرار نے اپنی آنکھیں نکال نکال کر بہت تفاخر کے ساتھ یہ باتیں کہیں لیکن کہنا یہ چاہیے تھا کہ امریکہ کے کہنے پر جہاد بھی بے غیرتی تھی، طالبان کو کھڑا کرنا بھی بے غیرتی تھی اور اب اس بے غیرتی کے تیسرے مرحلے میں پہنچنا بھی بے غیرتی ہے۔ ہندوستان کیخلاف امریکہ کا اس طرح ساتھ دینا بھی بے غیرتی ہے۔ اپنے مفادات کیلئے دوسروں کو قربان کرنا اگر بے غیرتی نہیں ہے تو غیرت پھر کس چیز کا نام ہے؟۔ علامہ اقبال نے کہا تھا
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
اقبال کے شاہینوں نے خود کو طوفان سے آشنا کرنے کے بجائے دوسروں کو آزمائش میں ڈال کر اپنی بچت کا سامان کیا ہے۔ جب شہر میں بارش زیادہ ہوتی تو نبی ۖ فرماتے کہ ہم پر نہیں ہمارے ارد گرد پر بارش برسا۔ ہمارے کم عقل یہ دیکھ رہے تھے کہ ارد گرد والے ڈوب رہے ہیں پھر بھی یہی دعا کررہے تھے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ
ایک عظیم انسانی معاشرہ
قرآن کریم کی غلط تعبیر سے کس نے گمراہ کیا؟