مذہبی طبقات کا قرآن سے بدترین انحراف اور نشاندہی! - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

مذہبی طبقات کا قرآن سے بدترین انحراف اور نشاندہی!

مذہبی طبقات کا قرآن سے بدترین انحراف اور نشاندہی! اخبار: نوشتہ دیوار

مذہبی طبقات کا قرآن سے بدترین انحراف اور نشاندہی!

مدینہ منورہ کے ایک کتب خانے میں دوعرب علماء سے بات ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ قرآن کی تحریف کے قائل ہیں۔ میں نے کہا کہ تم نہیں ہو؟۔ اپنی کتاب ابن ماجہ دکھاؤ۔ ان کو رضاعت کبیر کی روایت دکھائی کہ وہ آیات جن میں رجم اور بڑے آدمی کو دودھ پلانے کا حکم تھا، جب رسول اللہ ۖ کا وصال ہوا تو بکری کے کھا جانے سے وہ آیات ضائع ہوگئیں۔ میں نے کہا کہ میں شیعہ ہوں اور نہ سنی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی شیعہ ہیں اور نہ سنی۔ یہ عرب علماء کا حال ہے ۔
مدینہ یونیورسٹی کے پاکستانی بلوچ طالب علم( روضہ رسولۖ پر ڈیوٹی اور فراغت میں چند ماہ تھے ) نے اپنے ایک بلوچ استاذ سے ملاقات کرائی۔ کچھ اور طالب علم اور افراد بھی ساتھ تھے۔ جب میں نے کہا کہ اصول فقہ میں قرآن کی جو تعریف پڑھائی جاتی ہے تو کیا یہ عوام اور علماء کیلئے قابل قبول ہوسکتی ہے؟۔ جب ان کا ذہن حقائق کی طرف گیا تو کہنے لگے کہ” یہ اتنا خطرناک مسئلہ ہے کہ اگر یہاں انتظامیہ اور حکومت کو پتہ چل گیا تو ہمیں یہاں سے نکال دیںگے یا غائب کردیںگے”۔اسلئے پاکستان میں اس پر بحث کرنا زیادہ موزوں ہے۔
فقہ حنفی کے امام ابو حنیفہ اور شاگردوں کے درمیان قرآن پر اختلاف تھا۔ امام ابوحنیفہ فارسی میں نماز جائز سمجھتے تھے اسلئے کہ قرآن عربی الفاظ اور اس کا فارسی یا اپنی زبان میں مفہوم قرآن ہے۔ درس نظامی کی کتاب ” نورالانوار” میں ہے کہ” امام ابوحنیفہ بڑے ولی اللہ تھے اسلئے عربی زبان میں قرآن کے الفاظ کی سجاوٹ کو بندے اور خدا کے بیچ میں حجاب اور رکاوٹ سمجھتے تھے”۔ امام ابوحنیفہ پہلے علم الکلام کی گمراہی میں بھٹکے تھے اورپھر توبہ کی تھی۔ قرآ ن میں اللہ نے فرمایا ” ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اسکی قوم کی زبان سے تاکہ وہ اسکے ذریعے اللہ کا پیغام واضح کریں”، امام ابوحنیفہ نے انسانی فطرت کے مطابق اپنی زبان میں نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا تھا۔ سندھ میں قرآن کاسندھی ترجمہ محمد بن قاسم کی آمد سے بھی پہلے کیا گیا تھا اور سندھ میں جمعہ کا خطبہ بھی عربی کی جگہ سندھی زبان میں پڑھاجاتا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اے ایمان والو! نماز کے قریب مت جاؤ ، جب تم نشے کی حالت میں ہو۔ یہاں تک کہ تم سمجھو کہ جو کہتے ہو”۔(قرآن)نماز میں قرآن کے عربی الفاظ مفہوم کے بغیر بھی نشہ میں پڑھنے کی طرح ہی ہیں۔
جب شاہ ولی اللہ نے فارسی میں قرآن کا ترجمہ کیا تو علماء نے کفر کا فتویٰ لگایا اور ان کو کچھ سال روپوش رہنا پڑا تھا۔ سوال یہ تھا کہ قرآن کا ترجمہ کلام اللہ ہے یا نہیں؟۔یہ بھی ایک عقیدے کی جنگ تھی۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھاہے کہ ”قرآن کے عربی الفاظ قرآن کا اعجاز ومعجزہ نہیںبلکہ قرآن کا وہ مفہوم ہی قرآن کا اعجاز اور معجزہ ہے جس کی وجہ سے مردہ قوم میں نئی زندگی پیدا ہوجائے”۔
اصول فقہ میں قرآن کی تعریف یہ ہے ہو اسم لنظم والمعنی جمیعًا ”قرآن نام ہے عربی الفاظ اور معنی سب کا”۔یعنی اللہ کا کلام نہ صرف عربی کے الفاظ ہیں معانی کے بغیر اور نہ صرف معانی ہیں عربی کے الفاظ کے بغیر۔ بلکہ ان دونوں الفاظ اور معانی کا نام اللہ کا کلام ہے۔ المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبة ” جو لکھا ہوا ہے مصاحف میں اور جو نقل کیا گیا آپۖ سے متواترنقل بغیر کسی شبہ کے”۔ اس کی شرح میں ملاجیون نے لکھا ہے کہ ” مکتوب سے مراد لکھا ہوا نہیں کیونکہ لکھا ہوا محض نقش ہے ،اللہ کا کلام نہیں۔ نقل متواتر سے وہ آیات نکل گئیں جو اخبار احاد یا اخبار مشہور ہیں اور بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی اسلئے کہ اگر چہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے لیکن اس میں شبہ ہے ”۔ (نورالانوار) توضیح تلویح میں لکھا ہے کہ” اگرچہ کسی آیت کا انکار کرنے سے مسلمان کافر ہوجاتا ہے لیکن بسم اللہ میں شک اتنا زیادہ قوی ہے کہ اس کے انکار کی وجہ سے کوئی کافر نہیں بنتاہے”۔(درسِ نظامی کی تعلیمات)
نمبر1:جب قرآن کے معانی کو اللہ کا کلام نہیں سمجھا جائے تو پھر اخبارات اور کتابوں میں اردو کے اندر فرمان باری تعالیٰ لکھنا درست ہوگا؟۔
نمبر2:جب عربی میں لکھا ہوا بھی قرآن نہیںبلکہ نقش ہے تو پھر اس کی توہین قرآن کی توہین ہوگی؟۔ جس پر مسلم دنیا میں کہرام مچ جاتا ہے؟۔ حالانکہ فتاویٰ قاضی خان ، صاحب ہدایہ کی کتاب تجنیس، فتاویٰ شامیہ میں سورہ ٔ فاتحہ کو علاج کی غرض سے پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا گیا ہے اسلئے کہ جب لکھائی کی صورت میں اللہ کا کلام مانتے نہیں توپھر پیشاب سے لکھنے میں کیا حرج ہے؟۔
نمبر3:متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئیں مگر نورالانوار میں ہے کہ حنفی فقہ میں قرآن کی خبرواحد بھی آیت ہے جبکہ شافعی یہ تحریف قرآن سمجھتے ہیں۔ حنفیوں کے نزدیک فکفارتہ……صیام ثلاثة ایام قرآن کے ساتھ متتابعات اگرچہ متواتر نہیں بلکہ خبر واحد ہے لیکن پھر بھی قرآنی آیت ہے۔اسلئے متواتر تین دن روزے رکھنا ضروری ہیں۔ جبکہ شافعی یہ آیت اور قرآن نہیں مانتے ہیں۔
نمبر4:جب بسم اللہ کو صحیح آیت ماننے کے باوجود بھی شبہ کی وجہ سے قرآن میں داخل نہیں کیا تو اللہ نے فرمایا کہ ذلک الکتٰب لاریب فیہ ” یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی ریب نہیں ہے”۔ ریب شک کے بہت ادنیٰ درجے کو کہتے ہیں اور جب قرآن کی ابتداء میں قرآن پر اتنا بڑا حملہ کردیا تو یہ حماقت نہیں ہے؟۔ امام شافعی کے نزدیک جہری فرض نماز میں جہر سے پڑھنا فرض ہے ۔ اسکے بغیر نماز نہیں ہوگی۔ مسلک مالکی میں فرض نماز میں خفیہ بسم اللہ پڑھنا بھی جائز نہیں۔ حنفی مسلک میں صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا جزء ہے مگر اسمیں شک ہے ۔
نمبر5:” عبداللہ بن مسعود نے آخری دو سورتوں سورہ الفلق وسورہ الناس کی قرآن کا انکار کیا تھا”۔ تفہیم القرآن:مولانا مودودی، تفسیر عثمانی علامہ شبیراحمد عثمانی اور تبیان القرآن علامہ غلام رسول سعیدی میں تفصیل دیکھ لیجئے گا۔
اصل بات یہ تھی کہ ابن مسعود کے مصحف کا پہلا اور آخری صفحہ پھٹ چکا تھا۔ جس نے مصحف کی زیارت کی تو اس نے بتایا کہ سورۂ فاتحہ و معوذتین نہیں تھے۔ مفتی حسام اللہ شریفی کے پاس اورنگزیب بادشاہ کے ہاتھ لکھا ہوا قرآن ہے اور اس میں فاتحہ اور آخری پانچ سورتیں نہیں۔ باقی پھراپنی کہانیاں گھڑی گئی ہیں۔
نمبر6:اصول فقہ میں جتنی آیات کے ٹکڑے لکھے گئے ہیں وہ پڑھنے والے طالب علم اور پڑھانے والے استاذ خود بھی نہیں سمجھتے۔ وہ احادیث صحیحہ اور صحابہ وجمہور فقہاء ومحدثین کے مذاہب سے ٹکرانے کیلئے ہیں اور ان کے ضمن میں حنفی اماموں کے درمیان آپس میں بھی گھمبیر اختلافات ہیں۔
نمبر7:جب فقہ کے بنیادی احکام میں قرآن کی واضح آیات پر اتفاق نہیں تو پھر حدیث، اجماع اور قیاس پر اتفاق کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے حنفی فکر پر ایران کے متحد ہونے کا بھی لکھا ہے اور انشاء اللہ ضرور ہوگا۔
نمبر8:ایک طرف فضول قسم کے تضادات کا خاتمہ ضروری ہے اور دوسری طرف مسلک حنفی اقرب الی الحق ہے اور یہ نہ ہوتا تو سب کچھ ملیامیٹ ہوجانا تھا اور ایک ایک بات ہم انشاء اللہ بہت احسن انداز میں ثابت بھی کریں گے۔
نمبر9:اکثر معاملات کا حل بھی مختلف شماروں میں پیش کردیا ہے اور سب کیلئے اطمینا ن بخش بھی ہے۔ درس نظامی کا محور ٹھیک ہے مگرمحور سے ہٹنا غلط ہے۔
نمبر10:کفارے کیلئے شہرین متتا بعین پر قیاس کرتے ہوئے تین دن میں بھی متتابعات کی تفسیر درست ہے۔ اگر حنفی اخبار احاد کو آیات سمجھتے تو ابن مسعود کے مصحف میں متعہ کو بھی آیت قرار دیکر جائز سمجھتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ
ایک عظیم انسانی معاشرہ
قرآن کریم کی غلط تعبیر سے کس نے گمراہ کیا؟