پوسٹ تلاش کریں

محنت اورایمانداری سے عروج ملتا ہے۔ ڈاکٹر اسدمحمود

محنت اورایمانداری سے عروج ملتا ہے۔ ڈاکٹر اسدمحمود اخبار: نوشتہ دیوار

محنت اورایمانداری سے عروج ملتا ہے۔ ڈاکٹر اسدمحمود

درسِ نظامی کا نصاب علماء ومفتیان بنانے کیلئے نہیں ہے بلکہ علوم و فنون میں صلاحیت حاصل کرنے کیلئے ہے۔ فاضل اور فارغ التحصیل کا لفظ جہالت ہے۔ طلب علم کی تشنگی دور اسلئے نہیں ہوسکتی ہے کہ فوق کل ذی علم علیم (ہر علم والے پر بڑا عالم ہے )کی حقیقت موجود ہے۔ درس نظامی کے مدارس، خانقاہیں اور مذہبی سیاسی جماعتیں اور تبلیغی تنظیمیں اسلام کی بقاء میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور انہی کے فیوض وبرکات سے دین کے خدوخال اور نقوش وچھاپ موجود ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب دین وایمان کم اور پیٹ کا مسئلہ زیادہ ہے۔
سکول، کالج ، یونیورسٹی، مدرسہ کے باوجود ترقی وعروج نہیں مل رہاہے بلکہ ہم پستی وخواری کی جانب گامزن ہیں۔ موٹیویشن اسپیکر ڈاکٹر اسد محمود کی یہ بات بھی بہت اچھی لگی کہ فٹ پاتھ پر جوتے گانٹھنے والے موچی نے بڑے دانشور سے پوچھا کہ مجھے عروج مل سکتا ہے؟۔ تو دانشور نے جواب دیا کہ بالکل !۔ پہلی شرط یہ ہے کہ تم محنت کرو۔ صبح سویرے سے رات دیر تک محنت کرو تو کامیابی مل سکتی ہے اسلئے کہ 30فیصد لوگ سستی کی وجہ سے نا کام اور 30فیصد لوگ محنت کی وجہ سے کامیاب ہیں۔ مسلسل محنت کرنے اور سستی چھوڑنے سے تم 30فیصد ان لوگوں میںشامل ہوجاؤگے جو کامیاب ہیں۔ گویا 30فیصد کامیابی تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے جو محنت سے مل سکتی ہے۔ 50فیصد کامیابی ایمانداری سے مل جاتی ہے۔ دنیا میں 50فیصد لوگ ایماندار ی کی وجہ سے کامیاب زندگی گزارتے ہیں ۔ ایمان دار بن جاؤ تو محنت وایمانداری کی وجہ سے 80فیصد عروج ملے گا۔ ایمانداری یہ ہے کہ وعدہ کرو تو اس کو پورا کرو۔ جھوٹ نہ بولو ،جھوٹ سے نفرت کرو۔ عہد شکنی مت کرو، دھوکہ مت دو اور سچ بولو، سچ سے محبت کرو اور سچ کا بھرپور ساتھ دو۔ محنت اور ایمانداری کی بدولت 80فیصد کامیاب اور عروج پانے والوں کی فہرست میں شامل ہوجاؤگے اور باقی 20فیصد ہنر سے کامیابی مل جائے گی اور ہنر کوئی بھی ہو تواس کی زیادہ سے زیادہ اہمیت 20 فیصد ہے۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایاہے الکاسب حبیب اللہ ” محنت کش اللہ کا دوست ہے”۔ اور فرمایا کہ ”سچے تاجروں کا حشر انبیائ، صدیقین، شہداء ، صالحین کے ساتھ ہوگا”۔ ہمارے مذہبی طبقہ ایماندار نہیں تو دنیادار کیسے ہوگا؟۔
مذہبی طبقہ محنت اور ایمانداری سے کام لیں تو 100فیصد نہیں ہزار فیصد ان کی کامیابی یقینی ہے اسلئے کہ جب رسول اللہ ۖ نے دورِ جاہلیت کی بے ایمانی اور تعصبات کو ختم کردیا تو نبیۖ کے جانشینوں کیلئے موجودہ دور میں کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ پوری دنیا سودی نظام کی وجہ سے غربت کا شکار ہے۔ سودی نظام محنت کشوں، ایمان داروں اور مسلمانوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
دنیا کے بینکوں اور اسلامی بینکاری سے صیہونی عالمی مالیاتی اداروں کو جوسود ملتاہے اسی سے امریکہ واسرائیل نے دنیا اور عالم اسلام کو گرفت میں لیا ہے۔ مدارس میں فاضل اور فارغ التحصیل تیار ہورہے ہیں لیکن مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی صدروفاق المدارس پاکستان اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صدر تنظیم المدارس پاکستان دیوبندی بریلوی اسلامی سودی بینکاری کی تائید کررہے ہیں۔ ایمانداری گئی بھاڑ میں اور محنت اور فن بھی گئے جھاڑ میں۔اسلام اور مذہبی طبقات سے اسلئے نفرت بڑھ رہی ہے کہ آج یہ آلۂ کار بن گئے ہیں۔
صرف دیوبندی مکتبہ فکر کے لوگ مولانا مناظر احسن گیلانی کی ایک کتاب ”تدوین القرآن” سے استفادہ کرکے علماء کرام اور طلباء عظام میں عام کردیں اور اپنے نصاب کے دائرے میں داخل کردیں تو ان کی محنت کارُخ درست بلکہ تندرست ہوجائے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عتیق گیلانی ڈرتا نہیں ہے لیکن غلط کہتے ہیں۔میں بالکل ڈرتا ہوں۔ اسلام اسلئے نہیں تھا کہ نبی ۖ نے فتح مکہ کے بعد جن لوگوں کو معاف کیا تھا ،وہ بنی امیہ فتح مکہ سے پہلے والے مسلمانوں کو اپنے تابع بناکر یزید اور بنومروان کو حکومت سونپ دیں یا بنوعباس اور ترکی خلافت عثمانیہ کی بادشاہت کھڑی کردیں اور اب مدارس، پیری مریدی ، سیاست و جہاد کے نام پر دنیاوی مفادات کیلئے اپنی اپنی فنکاریاں کریں۔ اس کیلئے اگر حسن نے زہر سے شہادت پالی اور حسین نے کربلا کے میدان ساتھیوں اور بچوں سمیت اپنی جان دیدی تو ان کو بھی قربانی کا شوق نہیں تھا لیکن مجبور کیا گیا تھا۔ صرف یزید کی بیعت قبول نہیں کی تھی ۔پھر ہم یزید کے مذہبی دکانداروں کے ہاتھ پر کیسے بیعت کرسکتے ہیں؟۔ بیعت انسانوں کے ہاتھ پر انسانوں کی ذات کیلئے نہیں ہوتی ہے بلکہ انسانوں کے ہاتھ پر اپنی اصلاح اور اجتماعی فریضے کیلئے ہوتی ہے۔
بیعت اللہ کیلئے ہوتی ہے۔ کسی ظاہری خلیفہ کے ہاتھ اللہ کے احکام کی بجا آوری کیلئے کی جائے یا کسی مرشد کے ہاتھ پر اپنی اصلاح کیلئے کی جائے تو اس کا مطلب اللہ کے لئے اپنے فرائض یا اپنی اصلاح کرنا ہوتی ہے۔ نبی ۖ اصلاح کیلئے بیعت فرماتے تھے اور لوگ اپنی اصلاح اور اللہ کیلئے بیعت ہوتے تھے۔ بیعت خلافت حضرت ابوبکر سے شروع ہوئی اور بیعت اصلاح حضرت علی اور ائمہ اہل بیت کے ہاتھ پر لوگ کرتے تھے۔ شریعت کے ظاہری وباطنی امور سے انسان اللہ کے نظام اور اپنی اصلاح کی طرف جائے تو بہت اچھا ہے۔
نبی ۖ نے جہاد کیلئے بیعت رضوان میں درخت کے نیچے بیعت لی تھی اور اب اطلاعات یہ ملتی ہیں کہ پاکستان کے خلاف طالبان نے جہاد کی بیعت لے لی ہے۔ جب ہمارے گھر پر طالبان نے اٹیک کیا تھا تو میٹنگ کوڑ قلعہ کے پاس ہمارے عزیزوں کے ہاں ہوئی تھی۔جہاں سے پاک فوج کے سپاہی قریب قلعہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حملے کے بعد بھی ایک طرف فوج ڈیوٹی دے رہی تھی اور دوسری طرف حملے میں ملوث لوگ دندناتے پھررہے تھے۔ عوام اسلئے فریق کا کردار ادا نہیں کرسکتے ہیں کہ گڈ اور بیڈ کی تمیز بھی لوگوں کے پاس نہیں ہے۔
دیوبندی مکتب ضلع ٹانک کے سارے علماء جمعیت علماء اسلام (ف + س) مجلس تحفظ ختم نبوت ، سپاہ صحابہ اور سبھی کے بڑے میرے دوست اور حامی تھے۔ محسود اور وزیر علماء بھی حمایت کرتے تھے۔ واقعہ کے بعد بیت اللہ محسود نے قاری حسین اور حکیم اللہ محسود کو قصاص میں قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن انہوں کہا کہ ہم بھی قصاص ہوں گے کہ بے گناہوں کو قتل کیا ہے اور تم بھی ہوگے اسلئے کہ ملک خاندان اور اس کی فیملی کو تمہارے حکم پر بے گناہ قتل کیا ہے جس کی وجہ سے بیت اللہ محسود کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔ منظور پشتین سے زیادہ شرافت کی شہرت رکھنے والے پالم خان ٹھیکیدار بھی طالبان کیلئے پھررہاتھا کہ اگر ان سے صلح ہوگئی تو پختونخواہ کی حکومت طالبان کو مل جائے گی۔ ہمارے عزیز پیر زبیر شاہ امریکن کو اسامہ کے پیچھے ڈھونڈنے کیلئے کانیگرم لے گیا تھا اور جب سوات میں طالبان نے ایک اور صحافی سرمرو کیساتھ پکڑلیا تو اسی وقت طالبان کے ترجمان نے چھوڑنے کا مژدہ ٹی وی اسکرین پر سنادیا تھا۔ امریکہ ریفری تھا اور کھلاڑیوں کو اپنی مرضی سے ہی میدان میں کھیلنے کا حکم دیتا ہے۔مدارس اور علماء ومفتیان کی اکثریت کو اسلام کی طرف آنا ہوگا ورنہ وہ بھی ایک دن مکافات عمل کا پھر شکار ہوسکتے ہیں۔
ڈاکٹر اسد محمود نے ”لارڈ میکالے” کا بتایاکہ تباہی کیلئے1835ء سے یہ نظام تعلیم آج تک کامیابی سے چل رہاہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ فتاویٰ عالمگیری اور فتاویٰ شامی نے ہی مسلمانوں کا بیڑہ غرق کرنے میں کیا کردار ادا کیا؟۔ جس کا شاہ ولی اللہ نے بجا فرمایاتھاکہ فک النظام ”اس نظام تعلیم کی کایہ پلٹ دو”۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

حضرت اُم ہانی کو اپنے مشرک شوہر سے سچی محبت تھی۔
قرآن پاک کی عظمت
امریکہ کی نصاب کتاب میں شیخ الاسلام کی خدمات کا بیان