پوسٹ تلاش کریں

مفتی فضل ہمدرد اورانجینئر مرزاسے گزارش

مفتی فضل ہمدرد اورانجینئر مرزاسے گزارش اخبار: نوشتہ دیوار

مفتی فضل ہمدرد اورانجینئر مرزاسے گزارش

مفتی فضل ہمدردبریلوی، انجینئر محمد علی مرزااہل حدیث اور مولانا سید سلیمان ندوی دیوبندی ہیں ۔ مفتی منیراخون نے کہا کہ ”یزید نے قسطنطنیہ کے جہاد کی قیادت کی تھی جس سے وہ مغفرت کا مستحق بن گیا لیکن حدیث میں پہلے کے گناہ معاف ہونے کی خوشخبری ہے اور بعد کے گناہوں کی نہیں ۔ یزید نے بعد میں بہت گناہ اور مظالم کئے تھے اسلئے اس کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھ سکتے۔ البتہ اکابر صحابہ کے خلاف جانا غلط ہے”۔
جس طرح بنی اسرائیل کے فرقے اسرائیلیات کی وجہ سے تباہ ہوگئے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”ہم ان کی نہ تصدیق کرتے ہیں اور نہ تکذیب کرتے ہیں”۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قرون اولیٰ کے بارے میں کہا کہ علمہا عند ربی لایضل ربی ولا ینسیٰ ” اس کا علم میرے رب کے پاس ہے اور میرارب بھٹک سکتا ہے اور نہ بھول سکتا ہے”۔ حدیث کی کتابوں اور تاریخ کی روایات کو اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا اور قرآن میں بہت مسائل کا حل ہے جس سے شیعہ سنی دونوں بالکل بے خبر ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کو سر کے بالوں اور ڈاڑھی سے اسلئے پکڑا تھا کہ بنی اسرائیل کو شرک کیوں کرنے دیا؟۔ جواب یہ تھا کہ منع کرنے پر آپ کہتے کہ بنی اسرائیل کو کیوں فرقوں میں بانٹ دیا۔ موسیٰ علیہ السلام زیادہ مؤثر تھے اسلئے کہ ان کی بات پر شرک سے بھی بچتے اور تفریق میں بھی مبتلاء نہ ہوتے۔ شیعہ شرک پر تقسیم ہیں۔بریلوی آپس میں اور دیوبندی بھی آپس میں اور اہل حدیث آپس میںتقسیم ہیں۔کوئی بااعتماد شخص کردار ادا کرسکتا ہے۔
ابوبکرہ وہ صحابی ہیں جس نے مغیرہ ابن شعبہ کے خلاف گواہی دی اور پھر اس پر قائم تھے۔ بخاری میں ان سے روایت ہے کہ ”جس لشکر کی قیادت عورت کررہی ہو تو وہ کامیاب نہیں ہوسکتا”۔ حضرت عائشہ کی قیادت میں حضرت علی کے خلاف لڑنے والوں کو روکا۔ حدیث بیان کی کہ قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے اور نبیۖ نے صحابہ سے فرمایا کہ” میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو”۔جس کا مقصد کفر کا فتویٰ نہیں بلکہ لڑائی سے روکنا تھا۔ اماں عائشہ نے دیکھا کہ علی اپنی ہمشیرہ ام ہانی کے مشرک شوہر کو فتح مکہ کے بعد قتل کرنا چاہتے تھے اور ام ہانی نے نبیۖ کو شکایت کردی تو نبیۖ نے ان کی بات کو حق سمجھ کر علی کو قتل سے روکا تھا۔ صلح حدیبیہ میں عثمان کے قصاص کیلئے بیعت لی گئی ۔ علی کیلئے ایسا ماحول بنایا تھا کہ عثمان کے قتل کاقصاص مشکل تھا۔ قرآن میں بیعت سے احتراز پر مشکل میں پڑنے کی وعید ہے۔ انجینئر محمد علی مرزا نے ابوبکرہ کے بارے میں کہا کہ ”اس نے علی کا ساتھ نہیں دیااور غلط کیااور میں ہوتا تو علی کا ساتھ دیتا”۔ علی مرزا نے’ شلواربابا ” کا بتایا، وہ جنگ نہیں اسکے پاس جاتے۔ جوان انصار نے میدانِ احد میں لڑنے کا کہا اور پھر بھاگنا پڑگیا ۔نبی ۖ نے فرمایا کہ ”میں نبی ہوں جھوٹا نہیں اور عبدالمطلب کے بیٹے کا بیٹا ہوں”۔ اللہ نے فرمایا: ” محمد کیا ہیں مگر رسول اور آپ سے پہلے رسول گزرچکے” نبیۖ سے کہا گیا کہ عباس عبدالمطلب کا بیٹا تھا جو گرفتا ر ہوا اور انبیاء پہلے بھی گزرے جو بھاگے تھے۔خود کش والے بھی وزیرستان سے بھاگے تھے۔
شیعہ کہتے ہیں کہ سنی کے پاس بارہ امام کا جواب نہیں۔ علی خلیفہ بلافصل سے مہدی تک بارہ خلفاء کی ترتیب سنی کتابوں میں ہے۔ مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ نے اسی ترتیب پر بارہ امام کا ذکر کیا ۔ شیعہ بنوامیہ وبنوعباس کے مقابلہ میں خلفاء راشدین کا دور بہتر سمجھتے ہیں اسلئے کہ علی نے تعاون کیا تھا اور جو نہیں سمجھتے تو علی کی شخصیت پر سوال اٹھتا ہے۔ شیعہ علی ولی اللہ کا کلمہ برحق مانتے تو وقت کیساتھ حسن ، حسین، زین العابدین، باقر اور جعفر …… آخر میںموجودہ دورتک مہدی الغائب کا کلمہ پڑھتے۔ جیسے آدم صفی اللہ ، ابراہیم خلیل اللہ، اسماعیل ذبیح اللہ، موسیٰ کلیم اللہ ، عیسیٰ روح اللہ اور محمدرسول اللہ کا کلمہ وقت کے پیغمبروں کیساتھ بدل گیا۔جب گیارہ میں سے ایک بھی امن قائم نہ کرسکا تو آخری سے امید رکھنا بھی منطق کی بات نہیں ۔
آج ایران میں مہدی الغائب ولی اللہ کی آواز آنی چاہیے تھی۔ جہاں اثنا عشری امامیہ تاریخ میں پہلی بار خمینی کو امام کہا گیا ۔شیعہ کو اقتدار ملاتو کتابیں لکھ دیں۔ نتیجے میں نفرت پھیل گئی۔ پاکستان، افغانستان اور عرب ممالک میں خمیازہ بھگتنا پڑا۔کیا علی سے آخری امام تک دلائل، جرأت اور بہادری کی کمی تھی ؟۔ ائمہ نے ایسی فضاء کو ہمیشہ ناکام بنایا جس سے انتشار کو تقویت مل جائے ۔ سختیاں تو اہل سنت کے اماموں نے بھی جھیلیں۔ ایسی گفتگو کی جائے جو اتحاد، اتفاق اور وحدت کا ذریعہ بن جائے اور کوئی دلائل سے تہی دست خیال کرکے دوسرے پر حملہ آور نہ ہو۔ مظلوموں نے بہت لاشیں فرقہ واریت کے نام پر اٹھائی ہیں۔
اسلام کے اجنبی بننے کی حدیث پرشیعہ علماء نے لکھا کہ ” حسین نے اسلام کو اجنبیت سے نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے ۔ امام مہدی اسلام کو اجنبیت سے نکالیںگے”۔ اور لکھا کہ ”ہوسکتا ہے کہ درمیانہ زمانے کا مہدی بنوعباس کا خلیفہ مہدی ہوکیونکہ مہدی کا تعلق آخری زمانہ سے ہوگا”۔ حالانکہ سنی شیعہ بنوامیہ کے عمر بن عبدالعزیز کوعباسی مہدی سے بہتر سمجھتے تھے ۔ شیعہ نے لکھا ہے کہ” آدم سے پہلے نبی اور علی ایک نور تھے۔ آدم سے عبدالمطلب تک اکٹھے تھے۔ پھر نورنبوت عبداللہ سے محمدۖ اور نور ولایت ابوطالب سے علی میں منتقل ہوا۔ نبی اور علی ایکدوسرے سے ہیں”۔ علی کے اندر ولایت ظاہری اور ولایت باطنی نور تھا تو ولایت ظاہری کا نور حسن اورولایت باطنی کا نور حسین میں منتقل ہوا۔ یہ تو نہ تھا کہ ولایت کا نور پہلے حسن اور پھر حسین میں منتقل ہوا تھا؟۔
مشکوٰة کی شرح مظاہر حق میں بارہ خلفاء واضح ہے کہ مہدی کے بعد5افراد حسن اور5افراد حسین کی اولاد سے اور آخری فرد پھر حسن کی اولاد سے ہوگا”۔ ممکن ہے کہ” آخری حسن سے حسن العسکری مراد ہوں۔ مہدی کا تعلق حسن اور5افراد حسن کی اولاد سے اور آخری6افراد کا تعلق حسین کی اولاد سے ہو”۔ پیر مہر علی شاہ گولڑہ اور جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے کہ” وہ بارہ امام ابھی تک نہیں آئے جن پرامت کا اجماع ہواور وہ آئندہ آئیں گے”۔شیعہ کتابوں میں مہدی کے بعد گیارہ مہدیوں کا ذکر ہے جن کو حکومت ملے گی لیکن پھر تشویش ظاہر کی ہے کہ آخری امام پھر آخری کیسے ہوگا؟۔ اس کا جواب حقائق ہی حقائق ہیں۔
کشتی نوح کی ضرورت اس وقت پڑی، جب مخلوق ہلاکت کے قریب پہنچ گئی اور نوح کے بیٹے نے چڑھنے سے انکار کیا تھا۔ نبی ۖ نے اہل بیت کو کشتی نوح قرار دیا جو درمیانہ زمانے سے شروع ہوگا اسلئے کہ درمیانہ زمانے تک ہلاکت سے بچنے کیلئے نبیۖ کی ذات تھی اور درمیان سے حضرت عیسیٰ تک درمیانہ زمانے کے مہدی ہونگے اور مہدی غائب نے حضرت عیسیٰ کے دور میں نکلنا ہے تو وہ کشتی نوح کے آخری فرد ہوں گے جو درمیانہ زمانہ سے شروع ہوگا۔
اگر شیعوں کے امام مہدی غائب کو درمیانہ زمانہ سے اُمت کو ہلاکت سے بچانے کا ذریعہ مان لیا جائے تو علی سے حسن العسکری تک گیارہ امام ہلاکت سے بچنے کا ذریعہ نہیں ہوسکتے ۔ مخالفین کو کہنے دیجئے کہ جب وہ گیارہ ہلاکت سے بچانے کا ذریعہ نہیں تو اس سلسلے کا آخر ی فرد بھی نہیں بن سکتا۔ لیکن شیعہ کو اس اعتقاد کا پورا پورا حق ہے کہ وہ اپنے مہدی کے بارے میں یہ یقین رکھیں کہ وہ ہلاکت سے بچنے کا اپنے دور سے عیسیٰ تک ذریعہ ہیں اسلئے کہ حضرت علی سے حضرت حسن العسکری تک امت مسلمہ جن مشکلات کا شکار تھی تو حضرت مہدی کی غیبت سے ہی وہ مشکلات ختم ہوگئی ہیں۔ ان کا دل جلتا تھا کہ خاندانی بنیاد پر اہلیت رکھنے والے اقتدار سے محروم ہیں لیکن نااہل لوگ خاندانی استبداد کی وجہ سے اقتدار پر قبضہ کر بیٹھے ہیں۔ امام مہدی غیبت میں گئے تو عوام کو جواز مل گیا اورامام کے حامی ان کی خیریت کیلئے فکر مند رہتے تھے وہ بھی مطمئن ہوگئے۔ ظاہر میں موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کا مقابلہ کیا۔ باطن میں ہلاکت سے بچانے میں خضر کا اہم کردار تھا جس کا موسیٰ علیہ السلام کو پتہ نہیں تھا ۔پھر پتہ چل گیا لیکن تفریق ہوگئی۔ وہ اختلاف تو رحمت تھاتو اپنی امت کا اختلاف بھی رحمت ہے۔
ہلاکت کا آغازہے۔ داعش، تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی نے شیعوں کو زندہ نہ چھوڑنے کی ٹھان لی اور اگر مہدی غائب تشریف لائیں تو امت مسلمہ بھرپور استقبال کرے گی لیکن اگر خضر کی طرح غیبت میں کردار ادا کرنا ہے تو فرقہ واریت کی آگ کو مزید بھڑکانے سے گریز کریں۔ حال ہی میں پشاور کی مسجد میں دھماکے سے کتنا نقصان ہوا اور یہ کب تک جاری رہے گا؟۔ تعصبات کے ناسور نے مذہبی طبقے میں وہ بارود بھردیا ہے جس کی سزا سب کو مل رہی ہے۔
دین وعقیدے میں جبر اور تضحیک وگستاخی نہیں ہے اسلئے کہ اللہ نے واضح کیا ہے کہ دین میں جبر نہیں ہے اور دوسروں کے معبودوں کو بھی برا بھلا مت کہو۔
نبیۖ کی وحی کے ذریعے قدم قدم پر رہنمائی ہوتی تھی۔ یہ نہیں کہ لٹھ لیکر گستاخانہ لہجہ اختیار کیا جائے کہ54سال کی عمر میں چھوٹی بچی9سالہ عائشہسے شادی کی۔ خواب میں تصویر دکھا ئی گئی کہ یہ آپ کی دنیا و آخرت میںزوجہ ہے۔ حالانکہ نکاح کے وقت اماں عائشہ کی عمر16سال اور رخصتی کے وقت عمر19سال تھی۔ نبیۖ کی عمر63سال تھی تب بھی داڑھی میں17سفید بال تھے۔54سال میں35،40سال کے برابر لگتے ہوں گے۔ قائداعظم محمد علی جناح برطانیہ کے تعلیم یافتہ تھے۔16سالہ پارسی لڑکی رتن بائی سے39سال میں شادی کرنا چاہی مگر لڑکی کو اجازت نہیں ملی۔ وہ18اور قائد41سالہ نے کورٹ میرج کی۔ جناحTBکے مریض تھے ۔بیٹی ویناجناح اکلوتی بیٹی تھی۔فیس بک پیج ” موسیٰ سے مارکس تک” پر کچھ لوگ بڑی گستاخانہ پوسٹ ڈال رہے ہیں۔ نبیۖ کی شان میں گستاخی لیکن خودکوئی معقول جواب برداشت نہیں کرسکتے۔
نبیۖ پر عورت کے حق میں سورۂ مجادلہ نازل ہوئی۔ بدر ی قیدیوں پر فدیہ، اصحاب کہف کی تعداد کل بتانے،نابیناا بن مکتوم پر چین بجبیں ہونے اور زید کی طلاق کے بعد دلجوئی کیلئے زینب سے نکاح مگر عوام کی بدظنی کا خوف جس پر اللہ نے فرمایا کہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشٰہ (آپ لوگوں سے ڈرتے ہو؟اور اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے) جو آیات نازل ہوئیں ۔ اگر یہ صحابہ کی شان میں نازل ہوتیں تو کیا کیا روایات گھڑتے؟۔ جن کو شیعہ علامہ شہریار عابدی چن کر حوالے دیتے اور منطقی نتائج بھی خود نکالتے۔ جس سے امت میں فتنہ وفساد کا اندیشہ بھرپور طریقے سے موجود ہوتا۔ اللہ نے قرآن میں دوسروں کے باطل معبودوں کو برا کہنے سے بھی منع کیا ۔غیر شائستہ زبان ہمارا قومی المیہ ہے۔ جب فوج اور عدالت کے ججوں کو توہین قبول نہیں تو سب کے معزز کیلئے اخلاقیات کے ذریعے مخالف کا رویہ بدلنا ضروری ہے۔
ابوبکر نے بدر ی قیدیوں پر فدیہ لینے کا مشورہ دیا تھا تاکہ نبیۖ کے چچا عباس اور ایک دامادکو بچایا جائے اور نبیۖ کو تکلیف نہ ہو۔ جس پر قرآن میں سخت سرزنش ہوئی کہ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اگر اللہ نے لکھ نہیں لیا ہوتا تو تمہیں سخت عذاب کا مزہ چکھا دیتا”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” وہ عذاب اللہ نے مجھے دکھا دیا، اگر نازل ہوتا تو عمر وسعد کے علاوہ کوئی نہیں بچتا”۔ قرآن وحدیث کی اس وعید کے بعد اگر ابوبکر نے حضرت فاطمہ کی ناراضگی مول تھی تو یہ ایک آزمائش تھی جس میں بغض نہ تھا۔زکوٰة کے مسئلے پر ابوبکر کے اقدام سے اہل سنت کے چاروں امام نے اختلاف کیا لیکن حضرت ابوبکر کیلئے دل میں کھوٹ نہیں رکھی ۔ اللہ نے قرآن سے سکھایا کہ ” اپنی مغفرت کیساتھ پہلے ایمان کیساتھ گزرنے والوں کیلئے بھی دعا مانگیں اوریہ کہ ان کیلئے ہمارے دلوں میں کھوٹ نہ ہو”۔ جب ان لوگوں کے خلاف مہم جوئی کا بازار گرم کیا جائے گا تو پھر نہ صرف اپنے دلوں میں بلکہ عوام کے دلوں میں بھی کھوٹ آئے گا۔ قرآن میں حضرت آدم ، موسیٰ اور یونس کی طرف ظلم کی نسبت ہوئی لیکن یہ مطلب نہیں کہ ہم منطق سے استدلال پیش کریں کہ ” بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتاہے ” تو ان انبیاء کو نعوذ باللہ ہدایت سے اللہ نے محروم رکھا۔ حضرت عمر کے دور میں کسی جن یا انسان نے حضرت سعد بن عبادہ کو شہید کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ”اگر دریائے نیل کے کنارے پیاس سے کتا مرجائے تو عمر جواب دہ ہو گا”۔ اللہ نے سعد بن عبادہ کے قتل کا ادھار نہیں چھوڑا بلکہ عمرکی شہادت ہوگئی۔ حضرت عمر کے بیٹے عبیداللہ نے فیروز ابو لؤلؤ کی سات سالہ مسلمان بیٹی اوردو افراد کو قتل کردیا اور کہا کہ جو انصار ومہاجرین سازش میں شریک تھے ان کو بھی قتل کروں گا تو سعد بن ابی وقاص نے اس کو پکڑ کر گھر میں بند کردیا۔ حضرت عثمان نے بدلے میں قصاص نہیں لیا تو حضرت عثمان کی شہادت کا قصاص بھی بڑا معمہ بن گیا۔
ایرانی بادشاہ کی شہزادیاں اگرایران میں چھوڑ دی جاتیں تو اپنے لوگ ان کا بہت برا حال کرتے۔ ان کی خیر اسی میں تھی کہ دارالخلافہ مدینہ لایا گیا کیونکہ جس طرح آج یورپ ومغرب میں ہمارے بادشاہوں کی اولادامن کیلئے جاتے ہیں تو اس دور میں سب سے زیادہ مہذب دنیا ہماری تھی مگر تاہم حضرت علی کے کہنے پر شہزادیوں کو شرفاء میں تقسیم کیا گیا اور پھر اہل بیت کے کنبے کو یزید کے دربار میں وہ سب کچھ سہنا پڑگیا جس اسلام کی وہ بنیاد تھے اور شہربانونے عبرت دیکھ لی۔
نبی کریم ۖ کو معلوم تھا کہ جب خاندانی بادشاہتوں کی دوڑ دھوپ شروع ہوگی تو اہل بیت کے افراد بھی اس دوڑ میں شریک ہوسکتے ہیں اسلئے نبیۖ نے قرآن سے چمٹے رہنے کی تلقین فرمائی اور اہل بیت کی بابت بھی اللہ سے ڈرایا۔ امت مسلمہ نے قرآن کی طرف توجہ چھوڑ دی اور اہل بیت سے امت نے محبت کا اظہار کیا لیکن اقتدار کے مسئلے پر امام حسین کے بیٹے حضرت زید اور امام حسن کی اولاد نفس زکیہ نے قیام وخروج کا راستہ اپنایا تو امام ابوحنیفہ جیسے مجاہد نے بھی خاموش حمایت جاری رکھی۔ اہل حق کی حمایت میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک زبانی حمایت کرتے ہیں اور دوسرے دل میں حمایت کو چھپاتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے کہ ” خیر القرون کا پہلا دور نبی ۖ ، دوسرا ابوبکرو عمر اور تیسرا عثمان کا تھا”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ ” پہلا دور نبیۖ وابوبکر کا تھا،دوسرا عمر کا تھا جس میں طبقاتی نظام نے جڑ پکڑ لی اور تیسرا عثمان کاتھا جس میں خاندانی نظام کی بنیاد پڑگئی”۔ صحاح ستہ ومسنداحمد میں نبی ۖ کے بعد ابوبکر و عمر کی آسمانی ترازوہے ۔ جس میںبتدریج عدالت کا پلڑہ ہلکاہوتا بتایا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر کے دور میں بھی رہنمائی کیلئے وحی کا سلسلہ نہیں تھا اسلئے خلافت بھی نبوت ورحمت کے مقابلے میں کمزور ہوئی۔ حضرت عمر کے دور میں عدالت بڑی مضبوط تھی لیکن جنات نے سعد بن عبادہ کا کام کردیا۔ حضرت عثمان نے پہلی بار ایک قاتل کو معاف کرکے دیت کا فیصلہ کیا تو آسمانی عدالت کا ترازو اُٹھ گیا۔
مودة فی القربیٰ کی آیت اور احادیث
اللہ کا نور مشرقی یامغربی نہیں۔ اسلام کا معاشرتی، معاشی ،اخلاقی نظام پیش کیا توامریکہ وروس حکمت سے فتح ہوںگے۔ بنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ نے مسلمانوں کو قرآن وسنت سے دور پھینک دیا اور دوبارہ ہم نے وہیں آنا ہے۔
متقدمین کا اجماع تھا کہ قرآن پر معاوضہ جائز نہیں۔ انبیاء سے اللہ نے کہلوایا کہ ” کہہ دو کہ میں اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا ”۔ نبی کریمۖ سے فرمایا : قل الاسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربیٰ ” فرماؤ کہ میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا مگر قرابتداری کی محبت”۔شیعہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد نبیۖ کے اہل بیت کرام ہیں۔ صحابہ نے جن کو خلافت سے محروم کیا اسلئے دین اسلام سے روگردانی اختیار کی تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے” ترجمان القرآن میں لکھا کہ ” یہ آیت مکی ہے اور اس سے اہل بیت مراد نہیں ہوسکتے” ۔ شیعہ جو اہل بیت مراد لیتے ہیں وہ احادیث ہیں۔ اس آیت کے نزول کے وقت علی کا رشتہ اور حسن و حسین کی پیدائش نہیں تھی تو کیسے اہل بیت مراد ہیں؟۔ آیت کے مخاطب قریشِ مکہ دشمنان رسول تھے جن سے کہا گیا کہ نبی کا مطالبہ کوئی معاوضہ نہیں مگر قرابتداری کی محبت۔ علاقہ، زبان،خاندان ، رشتہ، قوم کے ناطے انسانوں میں قرابتداری کی فطری محبت ہوتی ہے۔ یہ معاوضہ اور اجر نہیں قدرت نے فطری محبت رکھی ۔ قریشِ مکہ ابوجہل وابولہب ، ولید، امیہ، عتبہ ، ابوسفیان، ہندہ اور اہل مکہ کے تمام دشمنان اسلام خواتین وحضرات اگر اس محبت کے فطری تقاضے کا لحاظ کرتے تو نبی کریم ۖ اورآپ کے ساتھی ہجرت پر مجبور نہ ہوتے۔
افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان قومیت کے فطری تقاضے پر عمل کرتے تو مشکلات کا شکار نہ بنتے۔ آج افغان طالبان کو افغانی قوم اورTTPکو اپنی قوم کی طرف سے نفرت کا سامنا ان کے کردار کی وجہ سے ہے۔ مکہ فتح ہوا تو رسول ۖ نے ابوسفیان ، وحشی اور ہندہ وغیرہ کو معاف کیا مگر حضرت عمر نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے ہاتھ لگ جاتے۔
شیعہ کہتے ہیں کہ ”حسن و حسین سیداشباب اہل الجنة اور فاطمہ سیدة النساء کے مقابلے میں دوسرے صحابہ دنیا کے سردارنہ بنتے تو مسلمانوں پرخلافت کا نظام دنیا میں جہنم نہ بنایا جاتا ۔ سنی احادیث میں بھی آیت سے مراد یہ اہل بیت ہیں ۔اقتدار اور خلافت بھی ان کا حق تھا جس سے صحابہ کرام اور ان کی اولاد نے انحراف کرکے قرآن وسنت کو چھوڑ دیا تھا اور پھر یزید جیسے مسلط ہوگئے تھے”۔
سنی کہتے ہیں کہ جس طرح دشمنان اسلام اہل مکہ کے قرابتدار قریش سے مودة فی القربیٰ کا تقاضہ اقتدار کی طلب نہیں تھی ،اسی طرح سے نبی ۖ نے صحابہ سے قرابتداروں کو اقتدار دینے کا مطالبہ نہیں کیا۔ قریشِ مکہ نے نبی ۖ کو اقتدار، مال اور حسین عورت سے شادی کی پیشکش کی تھی۔ نبی ۖ نے انکار کیا۔ یہ فطری بات ہے کہ اپنی قوم سے محبت رکھی جاتی ہے اور اس محبت کے تقاضے میں حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے ایک بدبخت انسان کے جھگڑے کی وجہ سے غلطی میں دوسرے قوم کے ایک قبطی شخص کو نہ چاہتے ہوئے بھی قتل کردیا تھا۔
رسول ۖسے اللہ نے فرمایا: وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ”اور ان سے مشاورت کریں پس جب عزم کرلیں تو اللہ پر توکل کریں”۔صحابہ کی اعلیٰ صف تھی وامرھم شوریٰ بینھم ” اور ان کا اقتدار مشاورت سے ہوتا ہے”۔ نبی ۖ نے قلم کاغذ طلب کیا اور فرمایا: میں ایسی چیز لکھ کردیتا ہوں کہ تم میرے بعد ہرگزگمراہ نہ ہوگے۔ عمر نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ بعض نے کہا کہ نبی ۖ کو وصیت لکھنے دیں کیا نبی ۖ ہذیان بولتے ہیں؟ اور بعض نے کہا کہ حضرت عمر کی بات درست ہے۔ شور شرابہ ہوا تو نبیۖ نے فرمایا :یہاں سے نکل جاؤ، شور شرابہ نہ کرو۔( صحیح بخاری)
حدیث میںمودة فی القربیٰ سے اہل بیت کی محبت مراد ہے۔ اقتدار کا تعلق مشاورت سے تھا۔ ابوبکر ، عمر، عثمان، علی اور حسن کے بعد معاویہ پر اتفاق ہوا۔ امام حسن پہلے بھی جھگڑے میں خاتمہ کا ذریعہ بن گئے اور بعد میں بھی آپ ہی کی اولاد نے امت کے دوفرقوں میں جھگڑے کو ختم کرنے کا ذریعہ بننا ہے۔ ویسے تو اہل تشیع سیدگیلانی کو سید بھی عام طور سے نہیں مانتے لیکن علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ”مشرق سے جو دجال آئے گا تو اس کے مقابلے میں حسن کی اولاد سے کوئی کھڑا ہوگا”۔ اور اس سے مراد ” سید گیلانی ”ہے۔
مفتی کامران شہزاد نے کہا : ”صحیح بخاری میں صحابہ کرام و اہل بیت ، نبی ۖ ، اللہ تعالیٰ اور قرآن کے بارے میں صحیح سند کیساتھ غلط روایات گھڑی گئی ہیںاور امام ابو حنیفہ اسلئے امام اعظم کہلائے گئے کہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کہا کہ صحیح سند کے راویوں کو پکڑو اور روایات کو قرآن پر پیش کرو۔ رافضی اور ناصبی دونوں گروہ اسلئے گمراہ ہیں کہ رافضی صحابہ کی مخالفت میں صحیح سند کی روایات کو مانتا ہے اور فضائل کو نہیں مانتا اور ناصبی حضرت علی اور اہل بیت کے فضائل کی روایات کو نہیں مانتا لیکن ان کی تنقیص کی روایات کو مانتا ہے۔ قرآن میں صرف حضرت زید کا نام آیا ہے باقی کسی صحابی کی مخالفت یا موافقت میں نام نہیں آیا۔ مجموعی طور پر اللہ نے قرآن میں صحابہ و اہل بیت کی فضیلت بیان کی ہے جو کافی ہے”۔
حضرت ابراہیم نے پہلے ستارے ، پھر چاند اور پھر سورج کو اپنا رب قرار دیا اور باری باری سب کی نفی بھی کی۔ جو ماحول اُمت مسلمہ میں بنا ہوا ہے جب تک بالکل سیدھے طریقے سے حکمت عملی کے ساتھ تعصبات کا خاتمہ نہیں کریں گے تو اُمت مسلمہ ہمیشہ انتشار کا شکار رہے گی۔ فرقہ واریت کا خاتمہ قرآن کی طرف رجوع کرنے سے ممکن ہے۔ نبی ۖ نے قرآن سے انقلاب برپا کیا تھا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

رسول اللہ ۖ ، صحابہ ، امام ابوحنیفہ ، شاہ ولی اللہ اور دار العلوم دیوبند کے سپوت کپوت تک کا سلسلہ
مذہبی جماعتوں نے کبھی پاکستان میں ایک مرتبہ بھی قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی نہیں کی!
آواز آئی کہ تمہاری طلاق نہیں ہوئی ،قرآن کھول کردیکھ لو!