پوسٹ تلاش کریں

مفتی نور ولی محسود نیشنلسٹ، مجاہد، قبائلی اور سیاسی رہنما، 20 گروپ حامی بنالئے۔

مفتی نور ولی محسود نیشنلسٹ، مجاہد، قبائلی اور سیاسی رہنما،  20 گروپ حامی بنالئے۔ اخبار: نوشتہ دیوار

مفتی نور ولی محسود نیشنلسٹ، مجاہد، قبائلی اور سیاسی رہنما، 20گروپ حامی بنالئے۔

TTPکا نیا جنم ………..کیا پختونخواہ پھر دہشستان بن رہا ہے؟

افغان طالبان کنٹرول نہیں کرسکتے یا کرنا نہیں چاہتے؟۔ جرگہ جیو نیوز

سلیم صافی :اگر TTPاور افغان طالبان کا تعلق ہے تو افغان طالبان TTPکو روک نہیں سکتے ؟ ۔ یا روکنا نہیں چاہتے؟۔ یا ان کی کچھ مجبوری ہے؟۔
احسان ٹیپو محسود: آپ نے لکھا بھی ہے اور اپنے شو میں بھی اس پر بات کی ہے کہ دونوں کاآپس میں بہت قریبی تعلق ہے۔ یہ بالکل حقیقت ہم چاروں اس کو کور کررہے ہیں اور اس کی سب سے بڑی مثال کہ 15اگست کے بعد TTPکے حملوں میں کمی آئی ہے یا مزید اضافہ ہوا ہے؟۔ اگر دیکھیں تو تحریک طالبان پاکستان کو کس نے منظم کیا ،مُلا داد اللہ اورحقانی نیٹ ورک نے۔ ( بیت اللہ محسود مُلا داد اللہ کیساتھ سیکرٹری کے طور پر کام کرتے تھے۔ نیک محمد کارغہ کیمپ کے انچارج تھے۔ سلیم صافی)۔ امارت اسلامی کی ہدایت سے ان کو وزیرستان بھیجا گیا کہ ہماری فیملیاں آئیں گی۔ نیک محمد کو کہ آپ نے ان کو پناہ دینی ہے۔ 2009ء میں میری ملاقات ہوئی تھی کوٹ کئی میں قاری حسین سے۔ وہاں عرب القاعد ہ کے لوگ تھے ، اُزبک اور پنجاب کے لوگ بھی تھے۔ افغان طالبان کے بھی سینئر لوگ بیٹھے تھے۔ قاری حسین نے دعوت دی کہ یہ میرے فدائین کا کیمپ ہے جو قریب تھا تو آپ آئیں کیونکہ ہم افغانستان کی طرف تشکیل کررہے ہیں۔
سلیم صافی: افغان طالبان کیلئے پہلے 3خود کش حملے آپ کے محسودوں نے کئے ۔ اب افغان طالبان ان کو کنٹرول نہیں کرسکتے یا کرنا نہیں چاہتے ہیں ؟ ۔
احسان ٹیپو محسود: میرے خیال میں جس طرح ہم نے افغان طالبان کو 20 سال تک سپورٹ دی ، حامد کرزئی یا اشرف غنی سے کچھ منوانا تھایا امریکیوں کے ساتھ ہم نے افغان طالبان کو پراکسی کے طور پر استعمال کیا تھا۔ لگتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان طالبان اس طرح اپنے مفاد یا مطالبات کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے آج کی جو تحریک طالبان ہے یہ 2007کی بیت اللہ محسود والی، حکیم اللہ والی اور فضل اللہ والی تحریک طالبان سے بالکل الگ ہے۔ اس میں نیشنل ازم بھی ہے ، اس میں سیاست بھی ہے ، اس میں عسکریت بھی اپنی جگہ موجود ہے ، مفتی نور ولی محسود یہ بیک وقت ایک جج بھی ہیں ، یہ عالم بھی ہے ، یہ جنگجو بھی ہے، یہ قبائلی مشر بھی ہے۔ یہ قبائلی سیاست اور خاص طور پر پاک افغان سیاست کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں اور اس نے گراؤنڈ پر یہ چیزیں ثابت بھی کی ہیں۔کچھ ایسی تنظیمیں جو ماضی میں TTPکا کبھی حصہ نہیں تھیں ان کو بھی شامل کرلیا ہے۔ لشکر جھنگوی کے لوگ پہلے آزادآپریٹ کرتے تھے۔ وہ انہوں نے TTPمیں شامل کرلئے ہیں۔ 19،20کے قریب وہ تنظیمیں جوبیت اللہ محسود نے TTPمیں شامل کرائیں تھیں اس سے بھی زیادہ تنظیمیں اب تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہوگئی ہیں۔
نظام الدین خان سینئر صحافی باجوڑ ایجنسی: میں ایک اضافہ کرنا چاہوں گا کہ تحریک طالبان کے اہداف ابھی بہت مختلف ہیں سیلاب پر بھی ان کا بیان آتا ہے اور کراچی میں بارشوں سے ٹریفک رکنے پر ان کی اسٹیٹمنٹ آتی ہیں۔ اور وہ شاید محسوس کرتے ہیں کہ پاکستانی سیاستدانوں سے زیادہ وہ پاکستان کی سیاست کو سمجھتے ہیں۔ وہ پاکستان کے تمام سوشل ایکٹی ویٹیز پر بھی اسٹیٹمنٹ دیتے ہیں۔
احسان ٹیپو محسود: یہ بیانات بھی وہ نظم و ضبط سے دیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ فارن آفس کا مخصوص بندہ بیان دے بلکہ 5،6لوگ بیٹھتے ہیں، اسکریننگ کے بعد بیان جاری کرتے ہیں۔ جسکی وجہ سے انکے بیانات میں کافی وزن نظر آتا ہے۔
نظام الدین : اب ان کی ٹارگٹ آڈینس تبدیل ہوکر عام آدمی بن رہا ہے۔
سلیم صافی: طاہر خان صاحب آپ بتائیں کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ افغان طالبان یہ چاہیں گے کہ پاکستان میں کوئی گڑ بڑ ہو تو کیا کسی نے ان سے رجوع نہیں کیا؟ یا کوئی اور وجہ سے جس کی وجہ سے وہ لوگوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے۔
طاہر خان: گذشتہ سال اگست میں قندھار میں شوریٰ کا اجلاس ہوا تھا یہ پہلی بڑی مجلس تھی جس میں ایک سفید کاغذ تقسیم ہواتھا اور اس میں سوڈان سے لے کر جو کہ میرے پاس ہے۔ اسکی سمری ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی کو اپنے کام سے منع کرے۔ دوسرا یہ کہ دنیا کا پریشر جو بھی ہو ، حکومت جائے آپ نے کسی کا پریشر نہیں لینا ہے۔ وہاں پر یہ بیس بنایا گیا ہے۔ کیونکہ ان سب تنظیموں کو وہاں پر مجاہدین کہتے ہیں۔ (کیا وہ بیس نہیں ہے جو قطر ایگریمنٹ کیا امریکہ سے کہ افغان سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینگے تو کیا اس میں پاکستان نہیں آتا؟۔ سلیم صافی) ۔لیکن وہ تو نہیں مانتے کہ ہماری زمین استعمال ہورہی ہے۔ اب جو کُرم پر حملہ ہوا پاکستانی فوج کا بیان آیا ہے کہ افغان سرزمین استعمال ہوئی ہے تو وہاں سے بلال کریمی جو نائب ترجمان افغانستان ہیں بیان دیا کہ یہ پاکستانی فوجی وہاں کوئی چیک پوسٹ بنارہے تھے تو ہمارے لوگ گئے ہیں مذاکرات کیلئے تو انہوں نے کلیم کیا ۔ سراج الدین حقانی نے مجھے یہی بات کہی کہ ہماری یہ سوچ تھی کہ 20سال بعد افغانستان میں امن قائم ہوا ہے تو پاکستان میں بھی امن قائم ہونا چاہیے یہ امارت اسلامی افغانستان کی سوچ ہے۔ لیکن یہاں پرایک غلط فہمی ہے کہ ہماری حکومت اور ادارے چاہتے ہیں کہ سب کچھ انہوں نے ہی ہمارے لئے کرنا ہے ہم نے خود کچھ نہیں کرناہے۔ جب ملامنصور کی ہلاکت کی ویڈیو آئی تھی تو ملاعمر کا بہت سخت رد عمل آیا تھا اور بیت اللہ محسود کو پیغام دیاتھا کہ اس کے بھائی کو اپنے پاس نہیں چھوڑنا ہے۔یہ پہلے بھی میں نے کہا ہے کہ افغان طالبان کسی کیلئے نہ تو پاکستانی طالبان کو حوالے کریں گے نہ انکے خلاف کاروائی ایکشن لیں گے۔ ان کیلئے پاکستان کی اہمیت نہیں ہے بلکہ انکی نظر میں جو دین ہے اسلام ہے جہاد ہے پرانی دوستی ہے اس کی اہمیت ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

حضرت اُم ہانی کو اپنے مشرک شوہر سے سچی محبت تھی۔
قرآن پاک کی عظمت
امریکہ کی نصاب کتاب میں شیخ الاسلام کی خدمات کا بیان