قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ اخبار: نوشتہ دیوار

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ

ےٰبنی اٰدم لایفتنکم الشیطٰن کما اخرج ابویکم من الجنة ینزع عنھما لباسھما لیریھما سواٰتھما انہ یرٰ کم ھو و قبیلہ من حیث لاترنھم انا جعلنا الشیٰطین اولیاء للذین لایؤمنون (الاعراف:27)
” اے آدم کی اولاد ! خبردار تمہیں شیطان فتنے میں نہ ڈالے جیسا کہ تمہارے والدین کو بہشت سے نکالا۔ ان دونوں کے کپڑے اتروادئیے تاکہ ان کی شرمگاہوں پر ان کی نظریں پڑجائیں۔بیشک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے ہیں”۔
لڑکا اور لڑکی دنیا کی جنت میں رہتے ہیں۔ دلہن دلہا کی جگہ بھگوڑے بنتے ہیں تو تذلیل ہوتی ہے۔ حدیث میں واضح ہے کہ ایسا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے۔ مولوی دنیا بھر کے لوگوں پر منکرِ حدیث کا فتویٰ لگانے میں کوئی حرج محسوس نہ کرے لیکن خود اپنی تعلیمات میں اس کا بہت بڑا مرتکب ہوتا ہے۔ جس کا اسے اور اسکے ماحول کو احساس تک نہیں ہوتاہے۔
ایسے بیہودہ نکاح کیلئے شریف گواہ کہاں مل سکتے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ ”نکاح میں دو صالح گواہ مقرر کرو” ۔لیکن حنفی مسلک میں ضرورت کیلئے دو فاسق کی گواہی کافی ہے۔ حدیث ہے کہ دف بجاکر نکاح کا اعلان کرو۔ حنفی کہتا ہے کہ دو فاسق گواہوں کی خفیہ گواہی بھی اعلان ہے۔ انکار حدیث کا فتنہ تو کوئی علماء ومفتیان سے سیکھے۔ انکار حدیث کے اس فتنے کی وجہ سے معاشرے میں بھی بہت بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔
لڑکی اور لڑکے کے بھاگنے کیلئے علماء نے مکمل راستہ ہموار کیا ہے اور یہ اتنا نالائق طبقہ ہے کہ اپنی نالائقی کا احساس تک نہیں رکھتا ہے۔ بلکہ اس کا سارا الزام معاشرے اور ماحول پر ڈالنے سے بھی نہیں شرماتا ہے۔اس بیچارے گدھے کویہ پتہ تک نہیں ہوتا ہے کہ اس کے اپنے غلط نصاب کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔
لڑکی اور لڑکے کو قتل کردیا جاتاہے اور اگر وہ بچ جائیں تو پھر ان کے خاندان کی عزت فالودہ بن جاتی ہے۔ جب لڑکا لڑکی کو اس طرح سے شادی کی اجازت مل جائے تو وہ ہوامیں ہی معلق ہوجاتے ہیں۔ نوکری اور کاروبار ہو تو بھی چھوٹ جاتا ہے اور اپنے اپنے خاندانوں سے بھی ہاتھ دھو لیتے ہیں۔ ان کی عزت بھی تذلیل میں بدل جاتی ہے۔
جب معمول کے مطابق شادی ہوتی ہے تو عزتوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔ ایک طرف سے جہیز تودوسری طرف سے حق مہر ملتا ہے۔ دوست احباب تحفے تحائف دیتے ہیں۔ بہتر مستقبل کیلئے نوکری اور کاروبار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ آل اور اولاد کیلئے دونوں طرف کے رشتہ آپس میں مل جل کرخوشیوں کے سامان مہیا کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دو خاندانوں میں دوستی اور رشتہ داری کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ اختلافات کی صورت میں دونوں طرف کے رشتہ دار سمجھانے بجھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک طرف انتہائی خوشنما تصویر دکھائی دیتی ہے اور دوسری طرف انتہائی بدنما اور بھیانک تصوردکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ دونوں صورتوں میں حق اور باطل کا فرق بہت واضح ہے لیکن ایک طرف ہمارے علماء ومفتیان نے احادیث کا انکار کرکے غلط راستہ ہموار کردیا ہے تو دوسری طرف عورت کے صحیح حقوق بھی ہمارے اسلامی معاشرے میں بالکل نہیں ملتے ہیں اور اگر عورت پر زبردستی سے والدین اپنے فیصلے مسلط نہ کرتے تو یہ حادثات بھی پیش نہ آتے۔ عورت بیوہ وطلاق شدہ ہو پاپھر کنواری اس پر والدین زبردستی اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتے ۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے نابالغ لڑکیوں و دیگر معاملے پر شادی کے حوالہ سے جوظالمانہ فتوے لکھے،اگر خلفائ بالخصوص حضرت عمر کی حکومت ہوتی تو ان فتوؤں پر مفتی تقی عثمانی کو بالکل سرعام کوڑے مارے جاتے۔ اسلام کسی کے باپ کی جاگیر نہیں۔ اسلام کی درست تعلیم کو عام کرنا اہم فریضہ ہے۔ بنی ہاشم نے پہلے دور میںبھی اسلام کیلئے قربانی دی مگر ابولہب بھی ان میں تھا لیکن ہم ابوطالب وعلی کا کردار ااداکریںگے۔ انشاء اللہ تعالیٰ
ٔٔٔ٭٭٭
بھاگ کر شادی کرنے والی سلمہ شیخ کو معمولی بات پر اس کے شوہر نے گلا دبا کر قتل کیا۔ ہماری اکثرلڑکیاں لوفر قسم کے لڑکوں کی پیار بھری باتوں میں آکر گھر سے فرار ہوتی ہیں، جس میں قرآن وحدیث کیخلاف شرعی مسائل کا بہت بڑا عمل دخل ہے ذرا سوچئے سہی!
٭٭٭
16سال کی پٹھان لڑکی شادی کرنے کیلئے لاہور آگئی۔
3سال کا تعلق ہے اب کراچی سے بھاگ آئی۔
گھر والے نہیں مان رہے تھے تو ان کو چھوڑ دیا۔

السلام علیکم ناظرین! دیکھو ٹی وی کے ساتھ میں ہوں آپ کی ہوسٹ رابعہ مرزا خوش آمدید کہوں گی۔ لڑکی اسکے ساتھ لڑکا ہے ۔ ان کا آپس میں کیا ریلیشن ہے آئے ہیں یہ کراچی سے۔ ریسکیو کیا ہے ان کو پولیس تحفظ مرکز نے۔ میں لڑکا لڑکی سے پوچھتی ہوں کیا معاملہ ہے کیوں آئے ہیں ؟۔ لڑکی سے سوال:
نام؟۔ امبرین ۔ عمرکیا ؟16سال۔ کہاں سے آئی ہو؟۔ کراچی سے ۔ لڑکے کیساتھ؟۔ ہاں۔ کیا لگتا ہے ؟۔ محبت کرتی ہوں۔لڑکاپٹھان ہے ؟۔ ہاں۔ تو گھر والوں نے شادی نہیں کی؟۔ امی نہیں راضی ۔ وہ کہتی ہیں اسکے ساتھ نہیں کر نی۔کتنا عرصہ ہو ا محبت کا؟۔3سال!13سال کی عمر سے تم نے محبت کر لی تمہارا کیا لگتا ہے ،ماموں کا لڑکاہے؟۔ ج: پڑوسی ہے۔ س :کیا کرتا ہے لڑکا؟۔ ج:کباڑ کا کام کرتا ہے۔ س: پیسہ ویسہ کما لیتا ہے؟۔ ج: ہاں ۔ س: اسکے اور تمہارے کتنے بہن بھائی ہیں؟۔ ج: اسکے دو بہنیں تین بھائی اور میرے دو بھائی چھ بہنیں۔ س: ابو کیا کرتے ہیں؟۔ ج: ابو گاڑی چلاتے ہیں۔ س:اب کیسے شادی کر لو گے؟۔ ج: یہ کہہ رہے ہیں امی لوگ آ رہے ہیں۔ س: کب سے بھاگے ہو ؟۔ ج: پرسوں سے۔ س: پتہ تھا لاہورکا، جو بھاگ کر آتا ہے، لاہورمیں کیا ہے؟۔ ج: پتہ نہیں، س: امی سے بات ہوئی؟۔ج: پولیس والوں نے کی۔ س: صبح آئیں گے وہ؟۔ج: ہاں۔س: شادی کر لیں گے؟۔ ج: ہاں ۔ س:نہ کی تو سوچو آگے پھر کیا ہوگا؟۔ ج: میں تو کروں گی اس سے ہی کروں گی ۔ س: کرنی ہے تو اسی سے نہیں تو ؟۔ ج:اور کسی سے بھی نہیں کروں گی ۔ س: اس کی عمر کیا ہے اس کا شناختی کارڈ ہے تمہارا تو شناختی کارڈ نہیں بنا؟۔ ج: نہیں بنا۔ سوال: لڑکے کی کیا عمر ہے؟۔ ج:21سال ۔ سوال: باقی بہن بھائیوں کی شادی ہوئی ہے تمہاری ؟۔ ج: ہاں ۔ س: تمہاری نہیں ہوئی اور تم سے بڑی کی بھی؟۔ ج: ہاں۔ س: اب تم پھر کر لو گی جلدی شادی یا وہ کہیں گے کہ ہم یہی کریں گے تو پھر ویٹ کر لو گی؟۔ج: صحیح ہے۔ سوال: پڑھی ہوئی ہویا کچھ نہیں پڑھا قرآن پاک پڑھا؟۔ ج: نہیں۔ قرآن پاک ابھی پڑھنے جاتی ہوں ۔ س: تو کس طرح محبت ہوئی ہے موبائل رکھا ہوا تھا آپس میں؟۔ ج: پہلے نہیں تھا ابھی ہے۔
س: اس نے لے کے دیا؟۔ ج: نہیں ابو کا موبائل ہے ۔ امی لوگوں کو نہیں پتہ ہے۔ س: سب چوری چوری کام؟۔
(پھرلڑکے سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے)
سوال: ہاں جی کیا نام ہے ؟۔ ج: یاسین۔ س: کب سے محبت ہے؟،ج: تین سال سے۔ س: تو کیا کرتے ہو کماتے ہو، صرف عشق معشوقیاں کی ہیں؟۔ ج: کباڑ کا کام ہے چاچو کیساتھ اپنا کام ہے۔ س: کتنا کما لیتے ہو ؟۔ ج: مہینے کا28،30ہزار۔ س: خوش رکھو گے؟۔ج: انشااللہ۔ س:30ہزار سے کیا بنتا ہے ایک ہزار روپے کا تو برگر آجاتا ہے تو اس کو کیسے خوش رکھو گے ؟۔ ج: اللہ کو منظور جیسا ہوگا خوش رکھے گا اللہ۔ س: اسکے ماں باپ نے فیصلہ کیا تم ان کو پسند نہیں ہو تو پھر اس کو کیوں بھگایا ؟۔ ج: اس نے یہ بولا کہ مجھے بھگا کرلے جاؤ، میں نے بولا کہ صبر کروتھوڑا ،امی ابو مان جائیں گے ہم ان کو راضی کر لیں گے بس پھر اس نے بولا کہ نہیں امی ابو نہیں مانیں گے امی نے ضد پکڑی ہے اور وہ نہیں مانے گی۔ س: اس نے ضد کیا کہ بھاگ چلتے ہیں؟۔ ج: ہاں۔ س: تو کب اس نے ذہن میں ڈالا کہ بھاگنا ضروری ہے اب ہمارا شادی نہیں ہوگا ؟۔ ج: اس نے تو رمضانوں میں کہا تھا مگر میں نے بولا ابھی نہیں بڑی عید کے بعد تک گزارہ کرتے ہیں اسکے بعد دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ میں اپنی امی والدہ کو بھی بھیج دوں گا بہنوں کو بھی ۔ س: تمہارے گھر والے راضی ہیں؟۔ ج: جی سب راضی ہیں مگر اس کی امی نہیں ۔ س: اب کیا کرو گے تمہارے گھر والوں سے رابطہ ہوا انکا ؟۔ ج: جی وہ راستے میںہیں۔ س: تمہارے آ رہے ہیں انکے بھی ؟۔ ج: دونوں آرہے ہیں ۔ س: پھر کیا تم یہیں پرشادی کر لو گے یا ان سے لکھوا کے جا ؤگے کہ شادی کریں گے تو ہم گھر جائیں گے ورنہ نہیں؟۔ ج: ہم شادی کریں گے پھر گھر پہ جائیں گے۔ یہاں پہ ہمیں پولیس والوں نے بھی بولا تھا کہ ہم انکے ساتھ بات کریں گے ان کو راضی کریں گے ،مولوی صاحب کو بلاکر آپ لوگوں کو نکاح کروا کے آپ لوگوں کو بھیج دیں گے۔
ناظرین! یہ جوڑا بھاگ کے آیا۔ باقی کیس ہسٹری کیا کہتی ہے ہم بابر صاحب سے پوچھتے ہیں کہ اصل میں معاملہ کیا ہے۔ چلئے میرے ساتھ السلام علیکم جی! وعلیکم السلام! کیسے ہیں بابر صاحب؟۔جی الحمدللہ میڈم جی۔سوال: بابر صاحب یہ جو ہے چھوٹی عمر کے ہیں بالکل جوان ہیں اور بچی کی بھی عمر نہیں شناختی کارڈ بھی نہیں بنا۔ ان کو کیسے ریسکیو کیا کہاں سے آئے ہیں ان کا معاملہ کیا ہے کیا کیس ہسٹری ہے کیا کہیں گے؟۔ جواب: ادھر مسافر خانے صبح7بجے کے قریب آکر بیٹھے ہیں تو ان کو شک کی بنیاد پہ ہم نے جو تحفظ مرکز بلایا ہے۔اس لڑکے کو شک کی بنیاد پہ بلایا ۔اس نے پہلے تو نمبر سارے غلط بتائے پھر بعد میں ان کا موبائل لیا تو اس میں سے نمبر وغیرہ نکالے۔ لڑکی کا بھی نمبر اس کے موبائل سے نکال کر اس کے گھر والوں سے رابطہ کیاتوپھر لڑکی کے والدین نے کہا کہ ہم اسے لے جائیں گے اور لڑکے کے والد نے کہا میں تو ادھر اپنے کام پر ہوںمیں تو نہیں آرہا۔ سوال: لڑکے کے پیرنٹس نے اس کے پیچھے آنے سے انکار کردیا؟۔ جواب: ہاں !ظاہر سی بات ہے انہوں نے جب بولا کہ ہم تو نہیں آسکتے ہمیں تو پتہ نہیں کہ وہ کدھر ہے؟۔ تو وہ پھر ہم نے انہیں کہا کہ ٹھیک ہے اگر آپ نہیں آئیں گے تو ہم کاروائی کر دیتے ہیں ۔ پھر جب کاروائی کا سنا تو کہتے ہیں نہیں جی ہم آجائیں گے آپ ان کو بٹھا کے رکھیں انہیں جانے مت دیں۔ رابطہ کر کے پھر انہیں بلوایا کہ آپ ضرور پہنچیں۔ انہوں نے کہا جی ابھی تو دوپہر کو ان کو ہینڈ اوور کر کے گئے ہیں جو ہماری فرسٹ ٹیم تھی انہوں نے بھی رابطہ کیا ۔بعد میں انہوں نے ان کو بتایا کہ ہمیں بس نہیں مل رہی تو انشااللہ شام چار بجے ٹرین ملے گی تو انشااللہ صبح تین چار بجے پہنچ جائینگے ۔سوال: تو اب ان کے پیرنٹس آرہے ہیں۔ تو پھر اس کے بعد کا کیا معاملہ ہے کیا راضی ہیں انکے گھر والے آپس میں ان کا نکاح کرنے کیلئے کیونکہ ان بچوں نے کہا ہے کہ پولیس والوں نے یہ یقین دلایا ہے کہ آپ کا نکاح کروائیں گے اس کے بعد آپ کو ان کے پیرنٹس کے حوالے کیا جائے گا؟۔ جواب: نہیں جی پولیس کا کام تو یہاں تک ہی تھا۔ پولیس نے تو ریسکیو کرنا ہوتا ہے اور ریسکیو کر کے ان کے والدین کے ہینڈ اوور کرنا ہوتا ہے اور یہ ان کی خاندانی باہمی رضامندی سے یہ اگر چاہیں تو ہماری طرف سے جاتے ہی نکاح کر لیں یہاں سے باہر جا کے نکاح کر لیں لیکن ہم اتنا کر سکتے ہیں کہ انہیں سمجھا ضرور سکتے ہیں کہ اگر آپ کے بچے بالغ ہیں اگر آپ کے بچے اچھے طریقے کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ ان کی بات ضرور سنیں گھر جا کے۔ اب وہ سنیں یا نہ سنیں یہ تو ان کے اپنے گھر کا میٹر ہے ۔
جی ناظرین! آپ نے دیکھا اورسنا کہ اگر خدانخواستہ یہ پولیس تحفظ مرکز کی ٹیم ان کو ریسکیو نہ کرتی تو بچی بہت ینگ ہے16سال کی ان کو پتہ نہیں ہے کہ کس طرح یہ اس معاشرے میں کیا چل رہا ہے خدانخواستہ کسی کریمنل ایکٹیوٹی یا کسی کریمنل گینگ کے ہاتھ آ جاتے تو ان کو خدانخواستہ اس لڑکی کوسیل بھی کیا جا سکتا تھا اغواء بھی کیا جا سکتا تھا لڑکا بھی کوئی اتنا ہائی فائی نہیں ہے یا اتنا سٹرانگ اور مضبوط نہیں ہے نہ فائنینشلی ہے اور فزیکلی ہے۔ لڑکی کو کس طرح پروٹیکٹ کر سکتا ہے؟۔ سوال تو یہ بنتا ہے کہ یہ آئے کیوں ہیں ؟۔یا کس بیس پہ ہیں ؟۔ یا کیا سوچ کے آئے ہیں؟۔ پھر میں کہوں گی کہ اپنے گھر میں ارد گرد بچوں کو ضرور مانیٹر کریں ان کی ایکٹیوٹی کو ضرور چیک کریں ان کے حلقہ احباب کو چیک کریں کہ بچوں کی کیا ایکٹیوٹی ہے کہاں آرہے ہیں کہاں جا رہے ہیں کہاں اٹھ رہے ہیں؟۔ اپنے آپ مصروفیات زندگی میں اتنا ٹائم ہو تاکہ آپ کو اپنے بچوں کے اوپر تھوڑی سی مانیٹرنگ ہو ان کی ایکٹیوٹی کا پتہ ہو یہ نہ ہو کہ کل کو پچھتائیں اس سے پہلے آپ الرٹ ہو جائیں۔ باقی آئی جی صاحب کا یہ اقدام ہمارے سر آنکھوں پر۔ پولیس تحفظ مرکز کی ایک ٹیم نے ایک اور کیس کو حل کیا ہے ایک بچہ بچی کو انشااللہ صبح اپنے پیرنٹس کے ہینڈ اوور کیا جائے گا قیمتی رائے سے آگاہ کیجئے گا پھر کہوں گی کہ پولیس تحفظ مرکز کی ٹیم اور پولیس تحفظ مرکز جنہوں نے بنایاIGصاحب ان کے اقدام کو ہم سلیوٹ کرتے ہیں قیمتی رائے سے آگاہ کیجئے گا حاضر ہوں گے نئے پروگرام میں فی امان اللہ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

 

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

جھوٹ نے قوم کو اندھا کردیا؟
ہم تمہاری عزتیں ، تمہاری جانیں اور تمہارے مالوں کوبچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو!
قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ