قرآنی آیت پر عمل ہوتا تو کینیڈین شہری اور دیگر سانحات سے معاشرے کو کبھی نہ گزرنا پڑتا - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

قرآنی آیت پر عمل ہوتا تو کینیڈین شہری اور دیگر سانحات سے معاشرے کو کبھی نہ گزرنا پڑتا

قرآنی آیت پر عمل ہوتا تو کینیڈین شہری اور دیگر سانحات سے معاشرے کو کبھی نہ گزرنا پڑتا اخبار: نوشتہ دیوار

قرآنی آیت پر عمل ہوتا تو کینیڈین شہری اور دیگر سانحات سے معاشرے کو کبھی نہ گزرنا پڑتا

وانکحوا الایامٰی منکم و الصٰلحین من عبادکم و امآئکم ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ من فضلہ و اللہ واسع علیم (32) ولیستعفف الذین لا یجدون نکاحاً حتیٰ یغنیھم اللہ من فضلہ و الذین یبتغون الکتٰب مما ملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرا واٰتوھم من مال اللہ الذی اٰتٰکم ولا تکرھوا فتیٰتکم علی البغآء ان اردن تحصناً لتبتغوا عرض الحیٰوة الدنیا ومن یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم(33)

اورنکاح کراؤ جو تم میں سے بیوہ و طلاق شدہ ہیں اور جو تمہارے صالح غلام ہیںاور لونڈیاں ہیں اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گااور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔ اور جو نکاح تک نہ پہنچیں تو وہ لوگ خود کو پاکدامن رکھیں یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے مستغنی کردے۔ اور جو کتابت چاہتے ہوں تمہارے ساتھ معاہدہ کرنے والوں میں سے تو ان کے ساتھ کتابت کرو اگرتم ان میں خیر جانواور ان کو مال دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور مجبور مت کرو اپنی جوان لڑکیوں کو بغاوت پر اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم چاہو دنیا کی زندگی کا مقام اور جو ان لڑکیوں کو مجبور کرے گا تو بیشک ان کی مجبوری کے بعد (ناجائز ہونے کے باوجود ان سے اللہ درگزر کرے گا) اللہ غفور رحیم ہے۔ (سورہ النور آیات33-32)قرآن کی ان آیات سے ایک بڑا اور متفقہ انقلاب بھی آسکتا ہے

مفتی منیر شاکر ایک نابغہ روز گار شخصیت ہیں لیکن ان سے اپنے اور پرائے سب ناخوش ہیں ۔ جس نے بھیک مانگنے کے بجائے اسلام آباد میں دیہاڑی اور مزدوری کی ہے اور برف بھی بیچنے کا کام کیا ہے اور دوسرے چھوٹے روزگار بھی کئے ۔
کرم ایجنسی میں شیعہ سنی منافرت مذہبی طبقات کو ورثے میں ملتی ہے اور اس کا مفتی منیر شاکر بھی کبھی شکار رہے ہیں اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے بلکہ ماحول اثر انداز ہوتا ہے۔
مفتی منیر شاکر کا تعلق ایک طرف دیوبندی حنفی مکتب سے رہاہے اور دوسری طرف وہ اشاعت التوحیدوالسنة کے بھی شیر رہے ہیں تو اس ماحول کا بھی ان پر بہت بڑا اثر رہاہے۔ اب تو جس طرح صوفیاء تصوف کی منزلیں طے کرکے لامکاں تک پہنچ جاتے ہیں اسی طرح مفتی صاحب نے بھی منزلیں طے کی ہیں۔
مفتی منیر شاکر پر سب سے بڑا اعتراض یہ وارد ہوتا ہے کہ وہ احادیث کے منکر ہیں اور عام روش کی مخالفت کرتے ہیں۔
جسٹس شوکت صدیقی نےISIکے خلاف تقریر کرکے جو شہرت حاصل کرلی ہے اور اب عدالت نے ان کو بے گناہ بھی قرار دیا ہے۔ وہ ایک مذہبی شخصیت بھی خود کو سمجھتے ہیں اور اس نے جماعت اسلامی کی بھی حال میں تعریف کی ہے ۔ جسٹس شوکت صدیقی صاحب نے ایک دن کہا کہ ” جو لڑکی بھاگ کر والدین کی اجازت کے بغیر شادی کرتی ہے تو یہ اسلام کے بھی خلاف ہے”۔ سندھ ہائی کورٹ میں بھی ایک دن ججوں نے یہ حرکت انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے لڑکے سے پوچھاکہ ”اگر تمہاری بہن کسی کیساتھ بھاگ کر شادی کرلے تو اچھا لگے گا؟”۔ لڑکی کا گھر سے بھاگ کر شادی کرنا پاکستان و بھارت کے علاوہ شاید دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوتا ہے۔
ایک طرف انگریز کی عدالت نے انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے بالغ لڑکی کو اپنی مرضی کا مالک قرار دیا تودوسری طرف حنفی مسلک نے واضح حدیث اور مشرقی روایات واقدار کو پامال کرتے ہوئے بالغ لڑکی کو والدین سے بغاوت کی کھلی اجازت دی ہے اور حدیث کو قرآن سے متصادم قرار دیا ہے۔
پہلے لوگ امام ابوحنیفہ کے متعلق کہتے تھے کہ منکر حدیث ہے اور آج مفتی منیر شاکر کو منکر حدیث قرار دے رہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ درس نظامی اور حنفی مسلک میں جو پڑھایا جاتا ہے تو کیا ایک قابل آدمی متاثر نہیں ہوسکتا ہے؟ اور جب کوئی بھی اپنے ماحول سے متأثر ہوسکتا ہے تو مفتی منیر شاکر پر سوشل میڈیا میں مذہبی طبقے کی طرف سے لعن طعن کرنا غلط نہیں ہے؟۔ مفتی منیر شاکر کے لہجے میں تلخی ہوسکتی ہے لیکن جب تک ان کو دلائل سے قائل نہیں کیا جائے تو اپنا لہجہ بھی کسی کی مخالفت سے کیوں بدلے گا؟۔ شیعہ نے صحابہ کرام پر اپنے لہجے کو مخالفین کی وجہ سے کبھی بدلا ہے؟۔ حنفی اہلحدیث نے اپنا لہجہ بدلا ہے؟۔ بریلوی دیوبندی نے ایک دوسرے کے خلاف اپنا لہجہ بدلنے کی طرف کبھی پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ؟۔
لاہور کی شہری قنوت کا بچپن سے عمیر کیساتھ معاشقہ تھا۔ ہوسکتا ہے کہ عمیر سنی اور قنوت شیعہ ہو۔ بہرحال والدین نے اس کا نکاح علی رضا کیساتھ کردیا تھا جو کینیڈین شہری تھا۔ جب ان کے دو بچے بھی پیدا ہوگئے تو قنوت نے علی رضا کو پاکستان بھیج دیا اور عمیر سے قتل کرنے کی فرمائش کی تاکہ بچپن کی محبت کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ علی رضا قتل ہوگیا اور سازش پکڑلی گئی۔ دعا زہرہ نے ایک سنی لڑکے سے محبت کی شادی کی تھی اور اس کیس کو پہلے میڈیا میں بہت غلط رنگ دینے کی بھی کوشش کی گئی لیکن آخر کار بہت مشکلوں سے معمہ سب کی سمجھ میں آگیا۔
بعض لوگوں نے200تک روایات کا کہا ہے کہ حد تواتر تک پہنچتی ہیں کہ” ولی کی اجازت کے بغیر نبی ۖ نے عورت کے نکاح کا منع فرمایا”۔ جب ایک لڑکی گھر سے بھاگ کر نکاح کرتی ہے تو بہت بڑا ہنگامہ کھڑا ہوتاہے۔ کورٹ میں مار کٹائی اور قتل وغارت تک بات پہنچ جاتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اس کا کوئی سنجیدہ حل پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ جب نبی ۖ نے فرمایاکہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے ، باطل ہے”۔ پھر حنفی مسلک نے اس حدیث کو کیوں مسترد کردیا تھا؟۔ حالانکہ جمہور مالکی، شافعی،حنبلی،جعفری اور اہل حدیث کا یہی مسلک ہے۔ اسلئے پڑوسی ایران اور سعودی عرب اوردوبئی کی عدالتوں میں اس طرح کے کیس نہیں ہوتے ہیں۔ البتہ وہاں کی لڑکیاں بیرون ملک کسی کے ساتھ فرار ہوجاتی ہیں تو یہ الگ بات ہے۔
پاکستان وبھارت میں حنفی مسلک کی اکثریت ہے اسلئے عدالتوں میں لڑکی کی طرف سے والدین سے بغاوت کا معاملہ چلتا ہے۔ سعودی عرب اور دوبئی وغیرہ کے خلاف انسانی حقوق کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اسلئے نہیں اٹھتا ہے کہ عرب ممالک میں حنفی مسلک کا ماحول نہیں ہے اور ان کے مذہبی طبقات بھی اپنا ماحول احادیث کے مطابق بناتے ہیں کہ والدین کی اجازت کے بغیر نکاح کا تصور باطل اور غلط ہے۔ جب قرآن کی بنیاد پر حدیث کو مسترد کیاگیا کہ اللہ نے فرمایا : حتی تنکح زوجًا غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ تو اس آیت سے عورت کی خود مختاری ثابت ہوتی ہے ۔ حدیث خبر واحد ہے اسلئے عورت کو ولی کی اجازت کا پابند نہیں بناسکتے۔ حنفی مسلک کی ٹریننگ ہے کہ قرآن کے مقابلے میں حدیث کی تطبیق نہ ہوسکے تو حدیث کو مسترد کیا جائے گا لیکن اگر قرآن کی مخالفت نہ ہو تو ضعیف حدیث بھی قابل عمل تصور کیا جائے گا۔
اس آیت میں طلاق شدہ عورت کا ذکر ہے ۔ حدیث سے کنواری لڑکی مراد لی جائے تو قرآن وحدیث میں تطبیق موجود ہے۔ مولانا بدیع الزمان جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں جب ہمیں پڑھارہے تھے تو میں نے ان کے سامنے یہ تطبیق رکھی تھی اور اس پر انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایاتھا۔ اور امید ظاہر کی تھی کہ میں معاملے کے حل تک آئندہ پہنچ جاؤں گا۔
سورہ نور آیت32میں طلاق شدہ ،بیوہ ، غلام اور لونڈیوں کے نکاح کا حکم دیا اور آیت33میں کنواری لڑکیوں کا حکم دیا ہے کہ جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تو ان کو بغاوت یا بدکاری پر مجبور مت کرو۔ عربی میں بغاء کے دونوں معانی آتے ہیں۔ کنواری لڑکی کو اگر اس کی مرضی کے نکاح سے روک لیا جائے تو وہ چھپ کر بدکاری کرے یا کھل کر بغاوت کرے تو اس کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم دنیا میں ٹکر کا رشتہ چاہتے ہو اور اپنی توہین سمجھتے ہوکہ دنیاوی حیات میں اپنی لڑکیوں کا اس سے رشتہ کراؤ اور پھر مجبور کرتے ہو کہ اس کے ٹکر والے سے رشتہ کراؤ ۔ اگرچہ لڑکی کوزبردستی سے مجبور کرنا غلط ہے لیکن اگر ان کو مجبور کیا گیا تو پھر اس تعلق کو ناجائز نہیں قرار دیا جائے گا۔ سورہ نور کی اس آیت میں عورتوں پر بہت بڑا احسان کیا گیا ہے کہ ایک طرف اولیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تو پھر تمہیں ان کو بغاوت یا بدکاری پر مجبور کرنا غلط ہے۔ لڑکی کو کھل کر بغاوت یا چھپ کر نکاح کی اجازت بھی نہیں ہے اور زبردستی سے کسی اور سے نکاح پر مجبور کرنابھی غلط ہے لیکن عورت کو مجبورکرنے کے بعد اللہ نے خود کو غفور رحیم قرار دیاہے۔ قرآن کی طرف توجہ نہیں کی گئی ہے۔
دورِ جاہلیت کے مشہور شاعر امرء القیس نے جب چچا سے اس کی لڑکی لیلیٰ کا رشتہ طلب کیا ،جس کیساتھ بکریاں چراتے ہوئے اس کی محبت ہوگئی تھی تو یہ محبت بہت بڑا جرم بن گئی تھی۔ قیس مجنون بن گیا لیکن اس کو لیلیٰ نہیں مل سکی۔ پطرس بخاری کا ایک مضمون مچھر ہم نے سکول کے نصاب میں پڑھا تھا اس میں مچھر پربہت زبردست باتیں لکھی تھیں کہ نمرود کو بھی اس نے مار دیا تھا۔ ساری دنیا اس کے خلاف سازش کرتی ہے کہ اس کا وجود بھی دنیا میں نہیں رہا لیکن جہاں اور جس فیکٹری میں بھی اسکے نابود کرنے کے منصوبے بنتے ہیں وہیں پر منصوبہ سازوں کو مچھر ہاتھ پر کاٹ لیتے ہیں۔ آج کے دور میں پطرس بخاری مضمون لکھتا تو اس میں مزاح کے علاوہ دوسری طرح کا مصالحہ ڈال دیا جاتا کہ فرانس اور ترقی یافتہ دنیا نے ایسی ادویات ایجاد کی ہیں کہ اس میں بدبو بھی نہیں ہے اور6،6ماہ اور سال تک مچھر کمرے میں آنے کا رسک نہیں لے سکتا اور لے لیتا ہے تو اپنی موت آپ ہی مرجاتا ہے۔ لیکن ایک تو ترقی پذیر ممالک کو ترقی سے روکنے کیلئے وہ اچھے فارمولے نہیں بتاتے لیکن اگر وہ یہ مہربانی کر بھی لیں تو ہمارے مریضوں کو بھی جعلی ادویات سے چھٹکارا نہیں ملتا ہے تو مچھروں کے خاتمے کیلئے اصلی دوائی کون بنائے گا؟۔ خیر پطرس بخاری نے مچھر کے مضمون میں لکھاہے کہ ”ایک بزرگ کہتا تھا کہ میں دل سے مچھر کو پسند کرتا ہوں۔ سب سے پہلے وہ میرے ایک کان میں سائرن بجاتا ہے ۔ پھر دوسرے کان میں اور پھر پیر پر ہلکا کاٹتا ہے۔ پھر زور سے کاٹتا ہے اور پھر ہاتھوں کو بھی کاٹنا شروع کردیتا ہے اور منہ کو بھی پھر نہیں چھوڑتا ہے۔ جب تک تہجد کیلئے اٹھنے پر مجبور نہیں کرتا تو پیچھا نہیں چھوڑتا ہے۔ لیکن پھر مچھر تھوڑا سا شرمندہ ہوجاتا ہے کہ جب اس کو یاد آتا ہے کہ وہی بزرگ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو سجدے کی حالت میں بھی اس کو پیر پر زور زور سے کاٹنا شروع کردیتا ہے”۔ مفتی منیر شاکر احادیث کا انکار کردیتا ہے تو شیعہ بھی خوش ہوتا ہے کہ ابوطالب پر بخاری میں کفر کا مسئلہ بھی غلط ثابت ہوسکتا ہے۔ پھر میں قرآن کا حوالہ دوں گا کہ بعثت کے وقت اہل کتاب بھی پہلے سے مسلمان تھے۔ جب نبی ۖ کی بعثت ہوئی تو بھی دو قسم کے لوگ تھے ۔ ایک وہ تھے جنہوں نے اس خوف سے بھی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا کہ جاہل عرب ہمیں اپنی زمین سے اچک کر غائب کردیں گے۔ جیسے آج کل کلمہ حق بلند کرنے والوں کو بھی اٹھالیا جاتا ہے۔انور مقصود نے اپنے اچکنے کی تردید کرلی لیکن اس کی تردید پر بھی کوئی اعتبار نہیں کرتا ہے تو کیا کہا جاسکتا ہے؟۔ ایک بلوچ نے بلوچستان کی معروف کوچ سروس کی حیثیت سے بڑی شکایت کی تھی کہ ہمیں سمگلنگ پر مجبور کیا جارہاہے اور پھر اسنے تردید بھی کرلی ہے کہ میں نے فرط جذبات میں کرنل وغیرہ کے نام لے لئے ہیں۔
اب تو بشام میں چینیوں پر خود کش حملہ کرنے کا ذرائع سے بتایا جارہاہے کہ ” افغانستان سے چمن بارڈر پر بارود سے بھری ہوئی کار چمن کے بارڈر پر آئی ۔ پشین، کچلاک ، مسلم باغ اور بلوچستان کے طویل راستے کو طے کرکے درہ زندہ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئی۔ پھر پشاور، مردان سے ہوتے ہوئے کوہستان کی سرحد پر پہنچی اور بشام میں اپنا ٹارگٹ پورا کرلیا”۔ گویا یہ پورا پشتون بیلٹ اس میں ملوث ہے۔ عورت مارچ والی بہت ہی مزاح کے انداز میں فرماتی ہیں کہ ” ہم گنا ہگارعورتیں”۔ پشتون کو بھی چاہیے کہ وہ پلے کارڈ اٹھائیں اور اس پر جلی حروف کیساتھ یہ لکھ دیں کہ ” ہم گناہگار پشتون ”۔ اسلئے کہ جب ادلے بدلے کی جنگ لڑی جائیگی تو امریکن ڈرون ہونگے۔ جٹ طیارے ہونگے بمباریاں ہونگی۔ خود کش حملہ آور کے اہل وعیال کو تباہ وبرباد کیا جائیگا۔ جس طرح ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا تھاکہ ” ایران میں جو مارے گئے ،انکے لواحقین یہاں پر موجود ہیں”۔ پھر پشتون تحفظ موومنٹ کے عالم زیب محسود کے ساتھ کوئی تصدیق کرے گا کہ ہمارے والے مارے گئے۔
اب گوادر میں مارے جانے والے حملہ آوروں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو بلوچ مسنگ پرسن تھے۔ سرکار اور خرکار کی لڑائیوں میں عوام الناس کی خیر نہیں ہے۔ جہاں تکCTDپولیس کے اس الزام یا حقیقت کا تعلق ہے کہ بلوچستان سے سمگلنگ کی گاڑی30سے35تک ہر ماہ جاتی ہیں تو اس میں صداقت اسلئے ہے کہ مولانا خان محمد شیرانی صاحب کو جلوس کی شکل میں بلوچستان سے خیبر پختونخواہ لے جایا جاتا تھا تو اس میں کسٹم کے بغیر گاڑیوں کے سمگلر بھی اپنا کام دکھاتے تھے۔
کراچی کے لوگوں کو سوات میں گاڑیوں کا سامان سستا مل جاتا ہے۔ سوات میں کسٹم کے بغیر گاڑیاں حکومت کی اجازت سے نہیں بلکہ سمگلنگ سے ہی آتی ہیں اور سمگلنگ افغانستان کی سرحد لنڈی کوتل سے نہیں بلوچستان سے بھی ہوتی ہے۔
جب اللہ کا فضل میسر آتا ہے تو پڑھے لکھے اور ان پڑھ بھی برابر ہوجاتے ہیں۔ جب عذاب آتا ہے تو بروں کیساتھ اچھے بھی کشتی میں ڈوب جاتے ہیں اسلئے کہ جب کشتی میں سوراخ کرنے والوں کو نہیں روکا جاتا ہے تو ڈوبنے والی کشتی سب کیلئے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ٹائی ٹینک جہاز میں سب کی جان کو خطرہ تھا تو آج ہمارے لئے پھر کہیں ٹائی ٹینک کا مسئلہ نہ ہو؟۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن میں جہاں نبی ۖ کی بعثت کے ذریعے بعض لوگوں کو ہدایت ملنے اور بعض لوگوں کو ہدایت نہ ملنے کی بات ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ ” بیشک اس کو آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ چاہتے ہوں” تو اس سے ابوطالب مراد نہیں ہوسکتے ہیں اسلئے کہ قرآن میں پھر دو طبقات کا ذکر ہے ۔ ایک طبقہ وہ ہے جس میں خوف تھا کہ اگر انہوں نے حق کی دعوت قبول کرلی تو اچک لئے جائیں گے اور دوسرا طبقہ وہ تھا جن کو کسی سے کوئی خوف نہیں تھا۔ ابوطالب بڑا ڈٹ کر کھڑا تھا اسلئے ان پر خوف کا الزام نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ البتہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا تھا تو ان پر الزام لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرآن میں اللہ نے ان کا ذکر بھی کیا ہے اور فرمایا کہ ” اگر وہ پھر ایمان لائیں اور اچھے عمل بھی کریں تو ہوسکتا ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوں”۔
دوسرے طبقے میں ابوسفیان ، اسکے دونوں بیٹے یزید اور معاویہ شامل تھے۔ایک طرف سنی ابوطالب کو غیرمسلم اور کافر قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف شیعہ ابوطالب کو پیدائشی مسلم قرار دیتے ہیں۔ اپنے اپنے مؤقف میں تھوڑا لچک لانے کی گنجائش اسلئے ہے کہ ماحول سے ہٹ کر بھی بعض اوقات کچھ حقائق ہوتے ہیں۔ حضرت حسن اور حسین نے ہی امیر معاویہ کو خلیفہ بنانے میں بنیادی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ابوسفیان نے بھی حضرت ابوبکر کے مقابلے میں حضرت علی کیلئے اقتدار کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اگر20سال تک امام حسین نے معاویہ کی خلافت برداشت کی تھی تو اب اس کا سارا ملبہ آج کے دور میں فرقہ بندی کا ذریعہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟۔
اہل تشیع کہتے ہیں کہ نبی ۖ کا نکاح حضرت خدیجہ سے ابوطالب نے پڑھایا تھا۔ بخاری میں خطبہ نکاح کیلئے کوئی ایک بھی قابل اعتماد حدیث نہیں ملی تو خطبہ نکاح کی جگہ پر یہ حدیث نقل کردی کہ ”نبی ۖ نے فرمایا: بعض بیان سحر ہوتے ہیں”۔ دو جاہلوں نے سحر انگیزی سے خطابت کی تھی تو نبی ۖ نے اس پر یہ ارشاد فرمایا تھا۔ جب صحابہ کیلئے خطبہ مروج نہیں تھا تو پھر قبل ازاسلام حضرت ابوطالب کی طرف نکاح کے خطبے کو کون سنی مان جائے گا؟۔ البتہ اگر ہم سرتسلیم خم کرکے مان بھی لیں تو پھر ابوطالب نے اپنی بیٹی ایک مشرک کو کیوں دیدی تھی؟۔
حالانکہ رسول اللہ ۖ نے خدیجہ سے پہلے رشتہ طلب کیا تھا لیکن ابوطالب نے نبی ۖ کو ام ہانی کا رشتہ نہیں دیا تھا۔ پھر جب مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم ہوا تو حضرت ام ہانی نے اپنے مشرک شوہر کی وجہ سے ہجرت نہیں کی۔ فتح مکہ پر حضرت علی نے ام ہانی کے مشرک شوہر کو قتل کرنا چاہا تو اس نے نبی ۖ سے اپنے مشرک شوہر کیلئے پناہ لی۔ پھر اس کے شوہر نے نجران جاکر عیسائیت قبول کی۔ رسول اللہ ۖ نے پھر اس کو نکاح کا پیغام دیا لیکن اس نے قبول کرنے سے معذرت کی اور نبی ۖ نے اس پر ان کی خوب تعریف بھی کی تھی۔
پھر آیات نازل ہوگئیں کہ ” اے نبی ! ہم نے حلال کیا ہے تمہارے لئے ان چچا کی بیٹیوں کو، خالہ کی بیٹیوں، ماموں کی بیٹیوں جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی”۔ اسی طرح ان لونڈیوں کو بھی حلال قرار دیا جو مال غنیمت میں مل گئی تھیں۔ پھر اس کے بعد قرآن میں کسی بھی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمادیا ،اگرچہ ان کا حسن اچھا لگے اور کسی بیوی کے بدلے بھی کسی اور عورت سے نکاح کا منع کردیا۔ البتہ الا ماملکت یمنککی اجازت دیدی ۔قرآن کی ان آیات ، احادیث پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے اسلئے علامہ بدرالدین عینی حنفی نے لکھ دیا ہے کہ ” اُم ہانی نبی ۖ کی28ازواج میں شامل تھیں”۔ حالانکہ اگر قرآن کی تفسیر کا خیال رکھا جاتا تو ان سے نکاح نہیں ہوسکتا تھا لیکن ایگریمنٹ کی قرآن نے اجازت دی ہے اور وہ مراد لیا جاسکتا تھا۔ لیکن ام ہانی پر جس طرح نکاح کا اطلاق نہیں ہوسکتا تھا اسلئے کہ ازواج مطہرات میں شامل نہیں تھیںتو اسی طرح لونڈی کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتا۔ اگر ماملکت یمینک سے مراد ایگریمنٹ لیا جائے اور والمحصنٰت من النساء الا ماملکت ایمانکم ”اور عورتوں میں سے بیگمات مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے ” سے بھی ام ہانی مراد لی جائے تو یہ اس کی تفسیر درست سمجھی جاسکتی ہے۔
امریکہ اور مغرب فلسطین ، افغانستان، عراق ، لبییا، شام اور پاکستان کی تباہی کے درپے اسلئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر دنیا میں دوبارہ خلافت کے قیام کی خوشخبری پوری ہوگئی تو ہماری خواتین کو ہم سے چھین کر لونڈیاں بنادیں گے۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا نے جو حقوق بھی خواتین کے دئیے ہیں تو وہ مسلمانوں کے مقابلے میں کافی ہیں لیکن مسلمان اپنی خواتین کو حقوق نہیں دے سکے ہیں تو دوسری قوموں کی ہم سے کیا امیدیں ہوسکتی ہیں؟۔ پاکستان کا مقتدر طبقہ سیاستدان ، فوجی جرنیل اور مذہبی لیڈر شپ مسلمانوں سے دشمنی نہیں رکھتے لیکن ایک ماحولیاتی مجبوری ہے جس سے آج مسلمانوں کو نکالنے کی ضرورت ہے۔
اگر حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو آج جس چیز کو ہمارا مذہبی طبقہ نکاح کہتا ہے ،یہ نکاح نہیں بلکہ ایگریمنٹ ہے اسلئے کہ نکاح کے کچھ حقوق اور فرائض ہوتے ہیں لیکن اسلامی دنیا میں عورت کو نکاح کے وقت یہ حقوق نہیں ملتے ہیں۔ عرب اور پختون لڑکی کو اس کا باپ بہت مہنگے داموں اس کے شوہر پر بیچ دیتا ہے۔ جب ایک مزدور اپنی حیثیت سے بڑھ کر25لاکھ میں اپنے لئے بیوی خریدے گا تو اس کو خلع کا حق نہیں دے سکتا ہے اسلئے کہ وہ اس کی زر خرید لونڈی ہے۔ اگر اجازت دی گئی تو لڑکی بار بار خلع لیکر باپ کیلئے کمائی کا بہترین ذریعہ بنے گی۔
اللہ نے فرمایا : قدعلمناما فرضناعلیھم فی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم لکیلا یکون علیک حرج وکان اللہ غفورًا رحیمًاO”ہم جانتے ہیں کہ جو ہم نے فرض کیا ہے ان پر انکی بیویوں کا یا جن سے انہوںنے ایگریمنٹ کیا ہے تاکہ آپ پر حرج نہ ہو۔اللہ غفور رحیم ہے”۔
عورت کی جس طرح کی حیثیت ہو باقاعدہ نکاح یا پھر ایگریمنٹ ۔ان کا حق مہر اور خرچہ شوہر پر اس کی مالی حیثیت کے مطابق فرض کیا گیا ہے۔ جس طرح ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں اللہ نے واضح کیا : لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضة و متعوھن علی موسع قدرہ و علی المقتر قدرہ متاعًا بالمعروف حقًا علی المحسنین (البقرہ236)
ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں کوئی حرج نہیں ہے اگر حق مہر مقرر نہ کیا ہو تو ان کو خرچہ دینا ہے۔ امیر اور غریب پر اس کی استطاعت کے مطابق ۔معروف طریقے سے خرچہ اور یہ نیکوں کاروں پر حق ہے۔ اسلئے کہ آدمی میں کتنی مالی استطاعت ہے ؟۔ وہ جھوٹ بول کر اپنی جان چھڑائے تو یہ معروف متاع نہیں ہوگا۔ عورت کو رشتہ قائم کرنے میں مرد سے اس کی اصلی اوقات اور استطاعت کے مطابق توقع بھی ہوتی ہے۔ جب ہاتھ لگانے سے پہلے استطاعت کے مطابق حق مہر اور معاوضہ فرض ہے تو ہاتھ لگانے کے بعد کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں ۔ اسلئے کہ ہاتھ لگانے سے پہلے مقرر کردہ نصف ہے توہاتھ لگایا گیا توپھر اس حساب اور اندازہ لگانا مشکل کام نہیں ہے۔
جب عورت اپنی عزت حوالہ کردیتی ہے تو اس کے حق مہر میں مرد کے مالی استعداد کے مطابق حصہ دار ہونے کی بات بالکل فطرت کے عین مطابق ہے۔ مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں یہ طے ہے کہ اگر شوہر عورت کو نکاح کے بعد طلاق دیتا ہے تو اس کی آدھی جائیداد ہی اس کو دینی پڑتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ عورت کو بھی آدھی جائیداد دینی پڑتی ہے۔ ان حقوق سے وہ اپنی جان چھڑانے کیلئے باقاعدہ نکاح کی جگہ گرل وبوائے فرینڈ کے طور پر تعلقات قائم کرلیتے ہیں۔ آج ٹیکس و کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ کون امیر اور کون غریب ہے ۔ جب قرآن کے مطابق عورت کو شوہر کے مال کا حصہ دار بنادیا جائے تو اس پر نکاح کا اطلاق ہوگا اور اگر شوہر اس کے نکاح کا حق دینے پر تیار نہیں ہے تو آپس کی رضامندی سے یہ ایگریمنٹ ہوگا۔ سورہ نور میں لونڈی اور غلام کا نکاح کرانے کا حکم ہے اور لونڈی کا بھی حق مہر ہے لیکن غلام کے پاس کچھ دینے کیلئے نہیں ہوتا ہے اسلئے اس کو کتابت اور معاہدے پر گزارہ کرنا ہوگا لیکن جب وہ کسی آزاد عورت سے نکاح کی کتابت کرے گا تو پھر اس میں جب خیر نظر آئے تو اللہ کا دیا ہوا مال خرچ کرنے کا بھی اللہ نے حکم دیا ہے۔ ہمارے مفسرین اور مترجمین اندھے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ غلام کی آزادی میں خیر نظر آئے تو پھر اس کے ساتھ معاہدہ کرلو۔ حالانکہ غلام کی آزادی تو بجائے خود خیر ہے اور پھر آیت میں اس سے مال طلب کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ اللہ کا دیا ہوا اپنا مال خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری آیات کنواری مراد لینے کے بجائے لونڈیاں مراد لی گئی ہیں اور یہ مطلب لیا گیا ہے کہ اگر وہ بدکاری پر راضی نہیں ہیں تو ان کو مجبور کرکے مال مت کماؤ اور اگر ان کو مجبور کیا تو اللہ غفور رحیم ہے؟۔ یہ یعنی ان لونڈیوں کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
تمام مکاتب فکر کے علماء اور دانشوروں کو حکومت اور ریاست اکٹھا کرکے قرآنی آیات کا درست ترجمہ وتفسیر عوام کو سمجھادیں اور دنیا کے سامنے رکھ لیں تو ہماری مشکلات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اب اپنے ڈر کے مارے ہم سے دشمنی والا سلوک روا رکھتے ہیںجس کی پھر قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

لاہور میں کینیڈین نوجوان کے قتل کا معمہ پولیس نے حل کردیا
بیوی اور آشنا گرفتار۔ حیران کن وجوہات ، حقیقت سامنے آگئی۔

ویلکم ٹو کرائم سٹوریز ۔ میرا نام میرب ذیشان ہے۔ ایک سٹوری شیئر کی تھی۔ یہ3اور4مارچ کے درمیانی رات بظاہر یہ واقعہ ڈکیتی مزاحمت پر قتل کا لگ رہا تھا۔ کینیڈین نیشنل علی رضا کو قنوت جو کہ علی رضا کی بیوی ہے اسی نے اپنے شوہر کو قتل کروایا تھا اور اپنی بچپن کی محبت کو واپس پانے کیلئے اس نے اپنے شوہر کو راستے سے ہٹوایا۔ عمیر نام کا ایک کردار سامنے آیا ہے جس کا تعلق قنوت کیساتھ6کلاس سے تھا یعنی یہ دونوں بچپن سے کلاس فیلوز ہیں اور آگے تک ان کا جو تعلق ہے وہ اتنا مضبوط ہو چکا تھا کہ ایک دوسرے کے بغیر ان کا گزارا ممکن نہیں تھا لیکن اس کے باوجود علی رضا کے ساتھ قنوت کی شادی طے کی گئی اور علی رضا چونکہ کینیڈین نیشنلٹی ہولڈر تھا تو قنوت کے جو والدین ہیں وہ چونکہ اتنے کوئی ویل سیٹلڈ نہیں ہیں ۔ان کی دو بیٹیاں ہوئیں اور پھر اس کا دوبارہ سے رابطہ عمیر کے ساتھ بحال ہوا جو کہ اس کی بچپن کی محبت ہے۔ عمیر کے ساتھ اس نے یہ پلان کیا کہ میں تمہارے ساتھ شادی کروں گی ۔ اب اس میں یہ ہے کہ انہوں نے پورا پلان کیا اور قنوت نے علی رضا کو پہلے پاکستان بھیجا کسی بہانے سے اپنے والدین کے گھر اور وہاں پر عمیر سے کہا کہ اس کو قتل کر دے۔ عمیر نے دو دفعہ قتل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکا اس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا پھر قنوت جو ہے وہ کینیڈا سے خود آئی پاکستان میں۔ پاکستان پہنچنے سے10دن کے بعد یا پھر وہ اپنے والدین کے گھر آئی۔ اب اس میں بڑی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ وہ ڈائریکٹ پاکستان آ کر اپنے والدین کے گھر یا اپنے شوہر کے پاس نہیں گئی وہ ایک ہوٹل میں گئی جہاں پر عمیر نے پہلے سے بکنگ کروائی ہوئی تھی۔ اس ہوٹل میں کچھ دن یہ رکے رہے۔ ہوٹل کے کلوز سرکٹ فوٹیجز بھی ایک بہت بڑا ثبوت ہے اس کیس کی تفتیش میں کہ یہ خاتون ایئرپورٹ آئی اور وہ سیدھا اپنے گھر یا اپنے شوہر کے پاس نہیں گئی بلکہ ہوٹل میں رہی ۔ ہوٹل میں پلاننگ کے دوران کے کچھ شواہد پولیس کو ملے اہم فوٹیج بھی ملی ۔ ہم نہ ان کو ڈسکس کر سکتے ہیں نہ آن ایئر کر سکتے ہیں۔ ایگزیکیوٹ کرنے کا جب معاملہ آیا تو قنوت پھر اپنے گھر آگئی اور اپنے شوہر کو کسی بہانے سے باہر شاپنگ کرنے کیلئے بھیج دیا جب وہ شاپنگ کیلئے نکلا تو عمیر نے اپنے دوست مصطفی کے ساتھ بالکل کلوز جا کے اس کے سر پر ہتھیاررکھ کے فائر کیا اور اس کی جیب میں سے کچھ پیسے اور موبائل فون ساتھ لے کر چلے گئے تاکہ یہ ڈکیتی کا واقعہ لگے۔ لیکن اس کی جیب میں پڑے کینیڈین ڈالرز اور کچھ پاکستانی روپے جو ہے یہ بھول گئے جس سے یہ تاثر تو زائل ہو گیا کہ یہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت میں قتل کیا گیا ہے۔ لیکن یہ تاثر اسٹیبلش ہو گیا کہ اس کے قتل کی وجہ کچھ اور ہے اس کے بعد پھر پولیس نے قنوت کو ریٹین کیا ۔ قنوت سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کینیڈا سے واپس پاکستان آ کر تم سب سے پہلے کہاں گئیں؟ تو اس نے کہا کہ جی میں تو اس جگہ پہ اپنے گھر آئی ہوں ڈائریکٹ لیکن اس کے موبائل کی لوکیشن کسی ہوٹل کی تھیں اور جس نام سے بکنگ تھی وہ ایک لوکل نمبر تھا اس لوکل نمبر کے نام سے قنوت کے لیے کمرہ بک تھا۔ اس لوکل نمبر کا جب پتہ کیا گیا تو وہ عمیر کا نمبر تھا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

جھوٹ نے قوم کو اندھا کردیا؟
ہم تمہاری عزتیں ، تمہاری جانیں اور تمہارے مالوں کوبچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو!
قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ