رسول ۖ کی عظمت کا بڑ اعتراف - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

رسول ۖ کی عظمت کا بڑ اعتراف

رسول ۖ کی عظمت کا بڑ اعتراف اخبار: نوشتہ دیوار

رسول ۖ کی عظمت کا بڑ اعتراف

ہندوپنڈت کا ہندوستان میں ایمان افروز بیان:حضرت محمد ۖ دنیا کے ایسے عظیم انسان تھے جو سب سے پہلے احکامات پر خود عمل کرتے تھے تب بتاتے تھے۔ قرآن مجید کی آیتوں کے ،اللہ کے احکامات کے ساتھ ہی آپ کا جیون تھا۔ قرآن مجید کی سورہ21آیت نمبر107میں اللہ کا حکم آیا کہ اے محمد ۖ ہم نے تمہیں ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کی ایک صحابیہ نے کہا اے اللہ کے رسول اپنے مخالفین پر لعنت بھیجئے ان کیلئے بد دعا کیجئے۔ حضرت محمد ۖ نے کہا مجھے اللہ نے بدعا اور لعنت بھیجنے کیلئے نہیں بلکہ رحمت اور دیا کیلئے بھیجا ہے۔ بدر کی لڑائی میں73قیدی لائے گئے اور مسجد نبوی کے کھمبے میں باندھ دئیے گئے۔ آپ کے ایک صحابی آدھی رات میں اٹھے انہوں نے دیکھا کہ حضرت محمد ۖ مسجد نبوی میں بڑی بے چینی سے ٹہل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے آرام نہیں فرمایا؟۔ آپ نے کہا کہ مجھے ان قیدیوں کی تکلیف دیکھی نہیں جارہی۔ یہ نہیں سو پارہے تو میں کیسے سو سکتا ہوں؟۔ ایسے تھے رحمت۔ جو دشمن کی تکلیف بھی برداشت نہیں کرسکتا ہو دنیا میں حضرت محمد ۖ کے سوا ایسا کوئی انسان نہیں تھا۔ قرآن مجید کی سورہ7آیت199میں اللہ کا حکم ہے کہ اے محمد! معافی کا طریقہ اپناؤ۔ اور بھلائی کا حکم دیتے رہو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو۔ جبھی تو حضرت محمد ۖ ایک ہی لفظ جانتے تھے معافی معافی اور معافی۔ اور پوری زندگی اپنے ساتھیوں کو بھلائی کی نصیحت کرتے رہے اور جاہلوں سے کنارہ کرلیا۔ میں نے کیا کہا کہ مکہ کے اگنانیوں (جاہلوں) سے آپ کنارہ کرکے مدینہ چلے گئے۔ آپ کے خلاف جتنی بھی لڑائیاں ہوئی ابوسفیان اس کا سینہ پتی (سپہ سالار) رہتے تھے۔ ابوسفیان کی سربراہی میں ہی احد کی لڑائی ہوئی تھی۔ جس میں آپ بہت بری طرح زخمی ہوئے۔ آپ ۖ کے بڑے بڑے صحابی شہید ہوئے۔ اس کے باوجود فتح مکہ والے دن آپ نے کہا کہ ابوسفیان کو معافی اور اس کے گھر میں جو داخل ہوجائے اسے بھی معافی۔ جو اپنے گھر کے دروازے بند کرلے اسے معافی اور جو عبادت گاہ میں داخل ہوجائے اسے بھی معافی۔ یعنی کسی نہ کسی بہانے سب کو معافی، معافی دینے کا بہانہ چاہیے تھا حضرت محمد ۖ کو، یعنی اس مکہ میں معافی دیا جہاں قدم قدم پر آپ کیلئے کانٹے بچھائے گئے۔ اس مکہ کے ایک ایک انسان کو آپ نے معاف کردیا۔ ایسے تھے حضرت محمد ۖ۔ لیکن ہر سال ہر جگہ سیرت کے جلسے ہوتے ہیں مجھ کو بھی بلایا جاتا ہے تو میں ایک ہی بات کہتا ہوں سیرت پر میں بول رہا ہوں مجھے اپنے دل پر ہاتھ رکھنا چاہیے کہ حضرت محمد ۖ کے جن احکامات کو جن سنتوں کو میں بتارہا ہوں کیا میں اس پر عمل کرتا ہوں۔ سب سے پہلے تو مجھ کو دیکھنا چاہیے اس کے بعد جو سننے والے ہیں ان کو دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ عمل کرتے ہیں؟۔ اگر نہیں کرتے ہیں تو اگر10فیصد بھی ان کو مان لیں تو سمجھ لیجئے کہ جلسہ کامیاب۔ اور سننے کے بعد تالی بجاکر چلے گئے وہ عملی طور پر کہیں بھی نہیں ہے تو جلسہ ناکام اور آپ بھی ناکام۔ حضرت محمد ۖ نے ہمیشہ لوگوں کو بھلائی سے جیتا جنگ سے نہیں جیتا۔ حضرت محمد ۖ کا نام جہاد سے جوڑ دیا جاتا ہے جنگ سے جوڑ دیا جاتا ہے یہ سب سے بڑاظلم اور نا انصافی ہوئی ہے آپ کے ساتھ۔
ہندو پنڈت کے بیان پر ایک مختصر تبصرہ اور تجزیہ
مسلمان شیعہ سنی کو چاہیے کہ اس بیان کو بالکل عام کریں اور اپنا یہ کریڈت نہیں قرار دیں کہ ہماری بہت وسیع القلبی ہے بلکہ ہندو پنڈت کے ایمان ، سچائی اور انسانیت کا اس کو زبردست نمونہ قرار دیں اور ان کو خراج تحسین پیش کریں۔ یقین جانو کہ ہندو ، یہودی اور عیسائیوں نے بھی اپنے اصلی مذہب میں تحریف کا ارتکاب کیا ہے لیکن اس سے بڑھ کر مسلمانوں کی حالت زیادہ خراب اسلئے ہے کہ ان کے پاس قرآن بالکل محفوظ ہے اور نبیۖ کی سنت کافی حد تک مگر کتابوں میں محفوظ ہے اور اس کے باوجود بھی مسلمان فطرت سے اس قدر ہٹ گئے ہیں کہ دوسرے مذاہب کے اچھے لوگ بھی اپنی انسانی اور ایمانی فطرت سے اتنے نہیں ہٹے ہیں۔
8عورت مارچ کے دن کو اگر عورتیں قرآن وسنت کے مقابلے میں من گھڑت فقہی مسائل کو اجاگر کریں تو پوری دنیا عورت کے حقوق کیلئے اسلام اور مسلمانوں کیساتھ کھڑی ہوگی۔ قرآن نے اسلئے مسلمانوں کیساتھ یہود، عیسائی اور صائبین کے ایمان اور عمل صالح کو مقبول قرار دیا ہے۔ آیت62البقرہ۔ آخرِ الذکر ہندو ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

آج قرآن اورحدیث کی تطبیق سے تمام مکاتبِ فکرکے علماء کرام بفضل تعالیٰ متفق ہوسکتے ہیں!
رسول ۖ کی عظمت کا بڑ اعتراف
جامعہ بنوری ٹاؤن کے بانی کا بہت مثالی تقویٰ