پوسٹ تلاش کریں

صدقہ بلا اور مولوی صدقہ کھاجاتا ہے،مولوی سے دنیا ڈرتی ہے اور مولوی ہم سے ڈرتا ہے؟

صدقہ بلا اور مولوی صدقہ کھاجاتا ہے،مولوی سے دنیا ڈرتی ہے اور مولوی ہم سے ڈرتا ہے؟ اخبار: نوشتہ دیوار

صدقہ بلا اور مولوی صدقہ کھاجاتا ہے،مولوی سے دنیا ڈرتی ہے اور مولوی ہم سے ڈرتا ہے؟

علماء حق کا تعلق کسی خاص مسلک اور فرقہ سے نہیں بلکہ دیندار طبقہ علماء حق اور دنیا دار طبقہ علماء سو ہے۔ ائمہ اہل سنت میں بھی مسلک وعقائد کا بڑا اختلاف ہے مگر اہل حق کہلاتے ہیں

پشتو کے مشہور شاعر عالم صوفی رحمان بابا نے فرمایا : زہ رحمان دہر عالم خادم یم کہ اعلیٰ وی کہ اوسط وی کہ ادنیٰ۔ میں رحمان ہر عالم دین کا خادم ہوں، چاہے وہ اعلیٰ،متوسط یا ادنی ہو!

قرآن کریم کے ناظرہ ، ترجمہ، تفسیر اور کتابت سے لیکر احادیث کے تحفظ تک کا خوش قسمت طبقہ ہمارے عزت مآب علماء کرام حضرات گرامی ہیں۔ ہمیں دل وجان سے ان کی عقیدت ومحبت ، عزت واحترام اور ان کی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا اپنے ایمان واسلام کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ اگر یہ حضرات نہ ہوتے تو لوگ شلوار بابا کے ہاں خواتین وحضرات کی شلواریں ٹانگنے کے نظارے جگہ جگہ دیکھ رہے ہوتے۔ علماء کرام کا تعلق دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع کسی بھی فرقے سے ہو،ان کا اسلام اور مسلمانوں پر بڑا احسان ہے۔ اللہ نے فرمایا: ان تنصر اللہ ینصرکم ” اگر تم اللہ کی مددکروگے تو تمہاری مدد ہوگی” ۔ صحابہ کرام واہل بیت عظام سے محبت اسلام کی وجہ سے ہے اور اسلامی تعلیمات کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے، سمجھانے اور محفوظ کرنے میں ان حضرات کا کردار ہے۔ اللہ نے فرمایا: وماکان المؤمنون لینفروا کافة فلو لا نفر من کل فرقة منھم طائفة لیتفقھوا فی الدین ولینذراقومھم اذارجعواالیھم لعلھم یحذرون ” اور مؤمنوں کیلئے مناسب نہیں کہ سب نکل جائیں ، پس اگر ان میں ایک ایک چھوٹا گروہ ہر فرقہ میں سے نکل جائے تاکہ دین میں سمجھ حاصل کرے۔تاکہ اپنی قوم کو خوف دلائیں جب وہ ان کی طرف لوٹ آئیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ان کی تیاری کرائیں”۔ (التوبہ:122)
اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کا ادارہ قوم کی روٹیاں توڑنے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔ مولانا محمد خان شیرانی اور قبلہ ایاز دونوں چیئرمین سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ مختلف فرقوں کے نمائندوں کی چھوٹی جماعتوں کو چند دنوں کیلئے ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تو افہام وتفہیم کے ذریعے سے زبردست راستہ نکل سکتا ہے۔
اگر نام صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کا لیا جائے اور کام ذوالخویصرہ کا ہو تو پھر بلاشبہ ذوالخویصرہ نے نہ صرف نبیۖ کے دور میں بظاہر اسلام قبول کیا تھا بلکہ جب اس نے نبیۖ سے کہا کہ آپ نے انصاف نہیں کیاتو نبیۖ نے فرمایا کہ اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو کون کرے گا؟۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ یہ اکیلانہیں، اس کے اور بھی ساتھی ہیں، اگر تم ان کی نماز اور روزوں کو دیکھوگے تو اپنی نماز وروزہ سے مایوس ہوجاؤگے۔ یہ قرآن پڑھیںگے مگر قرآن انکے حلق کے نیچے نہیں اترے گا اور یہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ صحیح بخاری اور دوسری کتابوں میں ذوالخویصرہ کے ساتھیوں کے بارے میں مختلف ادوارمیں نکلنے کی وضاحت ہے۔ مذہبی طبقات احادیث کے آئینے میں خود بھی دیکھ لیں۔
مفتی طارق مسعود کہتا ہے کہ ” اگر صحیح حدیث کے مقابلے میں امام ابوحنیفہ کے مسلک کو ترجیح دی تو گمراہ نہیں کافر ہوجائے گا”۔ احناف قرآن کے مقابلے میں خبرواحد کی حدیث کو تصادم کی صورت میں ناقابلِ عمل سمجھتے ہیں۔ حضرت عمر نے نبیۖ سے کہاکہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ تو کیا فتویٰ ہوسکتا ہے؟۔ حدیث قرطاس کو نہیں مانا تو خبرواحد کا تصور نہ تھا اسلئے کہ خبرواحد ومتواتر ہمارے لئے ہے۔صحیح بخاری میں ہے کہ ابوطالب جہنم کے نچلے طبقے میں تھا ،پھر نبیۖ نے سفارش فرمائی تو اوپر کی طرف آگیا۔ قرآن میں منافقین کو جہنم کے نچلے طبقہ میں قرار دیا گیا ہے ۔ جنہوں نے نبی ۖ کو ٹھکانہ دیا اور نصرت کی ان کااللہ نے قرآن میں اُولٰئک المؤمنون حقاً ”یہی سچے مؤمن ہیں”قرار دیا ۔
مولانا سمیع الحق شہید سے روزنامہ جنگ نے انٹرویو لیا تھا کہ شریعت بل منظور کیوں نہیں ہورہا ہے؟۔ مولانا سمیع الحق: کچھ منافقین ہیں وہ رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ سوال : ان منافقین کے خلاف آپ کیا اقدام کریںگے؟۔ مولاناسمیع الحق: ہم ان کے خلاف جہاد کریں گے۔ سوال : کون منافقین ہیں جن کے خلاف آپ جہاد کریںگے؟۔ مولانا سمیع الحق: منافقین موجودہ دور میں کوئی نہیں ہیں۔ منافقین مدینہ میں رسول اللہ ۖ کے دور میں تھے۔
ابوطالب کی وفات مکی دور میں ہوئی اسلئے منافق نہ تھے۔ کہانی گھڑی کہ ابوطالب نے کہا کہ عورتیں طعنہ دیں گی کہ جہنم کے ڈر سے کلمہ پڑھ لیا۔بنو امیہ کے بعد بنوعباس کو خلافت کا حقدار اسلئے قرار دیا گیا کہ ابوطالب نے اسلام قبول نہیں کیا اور عباس نے اسلام قبول کیا۔ چچا کی موجودگی میں چچازاد وارث نہیں بن سکتااسلئے علی کی اولاد خلافت کی مستحق نہیں عباس کی ہے۔ حضرت ابوبکر وعمر اور عثمان چچااور چچازاد کی اولاد نہیں تھے تو انکا کیا بنے گا؟۔ یا بنوامیہ کی یزیدیت نے اسلام کو موروثی بنادیا اور اس کے بعد الگ شریعت ایجاد ہوگئی ؟۔
حضرت عمر نے بھی ابتداء میں اسلام قبول کیا اور ابوطالب نے مسلمانوں کو ٹھکانہ دیا۔ بعثت سے پہلے حضرت ابوطالب نے نبیۖ کو اپنی بیٹی ام ہانی کا رشتہ نہ دیا۔حضرت ام ہانی نے ہجرت نہ کی مگر مؤمن تھیں۔ دیانت سے کوئی کسی کو کافر یا مسلمان سمجھتاہے تو یہ ماحول کا مسئلہ ہے مگر انتشار کا رویہ نہیں اپنانا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا :” النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم ”نبی مؤمنوں کیلئے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ مقدم ہیں”۔ شاہ عبدالقادر نے ایک جملہ میں اس کی تفسیر لکھ دی ہے کہ ” آگ میں کودنا حرام ہے لیکن اگر نبی حکم دے تو امتی کو آگ میں بھی کودنا چاہیے ”۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا: جس چیز کا نبی حکم دیں وہ کرواور جس چیز سے منع کریں اس سے رُک جائیں”۔
مولانا فضل الرحمن کہہ سکتے ہیں کہ ابوطالب نے نبی ۖ کو بیٹی کا رشتہ نہیں دیا تو ہم ان کو کیسے مؤمن مان لیں؟۔ جس کا شیعہ کے پاس جواب نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے سامنے شیعہ حدیث قرطاس رکھیں تولاجواب ہیں۔ مولانا فضل ہمدرد اور انجینئر مرزا محمد علی سے یہ پوچھا جائے کہ ذولخویصرہ نے نبی ۖ کو صرف زبان سے کہا کہ آپ نے عدل نہیں کیا تو شیطان کی طرح مردود ہوگیا اور حضرت عمر نے نبی ۖ کو حدیث لکھنے نہیں دی ۔ اگر نبیۖ نے کسی کو نامزد نہیں کیا یا کسی کو نہیں کرنے دیا گیا تو حضرت عمر کیسے نامزد ہوگئے؟۔ اگر حضرت عمر نامزد نہ ہوتے تو تم ذولخویصرہ سے بدتر شیعہ کی طرح حضرت عمر کو کہتے؟۔ تم بھی شیعہ سے زیادہ تقیہ کرتے ہو۔تووہ اپنی دُم گھسیڑ کر منہ سے لٹکا دیں گے کہ یہ ہماری داڑھیاں ہیں اور بدمعاشی پر اتریں گے کہ تم کون ہو؟۔
گمراہی یہ ہے کہ علی کیساتھ جنگ میں امیر معاویہ کے لشکر نے حضرت عمارکو شہید کیا تو یہ اجتہادی غلطی تھی۔ نبی ۖ کو حدیث قرطاس حضرت عمر نے نہیں لکھنے دی تو یہ اجتہادی غلطی تھی لیکن حضرت ابوبکر وعمر و عثمان سے اختلاف کرنے والے کافر ومرتد تھے؟۔ اکابر صحابہ و سیدشباب اہل الجنة حضرت حسین کے ہوتے ہوئے یزید خلیفہ بن گیا جس کی سزا آج تک امت مسلمہ کومل رہی ہے کہ صالح ومتقی اور باصلاحیت علماء کے دور میں فاسق ،فاجر ، قاتل حکمران بن گئے۔ مجدد الف ثانی، شاہ عبدالرحیم ،شاہ ولی اللہ ، شاہ عبدالعزیز کے وقت اکبر بادشاہ ، شاہجہاں، اورنگزیب تخت پر بیٹھے۔ قائداعظم ، لیاقت علی خان، محمد علی بوگرہ، سکندر مرزا، جنرل ایوب اقتدار میں آگئے۔ علامہ شبیراحمد عثمانی، سیدعطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا احمد لاہوری ، مولانا ابولحسنات احمد قادری، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور دیگر علماء بیٹھے رہے۔ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلہ میں سپورٹ کیا۔
قاضی حسین احمد، مولاناایثارالحق قاسمی ، مولانا سمیع الحق کے اسلامی جمہوری اتحاد کا سربراہ غلام مصطفی جتوئی ۔وزیراعظم نوازشریف بن گیا۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا جب سجدے سے سر اٹھاکر دیکھا تو مریم نوازشریف تھی ۔ نبی ۖ نے علم اور قضاء کے اعتبار سے پہلے نمبر پر حضرت علی کو رکھا اور فرمایا کہ میں جس کا مولا علی اس کا مولا۔ اگر علی اقتدار میں پہلے سے ہوتے تو انصار ومہاجریناور اہل بیت میں دراڑ نہ پڑتی۔ نبی ۖ کو وصیت نہ لکھنے دی اور انصار کے سامنے دعویٰ کیا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ ائمہ قریش سے ہونگے، حالانکہ اہل بیت کے بارے میں نبی ۖ نے فرمایا کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ۔ قرآن اور میرے اہل بیت۔ اگر علی نے اقتدار سنبھالا ہوتا تو مانعین زکوٰة پر قتال نہ ہوتا جس پر حضرت عمر نے آخری دور میں افسوس کا اظہار کیا اور چاروں مسالک کے ائمہ نے بالاتفاق اس کو رد کردیا کہ زکوٰة کیلئے قتال کیا جائے۔ جب صحابہ نے آپس میں اختلاف بلکہ قتال کیا تو صحابہ سے اختلاف رائے رکھنے کا حق کون چھین سکتا ہے؟۔
اہل تشیع کا مقدمہ ہمیشہ ہم نے لڑا ہے اور پھر بھی لڑیںگے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ شیعہ ہدایت پر ہیں۔ جتنے اختلافات شیعہ میں آپس کے ہیں اتنے تو صحابہ اور اسلاف میں نہیں تھے۔ یزید کا سپاہ سالار حسین کے لشکر میں پہنچ گیا اور کوفیوں نے وفا نہ کی۔ یزید کے شہر میں خطبہ جمعہ امام زین العابدین نے دیا تھا۔ زین العابدین سے لیکر حسن عسکری تک بنوامیہ اور بنوعباس کے نااہل حکمرانوں نے قبضہ کیا تو انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟۔ کیا مسلمانوں میں انتشار پھیلایا؟۔ آگے پیچھے اماموں کا سلسلہ ہے تو فقہ جعفریہ کی تدوین اور نسبت اہل سنت کی نقل میں ہوئی ہے؟۔ جب زندہ امام کا سلسلہ ہو تو پھر کسی ایک امام کے اجتہاد یا احکام کی طرف نسبت درست ہے؟۔ اہل سنت کے ہاں اجتہادی غلطیوں کا امکان ہے لیکن وہ شیعہ اپنے اماموں کے اندر اختلاف کا کیا حل نکالیںگے جن میں اختلاف ہے؟ جبکہ وہ ائمہ کو اجتہادی خطاء سے معصوم سمجھتے ہیں؟۔
اگر انبیاء کرام کے ساتھ کلمہ بدلتا ہے تو ائمہ کیساتھ کیوں نہیں بدلا؟۔ علی کے بعد حسن، حسین، علی زین العابدین ………. موجودہ دور میں مہدی غائب کا کلمہ ہونا چاہیے تھا؟۔ علامہ طالب جوہری کتاب ” ظہور مہدی” میں قیام قائم سے پہلے بہت سارے قیام قائم اور دجالوں کا ذکر ہے۔ جن میں سے ایک مشرق کا دجال اور اس کے مقابلے میں اہل بیت کے جس فرد کا ذکرہے وہ حسنی سید ہوگا۔ اس کتاب میں لکھا ہے کہ ” حسنی سید کی بہت روایات ہیں اور اس سے مراد سیدگیلانی ہے”۔ ایک طرف شیعہ ذاکرین اور علماء کی طرف سے اہل سنت کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا ذکر ہے ۔ دوسری طرف قرآن وسنت کی اہل تشیع ایسی غلط تفسیر کرتے ہیں کہ اس کا کوئی تک نہیں بنتا ہے۔
جب سورۂ مجادلہ میں ایک خاتون نے نبی ۖ سے مجادلہ کیا اور وحی خاتون کے حق میں نازل ہوئی تو اس سے شیعہ کا عقیدہ ٔامامت کے بارے میں غلو سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب نبی ۖ سے شرعی مسئلے میں ایک خاتون کیلئے اختلاف کی گنجائش تھی تو حدیث قرطاس کے حوالے سے زیادہ گنجائش اسلئے تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بدری قیدیوں کے بارے میں صحابہ کرام کی وسیع مشاورت اور حضرت ابوبکر و علی و عثمان اور دیگر سمیت فیصلہ کیا کہ ان سے فدیہ لیا جائے تو پھر جب نبی ۖ نے فیصلہ کیا تو وحی حضرت عمر وسعد کے حق میں نازل ہوئی اور اللہ نے فرمایا کہ ” نبی کیلئے مناسب نہیں تھا کہ آپ کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ خوب خون بہاتے ۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اگر پہلے اللہ لکھ نہ چکا ہوتا تمہیں دردناک عذاب کا مزہ چکھا دیتا”۔ (قرآن کریم)
نبی ۖ نے فرمایا کہ اگر عذاب نازل ہوجاتا تو حضرت عمر و سعد کے علاوہ کسی کی بچت نہ ہوتی۔ صحابہ کرام نے نبی ۖ کی قرابتداری کا لحاظ رکھ کر مشورہ دیا تھا لیکن قرآن سے ایسی تربیت ہوئی کہ خلافت راشدہ کے دور تک پھر اس قسم کی غلطی کا ارتکاب نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دور فتنہ وفساد کے باوجود بھی خلافت راشدہ کہلایا اور امیرمعاویہ کے دور پر امن وسکون کے باوجود بھی خلافت راشدہ کا اطلاق نہیں ہوسکا۔ اسلام کا بنوامیہ وبنوعباس کے بعد خلافت عثمانیہ کی موروثیت میں بدل جانا بالکل غلط تھا لیکن تقدیر کی لکیر کو کون مٹا سکتا ہے؟۔
اب مذہبی وسیاسی جماعتوں، خانقاہوں، مدارس، مساجد اور درگاہوں کیلئے موروثیت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عوام کے چندوں سے بننے والا شوکت خانم ہو یا کوئی مسجد ومدرسہ اس میں موروثیت کا کوئی جواز نہیں۔ غریبوں کا زیادہ مال تو یہ لوگ کھا جاتے ہیں۔ فوج کا سربراہ ایک غریب ہیڈ ماسٹرکا بیٹا بن سکتا ہے توپھر سیاسی ، مذہبی جماعتوں اور مدارس وخانقاہ کے سربراہ اور بڑے باصلاحیت لوگ کیوں نہیں بن سکتے ہیں؟۔ سوشلزم اور کمیونزم کی ضرورت نہیں ہے اسلام کا نظام بذات خود بہت زبردست ہے لیکن جب کیپٹل ازم کا بھی اصول ہے کہ ٹرسٹ کا مال موروثی نہیں ہوتا ہے تو پھر چندوں سے بنائی جانے والی پارٹی اور مدارس کیوں موروثی ہیں؟۔ پاک فوج کو اپنے حدود تک محدود کرنے کی ضرورت ہے لیکن عوامی چندوں پر پلنے والی جماعتوں کو موروثی بنانا کہاں کا انصاف ہے۔
شیعہ سنی اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کیلئے ضرور اپنی جدوجہد جاری رکھیں لیکن صحابہ کرام واہل بیت کے نام پر اپنے دھندے چلانے کے بجائے عوام کو درست راستے پر لگانے کی ضرورت ہے۔ حضرت عمر اور ذوالخویصرہ کے اختلاف میں یہ فرق تھا کہ ذوالخویصرہ میں مال کی لالچ تھی اور مال کے لالچی کیلئے کسی بھی فرقہ میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ فرقہ واریت اسلئے بڑھتی ہے کہ مال کی لالچ میں خطیب اپنی الٹی سیدھی وکالت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور عوام ان پر زیادہ سے زیادہ مال لٹاتی ہے۔ مولانا فضل ہمدرد اگر کسی لالچ کا شکار نہ ہوں تو شیعہ کو بھی بیلنس کریں۔ محمد علی مرزا نے مفتی تقی عثمانی کی سودی بینکاری کو حلال قرار دیا ہے تو پھر صحابہ کے اختلاف کو اچھالنے کا فائدہ سستی شہرت کے سوا کیا ہے؟۔ ہم غلط فقہی مسائل سے عوام کو نجات دلانا چاہتے ہیں تاکہ مشکلات حل ہوجائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

اہل نظر کی خوشخبری۔۔لمبے قد ، چھوٹی داڑھی کا آدمی جس کے ہاتھوں پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے!!
میں مدینہ چلی گاگاکراورباریش ہجڑہ ابوہریرہ ،دوپٹہ اوڑھے تلاش سید چمن علی شاہ تبلیغی جماعت نام نہاد سنت زندہ کرتے ہوئے اپنے انجام کی طرف رواں دواں
جھوٹ نے قوم کو اندھا کردیا؟